Seni Gumbat

Seni Gumbat Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Seni Gumbat, Kohat.

05/03/2023

Papa ki pari 😂

24/02/2023

Sub ko jummah mubarak ho

Digital creator

29/06/2022

آج واپڈا کے خلاف روڈوں پر نکل کر ثابت کرو ۔کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ۔یہ جنگ آپ اور ہم نے خود لڑنی ہے ۔

25/12/2018

*اپنی نسلوں کو لعنت سکول سے بچاو*

یہ چھٹی یا ساتویں جماعت کا کمرہ تھا اور میں کسی اور ٹیچر کی جگہ کلاس لینے چلا گیا۔

تھکن کے باوجود کامیابی کے موضوع پر طلبا کو لیکچر دیا اور پھر ہر ایک سے سوال کیا

ہاں جی تم نے کیا بننا ہے

ہاں جی آپ کیا بنو گے

ہاں جی آپ کاکیا ارادہ ہے کیا منزل ہے ۔

سب طلبا کے ملتے جلتے جواب ۔

ڈاکٹر
انجینیر
پولیس
فوجی
بزنس مین ۔

لیکن ایسے لیکچر کے بعد یہ میرا روٹین کا سوال تھا اور بچوں کے روٹین کے جواب ۔جن کو سننا کانوں کو بھلا اور دل کو خوشگوار لگتا تھا ۔

لیکن ایک جواب آج بھی دوبارہ سننے کو نا ملا کان تو اس کو سننے کے متلاشی تھے ہی مگر روح بھی بے چین تھی ۔

عینک لگاۓ بیٹھا خاموش گم سم بچہ جس کو میں نے بلند آواز سے پکار کر اس کی سوچوں کاتسلسل توڑا ۔

ہیلو ارے میرے شہزادے آپ نے کیا بننا ہے۔ آپ بھی بتا دو ۔کیا آپ سر تبسم سے ناراض ہیں۔

*بچہ آہستہ سے کھڑا ہوا اور کہا سر میں نور الدین زنگی بنوں گا۔*

میری حیرت کی انتہإ نا رہی اور کلاس کے دیگر بچے ہنسنے لگے ۔ اس کی آواز گویا میرا کلیجہ چیر گٸی ہو ۔ روح میں ارتعاش پیدا کر دیا ۔

پھر پوچھا بیٹا آپ کیا بنو گے ۔ سر میں نور الدین زنگی بادشاہ بنوں گا ۔ ادھر اس کاجواب دینا تھا ادھر میری روح بے چین ہو گٸی جیسے اسی جذبے کی اسی آواز کی تلاش میں اس شعبہ تدریس کواپنایا ہو ۔

بیٹا آپ ڈاکٹر فوجی یا انجینیر کیوں نہیں بنو گے ۔

سر امی نے بتایا ہے کہ اگر میں نور الدین زنگی بنوں گا تو مجھے نبی پاک ﷺ کا۔دیدار ہو گا جو لوگ ڈنمارک میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کررہے ہیں ان کو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بچے کی آواز بلند اور لہجے میں سختی آرہی تھی ۔

اس کی باتیں سن کر۔میرا جسم پسینہ میں شرابور ہو گیا ادھر کلاس کے اختتام کی گھنٹی بجی اور میں روتا ہوا باہر آیا ۔
مجھے اس بات کااحساس ہے کہ آج ماوں نے نور الدین زنگی پیدا کرنے چھوڑ دیے ہیں اور اساتذہ نے نور الدین زنگی بنانا چھوڑ دیے ہیں ۔

میں اس دن سے آج تا دم تحریر اپنے طلبا میں پھر سے وہ نور الدین زنگی تلاش کر رہاہوں ۔۔کیا آپ جانتے ہیں وہ کون ہے اس ماں نے اپنے بیٹے کو کس نورالدین زنگی کا تعارف کروایا ہو گا یہ واقعہ پڑھیے اور اپنے بچوں میں سے ایک عدد نور الدین زنگی قوم کو دیجیے۔

ایک رات سلطان نور الدین زنگی رحمتہ اللّه علیہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے۔
اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوئے میرے آقا دوعالم ﷺ کو کون ستا رہا ہے .

آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھااور آج پھر چند لمحوں پہلے انھیں آیا جس میں سرکار دو عالم نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں.

اب سلطان کو قرار کہاں تھا انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا .

اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا. مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کرواے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا.

اب لوگ آ رہے تھے اور جا رہے تھے ، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں .

جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں .

تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیح میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں.

سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے.

انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء.کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا. آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی.

آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا .وہ سرنگ میں داخل ہویے اور واپس اکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک صلی اللہ علیھ والہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے،

یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت تری ہوگئی .آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہوں.

حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ یہودی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کے گئے ہیں.

سلطان یہ سن کر رونے لگے ،

*اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں.*

سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ

💞"میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا"💞

اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آے.سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا.

💞
بعض کے نزدیک سلطان کو سرنگ میں داخل ہو کر قبر انور پر حاضر ہو کر قدمین شریفین کو چومنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔💞

تحریر لمبی ضرور ہے مگر آپ کو۔پسند آٸی توعشق آقا کےواسطے اسے شٸیر کیجیے گا ۔ اس تحریر کو کاپی کرتے ہوئے آگے بڑھائیے۔اچھی بات اگے پھیلانا بھی صدقہ ہے شکریہ.

09/12/2018

🌹🌹
*⭕ کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟*

(سوشل میڈیا پر وائرل ایک عربی پوسٹ کی اردو ترجمانی)

🍀 ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا

🍀 خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟

کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟

یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟

یا ڈھیر سارے سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟

🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے.

اس سلسلے میں مال کا نام مت لیجیے،
بہت ساری مالدار عورتیں جن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے

خوشحال شادی شدہ زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں ہے، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے دسیوں بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے

بہت ساری خواتین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں، دن دن بھر کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں شوہر کی بدسلوکی کی شکایت رہتی ہے

🍀 انٹرویو لینے والی خاتون صحافی کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا :
پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے ؟

🍀بوڑھی خاتون نے جواب دیا : جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں.

ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہوجاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے

🍀 نامہ نگار خاتون نے پوچھا : ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟

🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں،
اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں.

ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہوجائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے.

🍀 جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے تو میں کہتی ہوں :
پوری ہو گئی آپ کی بات ؟

پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں

کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے.

میں کمرے سے نکل جاتی ہوں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہوں.

🍀 خاتون صحافی نے پوچھا : اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟

🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں !

اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے،

یہ دودھاری ہتھیار ہے،
جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی.

🍀 صحافی نے پوچھا : پھر آپ کیا کرتی ہیں؟

🍀 بوڑھی خاتون بولیں :
میں دو تین گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے.

حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے.

پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں.

وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟

میں کہتی ہوں : نہیں.
اس کے بعد وہ اپنی سخت کلامی پر معذرت ظاہر کرتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے.

انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا : اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟

🍀 بوڑھی خاتون بولیں : بالکل، میں کوئی اناڑی تھوڑی ہوں، مجھے اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے.

کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کرلوں اور جب وہ پرسکون ہو تو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟

خاتون صحافی نے پوچھا : اور آپ کی عزت نفس (self respect) ؟

🍀 بوڑھی خاتون بولیں :
پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو اور ہماری شادی شدہ زندگی پرسکون ہو

دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی

جب مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں تو پھر کیسی عزت نفس ؟؟
شیئراینڈ سپورٹ دى لائف *LSO*

Khalid
28/11/2018

Khalid

21/11/2018

خاندان اور خون کی پہچان

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا .
سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے.
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا.... ؟
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا.....

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا .....

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا کہ اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ..........

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ........اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے .....ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا .... ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ......

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے...
بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا........

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا .....سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو......
ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبلی نعمانی کی کتاب سے .

طالب دعا
خالد

18/11/2018

::: امام ابو حنیفہؒ کا بچپن میں ایک دہریہ سے حیرت انگیز مباحثہ ::: خدا کا تصور تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے، گو اسلام کے علاوہ باقی ادیان میں اب یہ تصور درست نہیں رہا، البتہ کائنات میں ایک مخلوق ایسی بھی پائی جاتی ہے جو خدا ہی کو نہیں مانتی، ان کو دہریہ کہا جاتا ہے،
ان کی تعداد گو قلیل ہے لیکن ہر دور میں موجود رہی ہے، یہ عقلی ڈھکوسلوں سے ہمیشہ اہل اسلام کو پریشان کرتے رہتے ہیں، لیکن اللہ رب العزت نے ان کے علاج کیلئے بھی ہر دور میں اہل علم پیدا فرمائے ہیں، جنہوںنے علمی اور عقلی طور پر ان لوگوں کو جواب دیکر ان کے اوسان خطا کر دیے، چنانچہ تابعین کرامؒ کے دور میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ ایک دہریہ نے اہل اسلام پر چارسوال داغے، جن کے جواب امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اپنے بچپن کے زمانہ میں دے کر اسلام کیلئے ایکاصولی راہ ہموار کر دی ہے، اب اہل علم وعقل ان جوابات سے روشنی حاصل کر کےمزید اور مثالیں بھی پیش کر سکتے ہیں،
تو ملاحظہ فرمائیے،امام صاحب بچپن ہی سے نہایت ذکی اورحاضر جواب تھے، ایک دفعہ قیصر روم )بادشاہ روم( نے اپنے قاصد کو تحائف دیکر خلیفہ منصور کے دربار میں بھیجا اور حکم دیاکہ خلیفہ کو کہنا کہ اپنے ملک کے علماء کرام کو جمع کرکے چند سوالات کئے جائیں پھر معقول جواب پر وہ تحائف انہیں تقسیم کردیں۔ قاصد نے شاہ روم کے اس حکم نامہ کو خلیفہ کے دربارمیں پہنچایا، انہوں نے تمام علماء و فضلاء اور حکماء کو جمع کیا، امام ابوحنیفہؒ کےوالد ماجد آپکو بھی اجتماع میں ساتھ لائے، اس اجتماع کوخاص انداز سے منعقد کیاگیاجس میں ایک منبررکھا گیا اور اس پر قاصد نے بیٹھ کر تمام علماء کرام کو خطاب کرتے ہوئے چند سوالات کئے تو کسی نے جواب نہ دیا، اس ندامت کو برداشت نہ کرتے ہوئے امام صاحبؒ نے اپنے والد صاحب سے جواب دینے کی اجازت طلب کی، انہوں نے تامل فرمایا اور متفکر ہوئے کہ یہ بچہ کیسے جواب دے گا، اس وقت نہ اس کی عمر ہے نہ علم ہے کہ اس کا جواب دے سکے، لیکن امام صاحبؒ کے پرزور اصرار پر اجازت مل گئی، پھر آپ اپنی نشست چھوڑ کر منبر کے قریب آئے اور اس قاصد کو کہاکہ سائل شاگرد کی مثل ہوتاہے لہٰذاتو منبر سے اتر کر سوال کرمیں اس کا جواب دوں گا، قاصد منبر سے اتر آیا، اس کی جگہ امام ابوحنیفہ بحیثیت استاد و جج منبر پر تشریف فرما ہوئے اور قاصد کو کہا کہ سوال کیجئے، اس نے کہا
……سوال نمبر۱)قاصد(خدا تعالیٰ سے پہلے کون تھا؟جواب : )امام اعظمؒ( اعداد )ایک، دو، تین( کو شمار کرکے بتاؤ کہ ایک عدد سےپہلے کونسا عدد ہے، قاصد نے کہااس سے پہلے کوئی عدد نہیں آتا، امام صاحبؒ نے فرمایا اس سوال کا فیصلہ ہوگیا کہ جب عدد واحد )مجازی( لفظی سے پہلے کوئی چیز متحقق نہیں ہوسکتی تو واحد )حقیقی( معنوی سے پہلے کوئی شئ کیسے متحقق ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ہمارا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ سے پہلےکوئی شئ نہ تھی،
اس سے لاجواب ہوکر قاصد نے دوسرا سوال کیا۔سوال نمبر۲ )قاصد( خدا تعالیٰ کا منہ کس طرف ہے؟جواب : امام صاحبؒ نے فرمایاکہ دربار میں جب مشعل روشن ہوتی ہے تو اس کامنہ کس طرف ہوتاہے؟ قاصد نے کہاکہ اس کا منہ چاروں طرف برابر ہوتاہے، امام صاحب نے فرمایا بس اس کا جواب بھی ہوگیا جب نور مجازی کی جانب متعین نہیں تو نور حقیقی )اللہ تعالیٰ( کیسے ایک طرف متعین ہوسکتاہے اور جب نور مجازی ہر طرف پھیلاہواہے تو نورحقیقی بطریق اولی ہر جگہ موجود ہے۔

سوال نمبر۳ )قاصد( ہر موجود شبیہ کے لئے کوئی نہ کوئی جگہ ضرور ہوتی ہے بتائے اللہ کہاں ہیں؟جواب : امام صاحبؒ نے دودھ منگوایا اور اس دہریہ سے پوچھا بتااس میں گھی کہاں ہے؟ اس نے کہا اس میں گھی کی کوئی مخصوص جگہ نہیں ہوتی بلکہ ہر قطرہ میں ہے، اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا کہ جب معدوم ختم ہونے والی چیز ہر قطرہ کے ہر حصہ میں ہوسکتی ہے تو وہ خالق ارض و سما ہر جگہ کیوں نہ ہوگا؟
سوال نمبر۴)قاصد( پھر قاصد نے خاسر ہوکر چوتھا سوال کرڈالا کہ خدا تعالیٰ کیاکررہاہے؟۔جواب : امام صاحبؒ نے فرمایا اس کے بہت سے کام ہیں، ان میں سے ایک یہ کیا کہ اس نے تجھ جیسے کافر کو منبر سے اتارا اور مجھ جیسے مومن کو اس پر بٹھایا، یہ زمانہ طفولیت میں امام صاحبؒ کی اس قدر جرأت اور ذہانت تھی کہ مجمع عام میں مخالف اسلام کو لاجواب کردیا۔ ) الفقہ والفقہاء ص49(۔۔۔۔۔۔خالد

12/11/2018

شدید بارش کے سبب ٹیکسی لینا بہتر تھا -
"ماڈل کالونی چلو گے -"
" کتنے پیسے لو گے -"
" جو دل کرے دے دینا سرجی "
" پھر بھی "
" سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا - میں ایک جاہل آدمی ہوں -پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے , وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے - توکل اسی کا نام ہے "
اس کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں - ٹیکسی ابھی تھوڑا آگے گئی کہ مسجد دکھائی دی -
" سر جی - نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں " اس نے ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی
" آپ نماز ادا کریں گے "
" کس مسلک کی مسجد ہے یہ " میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا -
" باؤ جی ! مسلک سے کیا لینا دینا - اصل بات سجدے کی ہے - الله کے سامنے جھکنے کی ہے - یہ الله کا گھر ہے"
میرے پاس کوئی عذر باقی نہیں تھا - نماز سے فارغ ہوۓ اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے -
" سر , آپ نماز با قاعدگی سے ادا کرتے ہیں -
" کبھی پڑھ لیتا ہوں , کبھی غفلت ہو جاتی ہے " یہی سچ تھا -
" جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہو گئی اور نہیں ہونی چاہیۓ "
" معاف کرنا , یہ ذاتی سوال نہیں - اگر احساس ہوتا ہے تو الله ایک دن آپ کو ضرور نمازی بنا دے گا - اگر احساس نہیں ہوتا تو ----"
وہ خاموش ہو گیا - اسکی خاموشی مجھے کاٹنے لگی -
" تو کیا " میرا لہجہ بدل گیا -
" اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں "
" ہاں بولیں "
" اگر غفلت کا احساس نہیں ہو رہا تو اپنے آمدن کے وسائل پر غور کریں - اور اپنے الله سے معافی مانگیں , الله آپ سے راضی نہیں "
ہم منزل پہ آ چکے تھے - میں نے اسکے توکل کی حقیقت جاننے کی لئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا , اس نے بسم الله کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا - میں نے آواز دی , وہ رک گیا -
" حکم سر جی "
" تم ان پیسوں میں خوش ہو "
" جی , مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہو گا - الله نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا "
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے - میں نے جیب سے مزید دو سو نکالے اور اسے دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا - وہ مسکرایا -
" سر جی , دیکھا آپ نے - میرا حق پچاس روپے تھا , اور الله کے توکل نے مجھے دو سو دیا "
وہ چلا گیا , میرے ایمان کو جھنجھوڑ کر -----خالد

07/11/2018

دوکان پر گاہک اللہ بھیجتا ہے...

برطانیہ، چین اور ملائشیا مشہور سپر سٹورز میں کام کرنیوالے ایک لائق فائق مینجر کو بن داؤد سپر سٹوز مکہ میں کام کرنیکا اتفاق ہوا-
وہ برطانوی نژاد تھا اور بزنس مینجمنٹ کی کتابوں میں اس نے ہمیشہ اپنے مد مقابل منافس(compititor) کو نیچا دکھا کر آگے بڑھنا ہی سیکھا تها-
مکہ مکرمہ میں کچھ عرصہ اس نے بطور ریجنل منیجر کے اپنی خدمات سرانجام دیں-
دریں اثناء اس نے دیکھا کہ ایک دوسرے نام کے سپر سٹور کی برانچ اسکے سٹور کے بالکل سامنے کھلنے کی تیاریاں ہورہی ہیں-
اس نے سوچا کہ یہ لوگ ادھر آکر اسکی سیلز پر اثر انداز ہونگے- لہذا اس نے فورا بن داؤد سپر سٹوز کے مالکان کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں اس نئے سپر سٹور کے متعلق کچھ معلومات، مشورے اور آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرنے کی تجاویز دیں-
اسکو زندگی میں حیرت کا شدید ترین جهٹکا لگا جب مالکان نے اسکو نئے سپر سٹور کے ملازمین کا سامان رکھوانے سٹور کی تزئین و آرائش اور انکے چائے پانی کا خاص خیال رکھنے کا کہا-
اسکی حیرت کو ختم کرنے کیلئے بن داؤد سٹورز کے مالکان نے کہا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لائیں گے اور ہمارا رزق ہمارے ساتھ ہوگا-
اپنے لکھے گئے رزق میں ہم ایک ریال کا اضافہ نہیں کرسکتے اگر اللہ چاہے- اور نئے سٹور والوں کے رزق میں ہم ایک ریال کی کمی نہیں کرسکتے اگر اللہ چاہے-
تو کیوں نا ہم بھی اجر کمائیں اور مارکیٹ میں نئے آنیوالے تاجر بھائی کو خوش آمدید کہہ کر ایک خوشگوار فضا قائم کریں-

دوسرا واقعہ مشہور پولٹری کمپنی کا ہے- الفقیہ پولٹری کمپنی کے مالک نے مکہ مکرمہ میں ایک عظیم الشان مسجد(مسجد فقیہ) بھی تعمیر کی ہے-
اسکی منافس کمپنی الوطنیہ چکن لاکهوں ریالوں کی مقروض ہوکر دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گئی-
فقیہ کمپنی کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اپنی مخالف کمپنی کے مالک کو ایک خط بھیجا اور ساتھ ایک دس لاکھ ریال سے زائد کا چیک بھیجا- اس خط میں لکھا تھا- "میں دیکھ رہا ہوں کہ تم دیوالیہ پن کے قریب کهڑے ہو، میری طرف یہ رقم قبول کرو، اگر مزید رقم کی ضرورت ہے تو بتاؤ- پیسوں کی واپسی کی فکر مت کرنا- جب ہوئے لوٹا دینا-"
اب دیکھئے کہ ارب پتی شیخ الفقیہ کے پاس الوطنیہ کمپنی خریدنے کا ایک نادر موقع تھا لیکن اس نے اپنے سب سے مخالف کی مالی مدد کرنے کو ترجیح دی-

حاصل کلام:-
اوپر بیان کیئے گئے دو سچے واقعات آپکو اسلامی تجارت کے اصولوں سے متعارف کراتے ہیں،

کسی مخالف کمپنی سے پریشان نا ہوں، اگر آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے اور کسی پر احسان کرتے تو اللہ تعالٰی آپ کا بازو پکڑ کر آپکو کامیابی کی معراج تک پہنچا دیتے- یاد رکهیں،،،، کسی ٹانگیں کھینچنے سے آپکا رزق زیادہ نہیں ہوگا-
اسکے جو نصیب کا ہے اسکو مل کر رہے گا-

عربی سے ترجمہ شدہ

Address

Kohat
2600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Seni Gumbat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share