10/04/2026
اوکاڑہ کی ڈاکٹر عالیہ کا سٹاف کو چائے پلانے والے نوجوان پر دل آگیا ، اس جوان سے یہ بہانہ بناکر نمبر مانگا کہ چائے منگوانی ہوتی ہے
پھر وہ شہزاد نامی اس لڑکے کے سٹیٹس لائک کرنے لگیں ۔ ایک روز انہوں نے شہزاد کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا "کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟"
یہ سن کر شہزاد کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ وہ اتنا خوفزدہ ہوا کہ تین دن ہسپتال ہی نہیں آیا۔ تیسرے دن ڈاکٹر صاحبہ کا فون آیا: "تمہیں بخار ہے تو میں ڈاکٹر ہوں، فوری ہسپتال آؤ ورنہ میں تمہارے گھر پہنچ رہی ہوں!" شہزاد ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹر کشور نے اسے یقین دلایا کہ یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سب سے سنجیدہ فیصلہ ہے۔
اصل امتحان تب شروع ہوا جب یہ بات گھر پہنچی۔ ڈاکٹر صاحبہ کی والدہ نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ان کا غصہ بجا تھا: "ہم نے لاکھوں خرچ کر کے تمہیں ڈاکٹر بنایا اور تم ایک چائے والے سے شادی کرو گی جس کا کوئی خاندانی پس منظر ہی نہیں؟" لیکن عالیہ کے دل پر تو شہزاد کا نام لکھا جا چکا تھا۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ شادی ہوگی تو شہزاد سے، ورنہ کسی سے نہیں۔
آخر کار، ایک بیٹی کی ضد اور سچی محبت کے سامنے خاندانی وقار کی دیواریں ڈھیر ہو گئیں۔ شہزاد کی بارات آئی اور وہ لیڈی ڈاکٹر جسے لوگ 'ڈاکٹر عالیہ' کہتے تھے، 'عالیہ شہزاد' بن کر رخصت ہوئیں۔ آج یہ جوڑا تمام تر سماجی فرق کو مٹا کر ایک خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔