20/07/2025
ہم Punjab Wildlife and Parks Department اور Govt of Punjab کو سراہتے ہیں جنہوں نے بالآخر شیر، چیتے، تیندوے اور دیگر بڑی جنگلی بلیوں کی غیر قانونی خرید و فروخت، افزائش اور شہری علاقوں میں رکھنے کے خلاف تاریخی قدم اٹھایا۔ برسوں سے خطرناک جانوروں کو گھروں میں رکھ کر سوشل میڈیا پر نمائش کی جاتی رہی، لیکن اب حکومت نے صاف پیغام دے دیا ہے: اب اور نہیں۔
پنجاب میں اس وقت 587 بگ کیٹس نجی ملکیت میں ہیں، جن میں سے صرف 40 فارم سرکاری معیارات پر پورے اترے ہیں۔ 20 سے زائد جانور ضبط کیے جا چکے ہیں اور 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اب ہر جانور کی رجسٹریشن اور لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کی فیس 50,000 روپے ہے اور ہر سال تجدید ضروری ہے۔ تمام جانوروں کی نس بندی (sterilization) لازمی ہوگی تاکہ ان کی بے قابو افزائش روکی جا سکے۔
جانوروں کو سوشل میڈیا پر دکھانے، شہری علاقوں یا گھروں میں رکھنے، اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں 7 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا۔
یہ فیصلہ نہ صرف جنگلی حیات کی بقا کے لیے اہم ہے بلکہ عوامی تحفظ اور اخلاقی ذمہ داری کے تحت بھی ضروری ہے۔ جنگلی جانور شوپیس یا شوق نہیں، بلکہ قدرت کی امانت ہیں۔ ان کا قدرتی ماحول ہی ان کا اصل گھر ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، غیر قانونی فارمز فوری بند کیے جائیں، اور عوامی شعور بیدار کیا جائے تاکہ ہم سب جانوروں کے ساتھ ایک اچھا سلوک کرنے والا ذمہ دار معاشرہ بن سکیں۔ جنگلی حیات کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔