Urdu Tahreer

Urdu Tahreer Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Tahreer, Urban Farm, Faisalabad.

خاموشی بظاہر کچھ نہ کہنے کا نام ہے، لیکن بعض اوقات یہ الفاظ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ کسی کے چہرے کے تاثرات، آنکھوں کی نمی، یا رویے کی تبدیلیاں بغیر کچھ کہے بھی بہت کچھ بیان کر دیتی ہیں۔

06/04/2026

پاکستان میں زندگی گزارنے کے 15 طریقے
پاکستان میں زندگی گزارنا ایک فن ہے، اور یہاں وہی شخص سکون سے رہتا ہے جو حالات سے لڑنے کی بجائے انہیں ”ہینڈل“ کرنا سیکھ لے۔ یہ وہ 15 زمینی حقائق ہیں جنہیں اگر آپ حکمت اور سمجھداری کی ”میٹھی گولی“ سمجھ کر نگل لیں، تو آپ کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔
1-ظاہر پر یقین
یہاں لوگ کتاب کو اس کے سرورق سے جج کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت، لباس اور گفتگو کا انداز آپ کی آدھی کامیابی ہے۔ اگر آپ خود کو اچھے طریقے سے پیش کریں گے (Well-dressed)، تو دکان ہو یا دفتر، آپ کو عزت اور راستہ دونوں ملیں گے۔ اسے دکھاوا نہ سمجھیں، اسے ”پریزنٹیشن“ سمجھیں۔
2-تعلقات ایک سرمایہ ہیں
اسے سفارش کہہ کر مسترد نہ کریں، اسے ”تعلقاتِ عامہ“ (PR) سمجھیں۔ مشکل وقت میں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ لوگوں سے خلوص سے ملیں اور تعلق بنائیں، کیونکہ پاکستان میں ایک فون کال وہ کام کروا سکتی ہے جو مہینوں کی خواری نہیں کروا سکتی۔
3-اپنی خوشی کی حفاظت
نظر لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ اپنی کامیابی، اپنی تنخواہ اور اپنے مستقبل کے پلانز کو راز رکھیں۔ خوشی کا شور مچانے کے بجائے اسے خاموشی سے منائیں، کیونکہ خاموشی میں سکون ہے اور شور میں حسد۔
4-اپنی مدد آپ
کسی مسیحا یا حکومت کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈیں۔ یہاں سسٹم تھوڑا سست ہے، اس لیے جو شخص اپنی ذمہ داری خود اٹھا لیتا ہے اور متبادل انتظام (جیسے جنریٹر، سولر، پرائیویٹ میڈیکل) کر لیتا ہے، وہ ڈپریشن سے بچ جاتا ہے۔
5-زبان کی مٹھاس
پاکستان میں لہجے کی سختی کام بگاڑ دیتی ہے اور زبان کی مٹھاس پہاڑ جیسا مسئلہ حل کروا دیتی ہے۔ ”بھائی جان“ اور ”محترم“ کہہ کر بات کرنے سے آپ کا کام جلدی ہو جاتا ہے۔ یہاں غصے کی بجائے عاجزی زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔
6-انگریزی بطور ہنر
انگریزی سے مرعوب ہونے کی بجائے اسے ایک ”ٹول“ یا اوزار سمجھ کر سیکھ لیں۔ یہ بین الاقوامی زبان ہے اور ترقی کی چابی ہے۔ اگر آپ کو اچھی انگریزی آتی ہے تو آپ کی بات زیادہ وزن دار سمجھی جاتی ہے، اسے اپنی پروفیشنل لائف کا حصہ بنائیں۔
7-صحت سب سے پہلے
سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کے پیشِ نظر دانشمندی اسی میں ہے کہ بیماری کا انتظار نہ کیا جائے۔ اپنی خوراک اور ورزش پر دھیان دیں تاکہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ یہاں پرہیز علاج سے واقعی بہت بہتر ہے۔
8-بحث سے گریز
سڑک پر یا سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے ذہنی دباؤ کے۔ یہاں ہر شخص اپنی رائے میں حق بجانب ہے۔ مسکرا کر گزر جانا یا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں“ کہہ کر بات ختم کر دینا ذہنی سکون کی ضمانت ہے۔
9-مالی منصوبہ بندی
مہنگائی ایک حقیقت ہے، اس پر کڑھنے کی بجائے اپنی آمدنی بڑھانے پر توجہ دیں۔ بچت کو کیش کی صورت میں رکھنے کے بجائے کسی ایسی چیز (سونا/پلاٹ) میں رکھیں جس کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھے۔ یہ معاشی سمجھداری ہے۔
10-امید لیکن تیاری کے ساتھ
اچھے کی امید رکھیں لیکن برے حالات کے لیے تیار رہیں۔ اپنے پاس ہمیشہ ایک ”پلان بی“ رکھیں۔ چاہے وہ آمدنی کا دوسرا ذریعہ ہو یا ایمرجنسی فنڈ، یہ آپ کو راتوں کو پرسکون نیند دے گا۔
11-رشتہ داروں سے فاصلہ اور محبت
رشتہ داروں سے محبت ضرور کریں لیکن اپنے مالی اور نجی معاملات میں ایک حد (Boundary) قائم رکھیں۔ دوریوں میں عزت برقرار رہتی ہے۔ میل جول اتنا رکھیں جتنا دونوں طرف سے خوش اسلوبی سے نبھایا جا سکے۔
12-قانون اور احتیاط
قانون کو توڑنے کی بجائے اس کے احترام کو اپنی طاقت بنائیں۔ ہیلمٹ پہننا، لائسنس ساتھ رکھنا اور ٹیکس دینا آپ کو پولیس یا اداروں کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ قانون پر عمل کرنا دراصل خود کو محفوظ کرنا ہے۔
13-ہنر کی قدر
صرف ڈگری پر انحصار کرنے کی بجائے کوئی ایسا ہنر سیکھیں جس کی مارکیٹ میں مانگ ہو۔ ڈگری آپ کو انٹرویو تک لے جائے گی، لیکن آپ کا ہنر (Skill) آپ کو کرسی پر بٹھائے گا اور ترقی دے گا۔
14-وقت کی قدر
اگرچہ یہاں وقت کی پابندی کم ہوتی ہے، لیکن اگر آپ وقت کے پابند بن جائیں تو آپ دوسروں سے ممتاز (Stand out) ہو جائیں گے۔ جو شخص دوسروں کے وقت کی عزت کرتا ہے، لوگ اس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔
15-شکر گزاری
اتنے مسائل کے باوجود پاکستان میں جو نعمتیں (خاندان، کھانا، آزادی) میسر ہیں، ان پر شکر ادا کریں۔ شکوہ کرنے سے نعمتیں کم لگتی ہیں، شکر کرنے سے ان میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ مثبت رویہ ہی سب سے بڑی دولت ہے۔
محرک کا مشورہ
پاکستان گلاب کے پھول کی طرح ہے، اس میں کانٹے (مسائل) ضرور ہیں لیکن اس کی خوشبو (اپنائیت اور مواقع) بھی لاجواب ہے۔ کانٹوں سے دامن بچائیں اور خوشبو سے لطف اٹھائیں۔ یہاں جینا مشکل نہیں، بس تھوڑا ”اسمارٹ“ ہونا پڑتا ہے۔

غصہ دشمن نہیںتحریر: شاہد سید NLP، سلوا میتھڈ و ہپناسس کوچآخری بار آپ کب اتنے غصے میں تھے کہ آپ کے ہاتھ کانپ رہے تھے؟یاد ...
03/03/2026

غصہ دشمن نہیں
تحریر: شاہد سید NLP، سلوا میتھڈ و ہپناسس کوچ

آخری بار آپ کب اتنے غصے میں تھے کہ آپ کے ہاتھ کانپ رہے تھے؟
یاد کریں۔ وہ لمحہ۔ وہ آواز جو گلے تک آئی لیکن نکلی نہیں۔ وہ الفاظ جو کہہ دیے اور پھر بہت پچھتائے۔ یا وہ خاموشی جو غصے سے بھی زیادہ بھاری لگی تھی۔
اس وقت سب نے کہا ہوگا کہ غصہ پی جاؤ، صبر کرو، یہ تمہاری کمزوری ہے، یہ تمہارا عیب ہے، بڑے لوگ غصہ نہیں کرتے۔
لیکن کسی نے نہیں پوچھا کہ یہ غصہ کیوں آیا؟
کیونکہ غصے کو سمجھا نہیں گیا۔ اسے صرف دبایا گیا۔اور دبا ہوا غصہ جاتا نہیں، وہ جگہ بدلتا ہے۔ کبھی سر درد بن جاتا ہے، کبھی رشتوں میں زہر بن جاتا ہے، کبھی اندر ہی اندر انسان کو کھانے لگتا ہے۔

سب سے پہلے جانتے ہیں کہ غصہ ہے کیا؟
زیادہ تر لوگ غصے کو ایک برا جذبہ سمجھتے ہیں جسے ختم کرنا ہے۔ حکمت کہتی ہے جب غصہ آے تو صبر کرو، بڑے کہتے ہیں چپ رہو، ماہرین کہتے ہیں اپنے غصے پرقابو رکھو۔
لیکن NLP اور جدید نفسیات مل کر ایک بالکل الگ بات کہتے ہیں۔
غصہ ایک جذبہ ہے اور ہر جذبے کے پیچھے ایک پیغام ہوتا ہے۔ غصہ دراصل آپ کے اندر کا وہ آدمی ہے جو کہہ رہا ہے کہ اس کے حساب سےکچھ غلط ہو رہا ہے، کوئی میری حد پار کر رہا ہے، کوئی چیز ہے جو مجھے چاہیے تھی اور ملی نہیں، کوئی توقع ہے جو پوری نہیں ہوئی۔

غصہ دشمن نہیں ایک سوال ہے کہ یہاں کیا غلط ہو رہا ہے اور مجھے اصل میں کیا چاہیے؟
جب آپ غصے کو دباتے ہیں تو آپ سوال کو دباتے ہیں۔ اور بے جواب سوال کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ چیختا رہتا ہے۔
مثال کے طور پر حامد آفس سے گھر آیا۔ وہ تھکا ہوا تھا، اس کا یہ مشکل ترین دن تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی نے کہا کہ بازار سے دودھ نہیں لائے؟ میں نے صبح ہی کہا تھا، لیکن تم۔۔
حامد اچانک چیخ پڑا۔ تم سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا؟ ہر وقت شکایتیں۔ بیوی چپ ہو گئی، کچن میں چلی گئی، اندر وہ رو رہی تھی۔ باہر سوفے پر بیٹھا حامد اپنے آپ پر افسوس کرتا رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا حامد واقعی دودھ کی وجہ سے غصہ ہوا تھا؟
نہیں۔
حامد کا غصہ یہ کہہ رہا تھا کہ میں آج بہت تھکا ہوا ہوں۔ مجھے لگا کہ گھر آؤں گا تو کوئی پوچھے گا کہ کیسے ہو۔ لیکن پہلا جملہ ہی شکایت تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری تھکاوٹ کسی کو نظر نہیں آئی۔ مجھے چاہیے تھی تھوڑی سی توجہ، تھوڑا سا سکون۔
یہ اصل سوال تھا۔ لیکن حامد نے یہ سوال کرنا کبھی سیکھا ہی نہیں تھا کہ خود سے کیسے پوچھیں۔ اس لیےاس کے غصے نے اپنے طریقے سے اظہار کیا۔

غصہ اس وقت آتا ہے جب ہم جو چاہتے ہیں اسے الفاظ میں نہ کہہ سکیں تو وہ الفاظ کی بجائے آواز بن جاتا ہے۔

نیورو سائیکولوجی میں ہم غصے کے پیچھے عموماً چار سوالات کو اہم مانتے ہیں۔جن کی بدولت ہم خود پر اپنا کنٹرول قائم رکھ سکتے ہیں۔ جب آپ بھی اگلی بار غصے میں ہوں تو یہ چاروں خود سے پوچھیں۔

سوال اول: میری کون سی حد پار ہوئی؟
غصہ اکثر اس وقت آتا ہے جب کوئی ہماری کسی حد کو نہیں مانتا۔ جسمانی حد، جذباتی حد، وقت کی حد، عزت کی حد۔ پوچھیں کہ کون سی حد پار ہوئی اور کیا میں نے یہ حد کبھی واضح کی تھی؟

سوال دوم: میری کیا توقع تھی جو پوری نہیں ہوئی؟
اکثر غصہ توقعات سے پیدا ہوتا ہے جو ہم نے کبھی بتائی ہی نہیں۔ ہم نے سوچا کہ سامنے والا خود سمجھے گا، خیال رکھے گا، پوچھے گا۔ جب نہیں ہوا تو غصہ آیا۔ پوچھیں کہ میری کیا توقع تھی اور کیا میں نے اسے کہا تھا؟

سوال سوم: مجھے اصل میں کیا چاہیے تھا؟
ہر غصے کے پیچھے ایک ضرورت ہوتی ہے جو پوری نہیں ہوئی۔ محبت، توجہ، عزت، سکون، مدد، سمجھ۔ پوچھیں کہ آج مجھے اصل میں کیا چاہیے تھا جو نہیں ملا؟

سوال چہارم: کہیں یہ پرانا غصہ تو نہیں؟
اکثر آج کا غصہ آج کا نہیں ہوتا۔ یہ مہینوں، برسوں کا جمع شدہ غصہ ہوتا ہے جو آج کے ایک چھوٹے واقعے سے پھٹ پڑتا ہے۔ہم اسے Root Cause کہتے ہیں۔ پوچھیں کہ کیا یہ احساس آج کا ہے یا پرانا ہے؟

جب آپ یہ چار سوال خود سے پوچھنا سیکھ جاتے ہیں تو آپ کا غصہ بھی چیخنا بند کر دیتا ہے۔ کیونکہ آخرکار کسی نے اسے سنا ہے۔

غصے کو دبانے کا ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔جب ہم غصے کو دباتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ لیکن دراصل ہم نے مسئلے کو اپنے طور پر مٹی پاؤ کہہ کر شعوری طور پر دفن چکے ہوتے ہیں۔ لیکن لاشعوری مدفن میں چیزیں مرتی نہیں، وہ خمیر بنتی ہیں۔
اور یہ دبایا ہوا غصہ جسمانی بیماریوں کی شکل اختیار کرتا ہے جیسے بلڈ پریشر، سر درد، معدے کے مسائل، اور پٹھوں میں تناؤ۔ یہ رشتوں میں ٹھنڈک بن جاتا ہے جہاں باتیں تو ہوتی ہیں لیکن محسوس کچھ نہیں ہوتا۔ یہ خود سے نفرت بن جاتا ہے کیونکہ جو غصہ باہر نہیں نکلتا وہ اندر رہتا ہے اور وہاں آپ کو ہی کاٹتا ہے۔

اس کا تجربہ اکثر میں نے کیا ہے جب دوران سیشن الفا لیول پر جا کر لوگ اپنے دبے ہوئے غصے کو شناخت کرتے ہیں اور اس کا پیغام سمجھتے ہیں تو ان کی جسمانی علامات بھی بہتر ہونے لگتی ہیں۔ یہاں این ایل پی کا مفروضہ کام کرتا ہے کہ ہمارا ذہن اور جسم ایک ہیں۔

آپ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہوگا کہ پھر ہم کریں کیا؟
پہلی بات یہ کہ غصے کو آنے دیں، لیکن اسے سوچنے کا وقت دیں۔ جب غصہ آئے تو فوری طور کچھ بھی بولنے سے پہلے تین گہرے سانس لیں۔ یہ تین سانس غصے کو ختم نہیں کرتے، یہ آپ کو اتنا وقت دیتے ہیں کہ غصہ بولے، آپ نہیں۔

دوسری بات یہ کہ غصے کے بعد اکیلے میں بیٹھ کر خود سے پوچھیں کہ اس غصے کا اصل مقصد کیا تھا؟ ڈائری میں لکھیں۔ لکھنے سے ذہن صاف ہوتا ہے اور سوال واضح نظر آتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ جب سوال سمجھ آ جائے تو اسے الفاظ میں کہیں۔ نہ چیخ کر، نہ چپ رہ کر، بلکہ صاف کہیں کہ آج مجھے یہ محسوس ہوا، میری یہ ضرورت تھی، یہ حد پار ہوئی۔

غصے کا حل یہ نہیں کہ اسے دبا دو۔ حل یہ ہے کہ اس کا سوال سنو اور اس کا جواب دو۔

اسی تکنیک کا یوز کرنے کے بعد حامد نے بتایا کہ جب کبھی اس کا دن خراب ہوا۔ وہ ایک کام کرتا۔ آفس سے آنے کے بعد دروازے پر رکتا، تین سانس لیتا، اور اندر آ کر بیوی سے کہتا کہ آج بہت مشکل دن تھا، کیا میں بس تھوڑی دیر تمہارے پاس بیٹھ سکتا ہوں؟
بیوی کام کاج چھوڑ کر پاس بیٹھ جاتی، اور کہتی کہ بتاؤ کیا ہوا۔
حامد نے بتایا کہ اس طرح ہم گھنٹوں باتیں کرتے، مل کر کھانا کھاتے اور ہنستے مسکراتے رہتے۔ شادی کے کئی سالوں بعد گھر میں آنے کا مزا آنے لگا۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ غصے نے اصل میں یہ خوبصورت دن مانگے تھے۔ پہلے بس اسے بتانے کا طریقہ نہیں آتا تھا۔

آپ کا غصہ آپ کا دشمن نہیں۔ وہ آپ کا وہ حصہ ہے جو ابھی تک بولنا نہیں سیکھا۔ آج اسے بولناسکھائیں۔
اور جب آپ غصے کا سوال سمجھ لیں گے تو آپ خود حیران ہوں گے کہ جواب کتنا قریب تھا۔
کمنٹ میں بتائیں
آپ کے غصے کا سب سے بڑا سوال کیا ہے جو ابھی تک بے جواب ہے؟
جس کے گھر میں غصہ رشتوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، اسے یہ مضمون آج ہی بھیجیں۔

میں آسٹریلیا کی ایک معروف یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں۔زندگی تعلیم، کیریئر اور ذمہ داریوں میں گزرتی رہی اور شادی کا وقت نکل...
10/02/2026

میں آسٹریلیا کی ایک معروف یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں۔زندگی تعلیم، کیریئر اور ذمہ داریوں میں گزرتی رہی اور شادی کا وقت نکل گیا۔ جب میری عمر 39 سال ہوئی تو میری زندگی میں ایک 32 سال کا نوجوان آیا۔ وہ مجھ سے محبت کرتا تھا۔ عمر کا فرق تھا، میں ہچکچا رہی تھی، لیکن اس کی سچائی اور خلوص نے مجھے قائل کر لیا، اور ہم نے شادی کر لی۔ی

میری ہمیشہ ایک سوچ رہی…میں نے دین کو پڑھا، عورتوں کے مسائل کو دیکھا، معاشرے کی حقیقتوں کو سمجھا۔شادی کے بعد ایک دن میں نے اپنے شوہر سے کہا:“احمد، آپ دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے؟”

وہ ہنس پڑے اور بولے:“کیا آپ پاگل ہیں؟ میری پوری دنیا آپ ہیں۔”

لیکن میرا دل ان عورتوں کے لیے تڑپتا تھا جو بیوہ، طلاق یافتہ یا عمر گزر جانے کی وجہ سے تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔

میری ایک کزن بیوہ تھی، دو بچوں کے ساتھ اکیلی۔ میں نے احمد کو بہت سمجھایا، مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ البتہ انہوں نے اس کی مالی مدد کی ذمہ داری لے لی۔

وقت گزرتا رہا… ہماری شادی کو پانچ سال ہو گئے، مگر ہمیں اولاد نہ ہوئی۔پاکستان آئی تو دیکھا، خاندان میں کئی لڑکیاں عمر گزر جانے کے باوجود غیر شادی شدہ تھیں۔ دل مزید بے چین ہو گیا۔

پھر ایک دوست کی بہن کا معاملہ سامنے آیا۔ پڑھی لکھی، باوقار لڑکی، جس کی شادی صرف ایک دن چل سکی تھی۔ زندگی اس کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی تھی۔

اس بار میں نے احمد کو بہت محبت اور صبر سے قائل کیا۔ آخرکار انہوں نے نکاح کر لیا۔ہم نے اسے آسٹریلیا بلوایا، اسے عزت دی، تحفظ دیا، گھر دیا۔

اللہ نے انہیں دو بیٹے عطا کیے۔ان میں سے ایک بچہ اس نے مجھے دے دیا، اور ایک کی پرورش وہ خود کر رہی ہے۔

آج…ہم تینوں خوش ہیں۔احمد کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔گھر میں سکون ہے، عزت ہے، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا کا احساس ہے۔

میں آج یہ کہنا چاہتی ہوں:

ہر اچھا مرد صرف ایک عورت کا حق نہیں ہوتا۔اور ہر نیک عورت میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانی کا ذریعہ بنے۔

یہ کوئی مجبوری نہیں…یہ ایک قربانی ہے۔یہ ایک سوچ ہے۔یہ وہ جہاد ہے جو ایک عورت بھی اللہ کے لیے کر سکتی ہے۔

اگر ہم بالی وڈ کی کہانیوں کے بجائے حقیقت اور دین کے مطابق سوچیں،تو شاید بہت سی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔

یاد رکھیں:جو اللہ کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔..


کاپی پوسٹ

10/02/2026

*کتا لاٹھی کو دیکھتا ہے،بھیڑیا اُس ہاتھ کو دیکھتا ہے جو لاٹھی تھامے ہوئے ہے،اور لومڑی آنکھوں میں دیکھتی ہے۔*

یہ حکمت جانوروں کے بارے میں نہیں
بلکہ انسانوں کے شعور کی مختلف سطحوں کو بے نقاب کرتی ہے۔
کتا صرف آلے کو دیکھتا ہے؛
ظاہر ہونے والے عمل میں اُلجھ جاتا ہے،
لاٹھی پر حملہ کرتا ہے
اور یہ بھول جاتا ہے کہ اسے کس نے حرکت دی۔
یہ اُن لوگوں کی مثال ہے
جو صرف ردِّعمل میں جیتے ہیں،
نتائج پر غصہ کرتے ہیں
مگر اسباب سے غافل رہتے ہیں۔
بھیڑیا نظر میں کچھ گہرا ہے؛
وہ فاعل کو دیکھتا ہے،
سمجھتا ہے کہ نقصان کہاں سے آیا،
لیکن پھر بھی براہِ راست ٹکراؤ کا قیدی ہے،
طاقت کے مقابل طاقت۔
اور رہی لومڑی،
تو وہ آنکھوں میں دیکھتی ہے؛
حرکت سے پہلے نیت کو،
عمل سے پہلے فیصلے کو،
اور لاٹھی بننے سے پہلے خیال کو پڑھ لیتی ہے۔
یہیں سے اصل ذہانت شروع ہوتی ہے:
کہ تم اُس چیز کو پڑھ سکو
جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔
قدیم حکمت خاموشی سے کہتی ہے:
ہر وہ شخص جو خطرہ سمجھ لے، ضروری نہیں بچ جائے،
اور ہر وہ جو ہاتھ دیکھ لے، ضروری نہیں جیت جائے۔
بچنے والا وہی ہے
جس نے اُس عقل کو سمجھ لیا
جس نے سب سے پہلے لاٹھی اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
اور آخر میں ایک شعری انجام:
لاٹھی سے الجھو مت،
وہ تو اندھی ہے۔
اور ہاتھ سے دشمنی نہ رکھو،
وہ بدل بھی سکتا ہے۔
آنکھوں میں دیکھو…
وہیں ضرب جنم لیتی ہے،
اور وہیں اسے روکا بھی جا سکتا ہے۔

منقول

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو
شئیر کریں

─────••●◎●••─────

والسلام آپ کا بھائی

10/02/2026

اسلام آباد: عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والے اسلام آباد کے نوجوان محمد ظفر عباس کو ان کے خاندان نے سر میں 32 گولیاں مار کر ش ہید کردیا۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
ظفر عباس کامیاب ہوگیا۔۔۔
اللہ تعالی جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماۓ۔آمین

انھوں نے چار دن پہلے فیسبک پر درد اور کرب سے بھرپور پوسٹ کی انگلش میں۔۔اس کا ترجمہ نیچے اردو کیا گیا ہے تا کہ ہمیں یہ معلوم پڑ سکے کہ اسلام کتنی عظیم نعمت ہے کہ ہم دین اسلام کی نعمت کا کروڑوں بار بھی شکر ادا کریں کم ہے:

"الحمدللہ
آج مجھے سرکاری طور پر مسلمان قرار دیا گیا ہے۔ 🤲

میری کہانی:
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، لیکن حقیقت میں میں ایک پیدائشی عیسائی خاندان میں پیدا ہوا تھا۔ میرا خاندان سخت گیر عیسائی ہے۔ میرا تعلق اسلام آباد سے ہے، لیکن دو سال پہلے میں مردان شہر منتقل ہو گیا تھا۔

میری شادی چھ سال پہلے ہوئی تھی اور میرے دو بچے ہیں۔ مجھے مسلمان بنانے میں سب سے بڑا کردار میرے بزنس پارٹنر محمد حسین کا ہے۔ 2021 میں، میں چھپ چھپ کر نماز پڑھتا تھا اور قرآن سیکھتا تھا۔ میں ایک قاری صاحب کے پاس جاتا تھا اور اسلام آباد سے بہت دور مسجد میں نماز پڑھتا تھا، گھر والوں کو یہ کہہ کر کہ کام کے لیے جا رہا ہوں۔

2022 میں میرے گھر والوں کو میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ چل گیا، اور اس کے بعد اصل ہنگامہ شروع ہوا۔ میرے والدین نے مجھے ابتدا میں کافی دباؤ ڈالا کہ میں اسلام چھوڑ دوں، لیکن میں واپس جانے والا نہیں تھا۔ پانچ مہینے بعد مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ ان سب میں میرا بھائی ایمن جوزف مکمل طور پر میرا ساتھ دے رہا تھا اور آج بھی میرے ساتھ ہے۔ میری بیوی نے طلاق کا کیس فائل کیا اور طلاق ہو گئی۔

مجھے خاندان اور کزنز وغیرہ سے بہت مسائل ہونے لگے، اسی لیے میں مردان شہر آ کر اکیلا رہنے لگا۔ یہاں میں کرائے پر رہتا ہوں اور پی سی پارٹس کا کاروبار کر رہا ہوں۔ میرا عیسائی نام ارمان جوزف تھا، جسے میں نے بدل کر محمد ظفر عباس رکھ لیا۔

نادرا پاکستان کے ریکارڈ میں اپنا مذہب اور نام تبدیل کروانا کسی اذیت سے کم نہیں تھا، اور آج آخرکار پاکستان کے قانونی دستاویزات میں مجھے مسلمان قرار دے دیا گیا ہے۔

مجھے اپنے بچوں کی بہت یاد آتی ہے۔ میری سابقہ بیوی نے دوسری شادی کر لی ہے، اور بچے اس کے پاس ہیں۔ آج تک میں اپنے بچوں سے نہیں مل سکا۔

02/10/2025

آج کل ہم سب سوشل میڈیا پر فنی کلپ یا میمیز وغیرہ دیکھ کر ہنستے ہیں ، بلاشبہ یہ بھی خوشی کا ذریعہ ہے ۔ لیکن ذرا سوچیں جب موبائل اور انٹرنیٹ نہیں تھا تب لوگ مسکراہٹیں کہاں سے حاصل کرتے تھے ؟
کچھ عرصہ پہلے مسکراہٹ اور خوشی کا معیاری ذریعہ اردو ادب کا مزاح تھا ۔ ہم سوشل میڈیا والے لطیفے اکثر بھول جاتے ہیں لیکن کتابوں میں پڑھے ہو بہت عرصہ تک یاد رہے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
آج میں جس کتاب پر بات کرنا چاہتا ہوں وہ " مضامین پطرس" ہے ۔
یہ کتاب چوبیس چھوٹے چھوٹے مضامین پر مشتمل ہے جو مزاح سے بھرپور ہیں ۔ آپ ان کی اہمیت اندازہ لگائیں ایک مضمون " لاہور کا جغرافیہ" ہم اپنے سلیبس کی کتاب میں بھی پڑھتے رہے ہیں ۔
جو لوگ کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کرنے چاہتے ہیں وہ شروعات میں ایسی مختصر اور دلچسپ کتابیں پڑھیں تاکہ آپ کا رحجان کتابوں کی طرف آئے ۔۔۔
اس کتاب میں تین مضامین مجھے بہت پسند آئے ہیں :
1۔ میں ایک میاں ہوں
2۔ رونا رلانا
3۔ میبل اور میں
لاہور
" غم کو برداشت کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کو ضبط کرنے کی کوشش کی جائے "
حسن مختار پنجاب پولیس والا 🩷

22/09/2025

جب بچے نوجوانی (13 سے 19 سال Teenage ) میں داخل ہوں تو انھیں کچھ باتیں خاص طور پر بتائیں کہ

1- وہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھیں۔۔۔ اس لیے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں۔
صرف دیکھتے ہیں، کہتے کچھ نہیں-

دوسری بات۔۔۔
ڈی اوڈرنٹ Deodorantیا کوئی خوشبو ضرور لگایا کریں۔ آپ کے پاس سے کوئی بدبو نہیں آنی چاہیے، کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ سمیل آنے پر آپ کے دوست، اسکول فیلو، ہمسفر، آفس کولیگز اور آس پاس کے لوگ اس سے سخت پریشان ہوں گے۔
لیکن
بولیں گے کچھ نہیں۔۔۔!
کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے-

تیسری بات۔۔۔
اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھیں، منہ سے آنے والی بدبودار سانسیں آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہیں۔
مگر
لوگ کچھ کہیں گے نہیں۔۔۔!
ایسے معاملات میں آپ کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتے، کہیں آپ ناراض ہی نہ ہوجائیں۔۔۔

چوتھی بات۔۔۔
گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے، ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں، گردن بہت اچھی طرح مَل کر دھونی ہے، کہ کوئی میل نظر نہ آئے۔۔۔
کیونکہ
کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔۔۔

دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔

پھر
ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی، ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک، چہرہ، سر نہیں کھجانا۔
ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے ایسا کرسکتے ہیں۔ مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے تو انگلی سے نہیں، ٹشو، رومال یا الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔
سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں کیونکہ اس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہوتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھیں۔

اسی طرح
جسم کے مخصوص حصوں پر سر عام کبھی ٹچ نہ کرنا۔

چند مزید ہدایات جو کہ یاد دہانی کے لیے اکثر دہراتے رہیں۔

1۔ چاہے شلوار ہو یا پینٹ، انڈروئیر ضرور پہنیں۔

2۔ گھر سے باہر جاتے وقت منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار یا الجھے بکھرے بال روانہ مت ہونا، اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس، اچھے جوتے پہن کر جائیں۔ چاہے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نہ لانا ہو۔

3۔ شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ
آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں۔

4۔ آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس اور ٹائیٹس سخت معیوب لگتی ہیں، خاص طور پر لڑکوں مسجد میں جاتے ہوئے شلوار قمیض میں ہونا چاہیے۔ آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی قمیض آپ سے پیچھے کھڑے نمازیوں کو بہت پریشان کرتی ہے، ان کی توجہ متاثر ہوتی ھے-

5۔ لڑکیوں کیلئے: گھر کے اندر پہننے کا لباس بھی باوقار ہونا چاہیے۔

6۔ ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔ بہنوں کے کمرے اور زنان خانہ میں بلاوجہ اور دیر تک نہیں بیٹھنا چاہیے۔

7۔ لڑکیو۔۔۔ اب آپ بڑی ہو گئی ہیں، اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھیں۔ انھیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آئیں۔

8۔ اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں۔

9۔ بچے جب ٹین ایج میں داخل ہوں تو والدین بازار سے ریزر اور بلیڈز لا کر دیں اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھائیں کہ کس طرح اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں؟

10۔ اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھیں۔ پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ
اپنا ہاتھ اور پورا بازو کھول لیں، یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے۔ نہ کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں۔۔۔
یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں۔۔۔ نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔ یقیناً سفر میں، کار، بس یا جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنے چاہییں-

11۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ کسی کو فون کریں یا
کسی کے پاس جائیں تو سب سے پہلے
یہ چار باتیں بتا دیں۔۔۔
سلام، نام، مقام، کام
یعنی پہلے سلام کریں، پھر اپنا اور اپنے علاقے یا ادارے کا نام بتائیں، پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ
آپ سے بات ہوسکتی ہے؟ میں اندر آسکتا ہوں؟ یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں؟
اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی سہی۔

12۔ بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا، کیونکہ
"یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے۔"

13۔ ایک بات جو اکثر بتائیں کہ بیٹا کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں تو اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں۔ یہ مسکراہٹ آپ کے لیے کامیابی کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔

14۔ لڑکے کسی سے ہاتھ ملائیں تو پورا ہاتھ ملائیں، گرم جوشی سے اس کے ساتھ نظریں بھی ملائیں۔ یہ نہیں کہ منہ اِدھر، ہاتھ اُدھر بات کسی اور سے۔

15۔ جب دسترخوان پر بیٹھیں تو ایک دوسرے کا لحاظ کر کے تمیز سے کھائیں۔۔۔ ایسا نہ سمجھیں کہ آج کے بعد کھانا نہیں ملنا۔

بچوں کی اچھی تربیت، ان کے لیے ہمارا سب سے اچھا تحفہ ہے۔

18/08/2025

بسم الله الرحمن الرحیم
اہم معلومات!!!!
زخمِ حیات Bryophyllum pinnatum
بٹ بھیوا
(یہ پودہ پاکستان کے تقریباً تمام پہاڑی علاقوں میں بآسانی دستیاب ہے، اس کے فوائد ملاحظہ فرمائیں)
زخم حیات“ ورلڈ آف ونڈر" کو ہزاروں پودوں کی ماں بھی کہا جاتا ہے
کالانکہو پناٹا ”زخم حیات” مڈغاسکر، چین، افریقہ ،جنوبی امریکہ ،ایشیا اور بحر الکاہل کا ایک قدیم عالمی پلانٹ ہے یہ رنگارنگ کے استوائی خوبصورت مختلف انواع کے پلانٹ ہوتے ہیں.جوان پلانٹ 3 سے 5 فٹ زمین کے اوپرہوتے ہیں اس کے پتے دَندانہ دار کناروں کے ساتھ گہرے سبز رنگ کے ہوتے ہیں
عام طوریہ ایک مقبول سجاوٹی گھریلو پودا ہے گھروں کے اندر اور باہر خوبصورتی کے لئے لگا ئے جاتے ہیں نازک بیل نما کے پھول باغ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں
اس کے پتے اندر سے باہر کی طرف سے ابھرےہو ئےہوتے ہیں جیسےایلو ویرا ایک رسیلا پلانٹ ہے اس کے پتے گاڑھے آسانی کے ساتھ گھسن اور پھٹ جاتے ہیں
کالانکہو پناٹا پتھریلے, ريتلےاور رسیلے باغات میں ایک پیاری خوشبو بھری رنگین نئی دنیا بساتے ہیں “ورلڈ آف ونڈر" کو ہزاروں پودوں کی ماں بھی کہا جاتا ہے اردو میں زخم حیات کہتے ہیں دیگر نام ہوائی پلانٹ، معجزائی پتا، گوئٹے پلانٹ، اور زندگی پلانٹ شامل ہیں

زخم حیات
واقعی زخموں کو حیات یعنی زندگی دیتی ہے۔
پرانے سے پرانا زخم چوٹ ‘ شوگر‘
ناسور کسی بھی قسم کا ہو‘ لاعلاج ہو‘
پیپ پڑی گئی ہو ‘کیڑے پڑگئے ہوں‘
گوشت گل کر اندر سے ہڈی نظر آرہی ہو
حتیٰ کہ ڈاکٹر پاؤں یاجسم کاوہ حصہ کاٹنے کا مکمل مشورہ اورفیصلہ کرچکےہوں تو پہاڑی علاقے کی یہ بوٹی جسے مری اور کشمیر کا ہر سمجھدار اور تجربہ کار جانتا ہے بس بوٹی لیکر سائے میں خشک کرلیں‘
بالکل باریک پیس کر زخم کے اوپر چھڑک کر اوپر کپڑا باندھ دیں۔
صبح و شام یہ پٹی تبدیل کریں چاہیں تو چوبیس گھنٹے کے بعد۔۔۔ آپ کو وہ رزلٹ ملے گاکہ آپ سوچ نہیں سکتے اس کا رزلٹ کیا ہوگا؟
اس کے کمالات کیا ہونگے اور اس کی تاثیر کیا ہوگی۔ عقل انسانی حیران ہے۔
ایک صاحب کہنے لگے :میرے خالہ زاد کو پنڈی سی ۔ایم۔ ایچ کے سرجن ان کی شوگر کی زیادتی کی وجہ سے پاؤں کی تین انگلیاں کاٹنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔
آخرکار کسی نے کہا پنڈی کے فلاں تنگ و تاریک مکان میں ایک بابا رہتا ہے جو اس بیماری کا علاج کرتا ہے۔
وہ چھڑکنے کو ایک چیز دیتا ہے جو بھی اس کا عمل کرے اس کا زخم ختم ہوجاتا ہے
اور اس کا گوشت بھر جاتا ہے‘ پیپ ختم ہوجاتی ہے
اور جسم کا کٹنا ختم اور جسم بچ جاتا ہے۔ مجبور ہو کر میں اس عطائی حکیم کے پاس گیا‘ اس نے زخم دیکھا‘
پٹی کھولتے ہی پیپ ابل کر باہر بہنے لگی‘ ساتھ پرانی سی گندی ٹاکی یعنی چھوٹا سا ٹکڑا پڑا تھا اس نے اس سے صاف کیا پھر روئی سے صاف کرکے ایک پرانا میلا سا ڈبہ اٹھایا۔
اس میں ایک باریک پاؤڈر اوپر چھڑک دیا۔
روئی رکھی‘ پٹی باندھ دی اور کچھ دوائی تھوڑی سی ساتھ دے دی۔
کہنے لگے: بس یہی دوائی مستقل استعمال کریں اور صبح و شام پٹی کو بدل دیا کریں۔
آٹھ دن کے بعد پھر زخم دکھائیں۔ میں صبح و شام پٹی بدلتا رہا‘ چوتھے دن مجھے محسوس ہوا میرا زخم بہتر ہورہاہے۔
پیپ ختم ہوگئی اور زخم بڑھنا شروع ہوگیا۔
آٹھ دن کے بعد جب میں گیا‘ میرے خود جی میں آیا کہ میں انہیں پانچ سو روپے کا نوٹ دوں‘ اس سے پہلے انہوں نے مجھ سے ستر روپے لیے تھے۔ میں نے انہیں پانچ سو کا نوٹ تھمایا حکیم صاحب خوش ہوگئے۔
انہوں نے پھر مزید دوائی دی۔وہ دوائی میں نے استعمال کی‘ صرف پانچ ہفتوں میں میرا زخم بھر گیا اور یہی دوائی مجھے کھانے کو دی۔ کہنے لگے: اسی دوائی کو کھاؤ ‘شوگر بھی نارمل ہوجائے گی۔
قارئین! آپ حیران ہوں گے‘ میں نے وہی دوائی کھائی اور وہی لگائی‘ شوگر نارمل ہوئی‘ زخم بھر گیااور یہی صاحب کہنے لگے: میں نے سات آٹھ اور لوگوں کو بابا جی کے پاس بھیجا جس نے بھی دوائی استعمال کی‘ اس کی شوگر ختم ہوئی اور اس کازخم بھر گیا ۔
زخم کسی قسم کا پرانا ہو یا نیا اس دوائی سے واقعی ختم ہوجاتا ہے۔ آپ بھی آزما کر دیکھیں۔

📌 دوسرا انوکھا فائدہ:
بچوں کے موشن کسی بھی طرح سے نہ رکیں۔ ہسپتال میں داخل کرنا‘ مختلف کیپسول‘ گولیاں‘ سیرپ انجکشن آپ تھک چکے ہیں؟
اور مایوس ہوچکے ہیں۔۔۔ بس یہی چٹکی حسب عمر کالی مرچ کے برابر دینا شروع کردیں۔ آپ کی عقل دنگ رہ جائے گی بلکہ ہماری طب کی پرانی کتابوں میں یہ بات لکھی ہے کہ ایک حکیم صاحب کے پاس ایک پڑیا ہوتی تھی‘ وہ پڑیا بہتے پانی میں ڈالتے تھے اور بہتا پانی رک جاتا تھا۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ حکیم کا کمال دیکھیں کہ ایسا کمال کہ بہتا پانی بھی رک جاتا تھا حالانکہ وہ اس حکیم کا کمال نہیں تھا وہ اس بوٹی کا کمال تھا جس کے اندر اتنی تاثیر تھی کہ وہ بہتے پانی کو تو روک سکتی ہے
‘ایسے لوز موشن نہیں روک سکتی جس سے ڈاکٹری تمام دوائیوں‘ علاج اور تمام تدبیریں ناکام ہوجائیں۔
آپ بھی یہی دوائی‘ یہی چٹکی استعمال کریں
اور اپنے لاعلاج مریضوں کو ایسا کمال دیں کہ بیماریاں ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں۔
📌 زخم حیات(بوٹی) بالکل باریک اتنا کہ جیسے کپڑے سے نکالنے سے باریک ہو پاؤڈر بنا کر محفوظ رکھیں۔
لوز موشن کیلئے لاجواب ہے۔
حسب ضرورت بڑی عمر کے حضرات کو پیٹ خراب ہونے کی صورت میں چائے کی آدھی چمچ ٹھنڈے دودھ یا پانی کیساتھ استعمال کرائیں اور چھوٹے بچوں کیلئے ایک چٹکی زخم حیات چائے کی چمچ کے ساتھ استعمال کروائیں۔
چائے کی چمچ میں دودھ لیکر اس میں مکس کرلیں۔
فوری افاقہ ہوگا۔
📌 الغرض ’زخم حیات‘ اندرونی اور بیرونی زخموں کیلئے
لاجواب ہے۔

جوڑوں کے درد کیلئے فائدہ مند ہے جس نے استعمال کیا بہت زبردست رزلٹ پایا

پوسٹ کا مواد مختلف ویب سائٹس اورکتب سے حاصل کیا گیا ہے
الله کریم سب مریضوں کو شِفائے کاملہ عطا فرمائے ، آمین-

سوال:انسان نیک اور بد سب کو تو راضی نہیں کر سکتا؟جواب:: سب کو " راضی کرنے کا تو میں نہیں کہہ رہا"  بلکہ میں یہ کہہ رہا ت...
31/07/2025

سوال:انسان نیک اور بد سب کو تو راضی نہیں کر سکتا؟

جواب:
: سب کو " راضی کرنے کا تو میں نہیں کہہ رہا" بلکہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ
____آپ نے " کسی کے ساتھ ناراض نہیں ہونا ہے۔ " ___

: سب کو راضی کرنے کی بات نہیں کر رہا۔
_____ بس آپ ناراض نہ ہونا، ______
_ آپ بدی کو بے شک بُرا سمجھو _
_ لیکن بد کو بُرا نہ سمجھنا۔ _
__ بد آدمی بیمار ہے،

: جس طرح ڈاکٹر کا کام ہے چاہے مریض عیسائی ہو، "سِکھ ہو،
"مسلمان ہو،
" کوئی ہو،
_______ اس کا " علاج " کرتا ہے۔
: ڈاکٹر نے اس کا علاج کرنا ہے۔۔۔

میں کہہ رہا ہوں کہ بدی بھی ایک بیماری ہے۔
بدی اس کا " پسندیدہ عمل نہیں ہے " بلکہ اس کی بیماری ہے،
: وہ " مجبور ہو گیا، Fall کر گیا، گر گیا بندہ،
: وہ بدی کے Trap میں آ گیا

:: اور آپ کو اچھا راستہ مل گیا، خوشگوار بندے مل گئے،
:: اس کو وہ راستہ مل گیا اور ناخوشگوار بندے مل گئے،

اب اس " بے چارے کو ہمدردی سے وہاں نکالو، "

: اس لئے اس سے نفرت نہیں کرنی کہ یہ آدمی گناہ گار ہے۔
____ شاید نفرت نے ہی اس کو گناہ گار بنایا ہو ____

:: اور ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ کی "" محبّت ہی اس کو گناہ سے واپس لے آئے۔ ""

:: اس لئے آپ اس کے ساتھ " محبّت کرو، اس کے پاس آنا جانا رکھو، "
_______ شاید وہ اپنا راستہ بدل دے۔ _______

اس سے " نفرت نہیں کرنی بلکہ اس کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہئے۔ "
اس غریب کی بیمار پُرسی کرو جو بد ہو گیا، جو گناہگار ہو گیا وہ تو خود عذاب میں ہے،
: لہٰذا اس کے ساتھ ہمددری کرو،

: اس کے لئے دعا کرو،
: نفرت نہ کرنا اس کے ساتھ۔
: اب آپ لوگ اور سوال پوچھیں۔۔۔
: بولیں۔۔۔

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
(گفتگو 12، صفحہ 187، 188)

31/07/2025
جنسی خواہش انسان کی سب سے مضبوط خواہش ہے۔ سیکس وہ چیز ہے جو مردوں کو کچھ بھی کرنے پر مجبور کرتی ہے، اپنے آپ کو دیکھیں جب...
25/07/2025

جنسی خواہش انسان کی سب سے مضبوط خواہش ہے۔
سیکس وہ چیز ہے جو مردوں کو کچھ بھی کرنے پر مجبور کرتی ہے، اپنے آپ کو دیکھیں جب آپ کی شہوت اپنے عروج پر ہو، آپ چند سیکنڈوں کی شہوت کو پورا کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔
جلد ہی ڈسجارج ہونا آپ کو ہر لحاظ سے ہارا ہوا، کاہل، سست اور کمزور انسان بنا دیتا ہے۔
جنسی توانائی ایک طاقتور توانائی ہے.
(جنسی تعمیری نظام)
خود کو غیر فطری عادات سے نکالنے کی کوشش کریں جیسے مشت زنی یا زنا، جب آپکا نکاح ہوگا تو یہ عادات آپ کو ادزواجی زندگی کا حقیقی فائدہ نہیں اٹھانے دے گی،
اور ان غیر فطری عادت میں زیادہ دیر تک مبتلا رہنے سے آپ جنسی طور پر لنگڑا انسان بن جاتے ہے،
مرد بنیں اور اپنی خواہشات اور شہوت کے آگے نہ جھکیں، اور اپنی بصارت کو بھٹکنے نہ دیں، جب آپ اپنی بصارت کو کھلا چھوڑ دیں گے تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا بس آپ شیطان کے جال میں پھنس جائیں گے تب ہی تو اللہ پاک نے مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے کا کہا ہے،اور گناہوں سے بچنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو اپنی بصارت کو کابو میں رکھنا بہت ضروری ہے،
(اب کرنا کیا ہے آپ نے.)
سب سے پہلے تو اپنے آپ سے صلح کر لیں اور خود کو سمجھائیں کے آپ کئی سالوں سے مشت زنی اور دیگر گناہوں میں مبتلا تھے تو تبدیلی دنوں میں نہیں آنی اپنی خامیوں کو قبول کریں اور منفی خیالات سے چھٹکارا حاصل کریں۔
پھر اس کے بعد آپ اپنے تبدیلی کے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں،
جب شہوت آپ کو حد سے زیادہ تنگ کرنے لگے تو آپ اسے باکسنگ، مارشل آرٹ، لکھنے، تیز دوڑنے، تیراکی، یا لکھنے کے ذریعے نکال سکتے ہیں،
جب پانی کی توانائی کو بجلی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، تو اور اسی طرح انسان کی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس سے آپ اپنی زندگی میں بہت سی چیزوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہے،
اس کے علاوہ، قرآن پڑھنے سے آپ کو ایک مثبت توانائی ملتی ہے۔
اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا ٹیسٹوسٹیرون زیادہ ہونا شروع ہو رہا ہے تو جم کی طرف بھاگیں... پہلے دن قدرے مشکل ہوگا، 6 ماہ کے بعد آپ ایک ناقابل تسخیر سپر ہیرو میں تبدیل ہو جائیں گے.
اپنا اور اپنے سے جڑے رشتوں کا خاص خیال رکھیے گا.

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Tahreer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category