26/02/2026
روزہ: روحانی و جسمانی فوائد
یوشینوری اوسومی ایک جاپانی سائنس دان ہے۔ اس نے ٹوکیو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد حیاتیاتی تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ وہ مائکرو بیالوجی اورسیلولر بیالوجی کا ماہر ہے اور اس میدان میں شان دار خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ 1990کی دہائی میں اوسومی نے خمیر (Yeast) پر تجربات کرنا شروع کیے جس کے نتیجے میں اس نے ایسے جینز دریافت کیے جو آٹوفیجی (Autophagy) کو چلاتے ہیں۔ آٹوفیجی ایک یونانی لفظ ہے، جس کا مطلب ہے اپنے آپ کو کھانا۔ یہ ایک حیاتیاتی عمل ہے جس میں خلیات (Cells) جسم کے پرانے، خراب یا غیر ضروری اجزا کو کھا جاتے ہیں اور اسے دوبارہ قابل استعمال بناتے ہیں۔ یہ عمل جسم کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس کے تحت ختم ہونے والے اجزا دوبارہ پیدا ہوتے ہیں اورجسم کو فعال اور صحت مند بناتے ہیں۔جب جسم میں کھانے کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو خلیے اپنی پرانی پروٹینز اور دیگر بے کار اجزا کو توڑ کر توانائی میں بدلتے ہیں، تاکہ جسمانی افعال جاری رہ سکیں۔ آٹو فیجی اتنا مفید عمل ہے کہ یہ انسان کو الزائمر، پارکنسن، کینسر اور ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
یوشینوری اوسومی کی تحقیق کا اہم پہلو روزے کے بارے میں بھی تھا۔ اس نے بتایا کہ روزہ رکھنے سے جسم میں آٹوفیجی کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جس سے زہریلے مادے ختم ہوتے ہیں، بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے اور جسم بہترین حالت میں آجاتا ہے۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ 16 سے 48 گھٹنے تک یا ہفتے میں دو دن یاسال میں 30 سے 40 دن بھوکا رہنے سے آٹوفیجی متحرک ہوجاتی ہے اور جسم میں مختلف طرح کی مثبت تبدیلیاں لاتی ہے۔ یوشینوری اوسومی کی اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور 2016 میں اسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
روزہ ایک عظیم عمل ہے جس کے بارے میں ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔(صحیح مسلم؛حدیث نمبر: 2704)
سوچیں،جس عمل کے بدلہ دینے کا ذمہ اللہ کی ذات لے لے تووہ اجرکس قدر بڑا ہوگا،یہ انسانی سوچ سے باہر ہے۔یہی وجہ ہے کہ روزہ نہ صرف روحانی ترقی کاباعث بنتاہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بے شمار جسمانی فوائد بھی دیتاہے۔آج کی تحریر میں ہم روزے کے روحانی، جسمانی اورسماجی فوائد پر روشنی ڈالیں گے۔
روزے کے روحانی فوائد
شیطان کی پکڑ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح بخاری: 1899)
انسان کو بھٹکانے میں سب سے بڑاہاتھ شیطان کا ہے۔رمضان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پرفضل فرماتاہے اور شیطان کو قید کرلیاجاتاہے جس کی وجہ سے گناہوں کی طرف رغبت کم ہو جاتی ہے۔لوگ نفلی عبادت، تلاوت اور ذکرکرتے ہیں۔عبادت گزار مسجدوں میں ڈیرے ڈال دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ثواب کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مغلوب نفس
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہیے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں۔ (صحیح بخاری: 1904)
روزہ انسان کے لیے ڈھال اس طورپر بنتاہے کہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے اس کانفس کمزور ہوجاتاہے۔روزہ نفسانی خواہشات کو دبادیتاہے جس سے انسان گناہوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا،روزہ انسان کو صبر، تحمل اور تقویٰ کی راہ پر ڈال دیتا ہے جو اس کی روحانی کیفیت کومضبوط کرتاہے۔
عبادت کا ماحول
رمضان میں ہر طرف روحانی ماحول پیدا بن جاتا ہے۔ دن بھر روزے کے ساتھ ساتھ نفل نماز، ذکر اور قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ ہر طرف نیکیوں کا چرچا ہوتا ہے، لوگ مساجد میں آتے ہیں اور دینی محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس مقدس مہینے میں عبادات کا ماحول بندے کو اللہ کے قریب کردیتاہے جس کی بدولت اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتاہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہ جنت کا مستحق بنتاہے۔
ثواب میں اضافہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے رمضان میں ایک نفل عبادت کی، اسے فرض عبادت کا ثواب ملے گا، اور جس نے ایک فرض عبادت ادا کی، اسے ستر فرضوں کے برابر ثواب ملے گا۔ (صحیح ابن خزیمہ: 1887)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں کی گئی ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادات کرتے ہیں، صدقہ و خیرات میں اضافہ کرتے ہیں، اور اپنی آخرت بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن کی سماعت
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ (سورۃ بقرہ: 185)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام (تراویح) کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 37)
رمضان اورقرآن کریم کاانتہائی مضبوط رشتہ ہے۔اس میں اہل ایمان جہاں تلاوت کے ذریعے آنکھوں کوٹھنڈک پہنچاتے ہیں وہیں قرآن کریم سنتے بھی ہیں۔ تراویح کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں قرآن کریم کی مکمل تلاوت سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے نہ صرف ثواب ملتاہے بلکہ قرآن سے تعلق بھی مضبوط ہوتاہے۔
روزے کے جسمانی فوائد
رمضان المبارک نہ صرف روحانی عبادت کا مہینہ ہے بلکہ اس کے کئی سائنسی اور جسمانی فوائد بھی ہیں۔ روزہ انسانی جسم کے لیے ایک فطری زہرکشی کا کام کرتا ہے اور متعدد جسمانی و ذہنی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ روزے کے جسمانی فوائد ذیل میں ہیں:
1۔ قوتِ مدافعت میں اضافہ
روزہ رکھنے سے جسم کی قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے اور انسان مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔روزے کے دوران جسم فالتو مادّوں کو ختم کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ جب کھانے کا وقفہ طویل ہو جاتا ہے تو خلیے اپنے ناکارہ اجزا کو خود ہی ختم کرنے لگتے ہیں، جس سے مدافعتی نظام زیادہ موثر ہو جاتا ہے،جگر اور گردے زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں۔ روزے کے دوران جسم نئے سفید خون والے خلیے پیدا کرتا ہے، جو انفیکشن اور دیگر بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ روزہ رکھنے سے جسم میں موجود سوزش (Inflammation) کم ہوتی ہے، جوکہ جوڑوں کے درد اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
2۔ذہنی صحت میں بہتری
روزہ نہ صرف جسم بلکہ ذہن کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ روزہ دماغی صحت کو بہتر بناتا ہے اور کئی دماغی امراض سے بچاتا ہے۔ روزے کے دوران دماغ میں خوشی کے ہارمون یعنی ڈوپامین اور سیروٹونن کی سطح متوازن ہو جاتی ہے، جو کہ ڈپریشن اور بے چینی کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔روزہ رکھنے سے دماغی خلیے بہترہوتے ہیں،یادداشت تیز ہوتی ہے اور سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ روزہ ذہن کوپر سکون بناتا ہے جس سے انسان زیادہ تحمل مزاج اور صابر بنتا ہے۔
3۔بڑھتی عمر کے اثرات میں کمی
روزہ رکھنے سے جسم میں وہ تمام عوامل متحرک ہو جاتے ہیں جو بڑھتی عمر کے اثرات کم کرتے ہیں۔ روزہ رکھنے سے DNA کی مرمت کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کے خلیے زیادہ عرصے تک صحت مند رہتے ہیں۔ روزہ رکھنے سے ہارمون کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، جو جسمانی جوانی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
4۔وزن میں کمی اور میٹابولزم کی بہتری
روزہ رکھنے سے جسمانی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور میٹابولزم زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے لگتا ہے۔ روزے کے دوران جسم محفوظ شدہ چربی کو توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے، جس سے وزن میں کمی ہوتی ہے۔روزہ رکھنے سے انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، رمضان کے دوران ویسریل فیٹ یعنی پیٹ کے ارد گرد جمع ہونے والی چربی کم ہو جاتی ہے، جوفرد کو دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔
روزے کے سماجی فوائد
روزہ سماجی اصلاح کا بھی ذریعہ ہے۔ یہ فرد کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی ہم آہنگی، مساوات، ہمدردی، اور نظم و ضبط کو بھی فروغ دیتا ہے۔ ذیل میں روزے کے چند سماجی فوائد بیان کیے جا رہے ہیں:
1۔ مساوات کا درس
روزہ رکھنے والا خواہ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر، سب ایک ہی تجربے سے گزرتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں مساوات کا عملی نمونہ سامنے آتا ہے اور طبقاتی فرق ختم ہوتا ہے۔ ہر فرد کو یہ احساس ہوتا ہے کہ غریب لوگ سال بھر کس طرح بھوک اور تنگی میں زندگی گزارتے ہیں، جس سے ان میں ہمدردی اور سخاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
2۔ صبر اور تحمل کی تربیت
روزہ انسان میں بردباری، تحمل اور صبر پیدا کرتا ہے۔ روزے دار کو بھوک، پیاس اور غصے پر قابو پانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ عادت معاشرے میں امن، رواداری اور برداشت کو فروغ دیتی ہے اور انسانوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بناتی ہے۔
3۔ یکجہتی اور بھائی چارہ
رمضان میں لوگ مل جل کر عبادت کرتے ہیں، دستر خوان پر اکٹھے بیٹھتے ہیں اور غریبوں کو کھانے کھلاتے ہیں۔ اس سے محبت، اخوت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے اور سماجی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ افطار کے اجتماعات اورباجماعت تراویح ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے اور تعلقات کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔نیزرمضان کے دوران خاندان کے افراد ایک ساتھ کھاتے اور عبادت کرتے ہیں جس کی بدولت ان میں پیاربڑھتاہے اور تعلق مضبوط ہوتا ہے۔
4۔ صدقہ و خیرات اور دوسروں کا احساس
رمضان میں زکوٰۃ، صدقہ اور خیرات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مال دار افراد ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں جس سے معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے اور غربت کم ہوتی ہے۔
5۔ نظم و ضبط اور خود احتسابی
روزہ رکھنے سے نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ روزہ انسان کو مخصوص وقت پر کھانے، عبادت اور دیگر معمولات کا پابند بناتا ہے۔ اس کے علاوہ روزہ خود احتسابی کا موقع دیتا ہے تاکہ انسان زندگی کا جائزہ لے اور اپنی غلطیوں سے سیکھے۔
6۔ جرائم میں کمی
روزے کی وجہ سے لوگ اللہ کے قریب ہوتے ہیں اور برے کاموں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چوری، دھوکا دہی، بدعنوانی اور دیگر جرائم میں کمی آتی ہے، جس سے معاشرے میں امن و امان کی فضا قائم ہوتی ہے۔
رمضان کا مہینہ ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر تندرست رکھنے کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط والی زندگی گزارنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہم یہی طرز زِندگی اپنائیں تو عمر بھر ہم نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ صحت مند، خوش گوار اور بہترین زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
منقول