The Vet News & Views

The  Vet News & Views “The Veterinary News & Views” is on the central media list, certified by ABC & Approved by Govt.

of Pakistan (PID, DGPR) News Paper, being published since 1987 in Urdu and English

لاہور مائیگریش کروانے والی ایک لڑکی نسیم بی بی  بھی تھی جو ملائشیا  سے آئی  تھی۔ جسے ہمارے ایک کلاس میں اور جامعہ زرعیہ ...
24/05/2026

لاہور مائیگریش کروانے والی ایک لڑکی نسیم بی بی بھی تھی جو ملائشیا سے آئی
تھی۔ جسے ہمارے ایک کلاس
میں اور جامعہ زرعیہ —
شعیب نور لاہوری کی واردات کا قصہ
انگلستان سے خورشید خان کی تحریر

کیمپس میں لاہور شہر سے یونیورسٹی میں داخلہ لینے والوں کا دل اکثر یونیورسٹی میں نہیں لگتا تھا۔
کہاں لاہور کی رنگین روشنیاں اور قمقمے، اور کہاں یونیورسٹی کا اداس ماحول؛ جہاں رات ہوتے ہی پیلے رنگ کے بلبوں کی مریل سی زرد روشنی سنسان سڑکوں پر بکھری ہوتی تھی، اور درختوں پر بیٹھے کوّے ذرا سی کھٹ پٹ پر نیچے سے گزرنے والوں پر اپنی بیٹ کی پچکاری مار دیتے۔

خاص طور پر جن طلبہ کو ابتدا میں رہنے کے لیے اقبال ہال یا قاسم ہال میں جگہ ملتی، ان کی فولنگ سے ایسی درگت بنتی کہ وہ سوچتے، کہاں آ پھنسے ہیں۔
ایک دن صبح، فیکلٹی کی اوپر والی منزل پر مائیکرو بایولوجی اور پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کے باہر، لیکچرز روم کر سامنے راہدری میں کلاس شروع ہونے سے پہلے، لاہور کے علاقے گڑھی شاہو سے آئے ایک نوجوان ، جس کا نام شعیب نور تھا سلام دعا ہوئی۔
بدقسمتی سے وہ رات اقبال ہال میں گزار کر آئے تھے۔ اولِ شب ان کی فولنگ کی وجہ سے خاصی درگت بنی تھی، اور باقی رات اس خوف سے نیند نہ آ سکی کہ آئندہ کیا ہوگا۔ وہ فیصل آباد سے جلد از جلد واپس بھاگنا چاہتے تھے۔
اس مہم جوئی میں سب سے پہلے کامیاب ہونے والوں میں ہمارے خوبرو نوجوان کلاس فیلو عاقل حمید چوہدری تھے۔ جن کی شکل ٹی وی اداکار اسد ملک سے ملتی جلتی ہے۔
پھر شعیب نور بھی تیسرے سمسٹر تک لاہور چلے گئے، اور اس کے بعد منور گل بھی، جن کا دبدبہ ان کے خاموش رھنے،اور نمایاں گھنی مونچھوں میں تھا، وہ بھی لاہور کے لیے مائیگریشن لینے میں کامیاب ہو گئے۔

چونکہ گوجرانوالہ لاہور سے قریب تھا، لہٰذا میں نے بھی اپنی طرف سے کوشش کی لاہور مائیگریشن کروا لوں۔
لاہور کے ایک نامور جج، جو نجف خان صاحب (لائبریرین) کے دوست تھے، اُن سے کسی ذریعے ایک سفارشی خط حاصل کیا اور نجف خان صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا کہ فدوی لاہور کالج کے لیے مائیگریشن چاہتا ہے۔

غیاث خان نہیں چاھتے تھے میں لاھور جاؤ انہوں نے ڈرامہ سوسائٹی کے روحِ رواں اکرم قاضی صاحب کے کان میں پھونک مار دی اور ڈین عرفان صاحب بھی نہیں چاہتے تھے کہ میں پڑھنے لاہور کالج چلا جاؤں۔

بعد ازاں یونیورسٹی سے تو لاہور جانے کی رضامندی مل گئی، مگر لاہور کالج والوں نے مجھے لینے سے معذرت کر لی۔ سو میں نے کم از کم ڈگری مکمل ہونے تک لاہور جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

ویسے یہ لاہوریے بڑے ہی چالاک ہوتے ہیں۔ شعیب نور بابا جی کے میس کے ممبر تھے۔ ایک دن افضل ہال بابا جی کے میس میں غریبی ( یعنی بے ذائقہ پالک) پکی تھی۔ اسی ہاسٹل میں سوڈانی طلبہ کا میس بھی تھا۔ میس میں یاسر نامی ایک سوڈانی لڑکا بیٹھا تھا، جو نہایت ذہین اور پھرتیلا تھا اور وہ پنجابی زبان بھی سیکھ گیا تھا۔ شعیب نور جانتے تھے کہ سوڈانیوں کے میس میں چکن روسٹ اور کالی مرچ والی مسور کی دال پکی ہے۔

شعیب نور نے جب یاسر کو کھانے کی میز پر بیٹھا دیکھا تو اس کے سر پر جا پہنچے اور بولے “کیا بات ہے، آج کل اونچی ہوا میں اُڑ رہے ہو، نیچے دیکھتے ہی نہیں”
یاسر نے پوچھا، “کیا ہوا؟ آؤ بیٹھو اور تسلی سے بتاؤ کیا بات ہے۔”
اسی اثنا میں یاسر کے لیے کھانا آ گیا اور یاسر نے شعیب نور کو بھی کھانے کی دعوت دے دی۔ شعیب نور نے فوراً کھانا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ایک کہانی گھڑ دی کہ “گبرئیل” ۔ایک سوڈانی لڑکی جو شعیب نور کے سیکشن میں تھی ۔ کے بارے میں یاسر کو کہا کہ وہ تمہارے بارے میں پوچھتی رہتی ہے ۔ تم ہو کہ اُسے لفٹ ہی نہیں کرواتے۔

شعیب نور نے اس کہانی میں خوب مرچ مصالحہ لگایا اور یاسر کے کھاتے سے کھانا کھایا۔ اگلے دن شعیب نور گبرئیل سے جا کر بولے
“ذرا دھیان سے رہنا، کل رات کھانے کی میز پر یاسر مجھ سے تمہارا پوچھ رہا تھا۔ کہ کلاس میں تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے۔”
پھر شعیب نور اور گبرئیل، دونوں نے لاہور مائیگریشن کروا لی۔
لاہور مائیگریش کروانے والی ایک لڑکی نسیم بی بی بھی تھی جو ملائشیا سے آئی تھی۔ جسے ہمارے ایک کلاس فیلو ایک مخصوص سبجیکٹ پڑھاتے پڑھاتے خود فیل ہو گئے تھے۔

آخری اطلاعات کے مطابق عاقل حمید چوہدری آرمی سے کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور لاہور کے ایک نجی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تدریس کے فرائض
انجام دیتے رہے ہیں۔
شعیب نور وی آر آئی لاہور سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

منور گل بھی سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔
جبکہ نسیم بی بی کو پڑھانے والے بھی آرمی سے کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہو کر لاہور کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں تدریس کے فرائض انجام دیتے پائے گئے۔
اللہ تمام دوستوں کو تندرست اور سلامتی والی زندگی اور ان پر اپنا فضل رکھے۔ امین
,Waheed Haneef, University of Agriculture Faisalabad
E-faisalabad

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں “Oasis Agriculture in Pakistan” کتاب کی تقریبِ رونمائیUniversity of Agriculture Fai...
23/05/2026

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد میں “Oasis Agriculture in Pakistan” کتاب کی تقریبِ رونمائی
University of Agriculture Faisalabad میں جرمنی کی University of Kassel کے معروف ماہرِ زراعت پروفیسر ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ کی تصنیف کردہ کتاب “Oasis Agriculture in Pakistan” کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ یہ کتاب پاکستان کے زرعی، ثقافتی اور حیاتیاتی ورثے پر ایک اہم تحقیقی دستاویز قرار دی جا رہی ہے، جس میں زرعی و مویشیاتی روایات، لوک داستانوں، ماحولیاتی تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ نے اپنی کتاب کو Prof. Dr. Iqrar Ahmad Khan کے نام معنون کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر Prof. Dr. Zulfiqar Ali اور Prof. Dr. Asif Ali کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی مسلسل معاونت کے بغیر یہ تحقیقی کام ممکن نہ تھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اینڈریاس برکرٹ نے بتایا کہ یہ کتاب پاکستان کے صحرائی اور پہاڑی علاقوں میں گزشتہ 15 برسوں کے دوران ہونے والی مشترکہ زرعی تحقیق کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب میں قراقرم کے پہاڑی علاقوں اور چولستان کے صحرائی خطوں میں پودوں کے حیاتیاتی تنوع، زرعی و مویشیاتی نظام، زمین کے استعمال کے طریقوں اور انسانی و قدرتی تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کتاب میں انہی علاقوں سے حاصل کی گئی 169 لوک کہانیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو مقامی معاشروں اور قدرت کے باہمی تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کتاب کا مقصد پاکستان کے وسیع ثقافتی اور حیاتیاتی ورثے کا مکمل جائزہ پیش کرنا نہیں بلکہ ان نخلستانی علاقوں میں رونما ہونے والی سماجی و ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنا ہے جہاں زرعی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر برکرٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں 1975 میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے بعد عالمی منڈیوں سے روابط بڑھے، جس کے نتیجے میں وہاں کے زرعی نظام اور مقامی معاشرت میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ دوسری جانب چولستان میں یہ تبدیلی نسبتاً حالیہ برسوں میں سامنے آئی، جہاں 2020 کی دہائی کے وسط میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے آبپاشی پر مبنی جدید زرعی نظام متعارف کروایا گیا، جس نے روایتی ٹوبہ پر مبنی مویشی پال نظام کو متاثر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک دہائی قبل ڈاکٹر اقرار احمد خان کے ساتھ گفتگو کے دوران یہ عزم کیا گیا تھا کہ پاکستان کے عام لوگوں، خصوصاً دیہی علاقوں کے ان افراد کی آواز کو دنیا تک پہنچایا جائے جنہیں اظہار کے مواقع میسر نہیں۔ اسی سوچ کے تحت اس کتاب کی تیاری کا آغاز کیا گیا تاکہ پاکستان کے زرعی اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جا سکے۔

23/05/2026

نقطہ نظر ۔۔۔۔۔ تجزیہ !!

ایک ہی شہر میں موجود مختلف یونیورسٹیوں کے یکساں ڈسپلنز کو ایک جامعہ میں ضم کرنے میں بظاہر کوئی قباحت نہیں۔ دنیا بھر میں اکیڈمک کنسولیڈیشن ایک معروف پالیسی ہے، جس کا مقصد وسائل کا بہتر استعمال، فیکلٹی کی مضبوطی اور تحقیق کا ارتقاء ہوتا ہے۔

لیکن پاکستان میں اس عمل کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے، وہ خالصتاً طاقت کے ارتکاز اور مخصوص ڈسپلنز—خصوصاً ایگریکلچر اور ویٹرنری سائنسز—پر اجارہ داری قائم کرنے کی خواہش سے جڑی ہوئی ہے۔ اس سوچ کی بنیاد بدقسمتی سے وہی ہے جو برسوں پہلے فیصل آباد سے شروع ہوئی تھی۔

✦ مالیاتی ناکامی کا تاریخی پس منظر
ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایگریکلچر، ویٹرنری اور اسی نوعیت کی دیگر پروفیشنل یونیورسٹیاں اپنے مالیاتی ماڈل پر قائم نہ رہ سکیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انہی اداروں نے خود:

- غیر متعلقہ ڈسپلنز میں پروگرام شروع کیے
- سیلف فنانس پر ہزاروں داخلے دیے
- اور یوں یونیورسٹیوں کو ٹیوشن اکیڈمیوں میں بدل دیا

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ پروفیشنل یونیورسٹیاں دنیا میں کہیں بھی مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہوتیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی تمام پروفیشنل اور نان پروفیشنل فیکلٹیز ریاستی یونیورسٹیوں کے اندر ہوتی ہیں، تاکہ مالیاتی بوجھ، تحقیق، اور اکیڈمک پلاننگ ایک ہی نظام کے تحت چل سکے۔

✦ نیا تجربہ — پرانا نقصان
اب ایک بار پھر ایک نیا تجربہ کیا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ پہلے سے واضح ہے:
انتشار، ادارہ جاتی کمزوری، اور مزید مالیاتی عدم استحکام۔

اگر واقعی اصلاحات مقصود ہوتیں تو:

- پروفیشنل یونیورسٹیوں کو جنرل یونیورسٹیز قرار دیا جاتا
- یا غیر متعلقہ ڈسپلنز کو مناسب جنرل یونیورسٹیوں میں منتقل کیا جاتا
- اور تمام فیکلٹیز کو ایک مربوط ریاستی نظام کے تحت چلایا جاتا

لیکن یہاں اصل مقصد اصلاح نہیں، بلکہ ایڈونچرزم، طاقت کا مظاہرہ، اور اپنی "آنیاں جانیاں" دکھانا ہے۔ یہی بیمار آمرانہ سوچ اداروں کو تباہ کر رہی ہے۔

✦ مسئلے کی جڑ: قیادت کا بحران
ادارے تباہ اس لیے نہیں ہوتے کہ ان کے پاس وسائل کم ہیں؛
ادارے تباہ اس لیے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس صحتمند، وسیع النظر اور غیر آمرانہ قیادت نہیں ہوتی۔

جب سربراہان:

- انا کے اسیر ہوں
- اختلاف رائے سے خوفزدہ ہوں
- وسعتِ نظر سے محروم ہوں
- اور طاقت کو علم پر ترجیح دیں

تو ادارے کبھی ترقی نہیں کرتے۔

اسی لیے پہلے بھی یہ تجویز دی گئی تھی کہ ہر سربراہ کو عہدہ سنبھالنے سے پہلے نفسیاتی جانچ (Psychological Fitness Test) سے گزارا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ معمول ہے، کیونکہ قیادت صرف ڈگریوں سے نہیں بنتی—اس کے لیے ذہنی توازن، برداشت، وژن اور ادارہ سازی کی صلاحیت ضروری ہے۔
✦ نتیجہ
موجودہ انضمامی پالیسی اگر اسی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھی تو یہ اصلاح نہیں، بلکہ مزید تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
پاکستان کی یونیورسٹیوں کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ:

- پروفیشنل یونیورسٹیوں کو جنرل یونیورسٹیوں کے ماڈل پر لایا جائے
- مالیاتی ماڈل کو حقیقت پسندانہ بنایا جائے
- اور سب سے بڑھ کر، اداروں کو صحتمند، باوقار اور غیر آمرانہ قیادت دی جائے

ورنہ یہ تجربات بھی ماضی کی طرح ناکام ہوں گے، اور نقصان صرف اداروں کا نہیں، آنے والی نسلوں کا ہوگا۔

ظفراقبال رندھاوا

*رحیم یار خان نواحی گاؤں مڈبھورا سے بڑے سائز کا نایاب کچھوا برآمد*  *ریسکیو 1122 نے نایاب کچھوے کو دریائے سندھ میں محفوظ...
23/05/2026

*رحیم یار خان نواحی گاؤں مڈبھورا سے بڑے سائز کا نایاب کچھوا برآمد*
*ریسکیو 1122 نے نایاب کچھوے کو دریائے سندھ میں محفوظ مقام پر منتقل کردیا* 🐢

آج دوپہر 3 بج کر 12 منٹ پر Rescue 1122 کو اطلاع موصول ہوئی کہ چک 23 پی مڈھ بھورا نہر میں نایاب قسم کا کچھوا نہر کا پانی کم ہونے کے باعث پھنس چکا ہے اور اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کچھوے کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔

بعد ازاں کچھوے کو محفوظ طریقے سے چاچڑاں شریف کے دریا میں منتقل کر کے قدرتی ماحول میں بحفاظت چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ دوبارہ آزادانہ زندگی گزار سکے۔

ریسکیو 1122 ایک ایسا ادارہ ہے جو صرف انسانی جانوں ہی نہیں بلکہ بے زبان جانوروں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ ہر زندگی قیمتی ہے، چاہے وہ انسان کی ہو یا کسی بے زبان مخلوق کی، اور ریسکیو 1122 ہر ممکن ایمرجنسی میں اپنی خدمات بلا تفریق انجام دے رہا ہے۔

عوام الناس سے اپیل ہے کہ کسی بھی جانور یا جنگلی حیات کو مشکل میں دیکھیں تو فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کے ذریعے قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

23/05/2026

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی ممکنہ تقسیم — جنوبی پنجاب کی تعلیمی خودکشی؟

ڈاکٹر علمدار حسین ملک
[email protected]

پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مبینہ تجویز کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے چار بڑے فیکلٹی شعبوں کو الگ کر کے ملتان میں نئی یا علیحدہ جامعات میں ضم کر دیا جائے، محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اسے جنوبی پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کی ایک مضبوط، تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والی علامت پر ایک گہرا حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جسے اگر اسی انداز میں نافذ کیا گیا تو اسے بلاشبہ “بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی ممکنہ تقسیم — جنوبی پنجاب کی تعلیمی خودکشی؟” کے طور پر یاد کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ادارے کی ساخت نہیں بدلتا بلکہ اس کے ساتھ جڑے ہوئے بے شمار خوابوں، امیدوں اور قربانیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

یہ احساس اس خطے کے ہر اس گھر میں گونجتا ہے جہاں کسی ماں نے اپنے بچے کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں مانگی ہیں، جہاں کسی باپ نے اپنی محدود آمدنی کے باوجود تعلیم کو اولین ترجیح بنایا ہے، اور جہاں کسی طالب علم نے غربت کے باوجود علم کی شمع جلانے کا عزم کیا ہے۔ یہ ادارہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ اجتماعی امیدوں کا استعارہ ہے، اور اسی لیے “بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی ممکنہ تقسیم — جنوبی پنجاب کی تعلیمی خودکشی؟” محض ایک عنوان نہیں بلکہ ایک گہرا سوال بن جاتا ہے جو پورے تعلیمی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ہزاروں طلبہ، والدین، اساتذہ، محققین اور فارغ التحصیل افراد کے لیے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک تاریخی تعلیمی شناخت ہے جو اس خطے کے لوگوں کی تعلیمی خواہشات، جدوجہد اور امیدوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس جامعہ کے کوریڈورز میں صرف لیکچرز نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے خواب سانس لیتے ہیں، یہاں کے کلاس رومز میں صرف اسباق نہیں پڑھائے جاتے بلکہ ایک بہتر زندگی کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اور یہ ادارہ ان بے شمار خاندانوں کے لیے امید کی آخری مضبوط دیوار ہے۔
رپورٹس کے مطابق، فیکلٹی آف ایگری کلچر، فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز اور فیکلٹی آف فوڈ سائنسز کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگری کلچر میں ضم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ فیکلٹی آف انجینئرنگ کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں منتقل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

اس اقدام کی جو توجیہ پیش کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہی شہر کے قریب واقع جامعات میں ایک جیسے مضامین نہیں ہونے چاہئیں، لہٰذا انہیں دوبارہ منظم کیا جائے۔ تاہم یہ منطق نہ صرف سطحی ہے بلکہ تعلیمی حقیقتوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ ایک ایسا بیانیہ محسوس ہوتا ہے جو جامعات کی پیچیدہ علمی ساخت، طویل تاریخی ارتقاء اور ادارہ جاتی شناخت کو نظر انداز کر کے صرف انتظامی سہولت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ جامعات ایک جیسے مضامین پڑھا رہی ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان اداروں کو وسائل، تحقیق، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور جدید لیبارٹریز فراہم نہیں کی جا رہیں۔ جب اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے ان کی بنیادیں ہی دوسری جگہ منتقل کرنے کی سوچ پیدا ہو جائے تو یہ اصلاح نہیں بلکہ علمی کمزوری کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ طرزِ عمل ادارہ سازی کے بجائے ادارہ تقسیم پر یقین رکھتا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
مزید یہ کہ اگر پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کا یہی اصول واقعی ایک جامع پالیسی کے طور پر لاگو کرنا مقصود ہے تو پھر یہ سوال لازمی طور پر اٹھتا ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر بڑی اور مرکزی جامعات لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور فیصل آباد جیسے شہروں میں واقع ہیں، جہاں ایک ہی شہر میں متعدد یونیورسٹیاں اور ایک جیسے شعبہ جات موجود ہیں۔ پھر یہ پالیسی وہاں کیوں لاگو نہیں کی جاتی؟ صرف ملتان اور جنوبی پنجاب کو ہی اس تجرباتی پالیسی کا مرکز کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ غیر مساوی رویہ نہ صرف پالیسی کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ علاقائی انصاف کے تصور کو بھی مجروح کرتا ہے۔

ویٹرنری سائنسز، ایگری کلچر، فوڈ سائنسز اور انجینئرنگ کے شعبے الگ ادارے نہیں بلکہ یونیورسٹی کے مربوط تعلیمی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ ان کی علیحدگی سے نہ صرف انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی بلکہ ہزاروں طلبہ اور اساتذہ کے تعلیمی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

جنوبی پنجاب کے عوام کی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے گہری جذباتی اور علمی وابستگی ہے۔ یہ ادارہ ہمیشہ کم آمدنی والے طلبہ کے لیے امید کی کرن رہا ہے، یہاں صرف ڈگریاں حاصل نہیں ہوتیں بلکہ نسلوں کے خواب پروان چڑھتے ہیں۔ اس کے ہر دروازے، ہر کلاس روم اور ہر کوریڈور کے ساتھ کسی نہ کسی خاندان کی قربانی اور امید جڑی ہوئی ہے۔
اگر مقصد واقعی تعلیمی بہتری ہے تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگری کلچر اور محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ابھی تک مکمل طور پر خود کفیل اور مؤثر ادارے کیوں نہیں بن سکے۔

مضبوط جامعات کو کمزور کر کے نئی جامعات کو مصنوعی طور پر سہارا دینا اعلیٰ تعلیم کے ساتھ انصاف نہیں۔

تاریخ میں ایسے کئی تجربات ناکام ثابت ہوئے ہیں جہاں اداروں کو تقسیم کر کے مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی، مگر نتیجہ کمزوری، مالی دباؤ اور علمی زوال کی صورت میں نکلا۔

اگر نئی جامعات اپنی کارکردگی بہتر نہیں کر پا رہیں تو اس کی بنیادی ذمہ داری ان کے اپنے نظامِ حکمرانی، تعلیمی وژن، مالی نظم و نسق اور فیکلٹی کی صلاحیت پر عائد ہوتی ہے۔ کسی بھی ادارے کی ناکامی کو دوسرے مضبوط اور تاریخی ادارے کی قربانی سے چھپانا نہ تو منصفانہ ہے اور نہ ہی تعلیمی اصولوں کے مطابق۔

اگر کوئی ادارہ مسلسل کارکردگی میں پیچھے رہ رہا ہو تو اسے وقتی سیاسی یا انتظامی فیصلوں سے سہارا دینا ایک خطرناک روایت کو جنم دیتا ہے، جس سے پورا تعلیمی نظام غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا اگر نئی جامعات اپنے قیام کے مقاصد کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں تو ان کے پورے ماڈل، گورننس اسٹرکچر اور تعلیمی پالیسی پر غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ نظرِ ثانی ضروری ہے، نہ کہ ایک قائم شدہ اور مستحکم جامعہ کو کمزور کر کے ان کی مدد کی جائے۔

یہ وقت جذباتی فیصلوں کا نہیں بلکہ دانشمندانہ، شواہد پر مبنی اور طویل المدتی سوچ کا ہے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ صرف آج کے تعلیمی منظرنامے کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ آنے والی کئی دہائیوں تک اس کے منفی اثرات برقرار رہیں گے۔ تعلیمی پالیسیاں وقتی سیاسی دباؤ، انتظامی سہولت یا محدود نقطہ نظر کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مفاد، تحقیقی تقاضوں اور ادارہ جاتی استحکام کو مدنظر رکھ کر بننی چاہئیں۔ جب فیصلے بغیر وسیع مشاورت، ماہرین کی رائے اور زمینی حقائق کو سمجھے بغیر کیے جاتے ہیں تو وہ اصلاح کے بجائے مسائل کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ جامعات محض انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ علمی تسلسل، تحقیق، اور سماجی ترقی کے مراکز ہیں، اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ پورے نظامِ تعلیم کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر فیصلہ عجلت کے بجائے غور و فکر، اتفاقِ رائے اور قومی تعلیمی وژن کے تحت کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار تعلیمی نظام فراہم کیا جا سکے۔

آج کا نوجوان پہلے ہی بے روزگاری، مہنگائی اور عدم تحفظ کے شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے میں اگر تعلیمی اداروں کو بھی تجربہ گاہ بنا دیا جائے تو یہ نوجوانوں کے ساتھ ایک خاموش اور دیرپا ظلم ہوگا، جس کے اثرات آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔

اگر کوئی ادارہ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو تو اس کا حل یہ نہیں کہ ایک مضبوط اور تاریخی جامعہ کو کمزور کر کے اسے سہارا دیا جائے، بلکہ اصل ضرورت اس کے اپنے نظامِ حکمرانی، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، تحقیقاتی ڈھانچے اور مالی نظم و نسق کو بہتر بنانے کی ہے۔

یہ لمحہ صرف پالیسی کا نہیں بلکہ ضمیر کا بھی ہے۔ فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں کس حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے—تعمیر کرنے والوں کے طور پر یا بربادی کی بنیاد رکھنے والوں کے طور پر۔ ادارے وقتی حکومتوں کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ قوم کی اجتماعی امانت ہوتے ہیں۔

یہ وقت جذباتی فیصلوں کا نہیں بلکہ دانشمندانہ سوچ کا ہے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ صرف آج کو نہیں بلکہ آنے والی کئی دہائیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اگر محمد نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی ملتان اور محمد نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان اس وقت عملی طور پر قابلِ عمل نہیں ہیں اور اپنے مقاصد پورے نہیں کر رہیں تو ان کے پورے ماڈل پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔

اگر کوئی ادارہ بار بار اپنی بنیادوں کے باوجود مؤثر ثابت نہ ہو تو اسے مصنوعی سہارا دینے کے بجائے اس کی حقیقی ضرورت اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے۔
اور اگر حقیقت یہی ہو کہ یہ ادارے نہ قابلِ عمل رہیں اور نہ ہی اپنے مقاصد پورے کر رہے ہوں تو پھر ان کو بند کرنے کے فیصلے پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، کیونکہ کمزور اداروں کو زندہ رکھنے کے لیے مضبوط اداروں کو قربان کرنا کسی بھی طور پر دانشمندانہ پالیسی نہیں ہو سکتی۔

ڈاکٹر علمدار حسین ملک
مشیر
ویٹرنری سائنسز
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، سوات
سابق
مالیاتی مشیر
وزارتِ خزانہ
حکومتِ پاکستان

چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کی 13ویں سنڈیکیٹ میٹنگ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طارق جاوی...
23/05/2026

چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کی 13ویں سنڈیکیٹ میٹنگ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طارق جاوید کی زیرِ صدارت منعقد
بہاولپور: چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کی 13ویں سنڈیکیٹ میٹنگ 22 مئی 2026 کو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طارق جاوید کی زیرِ صدارت کامیابی سے منعقد ہوئی۔ اجلاس میں جامعہ کی تعلیمی بہتری، ادارہ جاتی ترقی، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور مستقبل کی حکمتِ عملی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سنڈیکیٹ کے معزز اراکین اور اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں سیکرٹری حکومتِ پنجاب کے نامزد نمائندے مسٹر علی عثمان بخاری، سابق ڈائریکٹر سالٹ سیلینٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پنڈی بھٹیاں مسٹر قیصر جاوید، ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد منصور، اور رکن صوبائی اسمبلی پی پی 247 مسٹر خالد محمود ججہ شامل تھے۔
جامعہ کی نمائندگی پروفیسر ڈاکٹر فیض الحسن، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر قدرت اللہ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حامد مجید اور لیکچرر ساجد نے کی۔
اجلاس میں آن لائن بھی نامور وائس چانسلرز اور سینئر تعلیمی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ڈپٹی سیکرٹری سمیت دیگر سینئر سرکاری افسران اور معزز اراکین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران تعلیمی پیش رفت، انتظامی امور، مالی منصوبہ بندی، کوالٹی انہانسمنٹ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور تحقیقی اقدامات سے متعلق اہم نکات پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے جامعہ کے تعلیمی و تحقیقی ماحول کو مزید مضبوط بنانے اور ویٹرنری و متعلقہ علوم میں معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔
سنڈیکیٹ اراکین نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طارق جاوید کی قیادت، وژن اور جامعہ کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی کے معیار کو مزید بلند کیا جائے گا۔
ترجمان:
ڈاکٹر عبدالخالق
پبلک ریلیشنز آفیسر، CUVAS بہاولپور

ایچ ایف آئی پی کے سابق انٹرن ڈاکٹر حارث علی رمضان کی کامیابی کی کہانیلاہور: ہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (HFIP) کے ...
23/05/2026

ایچ ایف آئی پی کے سابق انٹرن ڈاکٹر حارث علی رمضان کی کامیابی کی کہانی
لاہور: ہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (HFIP) کے سابق انٹرن ڈاکٹر حارث علی رمضان کی پیشہ ورانہ کامیابی کو ادارے کی ایک نمایاں Alumni Success Story کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر حارث علی رمضان نے 2008 سے 2013 کے دوران یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور (UVAS) سے ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM) کی ڈگری مکمل کی۔ ان کے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ہوبارا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان میں فائنل ایئر انٹرن شپ سے ہوا، جس نے ان کے کیریئر، اعتماد اور پیشہ ورانہ سوچ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
ایچ ایف آئی پی میں انٹرن شپ کے دوران ڈاکٹر حارث کو فیلڈ آپریشنز، وائلڈ لائف مینجمنٹ، ویٹرنری ہینڈلنگ، ٹیم ورک، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے حوالے سے عملی تربیت حاصل ہوئی۔ ایک چیلنجنگ فیلڈ ماحول میں کام کرنے سے انہیں ویٹرنری پریکٹس میں لگن، ذمہ داری اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی اہمیت کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
ادارے کے رہنمائی پر مبنی ماحول اور سینئرز کی سرپرستی نے ان کی کمیونیکیشن اسکلز کو بہتر بنایا اور مستقبل میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے ان کی پیشہ ورانہ سوچ کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
انٹرن شپ مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر حارث علی رمضان نے غازی برادرز سے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز بطور ٹی ایس او کیا۔ محنت، مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ کمٹمنٹ کے باعث وہ ایس ٹی ایس او اور بعد ازاں ٹی ایم کے عہدوں تک پہنچے۔ ان کی مسلسل کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں نے ویٹرنری فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں ان کے لیے مزید مواقع پیدا کیے۔
بعد ازاں ڈاکٹر حارث نے صنام فارما میں بطور ایریا سیلز مینیجر شمولیت اختیار کی۔ بہترین فیلڈ کارکردگی، ٹیم مینجمنٹ اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ میں نمایاں خدمات کے باعث انہیں ریجنل سیلز مینیجر سینٹرل پنجاب کے عہدے پر ترقی دی گئی، جہاں وہ اس وقت خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اپنے موجودہ کردار میں ڈاکٹر حارث ویٹرنری فارماسیوٹیکل مارکیٹنگ، ٹیم مینجمنٹ، کسٹمر ریلیشن شپ ڈویلپمنٹ اور سینٹرل پنجاب میں لائیوسٹاک و ویٹرنری سیکٹر کی معاونت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر حارث علی رمضان کے مطابق ایچ ایف آئی پی میں گزارا گیا وقت ان کے پیشہ ورانہ سفر کی بنیاد ثابت ہوا۔ ادارے نے نہ صرف انہیں تکنیکی تربیت اور فیلڈ ایکسپوژر فراہم کیا بلکہ ان میں اعتماد، قائدانہ صلاحیتیں اور مضبوط پیشہ ورانہ رویہ بھی پیدا کیا، جو آج تک ان کے کیریئر میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے ایچ ایف آئی پی کی پوری ٹیم، اساتذہ، مینٹورز اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ان کے پیشہ ورانہ سفر کا ایک اہم باب ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کی کامیابی کی یہ کہانی نوجوان ویٹرنری گریجویٹس کے لیے سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنے شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانے کا ذریعہ بنے۔

چولستان میں گوشت کی ایکسپورٹ اور صحرائی معیشت کے امکانات کا جائزہلاہور/چولستان، 23 مئی 2026:گو فوڈز لمیٹڈ پاکستان کے ہیڈ...
23/05/2026

چولستان میں گوشت کی ایکسپورٹ اور صحرائی معیشت کے امکانات کا جائزہ
لاہور/چولستان، 23 مئی 2026:
گو فوڈز لمیٹڈ پاکستان کے ہیڈ آف میٹ پروسیسنگ و ایکسپورٹ، نوید اقبال نے چولستان کے حالیہ دورے کے بعد صحرائی معیشت، مویشیوں کی گلہ بانی، مقامی نسلوں اور سرخ گوشت کی بین الاقوامی مارکیٹ میں امکانات کو پاکستان کے لیے ایک اہم کاروباری موقع قرار دیا ہے۔
نوید اقبال کے مطابق، جمعرات کے روز چولستان کے تقریباً 10 گھنٹے طویل صحرائی سفر نے اس خطے کی معاشی، ثقافتی اور لائیوسٹاک اہمیت کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد چولستان میں گو فوڈز لمیٹڈ کے لیے تجارتی امکانات، خاص طور پر سرخ گوشت، مقامی مویشیوں اور صحرائی لائیوسٹاک برانڈنگ کا جائزہ لینا تھا۔
وفد لاہور سے بدھ کی شام محترم عامر خواص خان نیازی کی قیادت میں روانہ ہوا۔ ایلیٹ انجینئرنگ سے انجینئر عابد حسین بھی ہمراہ تھے۔ وفد رات گئے بہاولپور پہنچا، جہاں سے اگلی صبح ڈاکٹر عدیل کی رہنمائی میں چولستان کے سفر کا آغاز کیا گیا۔
نوید اقبال نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے پانچ قدرتی صحرا عطا کیے ہیں، جن میں پنجاب کا صحرائے چولستان، جسے روہی بھی کہا جاتا ہے، خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ چولستان کا کل رقبہ تقریباً 66 لاکھ 55 ہزار ایکڑ، یعنی 26 ہزار 300 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس خطے کی زندگی صدیوں سے مویشیوں کی گلہ بانی کے گرد گھومتی ہے، اور یہی شعبہ مستقبل میں پاکستان کے لیے بڑی معاشی قدر پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحرائی معیشت، صحرائی زراعت اور صحرائی بود و باش کی اپنی منفرد شناخت ہوتی ہے، جو وہاں کی آب و ہوا، پانی کی دستیابی، موسموں اور مقامی وسائل سے جڑی ہوتی ہے۔ چولستان میں پلے بڑھے مویشی قدرتی ماحول، سخت موسمی حالات اور روایتی گلہ بانی کے نظام کا حصہ ہیں، اس لیے ان کی الگ شناخت کو عالمی سطح پر برانڈ کیا جا سکتا ہے۔
نوید اقبال کے مطابق، روہی چولستان میں پلے بڑھے مویشیوں کو عالمی سطح پر ایک منفرد برانڈ کے طور پر متعارف کروانا سرخ گوشت کی بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر قیمت حاصل کرنے کی مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل، ماحول اور مقامی لائیوسٹاک سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ کاروباری ماڈل ہی پائیدار اور بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔
دورے کے دوران پانی کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوئی۔ نوید اقبال نے ہوا سے پانی کشید کرنے کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں یہ خیال غیر روایتی محسوس ہوا، مگر بعد ازاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی پر سنجیدہ کام ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، چولستان جیسے خشک علاقوں کے لیے مستقبل میں پانی کے متبادل اور جدید حل انتہائی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
چولستان کی سماجی و ثقافتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس خطے میں بلوچ، راجپوت، جاٹ اور ہندو برادریوں سمیت تقریباً 100 مستقل اور خانہ بدوش قبائل آباد ہیں۔ یہ خطہ نہ صرف لائیوسٹاک اور صحرائی معیشت کے حوالے سے اہم ہے بلکہ ثقافت، صوفیانہ روایت اور لوک موسیقی کے حوالے سے بھی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معروف صوفی بزرگ اور شاعر خواجہ غلام فرید نے روہی کے صحراؤں میں طویل عرصہ ریاضت کی، جبکہ ان کی شاعری نے چولستان کی خوبصورتی، ثقافت اور صوفیانہ فلسفے کو امر کر دیا۔ فقیر بھگت اور موہن بھگت کی آواز کو بھی چولستانی ثقافت کا زندہ حوالہ قرار دیا گیا۔
نوید اقبال نے اپنے مشاہدات کو ایک فکری تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے قدرتی وسائل کو سمجھنے، محفوظ کرنے اور ان کے مطابق کاروباری حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان میں زرخیز زمینوں پر بے ہنگم شہری آبادی، پہاڑوں کی کٹائی، دریاؤں کے پانی کا ضیاع، صحراؤں کو غیر فطری انداز میں بدلنے اور مقامی نسلوں کی شناخت مٹانے جیسے رویوں پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چولستانی گائے اور مقامی مویشیوں کی اصل شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں عالمی معیار کے گوشت، لائیوسٹاک برانڈنگ اور ایکسپورٹ ویلیو چین کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی راستہ پاکستان کو سرخ گوشت کی عالمی منڈی میں بہتر مقام دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔
تحریر و مشاہدات: نوید اقبال، ہیڈ آف میٹ پروسیسنگ و ایکسپورٹ، گو فوڈز لمیٹڈ پاکستان
پیشکش: دی ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز

آغا خان یونیورسٹی میں رسک بیسڈ کلینیکل ٹرائلز کے موضوع پر دو روزہ سمپوزیم کا انعقادکلینیکل ٹرائلز یونٹ، آغا خان یونیورسٹ...
23/05/2026

آغا خان یونیورسٹی میں رسک بیسڈ کلینیکل ٹرائلز کے موضوع پر دو روزہ سمپوزیم کا انعقاد
کلینیکل ٹرائلز یونٹ، آغا خان یونیورسٹی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے اشتراک سے “Risk-Based Strategies Across the Clinical Trial Ecosystem” کے عنوان سے دو روزہ سمپوزیم کا کامیاب انعقاد کیا۔ یہ سمپوزیم 15 اور 16 مئی 2026 کو منعقد ہوا۔
سمپوزیم کا مقصد کلینیکل ٹرائلز میں رسک بیسڈ اپروچز کے عملی نفاذ کو فروغ دینا، متعلقہ ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، اور پروایکٹو مانیٹرنگ، کوالٹی پر مبنی عملی طریقہ کار اور جدید ریگولیٹری نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
تقریب میں ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ اور ڈاکٹر اختر عباس نے خصوصی شرکت کی۔
اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر عبیداللہ نے آغا خان یونیورسٹی کے کلینیکل ٹرائلز یونٹ کو WHO Collaborating Centre for Clinical Trials کا اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈریپ پاکستان میں ایک ایسا مضبوط نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کو معاونت فراہم کرے، جدت کو فروغ دے، تعاون کو مضبوط بنائے اور اخلاقی بنیادوں پر معیاری کلینیکل ریسرچ کو آگے بڑھائے۔
یہ سمپوزیم پاکستان میں اعلیٰ معیار کے، اخلاقی اور رسک بیسڈ کلینیکل ٹرائلز کے فروغ کے لیے علم کے تبادلے اور مشترکہ عزم کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔
ہیش ٹیگز:

Address

392 A Samanabad
Faisalabad
38070

Opening Hours

Monday 09:00 - 00:00
Tuesday 09:00 - 00:00
Wednesday 09:00 - 00:00
Thursday 09:00 - 00:00

Telephone

+92412665352

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Vet News & Views posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share