Advanced Animal Nutrition

Advanced Animal Nutrition Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advanced Animal Nutrition, Shah Faisalabad.

روزہ: روحانی و جسمانی فوائد یوشینوری اوسومی ایک جاپانی سائنس دان ہے۔ اس  نے ٹوکیو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس کے ب...
26/02/2026

روزہ: روحانی و جسمانی فوائد
یوشینوری اوسومی ایک جاپانی سائنس دان ہے۔ اس نے ٹوکیو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد حیاتیاتی تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ وہ مائکرو بیالوجی اورسیلولر بیالوجی کا ماہر ہے اور اس میدان میں شان دار خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ 1990کی دہائی میں اوسومی نے خمیر (Yeast) پر تجربات کرنا شروع کیے جس کے نتیجے میں اس نے ایسے جینز دریافت کیے جو آٹوفیجی (Autophagy) کو چلاتے ہیں۔ آٹوفیجی ایک یونانی لفظ ہے، جس کا مطلب ہے اپنے آپ کو کھانا۔ یہ ایک حیاتیاتی عمل ہے جس میں خلیات (Cells) جسم کے پرانے، خراب یا غیر ضروری اجزا کو کھا جاتے ہیں اور اسے دوبارہ قابل استعمال بناتے ہیں۔ یہ عمل جسم کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس کے تحت ختم ہونے والے اجزا دوبارہ پیدا ہوتے ہیں اورجسم کو فعال اور صحت مند بناتے ہیں۔جب جسم میں کھانے کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو خلیے اپنی پرانی پروٹینز اور دیگر بے کار اجزا کو توڑ کر توانائی میں بدلتے ہیں، تاکہ جسمانی افعال جاری رہ سکیں۔ آٹو فیجی اتنا مفید عمل ہے کہ یہ انسان کو الزائمر، پارکنسن، کینسر اور ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

یوشینوری اوسومی کی تحقیق کا اہم پہلو روزے کے بارے میں بھی تھا۔ اس نے بتایا کہ روزہ رکھنے سے جسم میں آٹوفیجی کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جس سے زہریلے مادے ختم ہوتے ہیں، بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے اور جسم بہترین حالت میں آجاتا ہے۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ 16 سے 48 گھٹنے تک یا ہفتے میں دو دن یاسال میں 30 سے 40 دن بھوکا رہنے سے آٹوفیجی متحرک ہوجاتی ہے اور جسم میں مختلف طرح کی مثبت تبدیلیاں لاتی ہے۔ یوشینوری اوسومی کی اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور 2016 میں اسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

روزہ ایک عظیم عمل ہے جس کے بارے میں ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔(صحیح مسلم؛حدیث نمبر: 2704)
سوچیں،جس عمل کے بدلہ دینے کا ذمہ اللہ کی ذات لے لے تووہ اجرکس قدر بڑا ہوگا،یہ انسانی سوچ سے باہر ہے۔یہی وجہ ہے کہ روزہ نہ صرف روحانی ترقی کاباعث بنتاہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بے شمار جسمانی فوائد بھی دیتاہے۔آج کی تحریر میں ہم روزے کے روحانی، جسمانی اورسماجی فوائد پر روشنی ڈالیں گے۔

روزے کے روحانی فوائد
شیطان کی پکڑ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح بخاری: 1899)
انسان کو بھٹکانے میں سب سے بڑاہاتھ شیطان کا ہے۔رمضان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پرفضل فرماتاہے اور شیطان کو قید کرلیاجاتاہے جس کی وجہ سے گناہوں کی طرف رغبت کم ہو جاتی ہے۔لوگ نفلی عبادت، تلاوت اور ذکرکرتے ہیں۔عبادت گزار مسجدوں میں ڈیرے ڈال دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ثواب کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مغلوب نفس
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہیے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں۔ (صحیح بخاری: 1904)
روزہ انسان کے لیے ڈھال اس طورپر بنتاہے کہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے اس کانفس کمزور ہوجاتاہے۔روزہ نفسانی خواہشات کو دبادیتاہے جس سے انسان گناہوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا،روزہ انسان کو صبر، تحمل اور تقویٰ کی راہ پر ڈال دیتا ہے جو اس کی روحانی کیفیت کومضبوط کرتاہے۔

عبادت کا ماحول
رمضان میں ہر طرف روحانی ماحول پیدا بن جاتا ہے۔ دن بھر روزے کے ساتھ ساتھ نفل نماز، ذکر اور قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ ہر طرف نیکیوں کا چرچا ہوتا ہے، لوگ مساجد میں آتے ہیں اور دینی محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس مقدس مہینے میں عبادات کا ماحول بندے کو اللہ کے قریب کردیتاہے جس کی بدولت اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتاہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہ جنت کا مستحق بنتاہے۔

ثواب میں اضافہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے رمضان میں ایک نفل عبادت کی، اسے فرض عبادت کا ثواب ملے گا، اور جس نے ایک فرض عبادت ادا کی، اسے ستر فرضوں کے برابر ثواب ملے گا۔ (صحیح ابن خزیمہ: 1887)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں کی گئی ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادات کرتے ہیں، صدقہ و خیرات میں اضافہ کرتے ہیں، اور اپنی آخرت بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن کی سماعت
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ (سورۃ بقرہ: 185)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام (تراویح) کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 37)
رمضان اورقرآن کریم کاانتہائی مضبوط رشتہ ہے۔اس میں اہل ایمان جہاں تلاوت کے ذریعے آنکھوں کوٹھنڈک پہنچاتے ہیں وہیں قرآن کریم سنتے بھی ہیں۔ تراویح کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں قرآن کریم کی مکمل تلاوت سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے نہ صرف ثواب ملتاہے بلکہ قرآن سے تعلق بھی مضبوط ہوتاہے۔

روزے کے جسمانی فوائد
رمضان المبارک نہ صرف روحانی عبادت کا مہینہ ہے بلکہ اس کے کئی سائنسی اور جسمانی فوائد بھی ہیں۔ روزہ انسانی جسم کے لیے ایک فطری زہرکشی کا کام کرتا ہے اور متعدد جسمانی و ذہنی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ روزے کے جسمانی فوائد ذیل میں ہیں:

1۔ قوتِ مدافعت میں اضافہ
روزہ رکھنے سے جسم کی قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے اور انسان مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔روزے کے دوران جسم فالتو مادّوں کو ختم کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ جب کھانے کا وقفہ طویل ہو جاتا ہے تو خلیے اپنے ناکارہ اجزا کو خود ہی ختم کرنے لگتے ہیں، جس سے مدافعتی نظام زیادہ موثر ہو جاتا ہے،جگر اور گردے زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں۔ روزے کے دوران جسم نئے سفید خون والے خلیے پیدا کرتا ہے، جو انفیکشن اور دیگر بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ روزہ رکھنے سے جسم میں موجود سوزش (Inflammation) کم ہوتی ہے، جوکہ جوڑوں کے درد اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔

2۔ذہنی صحت میں بہتری
روزہ نہ صرف جسم بلکہ ذہن کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ روزہ دماغی صحت کو بہتر بناتا ہے اور کئی دماغی امراض سے بچاتا ہے۔ روزے کے دوران دماغ میں خوشی کے ہارمون یعنی ڈوپامین اور سیروٹونن کی سطح متوازن ہو جاتی ہے، جو کہ ڈپریشن اور بے چینی کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔روزہ رکھنے سے دماغی خلیے بہترہوتے ہیں،یادداشت تیز ہوتی ہے اور سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ روزہ ذہن کوپر سکون بناتا ہے جس سے انسان زیادہ تحمل مزاج اور صابر بنتا ہے۔

3۔بڑھتی عمر کے اثرات میں کمی
روزہ رکھنے سے جسم میں وہ تمام عوامل متحرک ہو جاتے ہیں جو بڑھتی عمر کے اثرات کم کرتے ہیں۔ روزہ رکھنے سے DNA کی مرمت کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کے خلیے زیادہ عرصے تک صحت مند رہتے ہیں۔ روزہ رکھنے سے ہارمون کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، جو جسمانی جوانی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

4۔وزن میں کمی اور میٹابولزم کی بہتری
روزہ رکھنے سے جسمانی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور میٹابولزم زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے لگتا ہے۔ روزے کے دوران جسم محفوظ شدہ چربی کو توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے، جس سے وزن میں کمی ہوتی ہے۔روزہ رکھنے سے انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، رمضان کے دوران ویسریل فیٹ یعنی پیٹ کے ارد گرد جمع ہونے والی چربی کم ہو جاتی ہے، جوفرد کو دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

روزے کے سماجی فوائد
روزہ سماجی اصلاح کا بھی ذریعہ ہے۔ یہ فرد کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی ہم آہنگی، مساوات، ہمدردی، اور نظم و ضبط کو بھی فروغ دیتا ہے۔ ذیل میں روزے کے چند سماجی فوائد بیان کیے جا رہے ہیں:

1۔ مساوات کا درس
روزہ رکھنے والا خواہ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر، سب ایک ہی تجربے سے گزرتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں مساوات کا عملی نمونہ سامنے آتا ہے اور طبقاتی فرق ختم ہوتا ہے۔ ہر فرد کو یہ احساس ہوتا ہے کہ غریب لوگ سال بھر کس طرح بھوک اور تنگی میں زندگی گزارتے ہیں، جس سے ان میں ہمدردی اور سخاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

2۔ صبر اور تحمل کی تربیت
روزہ انسان میں بردباری، تحمل اور صبر پیدا کرتا ہے۔ روزے دار کو بھوک، پیاس اور غصے پر قابو پانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ عادت معاشرے میں امن، رواداری اور برداشت کو فروغ دیتی ہے اور انسانوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بناتی ہے۔

3۔ یکجہتی اور بھائی چارہ
رمضان میں لوگ مل جل کر عبادت کرتے ہیں، دستر خوان پر اکٹھے بیٹھتے ہیں اور غریبوں کو کھانے کھلاتے ہیں۔ اس سے محبت، اخوت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے اور سماجی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ افطار کے اجتماعات اورباجماعت تراویح ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے اور تعلقات کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔نیزرمضان کے دوران خاندان کے افراد ایک ساتھ کھاتے اور عبادت کرتے ہیں جس کی بدولت ان میں پیاربڑھتاہے اور تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

4۔ صدقہ و خیرات اور دوسروں کا احساس
رمضان میں زکوٰۃ، صدقہ اور خیرات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مال دار افراد ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں جس سے معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے اور غربت کم ہوتی ہے۔

5۔ نظم و ضبط اور خود احتسابی
روزہ رکھنے سے نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ روزہ انسان کو مخصوص وقت پر کھانے، عبادت اور دیگر معمولات کا پابند بناتا ہے۔ اس کے علاوہ روزہ خود احتسابی کا موقع دیتا ہے تاکہ انسان زندگی کا جائزہ لے اور اپنی غلطیوں سے سیکھے۔

6۔ جرائم میں کمی
روزے کی وجہ سے لوگ اللہ کے قریب ہوتے ہیں اور برے کاموں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چوری، دھوکا دہی، بدعنوانی اور دیگر جرائم میں کمی آتی ہے، جس سے معاشرے میں امن و امان کی فضا قائم ہوتی ہے۔

رمضان کا مہینہ ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر تندرست رکھنے کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط والی زندگی گزارنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہم یہی طرز زِندگی اپنائیں تو عمر بھر ہم نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند، خوش گوار اور بہترین زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
منقول

27/01/2026

فرض کر لیں۔
طلاق کی دھمکی پر کوئی خاتون مقدمہ کر دیتی ہیں۔ مقدمے کی فیس چلو گھر والوں سے لے لیں گی، شوہر کو تین سال سزا، ان تین سالوں میں یہ انڈے بیچ کر گزارا کریں گی؟ بچوں کا خرچہ کون دے گا؟
تین سال جو آدمی طلاق کی دھمکی دینے کی وجہ سے بیوی کے مقدمہ کرنے پر جیل میں رہے وہ واپس آکر انہیں ممتاز بیگم بنا کر رکھے گا؟ یا جیل سے ہی لعنت کے ساتھ طلاق بھیجوا دے گا؟
پھر یہ سنگِل مدر بن کر سارا بوجھ خود اٹھا کر پچاس سال کی بڈھی ہو کر تین تمغے سینے ہر سجا کر یعنی طلاق یافتہ + سنگل مدر + ورکنگ ویمن بن کر آٹھ مارچ میں لڈیاں ڈالیں گی؟
شادی ان کی دوبارہ اس لیے نہیں ہوگی کیوں کہ پہلے والے خاوند کو طلاق کی دھمکی پر تین سال کی قید کروا چکی ہیں، جس کو بھی یہ خبر پہنچے گی وہ الٹے قدموں واپس پلٹے گا۔۔۔۔
یوں کیپٹلسٹ نظام کو ایک خبط الحواس، زہنی امراض کا شکار غصیلی انڈیپینڈنٹ ورکنگ سنگل مدر مل جایے گی۔
بچوں کے پاس چونکے نہ باپ ہوگا نہ مکمل ماں تو ظاہر ہے وہ اپنی تربیت خود کریں گے۔ اب تک ڈراموں کے زریعے عورتوں کے بھیجے میں فتور بھرا جا رہا تھا اب اس فتور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون بنا دیا گیا۔
جو قانون غصے کے ایک لمحے کو مکمل جدائی میں تبدیل کر دے وہ معاشرے میں امن و چین نہیں دائمی نفرت پیدا کرے گا۔
جن کو یہ لگ رہا ہے کہ یہ قانون بس اسلام آباد تک محدود رہے گا وہ سوتے رہیں جب ان کے گھر پر دستک دے گا تو اندازہ ہوگا۔
بظاہر یہ سزا مرد کو دی جائے گی مگر درحقیقت اس کی لپیٹ میں خواتین اور پھر بچے خود آئیں گے۔

نوٹ : مرد و خواتین خود پر کام کریں، اپنی تربیت و تزکیہ پر توجہ دیں، اپنے رویوں پر غور کریں، اپنے سدھار کی جدوجہد میں لگ جائیں، خاندانی نظام کی اہمیت کو سمجھیں، ایک دوسرے کی عزت کریں، تمام راستوں کے بعد بھی اگر رشتہ نہ چلے تو قرآن کے بتائے گئے طریقے کے مطابق فیصلہ کریں، تاکہ اس قسم کے نتائج بھگتنے نہ پڑیں۔
یاد رکھیں یہ حربہ کسی شر کے لیے استعمال ہو تو ہو کسی خیر کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔ جسے گھر بسانا ہے وہ بسانے کی طرف توجہ دے گی جو شدید ظلم سہہ رہی ہے وہ طلاق یا خلع کی طرف جائے گی، شوہر کو سدھارنے کے لیے کوئی عقل مند عورت اسے تین سال جیل میں نہیں ڈلوائے گی کیوں کہ وہ جانتی ہوگی کہ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا مزید بڑھ جائے گا۔

فیصل آباد میں پتنگ بازی پر زیرو ٹالرنس، سخت کارروائی کا اعلانفیصل آباد میں پتنگ بازی اور بسنت منانے پر مکمل پابندی عائد ...
22/01/2026

فیصل آباد میں پتنگ بازی پر زیرو ٹالرنس، سخت کارروائی کا اعلان

فیصل آباد میں پتنگ بازی اور بسنت منانے پر مکمل پابندی عائد ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا نے واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پتنگ بازی میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے گا، جس پر کم از کم 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فیصل آباد میں بسنت کی کوئی اجازت نہیں، پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس اور انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کائنات حیران ہےفرشتے حیران ہیںاہلِ ایمان حیران ہیںکہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں شادی ہوئی میکے جاتے اتنی بڑی چادر لپیٹتی ت...
15/01/2026

کائنات حیران ہے
فرشتے حیران ہیں
اہلِ ایمان حیران ہیں
کہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں شادی ہوئی میکے جاتے اتنی بڑی چادر لپیٹتی تھیں کہ سیدہ ام المومنین عائشہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ چال سے پتہ چلتا تھا کہ کون تشریف لا رہی ہیں ،چال سرکار دوعالم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے ملتی تھی ،والد کا بے پناہ پیار ملا، ماں بچپن میں چل بسی، حیا اتنا کہ یہودی اور عیسائي بھی سر جھکا لیتے کم عمری میں شادی، کم عمری میں اولاد، جوانی میں وفات قرآن کی حافظہ تھیں، ہر رات قرآن ختم فرماتیں، اور روتیں
یا اللہ تو نے راتیں چھوٹی کیوں بنائیں میری عبادت پوری نہیں ہوتی، والی کائنات (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی لاڈلی بیٹی، چکی پیستے ہاتھوں پر چھالے غربت آخری درجے کی، حسنین کریمین (رضی اللہ عنہما) کی عمروں میں بہت کم فرق
دنیا میں جنت کی بشارت
نہ صرف بشارت
بلکہ فرمایا ،آپ جنت میں عورتوں کی سردارنی ہونگی
جنت میں تمام عورتوں کی سردارنی بشمول ام الناس حوا (سلام اللہ علیہا)
سیدہ حاجرہ، سارہ، سیدہ مریم اور امہات المومنین (سلام اللہ علیھم)
اتنا رتبہ جتنا کائنات میں کسی کا نہیں
لیکن کبھی نہیں کہا، میں چکی نہیں پیستی
کھانا، علی خود بنا لو اور مجھے پکا کر کھلاؤ آخر سردارنی ہوں
بہشت بریں کی اور جنت الفردوس کی
بچوں کو سنمبھالو، کپڑے خود دھو لو
میں فاطمۃ الزہرہ، امام الانبیاء (علیہ السلام) کی بیٹی ہوں، میری ماں خدیجۃ الکبری ہے
میں حسنین کریمین کی ماں ہوں، میرا باپ وجہ کائنات ہے، خاتم النبیین ہے
میرے لخت جگر جنت کے جوانوں کے سردار ہیں
میں علی مرتضی (رضی اللہ عنہ) کی بیوی ہوں
ساری زندگی ایک یمنی چادر میں گزاری
جتنے غرور ممکن ہیں عورت کیلئے صرف جگر گوشہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو سجتے ہیں
لیکن بظاہر انکی پیروکار کہلانے والی عورتیں کس کی پیروکار ہیں
کونسے حقوق
کونسی عورت
کونسا تحفظ
زراسوچئیے ھم کیا ھیں؟؟؟
ان پاک ھستیوں کے پیروں کی خاک بھی نہیں
پھر کس بات کا غرور کرتی ھیں ھم؟؟؟
ھم کیوں اپنے گھر کے کام نہیں کرسکتیں؟کیوں بچوں کی پرورش سے گریزاں ھیں؟؟
آج کی عورت کیوں بینر اٹھا کرسڑک پہ آتی ھے کہ میں کھانا نہیں پکاتی۔میراجسم میری مرضی۔خدارا سوچئیے کہیں ھم کسی کے بچھاۓ ھوۓ جال میں تو نہیں پھنس رھیں؟ھمیں ھمارے اصل مقام سے محروم کرنے کی جو سازشیں چل رھیں ان کو ناکام کریں ۔اپنا مقام پہچانیں ۔
*وہ معاشرہ جہاں عورت کو بولنے کا حق نہیں تھا، مقام کیا پایا الفاظ نہیں ہیں۔*
اللہ پاک ھمیں خاتون جنت کی پیروی کی توفیق عطا فرماۓ
آمین

کیا آپ جانتے ہیں کہ مرغی اور مرغا بیرونی تولیدی اعضا کے مالک نہیں ہوتے؟ 🤔دونوں کے جسم میں صرف ایک ہی سوراخ ہوتا ہے جسے "...
14/01/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ مرغی اور مرغا بیرونی تولیدی اعضا کے مالک نہیں ہوتے؟ 🤔
دونوں کے جسم میں صرف ایک ہی سوراخ ہوتا ہے جسے "مخرج" (Cloaca) کہا جاتا ہے، جو فضلہ، انڈے، اور نطفہ خارج کرنے کےلیے استعمال ہوتا ہے۔
ملاپ کے دوران دونوں پرندوں کے مخرج آپس میں
ملتے ہیں، جسے "قبلة المجمع" (Cloacal Kiss) کہا جاتا ہے، اور یہی عمل نطفہ کی منتقلی کے لیے کافی ہوتا ہے۔
نہایت حیرت انگیز اور دقیق طریقہ! 🐣

اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ مرغی نطفہ کو اپنے جسم کے اندر 2 سے 3 ہفتے تک محفوظ رکھ سکتی ہے، اور ایک ہی ملاپ سے کئی انڈوں کو بار بار بارور کر سکتی ہے۔
سبحان اللہ۔۔۔
جس نے ہر چیز کو کمال کے ساتھ پیدا کیا
یہاں تک کہ بغیر مرغا کے بھی مرغی انڈے دیتی ہے، لیکن صرف وہ انڈے جن میں نطفہ شامل ہو، وہی بچے (چوزے) بن سکتے ہیں۔
یہ تمام باریک تفصیلات خالقِ کائنات کی عظمت، حکمت اور تخلیق میں کمال کی دلیل ہیں۔
جو ہر جاندار کو اس انداز میں تخلیق کرتا ہے کہ اس کی نسل باقی رہے اور زندگی کا تسلسل قائم رہے۔
( کاپی شدہ مواد)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہجرت کا راستہ
14/01/2026

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہجرت کا راستہ

*🇵🇰 پاکستان ایئر فورس (PAF) میں شمولیت کا سنہری موقع ✈️*📅 *آن لائن رجسٹریشن:* *12 جنوری تا 25 جنوری 2026*  🌐 *ویب سائٹ:*...
11/01/2026

*🇵🇰 پاکستان ایئر فورس (PAF) میں شمولیت کا سنہری موقع ✈️*

📅 *آن لائن رجسٹریشن:* *12 جنوری تا 25 جنوری 2026*
🌐 *ویب سائٹ:* *www.joinpaf.gov.pk*
*🎯 دستیاب شعبہ جات:*
1️⃣ *ایرو ٹریڈ*
2️⃣ *ایرو سپورٹ*
3️⃣ *پی ایف اینڈ ڈی آئی* (فزیکل فٹنس اینڈ ڈرل انسٹرکٹر)
4️⃣ *سیکیورٹی ٹریڈ*
5️⃣ *ایم ٹی ڈی* (مکینیکل ٹرانسپورٹ ڈرائیور)
6️⃣ *اسپورٹس مین* 🏋️‍♂️
7️⃣ *فی میل میڈیکل اسسٹنٹ* 👩‍⚕️
8️⃣ *آئی ٹی اسسٹنٹ* 💻

*📝 اہلیت:*

🎓 *تعلیم:* میٹرک سائنس میں 60٪ تا 65٪ نمبر (ٹریڈ کے لحاظ سے مختلف)
🎂 *عمر:* 16½ سے 22 سال تک
📏 *قد:* 163cm سے 188cm
👁 *نظر:* 6/6 (بغیر چشمہ)

*🖥 درخواست کا طریقہ:*

✅ ویب سائٹ *www.joinpaf.gov.pk* پر آن لائن اپلائی کریں
🧾 اصل تعلیمی اسناد، CNIC/فارم-B اور 4 تصاویر ہمراہ رکھیں
📌 صرف اہل امیدوار ہی اپلائی کریں
📍 *قریبی سلیکشن سینٹر یا آفیشل ویب سائٹ سے مزید معلومات حاصل کریں*
✈️
👨‍✈️
🇵🇰
🛫
🕊

11/01/2026
10/01/2026
حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ جو کہ سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے انہوں نے اپنے والد سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا صلح حدیبیہ کے...
04/01/2026

حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ جو کہ سہیل بن عمرو کے بیٹے تھے انہوں نے اپنے والد سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا صلح حدیبیہ کے موقع پر کسی طرح مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے لیکن صلح میں شرط تھی کہ کوئی بھی مکہ کا فرد مدینہ میں پناہ نہیں لے سکتا اس لئے مجبوری میں واپس جانا پڑا انکو ۔۔
بعد میں کچھ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مکہ سے نکل گئے اور مکہ و مدینہ کے درمیان ڈیرہ ڈال لیا جہاں سے مکہ والوں کے قافلے گزرتے تھے انہوں نے قافلوں کو ایسا سبق سکھانا شروع کیا کے مش۔۔۔۔ر۔۔۔کین مکہ نے تنگ آ کر صلح کی وہ شرط ختم کر دی تب جا کر حضرت ابو جندل مدینہ نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور حاضر ہوئے ۔۔
سلام ہو ان عظیم ہستیوں پر❤️❤️
کیا آپ لوگوں نے پہلے ان کا نام سنا تھا ؟؟

Address

Shah Faisalabad

Telephone

041-8810220-21

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advanced Animal Nutrition posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share