28/09/2025
‼️انتہایئ اہم پوسٹ‼️
کچھ عرصہ پہلے مشہور برطانوی صحافی پیئرز مورگن (Piers Morgan)نے اپنے پروگرام میں دو ہندوستانیوں، صحافی برکھا دت اور رنویر جبکہ پاکستان کی طرف سے سابقہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور شہزاد غیاث کو اپنے پروگرام میں مدعو کیا، پروگرام آپ پیئرز مورگن کے چینل پر جا کر دیکھ سکتے ہیں مجھے یہاں صرف شہزاد غیاث کے بارے میں بات کرنی ہے۔ میں اس سے پہلے اسے نہیں جانتا تھا، پروگرام دیکھ کر یوٹیوب چینل وزٹ کیا تو پاکستان کے حوالے سے مثبت ویڈیوز دیکھ کر پیج جوائن کر لیا، بعد میں شہزاد کے پروگرامز میں کچھ باتیں اسلامی نظریات کے خلاف دیکھیں تو دماغ الرٹ ہو گیا۔ فاسٹ فارورڈ چند ہفتے پہلے جب انجینئر علی مرزا کو گرفتار کیا گیا تو شہزاد غیاث نے انجینئر صاحب کے حق میں ویڈیو بنائی، حیرت ہوئی، ویڈیو سنی تو بالکل شروع میں ہی یہ صریح جھوٹ بولا کہ میں نے انجینئر صاحب کی گفتگو سنی جس میں انہوں نے سب عیسائیوں کی نہیں بلکہ خاص عیسائیوں (certain sect)کے خاص نظریہ (certain belief)کی بات کی ہے۔ یہ سن کر انتہائی افسوس ہوا کہ یہ بندہ کیسے دھڑلے سے جھوٹ بول رہا ہے اور وہیں کمنٹ بھی کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انجینئر نے خاص عیسائیوں کی بات کی ہے جبکہ انجینئر کے واضح الفاظ ہیں کہ آج چھ ارب انسان تو نبی علیہ السلام کو نبی ہی نہیں مانتے اور دو ارب عیسائی تو انہیں دجال کہتے ہیں (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد)۔
اب اگلی اور اہم ترین بات سنیں، فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں “وکھری” نامی فلم کا تعارف تھا مختصر یہ کہ یہ فلم ہم جنس پرستی (LGBTQ+, Q***r) کو پروموٹ کرنے والی ہے (تعارف انگریزی میں ہے میں اس مکمل ترجمہ آخر میں لگا دوں گا)۔ اس فلم کے کرداروں میں شہزاد غیاث کا نام پڑھا تو حیرت کا جھٹکا لگا اور جب گوگل پر فلم کو سرچ کیا تو پتا چلا کہ شہزاد اس فلم کا کاسٹنگ ڈائریکٹر بھی ہے، ساتھ ہی فلم کا ٹریلر بھی تھا جس میں ہم جنس پرستی کو پروموٹ کیا گیا تھا اور وہی بدبودار نعرے شامل تھے کہ “میرا جسم میری مرضی” اور “مرَدوں کے معاشرے کی ایسی کی تیسی”، فلم کے زہریلے ڈائیلاگ مہروب اعوان جیسی عورت یا مرد نے لکھے ہیں، اگر آپ اسے نہیں جانتے تو قیصر راجہ صاحب کے ساتھ اس کی ڈیبیٹ سن لیں پتہ چل جائے گا کہ کیسے اسلام مخالف نظریات اور ہم جنس پرستی جیسی لعنت کی پرچارک ہے۔ اس کے علاوہ سید مزمل اور تیمور لعل جیس لوگ انجینئر کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دین بیزار، ملحدین، ہم جنس پرست، علماء مخالف لوگ مرزا صاحب جیسے “حقیقی اسلامی سکالر “کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ کہیں آپ کو اللہ رسول کے نام پر اور داڑھی پگڑھی دکھا کر شیطان تو نہیں اچک لے گیا؟ بی بی سی اردو کے پیج سے ایک دن میں چھ پوسٹس انجینئر کے دفاع میں آتی ہیں، کیوں؟ سوچیے گا ضرور۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے آمین
وکھری پوسٹ کا ترجمہ: “ ذرا ماریہ بی ( ماریہ بی ہم جنس پرستوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اس نے جوائے لینڈ نامی ہم جنس پرستی پر مشتمل فلم کو بین کروانے میں کردار ادا کیا تھا) کا سب سے بھیانک خواب سوچیں اور پھر اُسے ایک فلم میں بدل دیں؛ یہی ہے “وکھری”۔
آخرکار آج یہ فلم دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ پاکستانی سینما کی تاریخ میں سب سے زیادہ ’کویئر‘ (Q***r) فلم ہے (یہاں تک کہ Joyland سے بھی زیادہ) اور یہ قندیل بلوچ کی زندگی (اور موت) سے متاثر ہے۔ Q***r کا مطلب ہے وہ لوگ جو (LGBTQ) کمیونٹی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
مہروب اعوان کے معنی خیز اضافی ڈائیلاگ، تمکنت منصور اور شہزاد غیاث کی کیمیوز (مختصر مگر اہم رول)، اور فریال محمود کی نہایت پُراثر مرکزی پرفارمنس- اس سب نے مل کر پاکستانی نٹیزنز (Netizens، انٹر نیٹ استعمال کرنے والے)کے لیے اس جری اور دلیر چھوٹی سی فلم میں لطف لینے کو بہت کچھ فراہم کر دیا ہے۔”
محمد عمر آزاد