The Vet News & Views Community

The Vet News & Views Community Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Vet News & Views Community, 392 A samanabad, Faisalabad.

Community and features page of The Veterinary News & Views, sharing field stories, reels, achievements, practical insights and audience voices from veterinary, livestock, poultry, dairy, agriculture and One Health sectors.

چینی زرعی، پولٹری اور لائیو اسٹاک کمپنیوں کو جنوبی پنجاب کے کاروباری حلقوں سے جوڑنے کے لیے اہم پیش رفتپریس ریلیز  25اگست...
25/08/2026

چینی زرعی، پولٹری اور لائیو اسٹاک کمپنیوں کو جنوبی پنجاب کے کاروباری حلقوں سے جوڑنے کے لیے اہم پیش رفت
پریس ریلیز 25اگست2026
ملتان.محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام جنوبی پنجاب میں زرعی ٹیکنالوجی، پولٹری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تحقیق، کاروبار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اہم رابطہ اجلاس منعقد ہوا۔ پروگرام کا عنوان **“South Punjab Agri-Tech & Poultry Innovation Forum”** تھا، جبکہ اس کا مرکزی موضوع **“Bridging Research and Enterprise: China-Pakistan Cooperation in Modern Agriculture, Poultry & Livestock”** تھا۔اس پروگرام کا بنیادی مقصد چین کی زرعی ٹیکنالوجی، پولٹری اور لائیو اسٹاک سے وابستہ کاروباری اداروں اور کمپنیوں کو جنوبی پنجاب کے متعلقہ شعبوں سے وابستہ کاروباری افراد اور صنعت کاروں سے یونیورسٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعے جوڑنا تھا، تاکہ باہمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری، تحقیق اور کاروباری مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔

تقریب کے میزبان رانا اقبال سراج، چیف ایگزیکٹو آفیسر RIC Nexus Pvt. Ltd. ملتان تھے۔ انہوں نے پاک چین کاروباری روابط کو مضبوط بنانے اور جنوبی پنجاب کے زرعی، پولٹری اور لائیو اسٹاک سیکٹر کو جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی مارکیٹ سے منسلک کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز کاروباری برادری، تحقیق اور صنعت کے درمیان فاصلے کم کرنے اور عملی شراکت داری کے نئے راستے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر وائس چانسلر محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ یونیورسٹی تحقیق، جدت اور علمی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کاروباری اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے لیے ہر ممکن تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی ملتان تحقیق (Research)، جدت (Innovation) اور علمی و فکری صلاحیت (Intellect) کو صنعت اور کاروبار کی ضروریات سے جوڑنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کا کردار ادا کرے گی۔ ڈاکٹر آصف علی نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا مقصد صرف تعلیمی سرگرمیوں تک محدود رہنا نہیں بلکہ تحقیق کے نتائج کو عملی میدان میں منتقل کرنا، صنعت کے مسائل کے سائنسی حل فراہم کرنا اور کاروباری اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ پاک چین تعاون کے ذریعے جنوبی پنجاب کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سمارٹ فارمنگ، پولٹری مینجمنٹ، لائیو اسٹاک، گرین ہاؤس ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔تقریب میں چین سے زرعی کمپنیوں کے مالکان یچی،وانگ،زاؤوی،لمبرٹ،زانگوائی اور پاکستان سے وابستہ کاروباری و تکنیکی نمائندگان نے باہمی تعاون کے امکانات، جدید زرعی ٹیکنالوجی، پولٹری اور لائیو اسٹاک کی پیداوار، تحقیق و ترقی، کاروباری روابط اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ یونیورسٹی، صنعت اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط روابط جنوبی پنجاب کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی و تکنیکی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان مستقبل میں بھی تحقیق، جدت اور صنعت کے باہمی اشتراک کے ذریعے جنوبی پنجاب کے زرعی، پولٹری اور لائیو اسٹاک شعبوں کی ترقی اور پاک چین کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔اس موقع پر رانا محمود الحسن سینیٹر پاکستان,وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طارق سمیت یونیورسٹی فیکلٹی انڈسٹری اور کسانوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔
ریاض احمد ہراج
ترجمان زرعی یونیورسٹی ملتان

24/08/2026

محفوظ بھینس کالونی کا خواب شرمندۂ تعبیر — کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سکھن کا باقاعدہ افتتاح

بھینس کالونی کے اہم چوک چوراہوں پر 100 سی سی ٹی وی کیمرے فعال، تقریباً 18 کلومیٹر کا سکیورٹی نیٹ ورک اور کیبلنگ مکمل — اگلے دو ماہ میں مزید 200 کیمرے شامل کرکے تعداد 300 تک پہنچانے کا ہدف

کراچی، 24 اگست 2026:
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) نے بھینس کالونی میں امن و امان، کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے لیے قائم کیے گئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، تھانہ سکھن کے باقاعدہ افتتاح کو ایک تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

کمیونٹی پولیسنگ کراچی، سندھ پولیس، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان اور بھینس کالونی کی کاروباری و مقامی کمیونٹی کے باہمی تعاون سے شروع کیے گئے محفوظ بھینس کالونی منصوبے کے پہلے مرحلے میں 100 جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے انہیں تھانہ سکھن میں قائم مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کردیا گیا ہے۔

ہر اہم چوک اور چوراہے کی نگرانی

منصوبے کے تحت بھینس کالونی کے اہم چوک، چوراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر چار چار کیمروں پر مشتمل نگرانی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ مختلف سمتوں سے آنے اور جانے والی ٹریفک، مشکوک نقل و حرکت اور اہم کاروباری علاقوں کی بہتر نگرانی ممکن بنائی جاسکے۔

اس نظام کے ذریعے بھینس کالونی کے وسیع علاقے کو ایک مرکزی نگرانی کے نیٹ ورک سے منسلک کردیا گیا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 18 کلومیٹر پر محیط کیبلنگ اور سکیورٹی نیٹ ورک بچھایا گیا ہے، جس کے ذریعے مختلف مقامات کے کیمرے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک ہیں۔

پوری بھینس کالونی ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے مانیٹر

تھانہ سکھن میں قائم جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں بڑی مانیٹرنگ اسکرینوں کے ذریعے بھینس کالونی کے مختلف حصوں کی لائیو نگرانی ممکن بنائی گئی ہے۔ تمام نصب شدہ کیمرے مرکزی نظام سے منسلک اور فعال ہوچکے ہیں، جس سے پولیس کو کسی بھی واقعے، مشکوک سرگرمی یا ہنگامی صورتحال کی بروقت نشاندہی میں مدد مل سکے گی۔

یہ نظام جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ کسی واقعے کی صورت میں ویڈیو شواہد کے حصول، مشتبہ افراد یا گاڑیوں کی شناخت، نقل و حرکت کے جائزے اور پولیس کے فوری ردِعمل کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

اعلیٰ پولیس افسران اور کمیونٹی نمائندگان نے افتتاح کیا

کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی افتتاحی تقریب میں ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار، ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ، ایس پی ملیر علی حسن شیخ، ڈی ایس پی سکھن غلام احمد شیخ، صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان شاکر عمر گجر، کمیونٹی پولیسنگ کے چیف انیق، پیٹرن اِن چیف مراد سونی اور ناصر پٹیل سمیت پولیس افسران، ڈیری فارمرز، تاجروں، کاروباری شخصیات اور مقامی کمیونٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا اور مہمانوں کو مختلف علاقوں سے آنے والی لائیو سی سی ٹی وی فیڈ، مانیٹرنگ سسٹم اور پورے نیٹ ورک کی عملی کارکردگی دکھائی گئی۔

ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ملیر، مراد سونی اور شاکر عمر گجر کا خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار، ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ، کمیونٹی پولیسنگ کے پیٹرن اِن چیف مراد سونی اور صدر DCFA Pakistan شاکر عمر گجر نے پولیس اور کمیونٹی کے اشتراک سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو جرائم کی روک تھام اور محفوظ کاروباری ماحول کے قیام کے لیے اہم قرار دیا۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس نظام کو مسلسل مضبوط، وسیع اور مؤثر بنایا جائے گا تاکہ بھینس کالونی میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی لائی جاسکے اور کاروباری برادری، فارمرز، مزدوروں اور رہائشیوں کو زیادہ محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔

شاکر عمر گجر: بھینس کالونی کا تحفظ پاکستان کی ڈیری معیشت کا تحفظ ہے

صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان شاکر عمر گجر نے اپنے خطاب میں کہا:

“بھینس کالونی صرف ایک رہائشی یا کاروباری علاقہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈیری معیشت کا ایک انتہائی اہم مرکز ہے۔ یہاں ہزاروں فارمرز، مزدور، تاجروں اور کاروباری افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ اس علاقے کا تحفظ دراصل فارمر کے روزگار، کاروبار اور پاکستان کی ڈیری سپلائی چین کا تحفظ ہے۔”

انہوں نے کہا کہ جدید کیمروں کی تنصیب اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام ایک دیرینہ ضرورت تھی اور الحمدللہ آج محفوظ بھینس کالونی کا خواب عملی شکل اختیار کرچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ:

“ہمارا مقصد صرف کیمرے لگانا نہیں بلکہ ایسا مربوط نظام قائم کرنا ہے جس میں پولیس، کمیونٹی اور کاروباری طبقہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ٹیکنالوجی ہمیں جرائم کی روک تھام، شواہد کے حصول اور پولیس کے فوری ردِعمل میں مدد دے گی۔”

بزنس کمیونٹی کا تاریخی تعاون — مزید کیمروں کے اعلانات

افتتاحی تقریب میں بھینس کالونی کی کاروباری اور مقامی کمیونٹی نے اس منصوبے کو مزید وسعت دینے کے لیے بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔

بھوسہ منڈی کے صدر شہزاد نے مزید 50 کیمروں،
اقلیتی برادری کی جانب سے 10 کیمروں،
گرین گراس ایسوسی ایشن کے صدر اسحاق خان نے 30 کیمروں،
چیئرمین یوسی 3 جاوید اقبال کاکو نے 20 کیمروں جبکہ
DCFA Pakistan کراچی ڈویژن کے صدر مبشر قدیر عباسی نے مزید 100 کیمروں کے تعاون کا اعلان کیا۔

ان اعلانات سے منصوبے کے اگلے مرحلے کے لیے 200 سے زائد اضافی کیمروں کی گنجائش اور کمیونٹی سپورٹ سامنے آئی ہے۔

اگلے دو ماہ میں 300 کیمروں کا نیٹ ورک

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کے مطابق منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اگلے دو ماہ کے دوران کم از کم مزید 200 کیمرے نصب کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کے بعد محفوظ بھینس کالونی کے سکیورٹی نیٹ ورک میں کیمروں کی مجموعی تعداد 300 تک پہنچ جائے گی۔

نئے کیمرے مزید چوک چوراہوں، داخلی و خارجی راستوں، کاروباری مراکز، حساس مقامات اور ایسے علاقوں میں نصب کیے جائیں گے جہاں نگرانی کی ضرورت زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔

اس توسیع کے بعد کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو بھینس کالونی کے مزید وسیع حصے کی مسلسل نگرانی کی صلاحیت حاصل ہوگی۔

جرائم کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال

DCFA Pakistan کا مؤقف ہے کہ سی سی ٹی وی نظام جرائم کے خاتمے کا واحد ذریعہ نہیں، تاہم مؤثر پولیسنگ، فوری رسپانس، کمیونٹی تعاون اور جدید نگرانی کے ساتھ یہ جرائم کی روک تھام اور تحقیقات میں انتہائی مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

کیمروں کی موجودگی سے جرائم پیشہ عناصر کے لیے خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ کسی واردات کی صورت میں فوری ویڈیو شواہد پولیس کو تحقیقات میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

نیشنل میڈیا کی بھرپور کوریج

کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سکھن کی افتتاحی تقریب کو نیشنل پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانب سے بھرپور کوریج دی گئی۔ میڈیا نمائندگان نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، لائیو مانیٹرنگ، کیمروں کے نیٹ ورک اور پولیس و کمیونٹی کے مشترکہ منصوبے کی تفصیلات عوام تک پہنچائیں۔

DCFA Pakistan نے قومی میڈیا کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مثبت اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی کوریج سے کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو فروغ ملتا ہے اور دوسرے علاقوں کو بھی اس طرز کے منصوبے شروع کرنے کی ترغیب حاصل ہوتی ہے۔

پولیس + کمیونٹی + ٹیکنالوجی = محفوظ بھینس کالونی

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان نے اس منصوبے کو کمیونٹی پولیسنگ کی ایک عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن کا قیام صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ کاروباری برادری، مقامی نمائندگان، شہریوں اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

100 کیمروں سے شروع ہونے والا یہ سفر اب 300 کیمروں کی طرف بڑھ رہا ہے، اور ان شاء اللہ مستقبل میں ضرورت کے مطابق اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

DCFA Pakistan نے سندھ پولیس، ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ملیر، تھانہ سکھن، کمیونٹی پولیسنگ کراچی، مراد سونی، ناصر پٹیل، تمام معاون کاروباری تنظیموں، مقامی نمائندگان، مخیر حضرات اور بھینس کالونی کی پوری کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے یہ منصوبہ عملی صورت اختیار کرسکا۔

محفوظ بھینس کالونی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا — اب اس خواب کو مزید مضبوط، وسیع اور پائیدار بنانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

محفوظ بھینس کالونی — محفوظ فارمر، محفوظ کاروبار، محفوظ خاندان، محفوظ مستقبل

جاری کردہ:
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
Save Farmer — Save Pakistan

24/08/2026
پچاس سالہ تجربے کی تلخ حقیقتمیرے تقریباً پچاس سالہ مشاہدے اور تجربے کے مطابق پاکستان میں سرکاری نظام کا ایک بڑا المیہ یہ...
24/08/2026

پچاس سالہ تجربے کی تلخ حقیقت

میرے تقریباً پچاس سالہ مشاہدے اور تجربے کے مطابق پاکستان میں سرکاری نظام کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر محکمے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے انہیں مزید مشکلات، کاغذی کارروائی اور دفتری چکروں میں الجھانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

اصولی طور پر ریاست کے تمام محکمے عوام کی خدمت، ان کے مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، لیکن عملی صورتِ حال اکثر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ایک عام شہری کو معمولی سے معمولی کام کے لیے کئی دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، مختلف افسران اور اہلکاروں سے ملنا پڑتا ہے، بار بار دستاویزات جمع کرانی پڑتی ہیں اور پھر بھی کام مقررہ وقت پر مکمل ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔

اصل مسئلہ صرف سرکاری ملازمین نہیں بلکہ پورا نظام ہے۔ اختیارات کی غیر ضروری مرکزیت، پیچیدہ قوانین، فرسودہ طریقۂ کار، غیر ضروری کاغذی کارروائی، جوابدہی کا فقدان اور بعض جگہوں پر کرپشن نے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔

ایک عام آدمی جب کسی سرکاری دفتر میں جاتا ہے تو اسے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ریاست اس کی مدد کے لیے موجود ہے، لیکن بدقسمتی سے اکثر اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی سہولت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ ایک نئے مسئلے کا سامنا کرنے کے لیے دفتر میں داخل ہوا ہے۔

میرے نزدیک اچھی حکومت اور اچھے ادارے کی بنیادی پہچان یہ ہے کہ شہری کو کم سے کم وقت، کم سے کم اخراجات اور کم سے کم کاغذی کارروائی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔ اگر ایک معمولی کام کے لیے شہری کو کئی دن یا ہفتے دفاتر کے چکر لگانے پڑیں تو یہ صرف فرد کی پریشانی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم سرکاری محکموں کو ’’اختیار کے مراکز‘‘ کے بجائے حقیقی معنوں میں ’’عوامی خدمت کے مراکز‘‘ بنائیں۔ ہر محکمہ اپنے کام، مدتِ تکمیل اور ذمہ دار افسر کو واضح کرے، زیادہ سے زیادہ خدمات کو آن لائن کیا جائے، غیر ضروری مراحل ختم کیے جائیں اور افسران و اہلکاروں کی کارکردگی کو عوامی سہولت کے پیمانے پر جانچا جائے۔

ریاست کا کام عوام کو پریشان کرنا نہیں، ان کی زندگی آسان بنانا ہے۔ جب تک ہمارے سرکاری اداروں کا بنیادی فلسفہ ’’حکومت کرنا‘‘ سے تبدیل ہو کر ’’عوام کی خدمت کرنا‘‘ نہیں بنتا، تب تک ترقی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح کے دعوے صرف دعوے ہی رہیں گے۔

ڈاکٹر عالم زیب مہمند
پاکستان پیپلز پارٹی
سابق ڈائریکٹر جنرل توسیع
محکمہ امور حیوانات کے پی کے

شراکت، ترقی اور کارکردگی کے 90 سال کا جشنہائ لائن کے 90 سال مکمل ہونے پر ہم ان خاندانوں اور شراکت داروں کو خراجِ تحسین پ...
24/08/2026

شراکت، ترقی اور کارکردگی کے 90 سال کا جشن
ہائ لائن کے 90 سال مکمل ہونے پر ہم ان خاندانوں اور شراکت داروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جن کی محنت اور وابستگی نے دنیا بھر میں پولٹری جینیات اور انڈوں کی پیداوار کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس کی ایک قابلِ ذکر مثال فرینٹم خاندان ہے، جس کا ہائ لائن کے ساتھ تعلق 74 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔
یہ داستان 1953ء میں شروع ہوئی، جب ڈلاس کی پردادی مسز فریڈ فرینٹم کو ’’ہائ لائن ماسٹر ایگ پروڈیوسر‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کے فلاک نے 1952-53ء کے ہائ لائن نیشنل ایگ لیئنگ مقابلے میں فی ہین ہاؤسڈ 236.7 انڈوں کی غیر معمولی پیداوار حاصل کی۔ اس دور میں قومی اوسط صرف 145 انڈے تھی۔ ان کے نتائج نے ثابت کیا کہ بہترین انتظام اور جینیاتی جدت کے ذریعے نمایاں پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی جینیاتی ترقی طویل عرصے سے ہائ لائن کے مشن کا بنیادی حصہ رہی ہے۔
آج بھی یہ ورثہ جاری ہے۔ ڈلاس ہائ لائن کے کوآپریٹر کی حیثیت سے گرینڈ پیرنٹ اسٹاک کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جو ڈلاس سینٹر پروڈکشن ہب کو ہیچنگ ایگز فراہم کرتا ہے۔ ان کے والد جم نے شراکت داری کے اس مرحلے کا آغاز 2000ء میں کیا، جب انہوں نے آئیووا کے علاقے ووڈورڈ کے قریب اپنے خاندانی فارم پر پہلا گرینڈ پیرنٹ ہاؤس تعمیر کیا۔
1950ء کی دہائی کے ریکارڈ ساز فلاک سے لے کر آج امریکا اور دنیا بھر کے صارفین کے لیے پیرنٹ اسٹاک کی پیداوار میں معاونت تک، فرینٹم خاندان کا سفر ان عوامل کی عکاسی کرتا ہے جو ہمیشہ ہائ لائن کی کامیابی کا باعث رہے ہیں: مسلسل جینیاتی بہتری اور اعتماد پر قائم نسل در نسل شراکت داری۔
گزشتہ 90 برسوں سے ہائ لائن اپنے صارفین، کوآپریٹرز اور متعلقہ صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسی زیادہ پیداواری لیئرز تیار کر رہی ہے جو زیادہ مؤثر انداز میں زیادہ انڈے دیتی ہیں اور بڑھتی ہوئی عالمی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہیں۔ فرینٹم خاندان جیسی داستانیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جدت صرف سائنس کے ذریعے نہیں، بلکہ وقت کی آزمائش پر پورا اترنے والے مضبوط تعلقات سے بھی پروان چڑھتی ہے۔
فرینٹم خاندان کا شکریہ، جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے ہائ لائن کی کامیابی کی داستان کا حصہ ہے۔

🕊️ یادِ رفتگاں: مرحوم لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس، خدمت اور تحفظِ فطرت کے لیے وقف ایک زندگیہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان...
24/08/2026

🕊️ یادِ رفتگاں: مرحوم لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس، خدمت اور تحفظِ فطرت کے لیے وقف ایک زندگی
ہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (HFIP) مرحوم لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس کو گہرے احترام اور تشکر کے ساتھ یاد کرتی ہے، جن کی خدمت، لگن اور غیرمعمولی جدوجہد نے پاکستان میں جنگلی حیات اور قدرتی مساکن کے تحفظ پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔
24 نومبر 1945ء کو پیدا ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس نے پاک فوج میں امتیازی شان کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ انہیں 58 لائٹ ایئر ڈیفنس رجمنٹ میں کمیشن ملا، جس کے بعد انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔
انہوں نے پاکستان کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور پاکستان آرمی گنری اسٹاف سے اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت اور اسناد حاصل کیں۔ 1971ء کی جنگ کے دوران ان کی یونٹ بدین میں اہم تزویراتی تنصیبات کے دفاع پر مامور رہی۔ بعدازاں وہ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے اور 41 میڈیم ایئر ڈیفنس رجمنٹ کی کمان کی۔
🌿 جنگلی حیات کے تحفظ میں ایک نئے سفر کا آغاز
پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس نے 1996ء میں ہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ یہاں سے پاکستان کی جنگلی حیات اور قدرتی مساکن کے تحفظ کے لیے ان کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
HFIP میں انہوں نے عملی طور پر جنگلی حیات کے تحفظ کی تربیت حاصل کی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان سمیت حکومتِ پنجاب کے متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔ فاؤنڈیشن میں اپنی خدمات کے دوران وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں متعدد اہم تحفظی منصوبوں کے قیام اور ترقی میں شریک رہے۔
🌱 صحرائے چولستان میں قدرتی ماحول کی بحالی
ان کی نمایاں خدمات میں صحرائے چولستان میں سالانہ فضائی بیج پاشی کے منصوبے میں شرکت بھی شامل تھی، جو پاک فوج کے تعاون سے انجام دیا جاتا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس نے پاک فوج کے ہلکے طیاروں سے بیج پھیلانے کے لیے ایک خصوصی طریقۂ کار تیار کیا۔ اس اقدام کا مقصد صحرائے چولستان میں نباتاتی احیا، قدرتی سبزے کو مضبوط بنانا اور جنگلی حیات کے مساکن کو بہتر بنانا تھا۔
🦅 اہم تحفظی مراکز کے قیام میں کردار
لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس کی اہم کامیابیوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کی بڑی تنصیبات کے قیام اور ترقی میں ان کا کردار نمایاں ہے۔
انہوں نے رحیم یار خان میں قائم شیخ زاید بن سلطان آل نہیان ہوبارا ریسرچ اینڈ ری ہیبلی ٹیشن سینٹر کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ مرکز تلور کے تحفظ، تحقیق اور بحالی کے لیے وقف ہے۔
انہوں نے لال سوہانرا نیشنل پارک، بہاولپور میں شیخ محمد بن زاید آل نہیان کنزرویشن بریڈنگ سینٹر کے قیام میں بھی تعاون کیا، جس سے جنگلی حیات کے تحفظ اور افزائشِ نسل کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔
یہ تحفظی منصوبے ان کی کئی دہائیوں پر محیط مخلصانہ خدمات کی اہم میراث ہیں۔
✍️ تحفظِ فطرت کا پیغام عام کرنے کی کوششیں
لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس جنگلی حیات اور ماحول کے تحفظ سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے بھی سرگرم رہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور جنگلی حیات کے موضوعات پر متعدد مضامین اور تحریریں لکھیں، جو قومی اور بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوئیں۔
وہ ملکی اور غیرملکی سربراہان اور معزز شخصیات کے دوروں کے دوران ان کے ہمراہ رہتے اور انہیں پاکستان میں تلور کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کرتے تھے۔ اس شعبے میں ان کی خدمات کو قومی اور بین الاقوامی جرائد اور ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں کوریج ملی۔
⛪ ایمان اور خدمت سے عبارت زندگی
ان کا جذبۂ خدمت فوج اور جنگلی حیات کے تحفظ تک محدود نہیں تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں پریسبیٹیرین چرچ میں مذہبی خدمت کے لیے مقرر کیا گیا۔ انہوں نے نابھا روڈ پر واقع سینٹ اینڈریوز پریسبیٹیرین چرچ میں 25 سال سے زائد عرصے تک بلامعاوضہ منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
انہوں نے مختلف کلیسائی اور تعلیمی اداروں میں قائدانہ اور انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔
انہیں ایک فرمانبردار بیٹے، محبت کرنے والے بھائی، شفیق والد اور پیار کرنے والے دادا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے تھے۔
🕊️ ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی
لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس 8 اپریل 2022ء کو انتقال کر گئے۔
انہوں نے 1996ء میں ہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان میں شمولیت سے لے کر 2022ء میں اپنے انتقال تک، اپنی زندگی کے 25 سال سے زائد عرصہ پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی مساکن کی بحالی اور ماحولیاتی آگاہی کے فروغ کے لیے وقف کیے۔
ان سے واقف افراد انہیں ایک منکسرالمزاج، انتہائی شفیق، پُرامید اور اپنے خاندان، کام اور چرچ کے ساتھ بے مثال وفاداری رکھنے والی شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
ان کی خدمات آج بھی ان تحفظی مراکز، قدرتی مساکن کی بحالی کے منصوبوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کی ان کوششوں کی صورت میں زندہ ہیں، جن کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کے کئی برس وقف کیے۔
ہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان، مرحوم لیفٹیننٹ کرنل ارنسٹ شمس کو پاکستان کے قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات اور غیرمعمولی کردار پر فخر کے ساتھ یاد کرتی ہے۔ ان کی میراث جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی آئندہ نسلوں کو بھی تحریک دیتی رہے گی۔
🕊️ خداوند ان کی روح کو ابدی سکون عطا فرمائے۔

ایک یادگار اور تاریخی سعادت — میاں گروپ آف کمپنیز کی ٹیم کا سفرِ عمرہالحمدللہ! 🤲🕋اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ میاں گرو...
24/08/2026

ایک یادگار اور تاریخی سعادت — میاں گروپ آف کمپنیز کی ٹیم کا سفرِ عمرہ
الحمدللہ! 🤲🕋
اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ میاں گروپ آف کمپنیز کی پوری ٹیم کو عمرہ کی عظیم سعادت نصیب ہوئی اور آج ہمارے تمام ساتھی حرمین شریفین کی بابرکت فضاؤں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور عمرہ کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔
یہ لمحہ صرف ایک سفر نہیں بلکہ ایک تاریخی یاد، ایک خوبصورت مثال اور پوری پولٹری انڈسٹری کے لیے ایک نئی روایت ہے۔
میاں گروپ آف کمپنیز نے پولٹری کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا منفرد اور قابلِ تحسین قدم اٹھایا ہے کہ کمپنی کی پوری ٹیم کو عمرہ کی سعادت کے لیے اس محبت اور خلوص کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ یہ بلاشبہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان شاء اللہ دیگر اداروں کے لیے بھی ایک بہترین مثال بنے گا۔
خصوصی طور پر، ہم سب ڈائریکٹر جناب علی رضا چوہدری صاحب کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنی ٹیم کے لیے یہ خصوصی اور یادگار تحفہ دیا۔ موجودہ دور میں جب پولٹری انڈسٹری مختلف مشکلات اور چیلنجز سے گزر رہی ہے، ایسے حالات میں بھی اپنی ٹیم کو اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری اور عمرہ کی سعادت کے لیے بھیجنا، یقیناً ان کے خلوص، محبت اور اپنے ساتھیوں کے لیے بہترین سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
پوری ٹیم دل کی گہرائیوں سے جناب علی رضا چوہدری صاحب اور میاں گروپ آف کمپنیز کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ انہوں نے ہمیں زندگی کی ان یادوں میں شامل کر دیا جو شاید کبھی فراموش نہ ہوں۔
یہ صرف ایک کمپنی ٹرپ نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر، ایک خوبصورت یاد اور پولٹری انڈسٹری کے لیے ایک مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ میاں گروپ آف کمپنیز کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس ادارے کے تمام افراد کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، اور جناب علی رضا چوہدری صاحب کو اس نیک اور خوبصورت عمل کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین! 🤲

24/08/2026

دعوتِ عام برائے میڈیا کوریج

محفوظ بھینس کالونی — کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی افتتاحی تقریب

بجانب: کمیونٹی پولیسنگ کراچی اور ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان

محترم نمائندگانِ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا!

کمیونٹی پولیسنگ کراچی اور ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کی جانب سے آپ کو نہایت احترام کے ساتھ تھانہ سکھن، بھینس کالونی میں قائم جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی افتتاحی تقریب کی خصوصی میڈیا کوریج کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔

محفوظ بھینس کالونی منصوبے کے تحت علاقے کے اہم مقامات، داخلی و خارجی راستوں اور حساس پوائنٹس پر 100 سی سی ٹی وی کیمرے، تقریباً 18 کلومیٹر کیبلنگ اور جدید مرکزی مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کو مؤثر بنانا، جرائم کی روک تھام میں پولیس کی معاونت کرنا اور بھینس کالونی کے فارمرز، تاجروں، مزدوروں اور شہریوں کے لیے زیادہ محفوظ ماحول قائم کرنا ہے۔

مہمانِ خصوصی

جناب آزاد خان، T.St, PSP
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس، کراچی

معزز مہمانان

ڈاکٹر فرخ لنجار
ڈی آئی جی ایسٹ

ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ
ایس ایس پی ملیر

تقریب میں پولیس افسران، کمیونٹی پولیسنگ کے نمائندگان، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان، مقامی کمیونٹی، ڈیری فارمرز، کاروباری و سماجی شخصیات بھی شرکت کریں گی۔

یہ منصوبہ پولیس، کمیونٹی، فارمرز اور جدید ٹیکنالوجی کے باہمی اشتراک سے بھینس کالونی کو مزید محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم عملی قدم ہے۔

📍 مقام: تھانہ سکھن، کراچی
📅 تاریخ: پیر، 24 اگست 2026
🕞 وقت: سہ پہر 3:30 بجے — بروقت

تمام پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا نمائندگان سے خصوصی گزارش ہے کہ اس اہم تقریب کی کوریج کے لیے تشریف لائیں۔ آپ کی شرکت ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہوگی۔

رابطہ

شاکر عمر گجر
📞 0300-8281786

محفوظ بھینس کالونی — پولیس، کمیونٹی اور فارمرز کا مشترکہ عزم

24/08/2026

معاشی ماہر عابد قیوم سلہری اور ماہر غذائی تحفظ شمس السلام خان نے گفتگو میں کہاکہ گندم اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ، ذخیرہ اندوزی، درآمدی پالیسی، کمزور سپلائی چین اور مجموعی معاشی صورتحال غذائی بحران کی اہم وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف فصلوں کی پیداوار بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ خوراک کی پیداوار سے لے کر ذخیرہ کاری اور مارکیٹ تک رسد کے پورے نظام میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق پنجاب میں گندم کی فصل کی آمد میں تاخیر اور کٹائی مکمل ہونے کے باوجود قیمتوں میں اضافے نے کئی سوالات پیدا کئے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت اور اسمگلنگ پر پابندیوں کے باعث گندم کی غیررسمی نقل وحرکت بھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود بعض جدید ذخیرہ گاہوں اور گوداموں کو بڑے کاروباری اور با اثر حلقے استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں رسد کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ سال چاول کی پیداوار کا بڑا حصہ مقامی ضرورت پوری کرنے یا بر آمد کرنے کے بجائے ذخیرہ کئے جانے سے مارکیٹ پر دبا ئوبڑھا۔

Address

392 A Samanabad
Faisalabad
38070

Opening Hours

Monday 09:00 - 00:00
Tuesday 09:00 - 00:00
Wednesday 09:00 - 00:00
Thursday 09:00 - 00:00

Telephone

+92412665352

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Vet News & Views Community posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share