20/07/2021
( ایک مزدور لڑکا جو پورا بازار خرید کر جا رھا تھا۔)
سنو جاناں۔
میں برسات میں بھیگا ھوا گھر واپس ھوا
اسنے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور کوی بات کٸیۓ بغیر کچن کا رخ کر لیا
کچھ دیر بعد واپسی ھوی چاے کا مگ مجھے دےکر حاکمانہ انداز سے پو چھا۔
کہاں گۓ تھے
بازار۔ میں نے چاے کا مگ لیتے ھوے جواب دیا ۔
کیوں چلے گۓ اتنی دور وہ بھی پیدل۔خالی جیب
نھی۔ ایک بھلا آدمی مل گیا تھا راستے ھی میں اس نے خود اپنی موٹر سایکل روک کر مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور لےجاکر بازار چھوڑ دیا۔
کیا ملا ۔۔وھاں ۔دکھ قرب پریشانی۔ کے علاوہ
وھاں مجھے ایک زندہ انسان ملا۔
۔میں نے چاے کی چسکی لینے کے بعد کہا۔
تو میں نے کب کہا پوری دنیا مر چکی ھے
جتنا بڑا بازار تو لوگ بھی اتنے ھی ھوں گے۔ان میں کوی ایک تو زندہ ھوگا ھی۔ دنیا ابھی قایم ھے
اس کی عمر دس سال ھو گی۔ اس کے ھاتوں میں چھالے اور اور پہنی ھوی قمیض کی پیٹھ پر لگی گیلی مٹی بتا رھی تھی کہ وہ مزدوری کر کے آیا تھا۔
وہ عید کے لٸیۓ کچھ لینے کے لٸیۓ دوکان پر چڑھنے لگا تو دوکان سے ایک بچے کو اترتے دیکھا ھاتھوں میں پکڑے نوٹ اس طرح گنتے ھوےجیسے کچھ خریدنے کے لٸیۓنوٹ کم پڑ گۓ ھوں۔
بچے کو مایوس دیکھا تو میں نے بچے سے مایوسی کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا۔
میرے پاس پیسے کم ھیں اور چیز کی قیمت زیادہ۔
مجھے اچھی طرح معلوم تھا میری جیب میں کچھ نھی پھر بھی میرا ھاتھ جیب کی طرف چلا گیا۔ میں نے جیب دیکھنا شروع کی تو وہ مزدور بچہ جو میرا سوال اور بچے کا جواب سن چکا تھا ۔ھمارے قریب آیا ۔اور مجھسے پوچھا
یہ لڑکا تمھارا بیٹا ھے۔
مجھسے پہلے بچہ بول پڑا۔
نھی میرا باپ مجھے چھوڑ کر کھو گیا ھے۔
کتنے پیسے کم ھیں تمھارے پاس
بچے نےبتایا اور اس مزدور بچے نے اپنے پیسوں میں سے اتنے پیسے اس بچے کو دے دٸیۓ جتنے کم تھے۔
اور بچہ خوش ھو کر دوکان پر چڑھ گیا۔
اور میں نے پلٹ کر مزودر بچے کی طرف دیکھا تو وہ بازار سے باھر جارھا تھا
مگر اتنا خوش ۔اتنا خوش ۔جیسے وہ پورا بازار خرید کر جا رھا ھو۔