Bismillah Veterinary Clinic - BVC

Bismillah Veterinary Clinic - BVC BVC provides the best medication, deworming and vaccination services to your pets and domestic animals at your doorstep. Feel free to contact us

21/12/2022

••° جانوروں 🐄کو گھبن کرانے کا موسم شروع °••

1️⃣ تیاری: Prepare your animal

15 اکتوبر سے 15 مارچ تک وقت جانور کا Breeding season کہلاتا ہے۔

تیاری یہ ہے کہ جانور کو ڈیورمنگ کروائیں۔ چیچڑ کے ٹیکے ( جو خود بھی ڈی ورمنگ کرتا ہے)

2️⃣ اچھا سا منرل مکسچر کھلائیں ۔ مناسب ونڈا دیں

3️⃣ سانڈ یا بیل کے زیر ناف بال کاٹ دیں، اس کو نیم گرم پانی جس میں عام نمک ہو دھو کر صاف کرے تاکہ گوبر اور پیشاب سے بیکٹریا نہ لگے۔
گائے بھینس کو کراس کراتے وقت ہو سکے تو ٹیشو پیپر سے پیشاب خانہ صاف کرائیں۔ تاکہ کراس یا اے ائی کے وقت جراثیم بچہ دانی کے اندر داخل نہ ہو۔ ورنہ اپ کا جانور Repeat ہو سکتا ہے

4️⃣ کراس کرانے کے بعد جانور کے کمر پہ پانی ڈالیں، اس کو سرسوں تیل 100 سی سی پلائیں۔
اور conceptual یا Dalmeraline ٹیکا 2.5 یا 5 سی سی فورا لگائیں۔
یا منہدی کے پتے کھلائیں

5️⃣ کوشش کریں کہ بیل کے اعضاء تولید کو Flygyl Drip سے دھو لیں یا ان کو فیلجل گولیاں کھلائیں تاکہ Trichomonas کے جراثیم اگر ہو تو ختم ہوجائیں.

بیل کو ایک ایک کلو ونڈا صبح شام دیں

6️⃣ جو جانور کراس ہوجائے اس کو 60 دن کے بعد دوبارہ چیک کروائیں
جو جانور ہیٹ میں نہ آئے اس کو دوبارہ Heat powder دیں

7️⃣ گائے صبح چارہ ڈالتے وقت زیادہ گرم (ہیٹ) ہوتے ہیں جبکہ بھینس رات کو 12 بجے خواہش رکھتی ہے۔

8️⃣ گائے جب ہیٹ میں ہو تو 18 سے 20 گھنٹوں کے بعد کراس کروائیں۔ بھینس جب ہیٹ میں آجائے تو اس کو سانڈ سے ملوادیں یا کسی ڈاکٹر سے انسیمینیشن کروا لیں (ٹیکہ رکھوا دیں. ۔

بھینس میں پہاڑی بھینس سال کے چاروں موسم گرم ہوجاتی ہیں۔ میدانی اور دریا کے بھینس بادوں سے سردی کے موسم تک گرم ہوتے ہیں۔

9️⃣ یاد رہے کہ جب اپ کا جانور 7 ماہ کا حاملہ ہو تو دودھ نہ لیں۔ اس کو پہلے خشک کریں ( ایک وقت دودھ لیں ایک وقت نہ لیں، پھر ایک دن دودھ لیں ایک وقت نہ لیں، پھر تین دن تک دودھ نہ لیں ایک دفعہ دودھ نکال لیں۔ ونڈا اس دوران بند رکھیں۔ Tribrissen ٹیکا 20 سی سی دو دن لگائیں تاکہ ساڑو نہ ہو۔ 10 دن کے بعد ایک دفعہ تھن خالی کریں۔ جب جانور بلکل خشک ہوجائے تو دوبارہ ایک ایک کلو ونڈا، کھل روٹی صبح شام دیں.اور جانور کو بچہ دینے سے20دن پہلے سے لے کر 20 دن بعد تک Mineral white gold super 80 گرام روزانہ دیں اس سے جانور کمزور نہیں ہو گا اور بچہ دینے کے بعد دودہ بھی زیادہ دے گا.

ڈاکٹر عاکف
03009773934
03434164338

09/12/2020

دیسی گھی میڈیکل سائنس کی نظر میں!
🌹🌹🌹🌹🌹
خالص دیسی گھی کسی بھی جانور کے دودھ سے بنایا جا سکتا ہے لیکن وہ دیسی گھی جو گائے کے دودھ سے بنایا جاتا ہے اسے سب سے بہترین مانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ گائے کا جو دودھ ہوتا ہے اس میں ان تمام پیڑ پودوں کا اثر ہوتا ہے جو اس مخصوص علاقے میں ہوتے ہیں جہاں وہ گائے چرتی ہے کیونکہ گائے تقریباً وہ تمام پیڑ پودے کھاتی ہے جو اس مخصوص علاقے میں اگتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گائے کے دودھ میں اور اس دودھ سے بنائے ہوئے گھی میں وہ تمام پیڑ پودوں کا اثر موجود ہوتا ہے ۔

*سائنسی پہلو*
اب دیسی گھی کے سائنسی پہلو کی بات کی جائے تو سب سے پہلے یہ چیز سمجھ لیں کہ خالص دیسی گھی میں ہوتا کیا کیا ہے ۔
دیسی گھی اپنے s.c.f.a )short chain fatty acids ) کی وجہ سے جانا جاتا ہے کیونکہ دیسی گھی اس کا بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے اس کے علاوہ دیسی گھی
canjogated linoleic acid
Butyric acid
Omega 3
Omega 6
Omega 9
کا بہت ہی اچھا سورس مانا جاتا ہے اس کے علاوہ دیسی گھی
Vitamin A
Vitamin D
Vitamin E
Vitamin K
کا بھی بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے ۔

چلئے یہ بات بھی سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کام کیسے کرتا ہے شروعات دماغ سے کرتے ہیں ۔

*دماغ۔*
دیکھئے انسان کا 60٪ دماغ فیٹس سے مل کے بنتا ہے اور جس طرح کے فیٹس سے انسانی دماغ بنتا ہے وہ فیٹس انسانی جسم خود سے نہیں بنا سکتا بلکہ انسان خوراک سے حاصل کرتا ہے ۔اس بات کو بھی سمجھ لیں کے جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے اس کے دماغ کے فیٹ سیلز بھی کم ہوتے چلے جاتے ہیں ۔اب کیونکہ دیسی گھی اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ، ایس سی اف اے اور بیوٹیرک ایسڈ کا بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے اس لئے دیسی گھی انسان کے دماغ کے لئے بہت ہی زیادہ فائدے مند رہتا ہے ۔
اس کے علاوہ دیسی گھی آپ کے دماغ کو آپ کے نروز کو اور آپ کے نیوروٹرانسمیٹرز کو اچھے سے کام کرنے کے لئے ایک بہت ہی اچھا ماحول فراہم کرتا ہے ۔
اس لئے آپ نے اپنی نانی یا دادی کو کئی بار یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ دیسی گھی کھایا کرو دماغ میں تراوٹ آئے گی ۔

*آنکھیں۔*
اب بات کرتے ہیں آنکھوں کی ۔ دیسی گھی vitamin A کا بہت ہی اچھا سورس ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آپ کی آنکھوں کے لئے بہت ہی زیادہ فائدے مند رہتا ہے ۔
اس چیز کو ذرا سا سمجھ بھی لیجئے کہ لمبے عرصے تک موبائل سکرین دیکھتے رہنے کی وجہ سے یا کمپیوٹر سکرین دیکھتے رہنے کی وجہ سے ہوتا یہ ہے کہ ہمارے لیکریمل گلینڈز جہاں آنسو بنتے ہیں وہ صحیح طرح سے کام کرنا بند کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھوں میں روکھا پن سوکھا پن اور جلن اور دیکھنے جیسی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں ۔ اب اگر آپ ان چار میں سے کوئی بیماری ہے یا آپ اپنا زیادہ تر وقت موبائل یا کمپیوٹر سکرین پر بیتاتے ہیں تو آپ کو اپنی ڈائٹ میں دیسی گھی کو ضرور شامل کرنا چاہیے ۔
اس بات کو بھی سمجھ لیجئے کہ جب وٹامن اے کی بات کی جاتی ہے تو جو وٹامن اے دیسی گھی سے حاصل ہوتا ہے وہ گاجر سے نہ صرف زیادہ ہوتا ہے بلکہ زیادہ اثر دار بھی ہوتا ہے ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ دیسی گھی میں جو وٹامن ہوتا ہے یہ دو فارم میں ہوتا ہے جس میں سے ایک Ester ہے جبکہ دوسری catroten ۔ اس لئے جب آپ دیسی گھی کھاتے ہو تو یہ نا صرف آپ کے جسم کو بہت زیادہ مقدار میں وٹامن اے دیتا ہے بلکہ یہ اسے اچھی طرح سے جذب بھی کرواتا ہے ۔

*وٹامن D*
تو دیسی گھی میں جو دوسرا وٹامن ہوتا ہے وہ وٹامن ڈی ہوتا ہے اور وٹامن ڈی کی سب سے بڑی حثیت یہ ہوتی ہے کہ یہ آپ کے جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کو جذب کرواتا ہے ۔ اس لئے دیسی گھی بڑھتے بچوں ، حاملہ عورتوں اور کثرت کرنے والے افراد کے لئے بہت زیادہ مفید چیز ہوتی ہے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جسم خوبخود وٹامن ڈی پیدا کر لے تو آپ کو چاہیے کہ صبح صبح باریک کپڑے پہن کے کچھ دیر دھوپ میں ٹہلیں ۔

*وٹامن E*
وٹامن ای کا سب سے بڑا فایدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت ہی بہترین آنٹی آکسیڈنٹ ہوتا ہے یہ نا صرف آپ کی قوت مدافعت بڑھا دیتا ہے بلکہ آپ کے جسم میں جو ٹاکسنز پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی نکال کر باہر پھینکتا ہے
لیکن یہ وٹامن ای کا اصلی فائدہ نہیں ہے وٹامن ای کا اصلی فایدہ یہ ہے کہ وٹامن ای کو مناسب مقدار میں لینے سے آپ کی جلد چکنی لچکیلی اور چمکدار ہوتی چلی جاتی ہے اس لئے اگر آپ کی عمر تیس سال سے زیادہ ہے تو آپ کو دیسی گھی کھانا بھی چاہیے اور لگانا بھی چاہیے ۔

کچھ مرد جو 6 پیک بنانے کے چکر میں اور کچھ خواتین سلم ٹریم رہنے کے چکر میں دیسی گھی کا استعمال نہیں کرتیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ دیسی گھی کھانے سے ان کے جسم کی ساخت خراب کو جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا بلکہ ایسا کرنے سے ان کی بیماروں کے خلاف قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور آپ نے کئی ایسے 6 پیک والے لڑکے اور سلم سمارٹ لڑکیاں دیکھیں ہوں گی جن کا حال موسم بدلتے ہیں بے حال ہو جاتا ہے اور نزلہ زکام ،کانسی بخار انھیں آ گھیرتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا تو آپ ان سے یہ پوچھ کے دیکھ لیجئے گا سال بھر ان کے جسم میں کہیں نہ کہیں درد ضرور ہو رہا ہوتا ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ایسے مسائل نہ ہوں تو آپ کو دیسی گھی ضرور استعمال کرنا چاہیے

*وٹامن کے* :
وٹامن کے ناصرف ہڈیوں کے لئے بہت فائدے مند ہوتا ہے بلکہ یہ کسی بھی قسم کی چوٹ کو ٹھیک کرنے میں بہت مفید ہوتا ہے ۔اس لئے کٹنے پر جلنے پر اور چھپنے پر سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہاں پر دیسی گھی لگا دیا جائے

*کارڈیو ویسکولر سسٹم* :
دیسی گھی میں ایس -سی -ایف -اے اور بیوٹیرک ایسڈ ہوتا ہے اس لئے اگر آپ دیسی گھی لیتے ہیں تو دیسی گھی آپ کے جسم اور خون کی نالیوں میں جمی چربی کو باہر نکال دیتا ہے اس لئے اگر آپ اچھی مقدار میں دیسی گھی لیتے ہیں تو آپ موٹاپے سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور یہی the ketogenic diet کا بنیادی اصول ہوتا ہے ۔ اب اس کا کیا مطلب ہوا ؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں تو آپ کو دیسی گھی ضرور کھانا چاہیے ۔
دیسی گھی لینے کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ آپ کی وینز اور آرٹریز کی الاسٹیسٹی یا لچک بڑھا دیتا ہے اس لئے دیسی گھی ان لوگوں کے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہے جن کی فیملی ہسٹری دل کی بیماریوں کی ہے یا جو لوگ سگریٹ پیتے ہیں اور جو لوگ کسی ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں بہت زیادہ پلیویشن ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ کیونکہ دیسی گھی میں بہت ہی اچھی مقدار میں انٹی آکسیڈنٹ کانجوگیٹڈ لینولیک ایسڈ اور فیٹ سالوبل وٹامنز ہوتے ہیں اس لئے یہ قد بڑھانے کے لئے ایک بہت ہی مفید غذا سمجھی جاتی ہے ۔

*ڈئجسٹو سسٹم* :
اگر آپ کو کچھ تلا ہوا کھانے کو دل کر رہا ہے تو آپ ایسے دیسی گھی میں ہلکی آنچ پر تلیے اور کھائے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ۔ایسا کیسے ہوتا ہے ؟
دیسی گھی کا سموک پوائنٹ کسی بھی طرح کے گھی سے اور کسی بھی طرح کے تیل سے زیادہ ہوتا ہے

*سموک پوائنٹ کیا ہوتا ہے* ؟
سموک پوائنٹ smoke point کسی خاص چیز کے لئے اس خاص ٹمپریچر کو کہا جاتا ہے جس پوائنٹ پر وہ چیز گرم ہونے پر فری ریڈیکلز چھوڑنا شروع ہو جاتی ہے یعنی ایکسیڈائز ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔
فری ریڈیکلز سے کیا نقصان ہوتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر جسم میں فری ریڈیکلز تھوڑے زیادہ بڑھ جائیں تو طرح طرح کی کارڈیو ویسکولر ڈیزز ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اگر زیادہ بڑھ جائیں تو کینسر تک ہو سکتا ہے ۔
لیکن دیسی گھی میں جو بیوٹیرک ایسڈ ہوتا ہے یہ ہماری انٹیسٹائینز میں جا کر کیلرلٹی سیلز کی پیداوار بڑھا دیتا ہے اور یہ جو کیلرٹی سیلز ہوتے ہیں وہ ہمارے جسم میں باہر سے آنے والے تمام ہر طرح کے الرجنس اور ٹاکسنز کو ختم کر دیتے ہیں

کیونکہ دیسی گھی میں بہت اچھی مقدار میں کانجوگیٹڈ لینولیک ایسڈ ہوتا ہے جو کہ بہت ہی بہترین anticarcinogen مانا جاتا ہے اس لئے دیسی گھی ان لوگوں کے لئے بہت مفید ہے جن کی فیملی ہسٹری کینسر کی ہے یا وہ لوگ جو کینسر سے متاثر چکے ہیں ۔

ڈائجسٹو سسٹم میں دیسی گھی کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ کھانے کے کسی بھی ایٹم کا glycemic index کم کر دیتا ہے

*گلاسیمک انڈیکس کیا ہوتا ہے* ؟
گلاسیمک انڈیکس کسی بھی فوڈ ایٹم کی اس ویلیو کو کہا جاتا ہے جس کی مدد سے ہم یہ سمجھ پاتے ہیں کہ یہ خوراک ہمارے خون میں کتنی تیزی کے ساتھ بلڈ شوگر لیول کو بڑھا دے گا ۔
اور اسی لئے دیسی گھی ان لوگوں کے لئے بہت فایدہ مند ہے جنھیں شوگر کی بیماری ہے ۔
ویسے تو شوگر کے مریض کو ایسا کھانا نہیں کھانا چاہیے جس کا گلائسیمک انڈیکس زیادہ ہو لیکن اگر کھانا ہی پڑے تو اسے چاہیے کہ اس میں دیسی گھی ڈال لے ۔

تیسری چیز دیسی گھی ایسینشل فیٹی ایسڈز کا بہت اچھا سورس ہوتا ہے اس لئے دیسی گھی ناصرف آپ کی intestinal walls کو پروٹیکٹ کرتا ہے بلکہ یہ السریٹو کولایٹس ،منہ کے چھالے اور پیٹ کے السر سے بھی آپ کو بچاتا ہے اور اگر یہ بیماریاں آپ کو پہلے سے ہی ہیں تو یہ ان کو ٹھیک کرنے کے لئے سب سے کارآمد اور قدرتی طریقہ ہے ۔

*ایک دن میں کتنا دیسی گھی کھانا چاہیے*
فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ آف دی نیشنل ریسرچ کے مطابق ایک صحت مند جوان کی کل خوراک کا 20 ٪ حصہ فیٹس سے لیا جانا چاہیے اس سے آپ ایک دن میں بڑے آرام سے 20 سے 30 گرام دیسی گھی کھا سکتے ہیں ۔یہاں اس بات کو بھی سمجھ لیں کیونکہ فیٹ انٹیک یعنی چکنائی لینے کی اپر لیمٹ 35٪ ہے اس لئے ہم زیادہ دیسی گھی بھی کھا سکتے ہیں لیکن ہم دن بھر میں جو خوراک لیتے ہیں اس میں بھی کہیں نہ کہیں چکنائی ضرور ہوتی ہے اس لئے 30 گرام سے زیادہ دیسی گھی نہیں کھانا چاہیے ۔

اگر آپ چاہیے ہیں کہ آپ جو دیسی گھی کھا رہے ہیں اس کا آپ کو پورا پورا فایدہ ملے تو آپ روزانہ پیدل چلنے کا معمول بنا لیجئے ۔

اور یہاں سب سے ضروری بات کرنا چاہوں گا کہ جو بچپن کے دن ہوتے ہیں یا جوانی کے دن یہ گروتھ ایئرز کہلاتے ہیں اور ان سالوں میں دیسی گھی بنا موٹاپے اور پیٹ بڑھنے کی پروا کیے ضرور لینا چاہے اور ضروری ہے کہ جب بچے بڑھ رہے ہوں ان کی خوراک میں دیسی گھی کو ضرور شامل کیا جائے جس سے نہ صرف وہ لمبے بلکہ چوڑی جسامت بھی حاصل کرتے ہیں ۔

بکریاں پالنا :۰بکریوں کی فارمینگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے بکریوں کی فارمینگ کم پیسے سے بھی کی جا سکتی ہےاور بکریوں ...
17/11/2020

بکریاں پالنا :۰
بکریوں کی فارمینگ ایک اچھا اور منافع بخش کام ہے بکریوں کی فارمینگ کم پیسے سے بھی کی جا سکتی ہے
اور بکریوں کی افزائش ہمارے پیغمبروں کا پیشہ بھی رہا ہے
بکریوں کی فارمینگ دو قسم کی ہیں
۱- دودھ دینے والی قسم
۲- گوشت کی پیداوار والی قسم
دونوں اقسام کا کام منافع بخش کاروبار ہیں ۰
فارم بنانے کیلیے جگہ کا انتخاب:۰
فارم بنانے کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں پہ فارم کے شیڈ کے قریب قریب جنگل ہو جہاں سبز چارہ ،گھاس،جڑی بوٹیاں ، کیکر ، پھلائی ، بیری ، شہتوت ، جامن ، اور پیپل کے درخت ہوں
اگر یہ سہولت موجود نی ہے تو خود کے درخت لگائے
اسکے علاوہ چراہ گاہوں کے ساتھ ساتھ پانی کی ندی نالے یا کسی نہر کا گزر ہو ایسی جگہ کا انتخاب کریں
چراہ گاہوں اور کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے وزن بڑھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے
چراگاہوں میں جانے والی بکریاں اپنا وزن زیادہ بڑھاتی ہے کُھرلیوں میں پلنے والی بکریوں کے مقابلہ میں ۔
اسکے علاوہ باہر چراگاہوں میں جانے سے بکریاں مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں اور ہر قسم کا چارا کھانے سے مال مویشی بہت ساری بیماریوں سے بچ جاتے ہیں ۰
۱-بکریوں کے شیڈ کا طریقہ :۰
۱-بکریوں کے شیڈ کی تعمیر کے لے ہمیشہ جگہ اونچی ہو اور ایسی جگہ ہو جہاں قریب سیلابی پانی کے آنے کا خطرہ نہ ہو ۰
۲-شیڈ کی بنیادیں بھی زمین سے ۲ یا ۳ فٹ اونچی ہو تاکہ اندر کے پانی کی نکاسی اچھی ہو ۰
۳- شیڈ کی چھت صحن سے چھ انچ اونچی اور شیڈ کی پچھلی طرف چھ انچ نیچے ہو تاکہ بارشی پانی صحن میں نہ آئے ۰
۴- شیڈ کی چوڑائی کا رُخ شمالاً جنوباً ہو۰
۵- شیڈ کی چھت (7) سے (9) فٹ اونچی ہو۰
۶- شیڈ کی عمارت ہوا دار اور روشن ہو۰
۷- شیڈ کے ساتھ اور صحن میں سایہ دار درخت لگائے۰
۸- شیڈ کے اندر سردیوں میں دھوپ لگتی ہو۰
۹- شیڈ کے فرش پختہ ہو اگر فرش کچے ہے تو اندر کی دیواریں کم از کم (2) فٹ تک پختہ ہوں۰
۱۰- ٹیڈی بکری کیلے ۱۰ مربع فٹ چھتی جگہ ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کی ہو۰
۱۱- بڑی نسل کی بکریوں کیلے (12) مربع فٹ جگہ چھتی ہو اور دوگنی جگہ کھلی صحن کے لے ہو۰
۱۲- شیڈ کے اندر چارے کی کُھرلیوں کی تعمیر ۰
۱۳- شیڈ میں پانی کے حوض چوڑائی ایک فٹ گہرائی نو انچ اور لمبائی جانوروں کی تعداد کے مطابق۰
۱۴- شیڈ میں سردی اور گرمی کے مطابق انتظام ۰
۲-بکریوں کا انتخاب :۰
بکریوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے اور اس کیلے اپ کو ان کا علم ہونا لازمی ہے کہ کس علاقہ کی نسل کدھر سے سستی ملے گئی ا س ک ے علاوہ اپ کو ان کی بیماریوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے جانور لیتے وقت مکمل تسلی کر لیں کہ کہیں بیمار تو نی ہے یا کسی متعدی بیماری تو نی ہے
اس کے لے بکریوں کے کان کے اندر چیچڑ ، منہ اور کُھر کے اندر چھالے یا زخم نہ ہوں
تھن دو اور برابر ہوں زخمی یا سخت نہ ہو ں
پورا ھوانہ چیک کرے سخت یا سوجن نہ ہو
ھوانہ کا سائز بڑا ہو اور کم لٹکا ہو
ھوانہ میں دودھ ہو تو دودھ نکال کر چیک کرے
جانور کو دست کی بیماری نہ ہوں
بکریاں حاملہ ہوں یہ اپ کے لے سود مند ہوں گی
بکریاں جوان ہوں
ایسی بکریوں کا انتخاب کرے جو دو یا تین بچے پیدا کرنے والی ہوں
بکریاں اچھی نسل کی ہوں
بکریاں صحت مند ہوں
بکریوں کا قد و کاٹھ اچھا ہوں
۳-نئے فارم کے لے انتظامات :۰
نیا فارم شروع کرنے کے لے چند انتظام لازمی عمل میں لائیں
فارم صاف و ستھرا ہو
فارم میں پانی اور خوراک کا انتظام ہو
فارم میں سردی اور گرمی کے لحاظ سے مناسب انتظام ہو
فارم کے فرش پر چونے کا چھڑکاؤ ہو
فارم میں بکریوں کو اُتے ہی حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
فارم میں اگر پہلے سے جانور موجود ہوں تو نئے جانوروں کو دس دن تک الگ رکھے اور ویکسین کر کے شامل کرے
حاملہ بکریوں کے آخری ماہ ہونے پر سب سے الگ رکھے
تمام جانوروں کو دس دن کے بعد کرموں کی دوائی دیں
جانوروں کی مینگنوں کو کسی لیبارٹری سے چیک کروا کر ان کی ہدایت کے مطابق کرم کش دوائی پلائیں
۴-کامیاب فارمینگ کے چند اہم نکات :۰
بکریوں کی فارمینگ کو کامیاب بنانے کیلے میں اپنے چند اہم نقطۂ نظر اپ کی پیش خدمت کرتا ہوں۰
جانوروں کا مکمل ریکارڈ رکھیں
بکریوں سے سال میں دو دفعہ بچے لیں
بکریوں سے حاصل ہونے والے ہر بچہ کی اچھی پرورش کریں
تمام بیماریوں کے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں
تمام جانوروں کو اندرونی و بیرونی کرم کش ادویات دیں
تمام شیڈ کی صفائی ہر روز کریں
تمام شیڈ کو ہر ماہ چونا لازمی کریں خاص کر سردیوں میں
بکریوں کی اچھی پیداوار کے لے اچھی صحت کا ہونا اور اچھی صحت کے لے اچھی خوراک کا ہونا لازمی ہے
تمام جانوروں کے نمکیات اور منرل کا خیال رکھے
حاملہ جانوروں کو قبض سے بچائے
حاملہ جانوروں کو اپھارے سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
چھوٹے بچوں کو موسمی تبدیلیوں سے محفوظ رکھیں
حاملہ بکریوں کو آخری ایام میں ونڈا کا استعمال کرے
بکریاں (145/150) دن میں بچہ دیتی ہے
بچوں میں میل فروخت کرے اور فیمیل رکھیں
حاملہ بکریوں کے ھوانہ کو سوزش سے محفوظ رکھیں
نسل کشی 15 مارچ سے 15 اپریل اور 15 ستمبر سے 15 اکتوبر تک کریں
ماہ جولائی اور اگست میں بکریوں کا ملاپ نہ کریں
ملاپ سے ایک ماہ پہلے بکریوں کو ونڈا استعمال کروائیں
30 بکریوں کے لے ایک بریڈر میل بکرا کافی ہے
اس کے علاوہ بھی اپ کے پاس بریڈر میل ہونے چاہیں
بریڈر میل کو نسل کشی کے موسم میں ہی ریوڑ میں چھوڑیں
اہم نوٹ:
نوکروں کے ساتھ خود بھی شیڈ میں کام کریں
جانوروں سے پیار اور محبت سے پیش آنا لازمی شرط ہے

Need an A.I.T for Punjab Veterinary Clinic Liaqat Pur Location: Tehsil Liaqat pur distt Rahim Yar Khan.Interested Person...
16/11/2020

Need an A.I.T for Punjab Veterinary Clinic Liaqat Pur
Location: Tehsil Liaqat pur distt Rahim Yar Khan.
Interested Person can contact on 0300 9773934
0343 4164338

24/10/2020
Brahman Semen available at BVC..Contact Dr Akif 0343416433803009773934
24/06/2020

Brahman Semen available at BVC..
Contact Dr Akif
03434164338
03009773934

05/05/2020

عنوان۔ جانوروں کی ڈی ہارننگ۔ یا سینگوں کا ختم کرنا:-

اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کے گائے کے بچوں، بکروں وغیرہ کے سینگ کیسے ختم کیے جائیں لوگ اس مقصد کیلیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جن میں کٹننگ، برننگ وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن ڈی ہارننگ کا جو طریقہ میں آپکے سامنے رکھنے جا رہا ہوں یہ چھوٹے وچھے وچھیوں اور بکروں چھتروں کے بچوں کیلیے بہت کارگر ہے جس میں بالکل چھوٹی عمر میں ہی سینگوں کے بڈز پر دوائی لگا کر سینگ کی گروتھ کو ختم کر دیا جاتا ہے یہ طریقہ کار دوسرے طریقوں مثلا جلانے، کاٹنے وغیرہ سے کئی گنا کم تکلیف دہ ہے اور پاکستان میں بھی کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کیلیے پرسا perssa کریم استعمال کی جاتی ہے جو سینگوں کی جڑوں کو کیمیکل ری ایکشن کر کہ ختم کر دیتی ہے۔ ڈی ہارننگ کا یہ طریقہ 1 دن سے لیکر زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کی عمر کے بچوں پر کیا جاتا ہے لیکن بہترین وقت 7 دن سے 25 دن کی عمر ہے۔

طریقہ استعمال:-
سینگوں کی جگہ سے بال صاف کر کہ بڈ کے اردگرد گولائی میں ویزلین یا گریس وغیرہ کی موٹی سی تہ لگا لیں (سینگ کے حصے پر نہیں لگانی)تاکہ دوائی کسی غیر ضروری حصے کے ساتھ نہ لگ سکے۔ اب کسی لکڑی کی مدد سے صرف سینگ پر تھوڑی سی دوائی اچھی طرح لگا کر تھوڑی دیر کیلیے چھوڑ دیں۔ بچے کی عمر کے حساب سے اس دوائی کو 15 منٹ سے لیکر ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں اور پھر اچھی طرح واش کر کہ اس جگہ پر سرسوں کے تیل میں ہلدی ملا کر لگا دیں جو درد کو جزب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

احتیاطی تدابیر:-
اس پورے عمل کو انتہائی احتیاط کے ساتھ کرنا لازمی ہے۔
1۔ یہ دوائی استعمال کرنے سے پہلے گلوز(دستانوں) کا استعمال لازمی کریں۔
2۔ ہر ممکن طریقے سے اس دوائی کو سینگوں کی جگہ کے علاوہ لگانے سے بچائیں۔
3۔ اگر جسم کے کسی حصے پر یہ دوائی لگ جائے تو فوری طور پر بہت زیادہ پانی سے مسلسل دھوئیں۔
4۔ یہ دوائی کسی بھی موسم میں استعمال کی جا سکتی ہے لیکن بارش میں اس دوائی کو استعمال مت کریں۔
5۔ اس دوائی کے استعمال کے بعد جانور کو پین کلر کا کوئی انجیکشن بھی 1،2 دفعہ استعمال کرائیں۔
6۔ تصویر نمبر دو کو غور سے دیکھیں اور مکمل احتیاط کریں۔

فوائد:-
کم تکلیف دہ۔
انتہائی اچھے رزلٹس کا حامل طریقہ کار۔
جانور کے جوان ہونے پر سینگوں کی تراش خراش سے نجات۔

نوٹ:- مجھے اس مسئلے یا فتوے کا علم نہیں ہے کہ یہ طریقہ کار اسلامی ہے یا نہیں یااس طریقہ سے ختم کیے گئے سینگوں والے جانور کی قربانی ہو جاتی ہے یا نہیں۔

-

Cat Feed is also available at BVC..
09/04/2020

Cat Feed is also available at BVC..

24/02/2020

جانور کو ہیٹ میں لانے کے لیے فارمولا:
اگر جانور لمبے عرصے تک ہیٹ میں نہ آ رہا ہو تو ڈاکڑی نسخہ کے مطابق آپ
انجکشن ڈیلمازین یا لوٹالائز استعمال کریں
دیسی نسخہ
میتھرے 250 گرام
گڑ 250 گرام
اجوائن 150 گرام
گندم 250 گرام
مسور کی دال 100 گرام
یہ تمام چیزیں مکس کر کے روزانہ 200 گرام دیں
نسخہ نمبر 2
کسی بھی پنسار سے 12 دانے جائفل لیں اور روازانہ 4 دانے پیس کر ایک پائو گڑ میں دیں کنفرم ہیٹ میں آ جائے گی
اس میں احتیاط یہی ہو گی کہ کراس کوشش کریں جب ہیٹ ختم ہو رہی ہو تو کروائیں یا پھر کراس کے بعد سرسوں کا تیل دودھ میں پلا دیں ۔

29/12/2019




موسم سرما ہے اور اکثر و بیشتر لوگوں کی گائے بھینسیں ڈیلیوری (سوا) بھی کر رہی ہیں۔ جانور کو سوے کے فوری بعد چند توانائی اور میٹابولک سسٹم کو بوسٹ کرنے کے لئے کئی کام کئے کا سکتے ہیں جن میں سے ایک ڈرنک ایبل ڈرنچ کے ساتھ گائے / بھینس کو بچہ دینے کے فوری بعد 10 سے 15 گیلن نیم گرم پانی پلانا ہے۔ تاہم پاکستان میں یہ پریکٹس انتہائی معدوم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک باقاعدہ سسٹم کے ساتھ گائے کو اتنی بڑی مقدار میں پانی پلایا جاتا ہے جو بڑے فارموں پر فعال ہے تاہم چھوٹے فارمرز اس طریقہ کار سے ناواقف ہیں۔ اس لئے اپنے تمام بھائیوں کی آگاہی کے لئے یہ پوسٹ خصوصی طور پر موسمی حالات کے پیش نظر کر رہا ہوں تا کہ لوگ اس سے ممکنہ حد تک فائیدہ اٹھا سکیں۔

1.مارکیٹ میں فریش کاؤ کے لئے فیڈ سپلیمنٹ دستیاب ہوتا ہے۔ مختلف کمپنیاں مختلف ناموں سے یہ سپلیمنٹ تیار کرتی ہیں جس کو نیم گرم پانی میں حل کر کے بچہ پیدا ہونے کے فوراً بعد گائیوں کو ڈرنچ کیا جاتا ہے۔ اس فیڈ سپلیمنٹ میں جو نمایاں اجزائے ترکیبی ہوتے ہیں ان میں کیلشیم، مگنیشیم، الیکٹرو لائٹس، ڈائریکٹ فیڈ مائیکروبیلز، شکر اور وٹامنز ہوتے ہیں۔ آپ مارکیٹ سے یہ لیکر اپنے جانوروں کو بچہ دینے کے فوراً بعد 10-15 گیلن (35 لیٹر سے 55 لیٹر) پانی کے ساتھ دے سکتے ہیں۔ تاہم ہمارے فارمرز کو نہ یہ فیڈ سپلیمنٹ دستیاب ہوتا ہے اور نہ ہی یہ طریقہ کار پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں کیونکہ حسبِ ضرورت آلات عدم موجود ہیں عام کسانوں کے پاس۔ اس لئے ایک دیسی طریقہ کار دوستوں کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں تاکہ اس پر دوست دل کھول کر رائے دے سکیں کہ آیا یہ طریقہ کار اس جدید طریقہ کار کا نعم البدل کسی حد تک ہو سکتا ہے یا نہیں۔



جب آپ کا جانور سونے والا ہو تو چند چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں اپنے فارم پر۔ تاکہ جیسے جانور بچہ دے آپ ہر لحاظ سے تیار ہوں۔

1. جانور کے لئے علیحدہ کھرلی صاف اور خشک موجود ہونی چاہیے۔

2. 4-5 کلو دیسی ونڈہ آپ کے پاس ہمہ وقت دستیاب ہونا چاہیے۔

3. 10-15 کلو گرام خشک گھاس (لوسرن یا روڈ گراس) فارم پر موجود ہونی چاہیے۔

4. فارم پر کیلشیم (بون فاسفیٹ)، منرلز پاؤڈر، ملٹی وٹامن پاؤڈر، نمک، ڈسپرین گولیاں اور رومن ییسٹ موجود ہونا چاہیے۔

5. فلٹر واٹر (قابلِ شرب پانی) وافر مقدار میں موجود ہونا چاہیے۔

6. 1 کلو گڑ کا 5 لیٹر پانی میں شیرہ بنا کر رکھیں۔

7. 1 کلو خالص بیسن تیار ہو۔



خشک گھاس کو ٹوکے سے کتر لیں، اور اس میں ہلکی سی نمی لگا ونڈہ اچھی طرح مکس کریں۔ اس کے اندر 50 گرام نمک چھڑکیں، 50 گرام بون فاسفیٹ، 25 گرام منرل پاؤدر، 5 گرام رومن ییسٹ مکس کریں اور جانور کے کھانے کے لئے تیار کر لیں۔

جیسے جانور بچہ دے اس کو علیحدہ کھرلی پر باندھیں اور کھانے کو دیں۔

30 لیٹر پانی نیم گرم کر کے اس کے اندر گڑ کا شربت اور ملٹی وٹامن (حسبِ ضرورت) ملا لیں اور 10/10 لیٹر کر کے جانور کو وقفے وقفے سے نیم گرم پلائیں۔ رغبت بڑھانے کے لئے بیسن کا استعمال کیا جا سکتا یے۔

ہمارا مقصد یہ تمام تر خوراک جانور کو کھلانا اور کم از کم 30 لیٹر نیم گرم پانی اس کے رومن میں پہنچانا ہے۔

نوٹ: ڈسپرین کی 10 عدد گولیاں آپ پہلے جانور کو تھوڑے سے نیم گرم پانی میں حل کر کے دے سکتے ہیں۔
Dr Akif Akram
03009773934

10/12/2019

میسٹائیٹس یا ساڑو پیدا کرنے والے جراثیم سے تھنوں کو بچانے کے لیے مندرجہ ذیل سپرے بنا کر رکھیں۔۔
پایوڈین۔ 100ایم ایل
گلیسرین۔ 50 ایم ایل
پٹرولیم جیلی ( ویزلین) ایک ڈبی

ایک لیٹر پیپسی والی بوتل میں سب چیزیں ڈال کے اور باقی پانی سے بھر دیں۔ اس بوتل کے اوپر پریشر ہولڈر جو 30 روپے تےکا مل جاتا ہے وہ لگا کر دودھ نکالنے کے بعد جانور کے تھنوں پر سپرے کر دیں۔اس سے آپ کا جانور ساڑو کے جراثیم سے محفوظ رہے گا۔03009773934
03434164338

02/12/2019

نوزائیدہ بچےاور ماں کیلئے اہم ہدایات:-

جب گائے یا بھینس کا بچہ پیدا ھو اسکے 15 منٹ بعد 10 گولیاں ڈسپرین پانی میں گھول کر بڑے جانور کو پلا دیں اس سے جانور جیر جلدی نکال دیتا ھے جانور کے جیر پھینکنے کا انتظار نہ کریں کوشش کریں اسے ایک گھنٹے کے اندر اندر بچے کو پیٹ بھر بوھلی (جانور کا پہلا دودھ) پلائیں جتنی زیادہ ھوسکے ھر دوگھنٹے بعد بوھلی پینے میں اسکی مدد کریں اسکے بعد ماں کو 25 اوربچہ کو5 سی سی وٹامن اے ڈی ای تھری انجکشن بڑی سوئی کیساتھ گوشت میں لگائیں بعد میں بھی لگا سکتے ہیں دوسرے دن 1سی سی آئیورمیکٹن (آئیوٹیک)انجکشن زیر جلد لگائیں دو دن بعد بیوٹا لکس 2 سی سی لگائیں جتنے دن بوھلی رھے بچہ کھلا رکھیں اسکے بعد بچے کو واڑی میں منتقل کردیں اور بچہ کی ماں کا خوراک کا خیال رکھیں دیسی اجناس مکئی کا دلیہ گندم دلیہ کھل بنولہ چنے کا کرا چوکر کھل سرسوں پر مشتمل ونڈا وغیرہ شروع دن سے جاری رکھیں اسوقت جانور کو خوراک کی فراہمی ضروری ہے
واڑی میں مکئی کا دلیہ 10 کلو چوکر گندم 5 کلو مکس کرکے خشک انکے سامنے موجود رھے وہ اپنی مرضی سے جتنا مرضی کھاتے رھیں
اور ساتھ میں کم از کم دو تھن اگلے مکمل دودھ پلائیں سبز چارہ کم از کم تین ماہ بچوں کو بلکل نہ دیں اور یہی ونڈا 6 ماہ تک جاری رہے اگر آپ اسطرح بچے کی دیکھ بھال کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ آپکی کٹی 14سے 18ماہ میں مکمل جھوٹی بن کر کراس ھو جائے گی
نوٹ : اگر بچہ مٹی کھائے 5 سی سی فاسفان انجکشن گوشت میں لمبی سرنج کے ساتھ لگائیں

Address

Liaquatpur
64000

Opening Hours

Monday 15:00 - 20:00
Tuesday 15:00 - 20:00
Wednesday 15:00 - 20:00
Thursday 15:00 - 20:00
Saturday 15:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 20:00

Telephone

0300 9773934

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bismillah Veterinary Clinic - BVC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bismillah Veterinary Clinic - BVC:

Share

Category