Natural world

Natural world Until one has loved an animal, a part of one's soul remains unawakened

نکولائی دریائی بلی کو اس کی سالگرہ پر چڑیا گھر کے رکھوالے نے مچھلی کا کیک دیا۔ اس کا ردِ عمل دیکھنے لائق
03/04/2025

نکولائی دریائی بلی کو اس کی سالگرہ پر چڑیا گھر کے رکھوالے نے مچھلی کا کیک دیا۔ اس کا ردِ عمل دیکھنے لائق

Beautiful Nature world 🌎
17/01/2024

Beautiful Nature world 🌎

گل موہر کا درخت دنیا کے خوبصورت ترین اشنکٹبندیی پودوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ گل موہر کے درخت بڑے، پتلی اور پھول دار پ...
11/12/2023

گل موہر کا درخت دنیا کے خوبصورت ترین اشنکٹبندیی پودوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ گل موہر کے درخت بڑے، پتلی اور پھول دار پودے ہیں۔ اسے کئی دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ گل موہر کے عام نام رائل پونسیانا، مے فلاور کا درخت، بھڑکتا ہوا درخت، مور کا درخت، شعلہ درخت اور کرشنا چورا ہیں۔ موسم گرما گل موہر کے درخت کے پھولوں کا موسم ہے جو مون سون تک برقرار رہتا ہے۔ گل موہر کے پھولوں میں ایک ہی سائز کی چار نارنجی پنکھڑی ہوتی ہے اور پانچویں پنکھڑی تھوڑی بڑی ہوتی ہے اور اس پر پیلے اور سفید دھبے ہوتے ہیں۔ اس کے پھولوں کے بیچ میں بھی پٹیاں ہوتی ہیں، صبح ہوتے ہی گل موہر کے ہر پودے نے پھولوں کی پنکھڑیوں کا بستر بچھا دیا ہوتا ہے جو دیکھنے والا ہوتا ہے۔ گل موہر کے درخت کے پتے فرنز کی طرح نظر آتے ہیں لیکن وہ زیادہ نازک ہوتے ہیں۔ اگر آپ اس گل موہر کے درخت کو اگانا چاہتے ہیں تو یہاں ہم نے وہ تمام معلومات مرتب کی ہیں جو آپ کو گل موہر کے پودے کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔ گل موہر کے درخت کو پھیلانے کے دو طریقے ہیں۔ بیجوں سے اور کاٹنے سے۔ 1. بیجوں سے بیجوں سے پودے کو اگانے کے لیے، آپ کو اسکاریفیکیشن کے عمل پر عمل کرنا ہوگا۔ اس طرح آپ بیجوں کو باہر کی کوٹنگ کو کمزور کرنے میں مدد دیتے ہیں تاکہ پودے آسانی سے باہر آجائیں۔ یہ بیجوں کو مزید گھسنے کے قابل اور اگنا آسان بنانے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طرح، پانی بیجوں کے اندر جائے گا اور انکرن کے عمل کو متاثر کرے گا۔ اس عمل کے لیے، آپ کو بیجوں کو 10-15 منٹ کے لیے گرم پانی میں بھگونا ہوگا اور پھر انہیں براہ راست مٹی میں بونا ہوگا۔ بصورت دیگر، آپ بیجوں کو نکالنے کے لیے کلپر کا استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں فوری طور پر مٹی پر لگا سکتے ہیں۔ 2. کاٹنے سے گل موہر کی افزائش کٹنگ کے ذریعے بھی مقبول ہے۔ شاخ کاٹنے، بونے اور اگانے کے لیے ایک صحت مند تنا لیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شاخ کا سائز 1 فٹ ہونا چاہیے اور وہ تازہ اور کسی کیڑوں یا بیماری سے پاک نظر آتی ہے۔ اب اسے پاٹنگ مکس یا کوکوپیٹ میں لگائیں۔ کٹائی کا پھیلاؤ بیجوں کے مقابلے نسبتاً آسان اور تیز طریقہ ہے کیونکہ آپ کو زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف خرابی یہ ہے کہ تبلیغ کو کاٹنے میں کامیابی کی گنجائش کم ہے۔ گل موہر کے درخت کے لیے مٹی کی تیاری: مٹی کو کافی گرمی مہیا کرنی چاہیے جو اس اشنکٹبندیی پودے کے لیے موزوں ہو۔ چونکہ مڈغاسکر اس پودے کا مقامی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ پودا آسانی سے ہندوستانی سرزمین کے ساتھ ڈھل گیا ہے۔ جب آپ گل موہر کے درخت کو دیکھتے ہیں، تو آپ کو مٹی کو تیار کرنا شروع کرنا ہوگا تاکہ آپ انہیں بیج کے خانے سے منتقل کر سکیں۔کاپی شدہ

A Camel Tree 🌳 😍 ♥️ At Shela Bagha Balochistan  تصویر کریڈٹ کاشف بھٹی
28/11/2023

A Camel Tree 🌳 😍 ♥️

At Shela Bagha Balochistan


تصویر کریڈٹ کاشف بھٹی

The Ghost Forest of Nienhagen, Germany 🇩🇪😍
18/11/2023

The Ghost Forest of Nienhagen, Germany 🇩🇪😍

This is a Semi 1/4 Full-frontal, Full-stack mekus mekus macro shoot ☺️ with natural hand tripod
11/11/2023

This is a Semi 1/4 Full-frontal, Full-stack mekus mekus
macro shoot ☺️ with natural hand tripod

Bison at 35 below zero. Yellowstone National Park, USA. 🥶📷Credit: Tom Murphy Photography
28/10/2023

Bison at 35 below zero. Yellowstone National Park, USA. 🥶

📷Credit: Tom Murphy Photography

Scraggly boy 🪶🦉🪶A baby long-eared   sits in a tree.
08/09/2023

Scraggly boy 🪶🦉🪶

A baby long-eared sits in a tree.

آسٹریلیاسن 1840 سے 1860 کے دور میں چند پالتو خرگوشوں اور پالتو اونٹوں کو غلطی سے جنگلی ماحول میں آزاد چھوڑ دیا گیا۔ ان پ...
07/09/2023

آسٹریلیا
سن 1840 سے 1860 کے دور میں چند پالتو خرگوشوں اور پالتو اونٹوں کو غلطی سے جنگلی ماحول میں آزاد چھوڑ دیا گیا۔
ان پالتو خرگوشوں اور اونٹوں کو آزاد چھوڑنے کے بھیانک نتاٸج سامنے آنا شروع ہوٸے یہ حقیر سمجھنے جانا والا مسٸلہ آج آسٹریلیا کے بڑے مساٸل کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
آج آسٹریلیا میں ان Feral خرگوشوں کی تعداد 30 کروڑ تک اور اونٹوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
یہ خالص جنگلی جانور تو ہیں نہیں،
ان دونوں Feral جانوروں نے آسٹریلیا کی نباتات کا ستیاناس کر دیا ہے یہ ہر کھانے لاٸق جڑی بوٹی، پودے، درخت کو کھاتے جارہے ہیں اور اپنی تعداد بڑھاتے جارہے ہیں۔ اسی وجہ سے آسٹریلیا کا مقامی فلورا بری طرح متاثر ہوچکا ہے اور مقامی فلورا ختم ہونے سے مقامی فانا بھی لپیٹ میں ہے جسکی وجہ سے مقامی جنگلی حیات بھی ختم ہوکر محدود ہوتی جارہی ہے۔

بدقسمتی سے ان دونوں جانوروں کو کھانے والے بڑے Predators شکاری جانور بھی آسٹریلیا میں نہیں پاٸے جاتے جو انکو کھا کر انکی تعداد کو کم کرسکیں۔ حکومت بھی ان کو شکار کرنے کی اجازت دیتی ہے مگر فی الحال شکار کرنے سے بھی انکی تعداد کنٹرول کرنا ناممکن لگ رہا ہے کیونکہ یہ براعظم آسٹریلیا کے بڑے حصے تک پھیل چکے ہیں۔

آسڑیلیا کا حیاتیاتی تنوع Biodiversity ان دونوں جانوروں کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھارہا ہے اور انکو جنگلی ماحول میں چھوڑنے کی کوتاہی انسان کے ذمہ ہے۔
Wild MAF - LAPS Pakistan
Everyone

تکاہی Takahe پرندے جو نیوزیلینڈ میں پائے جاتے ہیں، دوبارہ زمین کا حصہ بننے والے ہیں.تکاہی ایک خوبصورت پرندہ ہے جس کو اگر...
06/09/2023

تکاہی Takahe پرندے جو نیوزیلینڈ میں پائے جاتے ہیں، دوبارہ زمین کا حصہ بننے والے ہیں.

تکاہی ایک خوبصورت پرندہ ہے جس کو اگر سامنے سے دیکھیں گے تو بالکل گول گلوب نما نظر آتے ہیں. یہ پرندے اڑنے سے قاصر ہوتے ہیں.

زیادہ قدرتی شکاریوں کی وجہ سے ان کی آبادی خطرناک حد تک کم ہوئی اور 1898 میں ان کو بالکل ناپید قرار دے دیا گیا. پر 1948 میں ان کو دوبارہ پایا گیا اور یوں نیوزیلینڈ نے ہنگامی بنیادوں پر ان کی دیکھ بھال شروع کی اور ان کی نسل بڑھانے کے لئے اقدامات شروع کئے. آج ان کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کر گئی ہے اور نیوزی لینڈ والے آہستہ آہستہ ان کو دوبارہ قدرتی ماحول میں واپس بھیج رہے ہیں. یہ پرندے سو سال سے زائد عرصے کے بعد دوبارہ ماحول کا حصہ بننے جا رہے ہیں.
کاش یہاں بھی ایسے اقدامات شروع ہوں کہ ہم یہاں کے جانوروں کو ختم ہونے سے بچانا شروع کریں.

Oriental Dwarf Kingfisher.
03/07/2023

Oriental Dwarf Kingfisher.

Address

المدينة, السعودية
Medina
42311

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Natural world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Natural world:

Share