Bilot Birds

Bilot Birds pet service in Pakistan

31/03/2025
09/04/2024

تمام اہل اسلام کو عید الفطر کا چاند 🌙 بہت بہت مبارک ہو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میری طرف سے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو عید الاضحیٰ مبارک
10/07/2022

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میری طرف سے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو عید الاضحیٰ مبارک

Eid Mubarak to All Muslim Brothers and Sisters
21/07/2021

Eid Mubarak to All Muslim Brothers and Sisters

Eid mubarak
13/05/2021

Eid mubarak

پاکستان میں پائے جانے والے طوطےParrots of Pakistanتحریر: ڈاکٹر نثار احمد طوطوں کا تعلق پرندوں کے آرڈر Psittaciformes ہے۔...
22/10/2020

پاکستان میں پائے جانے والے طوطے
Parrots of Pakistan
تحریر: ڈاکٹر نثار احمد
طوطوں کا تعلق پرندوں کے آرڈر Psittaciformes ہے۔ اس گروپ میں طوطے، پیراکیٹ طوطے، کاکوٹو، کاکٹیل، بجریگر، لو برڈز، کونیورز اور بہت سی دوسری انواع کے طوطے پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں طوطوں کی 350 سے زائد انواع پائی جاتی ہیں۔
پاکستان میں جنگلی طوطوں کی 4 انواع پائی جاتی ہیں۔ جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ انڈین رنگ نیک طوطا
2۔ سکندری طوطا
3۔ جامنی سر والا طوطا
4۔ سرمئی سر والا طوطا
ذیل میں ان طوطوں کے بارے میں مختصر معلومات دی گئی ہے۔
1۔ انڈین رنگ نیک طوطا
Rose-ringed Parakeet or Indian Ringneck Parakeet
(Psittacula krameri)
انڈین رنگ نیک طوطے کو اردو میں گلابی رنگ والا طوطا یا کاٹھا طوطا بھی کہتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر جنوبی ایشیاء اور افریقہ کا رہائشی طوطا ہے لیکن اب یہ دنیا کے بہت سے دیگر ممالک میں بھی پھیل چکا ہے۔ بہت سے ممالک میں ان کی آبادی بڑھ رہی ہے لیکن پاکستانی میں غیر قانونی فروخت کی وجہ سے یہ تقریبا" ناپید ہونے کے قریب ہے۔
خصوصیات
انڈین رنگ نیک طوطے میں نر اور مادہ کی بآسانی پہچان کی جاسکتی ہے۔ نر کے گلے میں گلابی ring موجود ہوتا ہے۔ مادائوں اور چھوٹے بچوں کے گلے میں یہ ring نہیں پایا جاتا۔ جنگلی طوطوں کا رنگ سبز ہوتا ہے البتہ پالتو طوطوں میں میوٹیشنز کی بدولت بہت سے نایاب رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں جن مین سرمئی، چتکبرا، نیلا، پیلا، سفید اور جامنی رنگ زیادہ ملتا ہے۔ چونچ سے لے کر دم تک ان کی لمبائی 40 سنٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ یہ ایک شور کرنے والا پرندہ ہے جو کافی اونچی آواز میں ٹیں ٹیں کرتا ہے۔ پالتو طوطوں کو بولنا بھی سکھایا جاسکتا ہے۔ یہ سبزی خور پرندہ ہے اور ہجرت نہیں کرتا۔
یہ طوطا ان طوطوں میں سے ایک ہے جو انتہائی خراب ماحول میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور الودگی کو برداشت کرکے یہ اس خراب شدہ ماحول میں بھی جینے کا ڈھنگ جانتے ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں پنجروں سے بھاگے ہوئے طوطوں نے اپنی نسل قائم کرلی ہے جن میں یورپ کے بہت سے شہر شامل ہیں۔ یہ طوطے اپنے آبائی علاقے افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے علاوہ دنیا کے بہت سے علاقوں میں رہ سکتے ہیں۔ حالانکہ دنیا بھر میں اس طوطے کو ناپیدگی کا خطرہ نہیں ہے لیکن پاکستان میں ان کی آبادی بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
خوراک
جنگلی طوطے درختوں کی کونپلیں، پھل، میوے اور بیج کھاتے ہیں۔ ان طوطوں کے جھنڈ بعض اوقات فصلوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ بھارت میں ان کی خوراک زیادہ تر اناج کے دانے ہیں۔ مصر میں یہ بہار کے موسم میں شہتوت اور گرمیوں میں کھجور پر گزارہ کرتے ہیں۔
پالتو طوطے کچھ بھی کھا لیتے ہیں یعنی بہت سی اقسام کے بیج اور پھل یہ بآسانی کھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ روٹی بھی کھا لیتے ہیں۔
تولید
یہ طوطے ستمبر سے لے کر دسمبر تک جوڑے بناتے ہیں۔ یہ زندگی بھر کیلئے جوڑا نہیں بناتے بلکہ اکثر اوقات اگلے سیزن میں اپنا پارٹنر تبدیل کرلیتے ہیں۔ یہ دسمبر کے بعد انڈے دیتے ہیں۔ اپریل سے جون تک اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ بچے مون سون سے قبل گھونسلہ چھوڑ دیتے ہیں۔
پالتو طوطے
یہ گھروں اور فارموں میں پالا جانے والا ایک عام طوطا ہے۔ قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں میں بھی اس کے پالنے کے ثبوت ملے ہیں۔ حالیہ کچھ سالوں میں ان میں میوٹیشن کی بدولت بہت سے دیدہ زیب رنگ دیکھنے کو ملے ہیں۔ نر اور مادہ دونوں انسانوں کی آوازوں کی نقل اتارنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ ان میں بہت کچھ سیکھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
2۔ سکندری طوطا
Alexanderine Parakeet
(Psittacula eupatria)
سکندری طوطا جسے مقامی طور پر پہاڑی طوطا، کشمیری طوطا یا را طوطا بھی کہا جاتا ہے، ایک خوبصورت طوطا ہے جس کا تعلق Psittacula جینس اور Psittacidae فیملی سے ہے۔ اس طوطے کا نام سکندر اعظم کے نام پر ہے جو پہلی دفعہ ان طوطوں کو پنجاب سے یورپ لے کر گیا جہاں ان کی خوبصورتی کی وجہ سے انہیں بہت پسند کیا گیا۔
اس طوطے کا آبائی وطن جنوبی ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیاء ہے لیکن پنجروں سے آزاد ہونے والے طوطوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں بسیرا کرکے اپنی آبادی بڑھا لی ہے۔ ان ممالک میں سپین، انگلینڈ، بیلجیئم، نیدرلینڈ، ترکی، جرمنی، سعودی عرب، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، ایران اور ہانگ کانگ وغیرہ شامل ہیں۔
خصوصیات
سکندری طوطا پاکستان میں پائے جانے والے جنگلی طوطوں میں سب سے بڑا طوطا ہے۔ اس کی چونچ سے دم تک کی لمبائی 56 سے 62 سنٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ اس کے جسم کا رنگ سبز ہوتا ہے لیکن جسم کے نیچے والے حصے میں سبز کے ساتھ ساتھ پیلے رنگ کی آمیزش ہوتی ہے۔ اس کے دونوں کندھوں پر میرون سرخ رنگ کا بڑا سا دھبہ ہوتا ہے۔ نروں کے گلے میں میرون سرخ رنگ کا ring ہوتا ہے جو مادائوں یا چھوٹے بچوں میں نہیں پایا جاتا۔
کہاں رہتا ہے؟
سکندری طوطا عام جنگلوں، کھیتوں اور مانگروو کے جنگلوں میں رہنا پسند کرتا ہے۔ یہ بہت سے جنگلی اور اگائے گئے بیج اور پھل کھاتا ہے۔ اس کے جھنڈ باغات اور تیار فصلوں کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ عام طور پر ان کے جھنڈ چھوٹے ہوتے ہیں لیکن جہاں خوراک بکثرت ہو وہاں یہ بڑے جھنڈ بھی بنا لیتے ہیں۔
یہ مختلف آوازیں نکالتے ہیں۔ پالتو سکندری طوطے انسانوں کی آوازوں کی بخوبی نقل اتار سکتے ہیں۔
تولید
سکندری طوطا اپنے اصل رہائشی علاقوں میں نومبر سے اپریل تک بریڈ کرتا ہے۔ یہ کھوکھلے درختوں، درختوں کے سوراخوں اور عمارتوں میں موجود سوراخوں میں گھونسلہ بنا سکتے ہیں۔ مادائیں 2 سے 4 سفید رنگ کے انڈے دیتی ہیں۔ انڈوں سے 24 دنوں میں بچے نکل آتے ہیں۔ 7 ہفتوں میں بچوں کے پر نکل آتے ہیں لیکن بچے 3 سے 4 مہینے اپنے والدین پر خوراک کیلئے انحصار کرتے ہیں۔
پالتو طوطے
سکندری طوطا گھروں میں پالا جانے والا ایک مقبول طوطا ہے کیونکہ اس کی عمر کافی لمبی ہوتی ہے اور یہ انسانی آوازوں کی بخوبی نقل اتار سکتا ہے۔ سکندر اعظم کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے یہ والا طوطا پال رکھا تھا۔ یہ پرندوں کی مارکیٹ میں ایک عام پایا جانے والا پرندہ ہے۔
تحفظ
آئی یو سی این کے مطابق سکندری طوطے عنقریب خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی مانگ پرندوں کی مارکیٹ میں بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں ان کے ایک جوڑے کی قیمت 60 ہزار تک ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ طوطا پاکستان سے تقریبا" ناپید ہوچکا ہے۔ بھارت میں ان کی خریدوفروخت پر ہر قسم کی پابندی ہے اسلئے بھارت میں ان کی زیادہ تعداد پائی جاتی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں یہ پاکستان میں سب سے زیادہ تیزی سے ختم ہوا ہے۔
پاکستان میں بھی سکندری طوطے کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے لیکن آپ کو یہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کی پرندہ مارکیٹوں میں کھلے عام بکتا ہوا ملے گا۔ بھارت میں بھی قانونی پابندی کیلے باوجود ان کی غیر قانونی خرید وفروخت ہوتی ہے۔
3۔ جامنی سر والا طوطا
Plum-headed Parakeet
(Psittacula cyanocephala)
جامنی سر والا طوطا ایک خوبصورت طوطا ہے جس کا تعلق Psittacula جینس اور Psittacidae فیملی سے ہے۔ یہ طوطا صرف برصغیر میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ طوطا جنگلوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جامنی سر والے طوطوں میں نروں کا سر جامنی جبکہ مادائیں سرمئی سر والی ہوتی ہیں۔
خصوصیات
جامنی سر والے طوطے کا سر کے علاوہ تمام بدن سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ نروں کے سر کا رنگ جامنی جبکہ مادائوں کے سروں کا رنگ سرمئی ہوتا ہے۔ ان کے پروں پر میرون سرخ رنگ کا دھبہ بھی پایا جاتا ہے۔ سر سے لے کر دم تک ان کی لمبائی 33 سنٹی میٹر تک ہوسکتی ہے۔
کہاں پایا جاتا ہے؟
جامنی سر والا طوطا جنگلوں میں رہنا پسند کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شہروں میں موجود باغات میں بھی نظر آسکتا ہے۔ یہ کوہ ہمالیہ کے دامن سے لے کر سری لنکا کے جنوب تک پایا جاتا ہے۔ ان کو پالتو پرندوں کے طور پر بھی پالا جاتا ہے۔ پنجروں سے آزاد ہونے والے طوطوں نے نیویارک، فلوریڈا اور مشرقی وسطی' کے کچھ علاقوں میں اپنی آبادیاں قائم کرلی ہیں۔
برتائو اور تولید
جامنی سر والے طوطے گروہ میں رہتے ہیں اور بہت شور مچاتے ہیں۔ یہ بیج، پھل اور پھول شوق سے کھاتے ہیں۔
بھارت اور پاکستان میں اس کا بریڈنگ کا موسم دسمبر سے اپریل تک ہوتا ہے البتہ سری لنکا میں یہ جولائی اور اگست میں بریڈ کرتا ہے۔ یہ درختوں کے کھوکھلے تنوں اور سوراخوں میں گھونسلہ بناتے ہیں۔ مادائیں 4 سے 6 سفید رنگ کے انڈے دیتی ہیں۔ صرف مادائیں انڈوں پر بیٹھتی ہیں اور بچوں کو خوراک بھی صرف مادائیں کھلاتی ہیں۔ یہ رات کو گروہ کی شکل میں کسی درخت پر بیٹھتے ہیں۔
پالتو پرندے
جامنی سر والے طوطے گھروں میں پالتو پرندے اور تجارتی مقاصد کیلئے بھی پالے جاتے ہیں۔ یہ کچھ انسانی آوازوں کی نقل بھی اتار سکتے ہیں۔ پنجروں میں پالنے کیلئے لوگ اکثر جنگلی طوطوں کو پکرتے ہیں جس سے ان کی آبادی کافی کم ہوگئی ہے۔ پاکستان میں کاٹھے طوطے اور سکندری طوطے کی طرح ان کی آبادی بھی تیزی سے ختم ہورہی ہے۔
4۔ سرمئی سر والا طوطا
Slaty-headed Parakeet
(Psittacula himalayana)
سرمئی سر والے طوطے کا تعلق بھی Psittacula جینس اور Psittacidae فیملی سے ہے۔ یہ طوطا مغربی کوہ ہمالیہ میں پاکستان سے لے کر بھارت، نیپال اور بھوٹان سے ہوتا ہوا مشرقی کوہ ہمالیہ میں بھارت کی ریاست اروناچل پردیش تک پایا جاتا ہے۔ یہ سردیوں میں کوہ ہمالیہ کے نچلے علاقوں میں اتر آتے ہیں۔
خصوصیات
سرمئی سر والے طوطوں کا تمام جسم سبز ہوتا ہے۔ نر اور مادہ دونوں کا سر گاڑھا سرمئی ہوتا ہے۔ نروں کے پروں کے اندر میرون سرخ رنگ کا دھبہ ہوتا ہے جو مادائوں کے پروں کے اندر نہیں ہوتا۔ دم شروع میں سبز، درمیان سے نیلی اور آخر سے پیلی ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں ہلکے پیلے رنگ کی ہوتی ہیں۔
پھیلائو
سرمئی سر والے طوطے کی رینج کافی زیادہ ہے۔ یہ تقریبا" تمام کوہ ہمالیہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ طوطا مغربی بھوٹان اور نیپال کے علاوہ بھارتی ریاستوں اروناچل پردیش، سکم، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں پایا جاتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی یہ عام ملتا ہے۔ پاکستان میں یہ اسلام آباد اور قبائلی علاقہ جات میں اکثر نظر آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ طوطا افغانستان میں کابل، لوگر، ننگرہار اور پکتیا کے صوبوں میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ایکولوجی اور برتائو
اس طوطے کی قدرتی رہائش گاہ سطح سمندر سے 460 سے لے کر 2400 میٹر تک بلند علاقوں کے جنگلات ہیں۔ یہ اکثر اوقات چھوٹے جھنڈ کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ ان کی خوراک میں بہت سے پھل، بیج، پھلوں کا رس اور ایکورن وغیرہ شامل ہیں۔ برسات کے اواخر میں یہ نسبتا" بڑے جھنڈوں میں نظر آتے ہیں کیونکہ ان کو سردیاں گزارنے کیلئے کم اونچے علاقوں کی طرف جانا ہوتا ہے۔ یہ اکثر اوقات دوسرے طوطوں جیسا کہ کاٹھے طوطوں اور جامنی سر والے طوطوں کے ساتھ اکھٹے بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
تولید
مادائیں عام طور پر 4 سے 5 سفید رنگ کے انڈے دیتی ہیں۔ انڈوں سے 23 سے 24 دنوں میں بچے نکل آتے ہیں۔ یہ عام طور پر مارچ سے مئی تک بریڈ کرتے ہیں۔ ان کی طبعی عمر 15 سے 17 سال تک ہوسکتی ہے۔

عاشورہ کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟ اس کا کتنا ثواب ہے؟کیا نبی کرےم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے ؟
29/08/2020

عاشورہ کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟ اس کا کتنا ثواب ہے؟
کیا نبی کرےم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے ؟

is Video me aap jaan saken ge: 10 muharram ka roza Rakhna Kaisa hy aur is ki kia Fazilat hy? agar na rakhen to Gunah to nahi hoga? Kia Nabi Kareem Sallallah ...

ہر مسئلے کا حل صرف اس ایک منٹ کے مختصر سے عمل میں۔اگر آپ کو کوئی بیماری، پریشانی یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہے یا آپ کی کوئ...
14/08/2020

ہر مسئلے کا حل صرف اس ایک منٹ کے مختصر سے عمل میں۔
اگر آپ کو کوئی بیماری، پریشانی یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہے یا آپ کی کوئی ایسی حاجت ہے جو پوری نہیں ہوپا رہی ہے، تو ایک مرتبہ یہ عمل ضرور کریں۔ پیر صاحب کی طرف سے کامیابی کی گارنٹی ہے۔

Agar aap ko koi Bimari hy, Pareshani hy ya Aap ki koi Hajat Poori Nahi hoti to aap only 1 minute ka yeh amal Lazmi karen, Aap ki tamaam bimarian aur Pareshan...

https://youtu.be/iJImffXUj4IAssalam o Alaikum!meri taraf se tamaam muslim bhaion aur behnon ko Eid-ul-Adha mubarak ho......
01/08/2020

https://youtu.be/iJImffXUj4I

Assalam o Alaikum!
meri taraf se tamaam muslim bhaion aur behnon ko Eid-ul-Adha mubarak ho...

Aap se request hy k eid ki khushi me apney fot shudah behn bhaion ko bhi Shareek karen, yeh mukhtasar sa Amal kar k unhen bhi Tahaaif aur eidi bhejen...
for more info please watch this video...

eid k din yeh amal karen aur apney fot shudah logon ko sawab, eedi aur taha'aif pahunchaeyn...bahut ziyada sawab kamaeyn... eid k din ka khaas amal, eid ka w...

9 Zil Hajj Ka 1 Khaas Amal... agar ho sakey to yeh amal Khud bhi zaroor karen aur doosron k saath share bhi karen
31/07/2020

9 Zil Hajj Ka 1 Khaas Amal... agar ho sakey to yeh amal Khud bhi zaroor karen aur doosron k saath share bhi karen

Hajj k din yeh amal karen aur har hajat , har muraad paeyn... Hajj k din ka khaas amal, Hajj ka wazifa... ...

Address

Bilot Sharif
Dera Ismail Khan

Telephone

+923332777924

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bilot Birds posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category