24/01/2024
سسٹین ایبل لیونگ یا لائف سٹائل کو سمجھیئے۔۔۔۔ہمارے باپ دادا نے سوئی گیس کا بے دریغ استعمال کیا اور اپنی ضرورت سے زائد ریسورسز استعمال کر کے اس دنیا سے چلے گئے اور آج ہم دن بدن کھانہ پکانے تک سے عاجز آتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔ہر وہ طرز زندگی یا طرز عمل جو ضرورت سے زائد وسائل کو تلف کرے، بعد والوں کے لئے اس سیارے پر زندگی مشکل تر بناتا چلا جاتا ہے اور زندگی سسٹین ایبل یعنی مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار نہیں ره سکتی۔
ایک کلو آلو اگانے کے لئے اگر دس لیٹر فوسل فیول یعنی ڈیزل استعمال کیا جائے اور ہزار لیٹر پانی زمین سے نکال کر بہا دیا جائے تو یہ ایک سسٹین ایبل طرز عمل نہیں ہوگا۔۔۔لمبے عرصے تک نہیں چل پائےگا۔۔اس کے برعکس وہی ایک کلو آلو اگر سولر انرجی سے پانی نکال کر ڈرپ اریگیشن سے تیار کیا جائے تو آپ دس لیٹر فوسل فیول اور ہزار لیٹر صاف پانی بچا لینگے جو دوسرے مقاصد میں کام آئیگا۔ ایسی زراعت کو سسٹین ایبل ایگری کلچر کہیں گے کیونکہ یہ بہت کم نیچرل ریسورسز لے رہی ہے لہذا مستحکم ہے اور زمین پر لمبے عرصے تک کی جا سکتی ہے۔
اِس زمین کے مالک، ڈیزائنر اور حاکم۔۔۔ہمارے پروردگار نے بھی اصراف سے بچنے کی تلقین کی ہے اور اِسکی بڑے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ ۔۔۔کہ اصراف کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔۔۔۔اور یہ کفران نعمت کے مترادف ہے۔
ملکی وسائل کی نگہبانی ریاست کی زمہ داری ہوتی ہے۔ انفرادی حیثیت میں کوششیں اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک اجتماعی پالیسی مرتب نہ کی جائے۔ آپ کے پاس سوئی گیس وافر تھی۔۔۔آپ کی مرضی سو روپے ماہانہ بل رکھ کر اسے ہوا میں اُڑوا دیں۔۔۔۔آپکا ویژن اسکی مناسب قیمت مقرر کر کے اِسکا غیر ضروری استعمال روکیں اور اسے انڈسٹری کھڑی کرنے میں استعمال کر کے ملک کی معیشت اُٹھا لیں۔
پروردگار نے آپکو پانچ دریا اور وافر پانی بخشا۔ جو چاہیں تو ہزاروں لیٹر بہا کر روائتی طریقوں سے فصلیں اگائیں، باقی سمندر میں بہا دیں، پائپ سے روزآنہ فرش اور گاڑیاں دھوئیں۔۔۔فری کی چیز ہے۔۔۔۔۔۔اور اگر چاہیں تو اس کو ریگولیٹ کر لیں۔ ڈیم بنا لیں، کسان کو ایجوکیٹ اور کیپیپل کر لیں تاکہ وہ کم پانی سے زیادہ پیداوار لینے کے قابل بن جائے۔ گھر گھر بورنگ کی بجائے پانی کی مرکزی ترسیل کا نظام بنا لیں جسپر میٹر لگے ھوں اور استعمال کے مطابق مناسب بل آئے تاکہ لوگ اس گراں قدر نعمت کو بھی گیس کی طرح ضائع نہ کریں۔
سب ترجیحات پر منحصر ہے۔ درحقیقت اس گولے پر بہت کچھ ایسا ہے جو مالک نے بندے پر چھوڑ رکھا ہے۔ بندہ جو چاہے تو اپنا لے جو نہ چاہے تو رد کر دے۔ دونوں صورتوں میں نتائج کی زمہ داری بحرحال بندے پر ہے۔۔۔۔اسے مالک پر ڈال دینا مناسب نہیں۔