Apna Dera

Apna Dera International Aseels Association is all about the Aseel Passion around the whole world.

سید تنویر شاہ گیلانی آف گنجیال ضلع خوشاب اور انکا اسیل شوق۔
14/07/2025

سید تنویر شاہ گیلانی آف گنجیال ضلع خوشاب اور انکا اسیل شوق۔

انتہائ قابلِ عزت اور پاکستان کے نامور شوفین و مرغبان جناب محمد حسین آزاد (ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر، پاکستان ریلوےگریڈ 16) 195...
10/07/2025

انتہائ قابلِ عزت اور پاکستان کے نامور شوفین و مرغبان جناب محمد حسین آزاد (ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر، پاکستان ریلوےگریڈ 16) 1959 میں ضلع میانوالی کے قریبی علاقے کُندیاں میں پیدا ہوئے۔ جناب محترم حسین آزاد صاحب نے سروس میں تعیناتی کے دوران لنگر، بسال، کنجور، سنجوال ضلع اٹک میں بھرپور شوق کا مظاہرہ کیا، اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مرغ لڑائے بھی لیکن سٙن 2000 میں مکمل طور پرمرغ لڑانے سے کنارہ کشی اختیار کی اور صرف مرغبانی کے شوق کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے اصلی شوقین ہونے کا ثبوت دیا اور اب بھی اپنی والدہ محترمہ کی خدمت اور اپنے پوتے، پوتیوں سے پیار کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھرپور طریقے سے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
خدا تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی اور ایمان والی لمبی عمر عطا فرمائیں آمین۔

Aseel #

پیرسید شاہ عالم شاہ گیلانی صاحب تقریباً سَن 1900 کے آس پاس برِصغیر پاک و ہند موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع میانوال...
09/07/2025

پیرسید شاہ عالم شاہ گیلانی صاحب تقریباً سَن 1900 کے آس پاس برِصغیر پاک و ہند موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے۔ اُنکی ابتدائی تعلیم کا آغاز اس دور میں ضلع کے بہت بڑے مدرسہ سے ہوا جو کہ علاقہ بِٹیاں میں واقع تھا جہاں سے اُنہوں نے حفظِ قرآن پاک کی سعادت حاصل کی اور اُسکے بعد مزید علم و حکمت حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنے عبائی شہر بھوپال ( جو کہ موجودہ ہندوستان کے سٹیٹ مادھیا پردیش میں واقع ہے ) اپنے عزیز و اقاربین کے پاس چلے گئے جہاں سے اُنکے دادا پیر سید عظیم شاہ صاحب سَن 1800 کے بعد ہجرت کر کے اس خطے میں آئے تھے۔
بھوپال سے علم و حکمت سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد واپس اپنے ابائی خطے میں آئے اور یہاں اپنے ابائو اجداد کی نشست کو سنبھالہ اور گدی نشین ہوئے اور اعلیٰ پائے کے حکیم ہونے کی نسبت سے حکمت کو بھی جاری و ساری رکھا۔

پیر سید شاہ عالم شاہ گیلانی صاحب عربی، اردو اور سرائیکی زبان پر عبور رکھتے تھے اور انتہائی عبادت گزار شخصیت تھے۔ معمولاتِ زندگی کا آغاز صبح تہجد کی نماز سے ہوتا اور نمازِ صبح کے بعد اشراک و چاشت سے فارغ ہو کر تلاوتِ کلامِ پاک میں صبح دیر گئے تک اپنے گھر کی متعلقہ مسجد میں مصروف رہتے جس دوران اُنکی عبادت میں خلل پیدا کرنا انتہائی سختی سے منع تھا اور اُنکی قیرات اس قدر پرسوز ہوتی کے سننے والوں کی آنکھیں بے ساختہ اشکبار ہو جاتیں۔ قیام و طعام اور تلاوتِ کلامِ پاک سے فراغت کے بعد اپنی رہائش گاہ کے اُس حصے میں تشریف لے جاتے جو مہمانوں اور مریدین کے لیئے مختص تھا جہاں مریدین اور مہمانوں کا مجمع اُنکے انتظار میں رہتا اور آمد کے بعد وہاں درس و تدریس، علم و حکمت اور ملاقاتوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہتا۔

اِن تمام معمولاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ پیر صاحب کو گھوڑے پالنے اور مرغبانی کا بے انتہا شوق تھا۔ اُس دور میں پیر صاحب کا ایک انتہائی مشہورِ زمانہ " انمول " نامی گھوڑا تھا جو کہ اُنہیں اُنکے بہت قریبی دوست مرحوم اللہ بخش ٹوانہ صا حب آف مٹھہ ٹِوانہ کی طرف سے تحفے میں ملا تھا۔ اُس زمانہ میں " انمول " گھوڑے کے بہت چرچے تھے لوگ دور دور سے اپنی گھوڑیاں کراس کرانے کیلیئے پیر صاحب کے پاس آیا کرتے تھے، جسپر شرت یہ ہوتی تھی کہ پہلے سوئے میں اگر وچھیرا ہوگا تو وہ پیر صاحب کا ہوگا اور اگر وچھیری ہوگی تو وہ ما لِکین کی ہوگی اور قدرتً زیادہ طر پہلی بار میں وچھیرے ہی پیدا ہوتے جو کہ عہد کے مطابق پیر صاحب کے ڈیرے کی زینت بنتے۔

سابقہ نواب ملک امیر محمد خان آف کالاباغ گورنر آف پنجاب پاکستان پیر شاہ عالم شاہ صاحب کے بہت ہی گہرے دوست تھے اور نواب صاحب گھوڑے پالنے کے بیحد شوقین تھے اور اُس دور میں بھی وہ باہر سے پاکستان گھوڑے امپورٹ کیا کرتے تھے۔ " انمول " گھوڑا اُنہیں بھی بیحد پسند تھا اسلیے اُنکی گھوڑیاں بھی " انمول " گھوڑے سے کراس ہونے کیلئے پیر صاحب کے ڈیرے پر آیا کرتی تھیں۔

گھوڑے " انمول " کے علاوہ پیر صاحب کی قُمید رنگ کی گھوڑی بھی تھی جسپر وہ عموماً روز مرہ کی زندگی میں سواری کیا کیا کرتے تھے اوراُنکے دو پالتو بٹیر بھی خاصے مشہور تھے جوکہ " دھلے والا " بٹیر اور " چکی والا " بٹیر کے نام سے مشہور تھے۔ لیکن اِن تمام چیزوں کے ذوق کے باوجود اصیلوں کا شوق پیر صاحب کی زندگی میں جُنون کی حد تک تھا۔

یہ شوق اُنہیں اُنکے بابا جان پیر فضل شاہ صاحب سے وراثتً ملا تھا اور در حقیقت امروہے اصیل بھی پیر فضل شاہ صاحب سے چلتے آ رہے تھے لیکن آگے اُنہوں نے اپنے والد صاحب کے شوق کو سنبھالہ اور جنون کی حد تک اس شوق پر محنت کی اور اُسکے نتیجے میں آج اُنکی محنت کی بدولت ہی پوری دُنیا میں میانوالی کے اصیلوں کا اپنا ایک منفرد مقام ہے۔ یہ سب پیر صاحب کو خدا کی نوازی ہوئی علمی قوتوں اور صلاحیتوں کا نتیجہ ہے جسکی بدولت پیر صاحب نے اصیلوں کی دُنیا میں انتہائی لاذوال تاریخ رقم کردی۔

امروہے، شیرزے، میرٹھی، جاوے، بگیاڑے اور انگریز والے یہ وہ نسلیں ہیں جنکی نسبت سید پیر شاہ عالم شاہ صاحب سے ہے۔ امروہے اصیل اُنکی انتہائی مشہور ترین اور انتہائی اصیل نسل تھے جو کہ اب ناپید ہوچکے ہیں لیکن اُسکے چرچے ابھی بھی ویسے ہی ہیں جیسے پیر صاحب کے دور میں تھے۔ امروہے لاکھے رنگ کےانتہائی خوبصورت، بے مثال اور تیز ترین مرغ تھے، اُن جیسے مرغ اُنکے بعد آج تک دُنیا کے کسی شوقین کے پاس نہیں پائے گئے۔ اور انگریز والے پیر صاحب کے مرید شیر عالم بندیال صاحب آف ضلع خوشاب کا ایک جاننے والا گورا پیر صاحب کے مرغ دیکھنے آیا تھا اور پیر صاحب کوایک لاثانی مشکی اصیل بھی تحفہتً دیا جوکہ اُس وقت انگریز والے کے نام سے مشہور ہوا۔

مُرغوں کی لڑائی کے حوالے سے پیر صاحب کا تعلق صرف اس حد تک تھا کہ پیر صاحب ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک نواب کے اصیلوں کے ساتھ اپنے مرغوں کی کچھ ہی لمحات کی چند پھڑکیں ہی لگوایا کرتے تھے کہ جن سے دو مدِ مقابل اصیلوں میں سے ایک کی اصیلت کو پرکھا جا سکے، اور جُوئے بازی اور پرندوں پر ظلم و تشدد کے اِنتہائی خلاف تھے۔ اور رہی بات اِن افواہوں کی کہ پیر صاحب نے اپنی زندگی کے دوران ہی اپنے تمام پرندے کراس کرا دیئے تھے تو یہ باتیں محظ جھوٹ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں، لیکن پیر صاحب شوق آگے کسی دوسرے کے حوالے کرنے کے معاملے میں بہت سخت طبیت انسان تھے اور صرف اہل شخصیت کے ہی سپرد کرنے کے قائل تھے اُنہوں نے اپنی زندگی میں اپنے پرندے اگر کسی کو دئیے تو وہ صرف اُنکے مرید شیرعالم بندیال صاحب تھے۔ حتانکہ پیر صاحب کے اپنے فرزندان کو بھی اجازت نہیں تھی کہ وہ کوئی پرندہ لے سکیں اُنکے فرزندان بھی مرحوم شیر عالم بندیال صاحب کے پاس جایا کرتے تھے کہ " چچّا شیر عالم ابّا جان سے مرغ لے دیں " لیکن شیر عالم بندیال صاحب بھی یہ کہہ کر اِنکار ہی کرتے کہ" تم میری بھی بے عزتی کراوگے پیر صاحب سے "۔

پیر صاحب کی وفات کے بعد یہ شوق آگے اُنکے فرزندان کے پاس آیا تو صحیح لیکن اُنسے سنبھالہ نہیں گیا اور بکھر گیا جسکی وجہ سے آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا بلخصوص " امروہے " اور 2006-2007 تک پیر صاحب کے گھر میں آخری امروہا اصیل بچا تھا جو کہ قدرتی طور پہ ہی بریڈنگ نہیں کر سکتا تھا اور اُسکے بعد امروہا نسل اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہی آج کسی کے پاس بھی امروہے اپنی خالص حالت میں باقی نہیں ہیں۔

تہ تمام اطلاعات میانوالی کے گیلانی خاندان کے سپوت سید پیر شاہ عالم شاہ صاحب کے پوتے سید آفتاب شاہ گیلانی صاحب سے موصول ہوئی ہیں جو کہ اُنہوں نے اپنے چچاپیرسیّد مشتاق شاہ گیلانی صاحب سے تصدیق کی ہیں۔ آفتاب شاہ صاحب کا یہ کہنا ہے کہ شوق کی کبھی کوئی اِنتہا نہیں ہوتی رحمتِ خدا سے کبھی بھی کچھ بھی وجود میں آجاتا ہے بس اِنسان کے اندر اُس سچے خالق سے مانگنے کی تڑپ اور سلیقہ ہونا چاہیے۔

ٹیم اپنا ڈیرہ جناب سید آفتاب شاہ گیلانی صاحب اور اُنکے چچاپیر سیّد مشتاق شاہ گیلانی صاحب کی اِنتہائی مشکور ہے کہ اُنہوں نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا اور پیر صاحب کی زندگی اور اُنکے شوق پر روشنی ڈال کر لوگوں میں پائی جانے والی تمام افواہوں اور مبہمات کو رد کیا اور اصل حقائق کو اُجاگر کیا ۔ پروردگارِ عالم سے دُعا ہے کے تمام احباب کے نیک شوق سلامت رکھیں اور اپنی مخلوقات سے سچی محبت کرنے کا جذبہ عطا فرمائیں الہٰی آمین۔

مزید احباب کا شوق دیکھنے کیلئے اور اُنکے شوق کے حوالے سے معلومات کیلئے اپنا ڈیرہ کی ویب سائٹ وزٹ کریں اور اپنا آن لائن ڈیرہ بنوانے کیلئے ہمیں اپنے جانوروں اور پرندوں کی تصویریں اور اپنے شوق کے حوالے سے معلومات inbox کریں۔

08/07/2025

شروع اللہ کے نام سے
جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔

"بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ"

Send a message to learn more

اللہ پاک کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں الہی آمین۔مرحوم ملک عرفان بندیال تاریخ وفات ۴ اگست ۲۰۲۳
04/08/2023

اللہ پاک کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں الہی آمین۔
مرحوم ملک عرفان بندیال تاریخ وفات ۴ اگست ۲۰۲۳

https://youtu.be/q8V3QIr34Ro
21/04/2023

https://youtu.be/q8V3QIr34Ro

Pure Merthi Aseel Ki Pehchan | Merthi Aseel Complete History | Merathi AseelIn This Vlog i'll share Complete information about merthi aseel breed, A very old...

21/04/2023

SUBSCRIBE Mairaj Khan Mianwali on YouTube ♥️

https://youtu.be/idrkgPpoUEQ
08/04/2023

https://youtu.be/idrkgPpoUEQ

In This Vlog i'll show you 100+ Aseel Roosters on farm of Malik Nisar of Marri Indus. I'll tell you complete details about aseel farming in Pakistan & How to...

رمضان المبارک 🌙 2022 🤲🏻🕋❤️
02/04/2022

رمضان المبارک 🌙 2022 🤲🏻🕋❤️

Address

Mianwali
44400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apna Dera posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apna Dera:

Share

Category