Sultan Farms Since-1978.

Sultan Farms Since-1978. We are working since-1978. our aim is to Provide organic FoodStuff to ppl around us In Sha Allah...! Our aim is to provide organic foodstuffs In Shaa Allah

29/04/2026

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے...
24/04/2026

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
عربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے
آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے
آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا

حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیا
یا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے
آپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے

یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے
اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے
ان کا فساد اور انجام کیسا ہو گا
اور اس دیوار کی کہانی کیا ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا
لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں
کہہ دیجیے میں تمہیں اس کے بارے میں کچھ سنا دیتا ہوں

ذوالقرنین دنیا کے ان عظیم بادشاہوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے حکومت اور وسائل عطا کیے
اللہ نے انہیں وہ سب کچھ دیا جس سے وہ پوری دنیا پر حکومت کر سکیں
چنانچہ انہوں نے مغرب کی طرف سفر کیا
وہاں ایک ایسی قوم ملی جو اللہ کو نہیں مانتی تھی
انہوں نے نرمی سے ان کو دعوت دی
اور وہ ایمان لے آئے

پھر ذوالقرنین مشرق کی طرف روانہ ہوئے
وہاں ایسی قوم ملی جو دھوپ میں ننگے میدانوں میں رہتی تھی
انہوں نے ان کے لیے چھپنے کے لیے گھر اور پناہ گاہیں بنوائیں

پھر وہ شمال کی طرف روانہ ہوئے
جہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم ملی
وہ سادہ لوگ تھے جو یاجوج ماجوج کے ظلم سے پریشان تھے
یاجوج ماجوج فساد کرنے والی قوم تھی
وہ حملے کرتے، قتل کرتے، مال لوٹتے اور زمین کو تباہ کرتے تھے
اس قوم نے ذوالقرنین سے کہا کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دیں
تاکہ ہمیں ان کے ظلم سے بچایا جا سکے

ذوالقرنین نے ان سے مزدوری نہیں لی
بس ان سے کہا کہ لوہا اور آگ لا کر دو
انہوں نے ایک بڑی دیوار لوہے اور تانبے کی مدد سے بنائی
اتنی مضبوط کہ یاجوج ماجوج اس پر چڑھ بھی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی اسے توڑ سکتے تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی نسل سے ہیں
ان کا شمار انسانوں میں ہوتا ہے
لیکن وہ بہت طاقتور اور جنگجو ہیں
ان کی قوم میں ان کا ایک سردار ہوتا ہے
یہ لوگ روز اس دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں
جب وہ تھوڑا سا توڑ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ باقی کل کریں گے
مگر جب اگلے دن آتے ہیں تو دیوار ویسی کی ویسی ملتی ہے
یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ انہیں نکلنے کی اجازت نہ دے

جب وہ نکلیں گے تو زمین پر ہر طرف پھیل جائیں گے
پانی کو پی جائیں گے
یہاں تک کہ طبرستان کی جھیل بھی خشک کر دیں گے
ہر چیز کو کھا جائیں گے
درخت، جانور، انسان جو بھی سامنے آئے

پھر وہ غرور میں آ کر کہیں گے
ہم نے زمین والوں کو مار دیا
اب آؤ آسمان والوں سے لڑیں
وہ اپنے نیزے آسمان کی طرف پھینکیں گے
اللہ تعالیٰ انہیں آزمائش کے لیے خون آلود واپس کرے گا
تو وہ مزید مغرور ہو جائیں گے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی فرماتے ہیں
یہ سب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے قتل کے بعد ہو گا
جب دجال مارا جائے گا
تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیں گے
کہ مسلمانوں کو لے کر پہاڑ کی طرف چلے جائیں
کیونکہ یاجوج ماجوج نکلنے والے ہیں

پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک چھوٹے کیڑے کے ذریعے مار ڈالے گا
جو ان کے نتھنوں اور سروں کے پیچھے سے نکلے گا
اور سب زمین پر مر جائیں گے
زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی

پھر اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا
جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر کہیں دور لے جائے گا
پھر بارش نازل ہوگی
جو زمین کو پاک کرے گی

اس کے بعد زمین پہلے سے بہتر ہو جائے گی
ہر طرف امن ہوگا
حتیٰ کہ آدمی شیر کے پاس سے گزرے گا اور شیر اسے کچھ نہیں کہے گا
سانپوں پر پاؤں رکھے گا مگر کوئی نقصان نہ ہوگا
دلوں میں حسد، دشمنی اور کینہ باقی نہیں رہے گا
یہ وہ وقت ہوگا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کاش میں اس وقت زندہ ہوتا اور اس وقت کا زمانہ دیکھتا

اللہ ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے
اور ایمان پر موت عطا فرمائے
ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے جو عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھ پائیں گے
اور امن کے اس دور کو دیکھیں گے جہاں نہ دشمنی ہو گی نہ ظلم
صرف سکون، سلامتی اور اللہ کا ذکر ہوگا

اللّٰہ ہمیں ہدایت دے، بصیرت دے، اور اپنی پناہ میں رکھے...

🌸 معمولات کا حیرت انگیز حالحافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں حماد بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک ش...
26/03/2026

🌸 معمولات کا حیرت انگیز حال

حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں حماد بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ عجیب و غریب سوالات کے جوابات دریافت کیے، تو آپ رضی اللہ عنہما نے نہایت حکمت سے یوں رہنمائی فرمائی:

سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ بولتی ہے؟
جواب: وہ جہنم ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا:
هَلِ امْتَلَأْتِ
“کیا تو بھر گئی؟”
تو وہ کہے گی:
هَلْ مِنْ مَزِيدٍ
“کیا کچھ اور بھی ہے؟”

سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ دوڑتی ہے؟
جواب: وہ عصائے موسیٰ ہے، جو سانپ بن کر دوڑنے لگتا تھا۔

سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ سانس لیتی ہے؟
جواب: وہ صبح ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے:
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
“قسم ہے صبح کی، جب وہ سانس لیتی ہے۔”

سوال: وہ دو چیزیں کون سی ہیں جن میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر جب ان سے خطاب کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا؟
جواب: وہ زمین اور آسمان ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“آؤ، چاہے خوشی سے یا زبردستی”
تو دونوں نے کہا:
أَتَيْنَا طَائِعِينَ
“ہم خوشی خوشی حاضر ہوئے۔”

سوال: وہ کون سا فرستادہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، مگر وہ نہ انسان تھا، نہ جن اور نہ فرشتہ؟
جواب: وہ کوا تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کے پاس بھیجا تاکہ وہ اپنے بھائی ہابیل کی لاش دفنانے کا طریقہ سکھا دے۔

سوال: وہ کون سا جاندار ہے جو مر گیا، اور اس کی وجہ سے ایک مردہ جاندار زندہ ہو گیا؟
جواب: وہ بنی اسرائیل کی گائے ہے، جس کا ذکر سورۂ بقرہ میں آیا ہے۔ اس گائے کو ذبح کیا گیا، پھر اس کے ایک ٹکڑے سے مقتول کو مارا گیا تو وہ زندہ ہو گیا۔

سوال: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ کو دریا میں ڈالنے سے پہلے کتنے دن دودھ پلایا، کس دریا میں ڈالا اور کس دن ڈالا؟
جواب: تین ماہ دودھ پلایا، دریائے نیل میں ڈالا، اور جمعہ کے دن ڈالا۔ آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں بہایا گیا تھا، اور فرعون کے محلات بھی اسی دریا کے کنارے تھے۔

سوال: حضرت آدم علیہ السلام کے قد کی لمبائی کتنی تھی، آپ کی عمر کتنے برس ہوئی، اور آپ کے وصی کون تھے؟
جواب: آپ کا قد ساٹھ (60) ذراع تھا، عمر نو سو چالیس (940) سال ہوئی، اور آپ کے وصی حضرت شیث علیہ السلام تھے۔

سوال: وہ کون سا پرندہ ہے جو انڈے نہیں دیتا اور جسے حیض آتا ہے؟
جواب: وہ چمگادڑ ہے، جسے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنایا تھا۔ یہ بچہ جنتی ہے اور اسے حیض بھی آتا ہے۔
(حیاتُ الحیوان، جلد 2، ص 803)

🌹 ری ایکٹ ضرور کیا کریں 🌹

ری ایکٹ دراصل احساس کی علامت ہے۔۔۔
شعور کی۔۔۔ جذبے کی۔۔۔ اخلاق کی۔۔۔
حوصلہ افزائی کی۔۔۔ قدردانی کی۔۔۔
شکریہ کی۔۔۔ باہمی تعلق کی۔۔۔
وفاداری کی۔۔۔

اس کو معمولی مت سمجھیں، سلامت رہیں 🤲

بارك الله بكم جميعا

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

اِن بریڈنگ فوراً نقصان نہیں کرتی… یہ آہستہ اور خاموشی سے کمزور کرتی ہے۔اِن بریڈنگ اُس وقت ہوتی ہے جب قریبی رشتہ دار بھیڑ...
18/02/2026

اِن بریڈنگ فوراً نقصان نہیں کرتی… یہ آہستہ اور خاموشی سے کمزور کرتی ہے۔

اِن بریڈنگ اُس وقت ہوتی ہے جب قریبی رشتہ دار بھیڑ یا بکریوں کو آپس میں ملا دیا جائے۔
مثلاً بھائی کو بہن سے، باپ کو بیٹی سے، یا ایک ہی خاندان کی لائن بار بار چلتی رہے۔

زیادہ تر فارمرز یہ جان بوجھ کر نہیں کرتے۔
یہ اُس وقت ہوتا ہے جب بریڈنگ کنٹرول نہ ہو، یا ایک ہی مینڈھا/بکرا کئی سیزن تک ریوڑ میں رہے۔

خطرہ یہ ہے کہ اس کے نقصانات پہلی نسل میں فوراً ظاہر نہیں ہوتے۔
بچے پیدائش کے وقت نارمل لگتے ہیں۔
اصل نقصان کئی سیزن بعد آہستہ آہستہ سامنے آتا ہے۔

جو چیز سہولت لگتی ہے…
وہی بعد میں کارکردگی کی کمی بن جاتی ہے۔

اِن بریڈنگ کیوں خطرناک ہے؟

1. جینیاتی طاقت کم ہو جاتی ہے۔

2. جانور چارہ کھاتے تو ہیں، مگر فیڈ کنورژن خراب ہو جاتی ہے۔

3. بڑھوتری سست ہو جاتی ہے۔

4. بارآوری (Fertility) کم ہو جاتی ہے۔

5. بیماریوں کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اکثر فارمرز اس پر یوں ردعمل دیتے ہیں:

فیڈ پروگرام تبدیل کر دیتے ہیں

نسل تبدیل کرنے کا سوچتے ہیں

سپلیمنٹس بڑھا دیتے ہیں

مگر مسئلہ برقرار رہتا ہے…
کیونکہ اصل مسئلہ خوراک نہیں، جینیات ہوتا ہے۔

اِن بریڈنگ کی عام نشانیاں

1. پیدائش یا دودھ چھڑانے کے وقت کم وزن کے بچے

2. غیر یکساں یا کمزور گروتھ ریٹ

3. حمل ٹھہرنے اور بچے دینے کی شرح میں کمی

4. بچوں میں کمزور طاقت (Vigour)

5. بیماریوں میں اضافہ

6. جسمانی ساخت کی کمزوریاں زیادہ نظر آنا

7. جانور کھاتے نارمل ہیں مگر وزن نہیں بنا رہے

یہ علامات آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں، اسی لیے اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔

فارم پر اِن بریڈنگ کیسے ہوتی ہے؟

1. ایک ہی مینڈھا یا بکرا کئی سیزن رکھنا

2. جوان نر جانوروں کو بروقت الگ نہ کرنا

3. باپ اور ماں کی لائن کا ریکارڈ نہ رکھنا

4. نر جانوروں کو مستقل مادہ کے ساتھ چھوڑ دینا
یاد رکھیں:

آج کی آسانی کل کئی سال کی کارکردگی کم کر سکتی ہے۔

بغیر نسل بدلے اِن بریڈنگ سے کیسے بچیں؟

اِن بریڈنگ سے بچنے کا مطلب ہر سال نئی نسل لانا نہیں۔
اس کا مطلب ہے رشتوں کو سمجھ کر مینج کرنا۔

1. مینڈھوں اور بکروں کو باقاعدگی سے روٹیٹ کریں
2. بہن بھائیوں کو بریڈنگ عمر سے پہلے الگ کریں
3. بیٹی کو باپ کے ساتھ مت ملائیں
4. سادہ ریکارڈ رکھیں کہ کس کا باپ کون ہے
5. وقتاً فوقتاً غیر متعلقہ (Unrelated) جینیات شامل کریں
چھوٹے فارم بھی تھوڑی سی پلاننگ سے اِن بریڈنگ سے بچ سکتے ہیں۔
اچھی بریڈنگ پالیسی میں یکسانیت اور تنوع دونوں کا توازن ضروری ہے۔
زیادہ یکسانیت گروتھ، بارآوری اور مزاحمت کو کمزور کر دیتی ہے۔
اِن بریڈنگ فارم کو ایک دن میں تباہ نہیں کرتی۔
یہ آہستہ آہستہ کارکردگی اور منافع کم کرتی ہے۔

اگر جانور چارہ صحیح کھا رہے ہیں مگر وزن نہیں بنا رہے…
تو صرف فیڈ پر سوال نہ اٹھائیں۔

کبھی کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ آپ کیا کھلا رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کن کو آپس میں ملا رہے ہیں۔





09/11/2025
رشتوں کی بھی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے!اس ڈیٹ کے بعد وہ زہر بن جاتے ہیں دماغی صحت کے لئےاور جسمانی صحت کے لئے بھی۔صرف خدا او...
07/11/2025

رشتوں کی بھی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے!
اس ڈیٹ کے بعد وہ زہر بن جاتے ہیں دماغی صحت کے لئےاور جسمانی صحت کے لئے بھی۔
صرف خدا اور بندے کا رشتہ ابدی ہے جسے کوئی زوال نہیں۔
بوڑھے ماں باپ بوجھ محسوس ہوتے ہیں بیماری طویل ہو تو بوجھ لگنے لگتے ہیں۔
انسان لوگوں سے کہتا پھرتا ہی کہ جی دعا کریں اللہ انہیں "سنبھال" لے۔
بہن بیٹی کی مقررہ وقت پر شادی نہ ہو طلاق یافتہ ہو یا بیوہ ہوجائے تو بوجھ لگنے لگتی ہے۔
بیٹا جتنا لاڈلا ہو پڑھا لکھا کے ایک مقررہ وقت کے بعد نوکری نہ کرے تو بوجھ لگنے لگتا ہے۔
بہن بھائی کی ذمہ داری آپ کے کاندھے ہو تو بوجھ لگنے لگتے ہیں۔
ہر رشتہ ایک مقررہ وقت کے بعد جان کو آجاتا ہے
یہی تلخ حقیقت ہے اس دنیا کی!
ہر پل ہر لمحہ موت ہو رہی ہوتی ہےاحساس کی ، محبت کی ، شفقت کی۔
باقی تو صرف خدا کی ذات اور اس کی محبت لافانی اور لازوال ہے۔
لہذا فانی سے محبت کریں گے تو فنا ہو جائیں گے بقا سے محبت کریں گے تو باقی ہو جائیں گے۔
اس دنیا کے رشتوں کو محبت سے چلائیں لیکن ان سے کوئی توقع نا رکھیں اپنی توقعات کا مرکز صرف خدا کی ذات رکھیں اسی کے پاس سے آئے ہیں اور اسی کے پاس جانا ہے۔
تو کیوں نا بیچ کا وقت بھی اسی کے ساتھ گزارا جائے۔۔؟

🐒اصحاب سبت کی کہانیسمندر کے کنارے واقع ایک بستی جسے "ایلہ" کہتے تھے، جو موجودہ بحر احمر کے ساحل پر، مدین اور طور کے درمی...
03/11/2025

🐒اصحاب سبت کی کہانی
سمندر کے کنارے واقع ایک بستی جسے "ایلہ" کہتے تھے، جو موجودہ بحر احمر کے ساحل پر، مدین اور طور کے درمیان واقع تھی، میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کا ذکر اللہ نے اپنے کلام میں کیا ہے:

> "اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے تھی۔ جب وہ ہفتہ کے دن حد سے بڑھنے لگے تھے، اور ان کی مچھلیاں ہفتے کے دن ان کے سامنے سطح آب پر ظاہر ہو جاتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں۔ اس طرح ہم ان کی آزمائش کر رہے تھے کیونکہ وہ نافرمان تھے۔"
(سورۃ الاعراف: 163)

یہاں "اصحاب سبت" رہتے تھے، جو یہودی قوم میں سے تھے۔ اللہ نے ان کے لئے ہفتے کا دن عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا اور انہیں دنیا کے امور میں مشغول ہونے سے منع کیا تھا، کیونکہ وہ باقی دنوں میں عبادت کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن تجارت، صنعت اور مچھلی پکڑنے سے روکا گیا تھا۔ یہ اللہ کا ایک امتحان تھا، کہ ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت ہونے لگی، مگر وہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے حیلے سے انہیں پکڑنا شروع کر دیا۔

ابن عباس اور دوسرے علماء کے مطابق، یہودی اس زمانے میں ہفتے کے دن کی حرمت پر عمل پیرا تھے۔ مچھلیاں اس دن ان کی طرف امن و سکون سے آجاتیں کیونکہ وہ انہیں باقی دنوں میں پکڑتے تھے۔ اللہ نے انہیں آزمائش میں ڈالا اور ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت سے انہیں آزمایا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے مچھلیاں پکڑنے کے لئے حیلے کا سہارا لیا۔

ایک دن، گاؤں کے ایک فرد کو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، تو شیطان نے اسے ایک حیلہ سکھایا۔ وہ ہفتے کے دن سمندر کے کنارے آیا اور ایک بڑی مچھلی کو دیکھ کر اس کی دم کو رسی سے باندھ کر کنارے پر لگا دیا، اور شام کو واپس آ کر مچھلی کو لے کر چلا گیا اور اسے بھون کر کھایا۔ جب اس کے ہمسائے اس سے پوچھنے آئے تو اس نے کہا کہ یہ تو محض ایک مچھلی کی کھال ہے جو اس نے بھون لی ہے۔ اگلے ہفتے اس نے یہی کام پھر کیا، اور دوسروں کو بھی بتا دیا، تو انہوں نے بھی اس کی تقلید شروع کر دی۔

بنی اسرائیل نے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے کے لئے نت نئے حیلے ایجاد کئے۔ بعض نے جمعہ کے دن سمندر کے ساتھ جڑے ہوئے گڑھے کھودے تاکہ ہفتے کے دن مچھلیاں ان گڑھوں میں جمع ہو جائیں اور پھر آسانی سے پکڑی جا سکیں۔ یہ کام عام ہو گیا، یہاں تک کہ لوگوں نے علانیہ مچھلی پکڑ کر بازار میں بیچنی شروع کر دیں۔ جب فاسقوں نے علانیہ اس طرح مچھلی پکڑنا شروع کیا، تو بنی اسرائیل کے علماء نے انہیں روکا اور ڈرایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ چنانچہ نیک لوگوں نے ان سے الگ ہو کر ایک دیوار بنا لی اور ان کے ساتھ رہنا ترک کر دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> "اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے ہے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کریں اور شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔"
(سورۃ الاعراف: 164)

چنانچہ یہ قوم تین گروہوں میں بٹ گئی؛ ایک وہ جو نافرمانی کرتے ہوئے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے لگے، ان کی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی۔ دوسرا گروہ ان کو روکنے والا تھا جن کی تعداد بارہ ہزار تھی، اور تیسرا گروہ وہ تھا جو نہ تو گناہ کرتے اور نہ روکتے تھے۔

پھر رات کو اللہ کا عذاب آیا اور فاسقوں کو سزا کے طور پر نوجوانوں کو بندر اور بوڑھی عورتوں کو خنزیر بنا دیا گیا۔ صبح جب نیک لوگ اپنے کاموں پر گئے تو فاسقوں کو وہاں موجود نہ پا کر حیران ہو گئے۔ جب انہوں نے دیوار پر چڑھ کر جھانکا تو دیکھا کہ فاسق بندر اور خنزیر بن گئے ہیں، اور آوازیں نکال رہے ہیں۔

انہوں نے ان کے دروازے کھولے تو ہر بندر اپنے قریبی انسان کو دیکھ کر اس کے کپڑے سونگھتا اور روتا تھا۔

مسخ شدہ لوگ تین دن تک زندہ رہے، نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی ان کی نسل چلی۔ اس طرح ان کی موت ہو گئی اور وہ آنے والی قوموں کے لئے عبرت کا نشان بن گئے۔

Address

Hafizabad
Kaulo Tarar
52111

Telephone

+923228446556

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sultan Farms Since-1978. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sultan Farms Since-1978.:

Share

Category