14/03/2026
یہ پڑھ کر گھر میں نِیم کا درخت ضرور لگاؤگے ؟ اللہ کا کتنا بڑا تحفہ ہے
ایک وقت تھا کہ دیہات میں شائد ہی کوئی گھر ہوتا جس میں نِیم کا درخت نہ ہو۔ اسکی وجہ درخت کی گھنی ٹھنڈی چھاؤں تو ہوتی ہی تھی ساتھ ہی ساتھ ان سادہ مگر فطرت سے جُڑے لوگوں کو پتہ تھا کہ نیم اللہ کا کتنا بڑا تحفہ ہے۔ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ بات ہے کہ نیم کا درخت ماحول میں موجود زہریلے عناصر کو فِلٹر کرکے ہَوا صاف کرتا ہے۔ اسکے تو پتے جھڑ کر گر بھی جائیں تو وہ بھی کچرا نہیں بلکہ خزانہ ہیں۔ یقین نہ آئے تو ذرا گُوگل پر نیم پاؤڈر کی قیمت دیکھ لیں جو بارہ ،چودہ سو روپے کلوگرام تک ہے۔ نیم کے پتوں میں وہ طاقتِ شفا ہے جو دوائی مافیا آپ پر آشکار نہیں ہونے دیتا۔ یہ جراثیم کش اور کیڑے مار خصوصیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ پھوڑے ، پِھنسیوں اور خارش وغیرہ میں اکسیر دوا ہیں۔ ایک دو مہینےنیم کی مسواک استعمال کرکے دیکھیں ۔ دنیا کی مہنگی سے مہنگی ترین ٹُوتھ پیسٹ اسکا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
نیم کے پتے سرسوں کے تیل میں پکا لیے جائیں اور یہ تیل سر کے بالوں میں لگایا جائے تو اس کی کڑواہٹ سے جوئیں مر جاتی ہیں یا بال چھوڑ کر بھاگ جاتی ہیں۔ یہ تیل خشکی/سکری ختم کرنے کے لیے بھی لاجواب ہے۔اسے جسم پر چھوٹی موٹی الرجی اور خارش کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔نیم کے پتے ابال کر پانی سے زخم بھی دھویا جا سکتا ہے۔
نیم کے پتوں کا ایک اور بہترین استعمال اناج کو کیڑا لگنے سے بچانے کے لیے بھی ہے۔ پہلے زمانے میں گندم کے دانوں میں نیم کے پتوں کو کپڑے میں باندھ کر رکھ دیتے تھے اور اناج سُسری اور کیڑوں سے بھی محفوظ رہتا تھا کبھی زہر والی گولیاں نہیں رکھنی پڑتی تھیں۔ پھلدار پودوں پر نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر یا پیس کر پانی میں ملا کر پودوں پر اسپرے بھی کیا جا سکتا ہے یہ کیمیائی اسپرے کا بہترین اور مفت متبادل ہے۔ تِیلہ اور دیگر نقصان دہ کیڑے پودے سے ہجرت کر جاتے ہیں یا پھر مر جاتے ہیں۔انسانوں تو چھوڑیں یہ خدائی تحفہ جانوروں کےلئے بھی مفید ہے۔ آپ ان پتوں کو مرغیوں یا دیگر جانداروں کی رہائشی جگہ پر بچھا بھی سکتے ہیں۔ نہ صرف ان سے انہیں گرمائش مل سکتی ہے بلکہ جلد کی بیماریوں، جوؤں اور چیچڑوں سے بھی نجات مل جاتی ہے۔ بکری یا کسی جانور کو خارش ہو تو نیم کے پتے ابال کر پانی سے نہلانا مفید ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپکے گھر میں کتابیں ہیں تو نیم کے چند پتے اپنی پرانی کتابوں میں رکھنا مت بھولیں۔نیم کے پتے دیمک کو کتابیں چاٹنے سے روکیں گے۔ سردیوں میں یہ درخت پتے گرادیتا ہے تو انکو اکٹھاکرکے کچرے میں مت پھینکیں ۔ انہیں سُکھاکر سفُوف بناکررکھ لیں اور سارا سال جراثیم کُش دوا کے طور پر استعمال کرتے رہیں۔ زمین پر اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جسکا علاج بھی نہ ساتھ اتارا ہو۔ بس ان خزانوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ معلومات اچھی لگی تو صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر بھی کریں
Morgah Rawalpindi
Morgah Biodiversity Park, Morgah Rawalpind
i