Bukhari birds Zone And Tips

Bukhari birds Zone And Tips ہمارے ہاں ہر پرندے اور جانوروں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے

https://youtu.be/MrfTdIEz86Q
06/02/2021

https://youtu.be/MrfTdIEz86Q

تیتروں کبوتروں اور طوطوں کی بریڈنگ اور دیگر بیماریوں کو سمجھنے کے لیے ہمارے ساتھ رابطہ کریں03483442416

18/12/2020



چنا دنیا کے قدیم ترین اناجوں میں سے ایک ہے۔ چنادالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دو اقسام میں پایا جاتا ہے۔کالااور سفید۔ دونوں ہی قسمیں حیاتین (وٹامنز) اور معدنیات (منرلز) سے بھرپور ہوتی ہیں۔
تاریخ کے مطابق جب مغل شہنشاہ شاہ جہاں گرفتار ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ کھانے کے لیے صرف ایک اناج منتخب کرلیں تو انھوں نے چنے کو منتخب کیا۔ کیوں کہ چنا توانائی بخش غذا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اناج ہے، جس سےبہت سے پکوان تیارکیے جاسکتے ہیں۔
#ہسٹری
تاریخ کے مطابق چنوں کی کاشت برصغیر سے شروع ہوئی۔ ایشیاء اور یورپ میں چنے 10 ہزار سے زائد برسوں سے کاشت کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین ارضیات کا دعویٰ ہے کہ بحیرہ روم، فارس، افغانستان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں چنے ہی سب سے اولین چیز تھی جسے ان خطوں میں کاشت کیا گیا۔
چنے کا پانی یا شوربا‘ پیشاب آور اور قبض کشا ہے۔ چنا خون کو صاف کرتا ہے اور اس کے کھانے سے چہرے کا رنگ نکھرتا ہے بدن کو گندے اور فاسد مادوں سے پاک کرتا ہے۔ پھیپھڑوں کیلئے مفید غذا ہے۔ گردے کے سدے کھولتا ہے اس کے کھانے سے بدن فربہ ہوجاتا ہے
قدیم اطباءنے چنے کو بے حد مقوی قرار دیا ہے اس سے بدن میں صالح خون پیدا ہوتا ہے بدن میں خاص قوت کو بڑھاتا ہے۔ مغرب کی جدید تحقیقات نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اناج میں سب سے زیادہ مقوی غذا چنا ہے ایک چھٹانک چنے میں دو سو چھ غذائی حرارے (کیلوریز) قوت ہوتی ہے۔ چنا میں حیاتین ای ہے۔ اس حیاتین کی کمی سے مردوں میں خاص طاقت کم ہوجاتی ہے اولاد نہ ہونے تک نوبت جا پہنچتی ہے۔ عورتوں میں بھی اندرونی اعضاءکمزور ہوجاتے ہیں اور حمل گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ طب یونانی اور طب جدید دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ چنا مقوی غذا ہے۔ ایک ماہر غذایات نے تو چنے کے غذائی اجزاءکو انڈے کی زردی کے برابر قرار دیا ہے۔ چنے کو انڈے کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ قدرت نے چنے کو دیگر غذائی اجزاءسے سرفراز کیا ہے اس میں 17 فیصد لحمی اجزاء(پروٹین)‘ چکنائی‘ نشاستہ دار اجزاءچونا اور فاسفورس ہے۔ فولاد کی وافر مقدار چنا میں ہے‘ حیاتین الف‘ ب‘ ای اور ایگزلک ایسڈ اور مکمل غذا ہے۔ چنا بدن کی خاص قوت کو بڑھاتا ہے۔ چنے کا پانی یا شوربا‘ پیشاب آور اور قبض کشا ہے۔ چنا خون کو صاف کرتا ہے اور اس کے کھانے سے چہرے کا رنگ نکھرتا ہے بدن کو گندے اور فاسد مادوں سے پاک کرتا ہے۔ پھیپھڑوں کیلئے مفید غذا ہے۔ گردے کے سدے کھولتا ہے اس کے کھانے سے بدن فربہ ہوجاتا ہے۔ آواز کو صاف کرتا ہے۔ غرض کہ چنا گوناگوں اوصاف کا حامل ہے۔

بیسن چنے کا آٹا ہے۔ مختلف امراض ذیابیطس‘ برص وغیرہ میں بیسن کی روٹی تجویز کرتے ہیں۔ بیسن چہرے کے ابٹن میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ابٹن سے چھائیاں اور چہرے کا رنگ گورا ہوتا ہے۔ اکثر حضرات موسم بہار میں چھولیا استعمال کرتے ہیں۔ سبزی کے طور پر پکاتے ہیں اور اس کی ہولیں بھی کھاتے ہیں۔ بعض حضرات اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ وہ خشک بونٹ کھارہے ہیں۔ فصل میں چنا کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ فصل کے جیالے باشندے چنا کو بیج کے طور پر بکھیر دیتے ہیں۔ بارش کی صورت میں وافر مقدار میں چنا زمینوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے چنا کا شمار سبزی میں بھی ہوتا ہے۔



ہمارے ہاں چنے کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں سیاہ اور سفید چنے۔ ویسے تو سرخ اور پیلے چنے بھی ہوتے ہیں طبی لحاظ سے سیاہ چنے مفید و موثر ہیں۔ چنے استعمال کرنے کے مختلف طریقے ہیں مگر سب سے بہتر چنے کا شوربا ہے۔ کالے چنے کا شوربا طبیب مریضوں کیلئے بھی تجویز کرتے ہیں۔ پکاتے وقت بار بار چنوں کو نہ ہلائیں۔

چنے کا پلاو بھی اچھی غذا ہے۔ چاول کے ساتھ پکانے سے چنے چاول کی غذائی کمی کو دور کردیتے ہیں۔ چنے کو گوشت کے ساتھ پکا کر استعمال کرتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ پکانے سے یہ گوشت کو گلا دیتا ہے چنے پکاتے وقت اس میں زیرہ ڈالیں تاکہ پیٹ میں نفخ پیدا نہ کرے۔

چنے کا حلوہ ضعف باہ کے مریضوں کو تیار کرکے کھلاتے ہیں۔ عام طور پر آلوچنے بکتے ہیں یہ ثقیل ہوتے ہیں چنے کو پانی میں ابالنے سے اس کے غذائی اجزاءپانی میں حل ہوجاتے ہیں۔ اس کو گلایا نہیں جاتا۔ پھر اس میں آلو شامل کردئیے جاتے ہیں جو ثقیل ہوتے ہیں البتہ بھنے ہوئے چنے کھاسکتے ہیں۔ دودھ چنے میں تیار کردہ حریرہ آواز کھولنے کیلئے مفید ہے۔ قدیم اور جدید غذائی تحقیق کے مطابق چنا غذائی اجزاءاور حیاتین (وٹامن) سے بھرپور ہے۔ ان خوبیوں کی بنا پر چنا نہ صرف غریبوں‘ سفید پوش طبقہ کی غذا ہے بلکہ اسے بادشاہوں کی بارگاہ میں بھی مقبولیت کا شرف حاصل ہے۔ مغل بادشاہ چنا اور اس کا آٹا استعمال کرتے تھے۔ بیسن چنے کا آٹا ہے اس سے روغنی روٹی تیار کی جاتی ہے۔ پنجابی میں اسے مسی روٹی کہتے ہیں۔ پھلبہری میں چالیس روز تک بیسن کی روٹی کھلاتے ہیں۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر بیسن کی روٹی کا بڑا شوقین تھا۔بادشاہوں کے علاوہ عوام بھی چنے کو کثر ت سے استعمال کیا کرتے تھے اور اس سے انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتے تھے۔
دکانوں اور بازاروں میں عام دسیتاب چنے بڑی مفید غذا ہے۔ اسی لیے بحیرہ روم میں ساڑھے سات ہزار سال قبل اِسے بطور اناج بویا گیا۔ یہ دنیا کے قدیم ترین اناجوں میں شامل ہے۔
چنا دالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی دو بنیادی اقسام ہیں:کالا چنا اور سفید چنا۔ دونوں وٹامن اور معدنیات سے بھرپور غذا ہیں۔ بھارت، پاکستان، ترکی، آسٹریلیا اور ایران میں چنا کثیر تعداد میں پیدا ہوتا ہے۔
چنا ایک دو نہیں کئی طبی فوائد رکھتا ہے۔ اس میں فولاد، وٹامن بی 6، میگنیشم، پوٹاشیم اور کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ فاسفورس، تانبے اور میگنیز کی بھی خامی مقدار ملتی ہے۔ چنے کے طبی فوائد درج ذیل ہیں۔

چنے میں ریشہ (فائبر) اور پروٹین کثیر مقدار میں ملتے ہیں۔ پھر اس کا گلائسیمک انڈکس بھی کم ہے۔ اسی بنا پر چنا وزن کم کرنے کے سلسلے میں بہترین غذا ہے۔ کیونکہ عموماً ایک پلیٹ چنے کھا کر آدمی سیر ہوجاتا ہے اور پھر اُسے بھوک نہیں لگتی۔
دراصل چنے کا ریشہ دیر تک آنتوں میں رہتا ہے۔ لہٰذا انسان کو بھوک نہیں لگتی۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو مرد و زن دو ماہ تک چنے کو اپنی بنیادی غذا رکھیں، وہ اپنا آٹھ پونڈ وزن کم کرلیتے ہیں۔ یاد رہے، ایک پیالی چنے عموماً پیٹ بھر دیتے ہیں۔

چنے میں ریشے کی کثیر مقدار اُسے نظام ہضم کے لیے بھی مفید بناتی ہے۔ یہ ریشہ آنتوں کے جراثیم (بیکٹریا) کو مختلف مفید تیزاب مہیا کرکے انھیں قوی بناتا ہے۔ نتیجتاً وہ آنتوں کو کمزور نہیں ہونے دیتے اور انسان قبض و دیگر تکلیف دہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
ضد تکسیدی مادوں کی فراہمی
انسانی جسم میں آزاد ا اصلیے (مضر صحت آکسیجن سالمے) مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ضد تکسیدی مادے(Antioxidants)انہی سالمات کا توڑ ہیںجو مختلف صحت بخش غذائوں میں ملتے ہیں۔ ان غذائوں میں چنا بھی شامل ہے۔ چنوں میں مختلف ضد تکسیدی مادے مثلاً مائریسٹین(Myricetin)، کیمفوریل، کیفک ایسڈ، وینلک ایسڈ اور کلوروجینک ایسڈ وغیرہ ملتے ہیں۔ ان کے باعث چنا مجموعی انسانی صحت کے لیے بہت عمدہ غذا ہے۔

جسم میں کولیسٹرول بڑھ جائے،تو امراض قلب میں مبتلا ہونے اور فالج گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چنے اپنے مفید غذائی اجزا کی بدولت فطری انداز میں کولیسٹرول کی سطحکم کرتے ہیں۔ ایک تجربے میں ماہرین نے ان مرد و زن کو ایک ماہ تک آدھی پیالی چنے کھلائے جن کے بدن میں کولیسٹرول زیادہ تھا۔ ایک ماہ بعد ان کے کولیسٹرول میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
دراصل چنے میں فولیٹ اورمیگنیشم کی خاصی مقدار ملتی ہے۔ یہ وٹامن و معدن خون کی نالیوں کو طاقتور بناتے اور انھیں نقصان پہنچانے والے تیزاب ختم کرتے ہیں۔ نیز حملہ قلب(ہارٹ اٹیک)اِمکان بھی کم ہوجاتا ہے۔

چنے میں خاطر خواہ پروٹین ملتا ہے۔ اگر اسے کسی اناج مثلاً ثابت گندم کی روٹی کے ساتھ کھایا جائے، تو انسان کو گوشت یا ڈیری مصنوعات جتنی پروٹین حاصل ہوتی ہے اور بڑا فائدہ یہ ملتا ہے کہ نباتی پروٹین زیادہ حرارے یا سیچوریٹیڈفیٹس نہیں رکھتی۔

چنے اور دیگر دالیں کھانے والے ذیابیطس قسم 2 کا شکار نہیں ہوتے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ غذائیں زیادہ ریشہ اور کم گلائسیمک انڈکس رکھتی ہیں۔ اسی باعث ان میں موجود کاربوہائیڈریٹ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث ہمارے خون میں شکر یک دم اوپر نیچے نہیں ہوتی اور متوازن رہتی ہے۔
یاد رہے، انسان جب کم ریشے والی کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھائے، تو اُس کے خون میں شکر بہت تیزی سے اوپر نیچے ہوتی ہے۔جب یہ عمل معمول بن جائے، تو انسولین نظام گڑبڑا جاتا ہے۔ یوں ذیابیطس قسم 2جنم لیتا ہے۔

چنے میں شامل فولاد، مینگنیز اور دیگر معدن و حیاتین انسانی قوت بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے چنا حاملہ خواتین اور بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے بڑی مفید غذا ہے۔ یہ انھیں بیشتر مطلوبہ غذائیت فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں چنا ساپونینز (Saponins) نامی فائٹو کیمیکل رکھتا ہے۔ یہ کیمیائی مادے ضد تکسید کا کام دیتے ہوئے خواتین کو سینے کے سرطان سے بچاتے۔ نیز ہڈیوں کی بوسیدگی کے مرض سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
چنوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اُسے کئی ماہ تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ان کی غذائیت کم نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں بھگونے کے بعد استعمال کیا جائے،تو بہتر ہے۔ یوں وہ جلد ہضم ہوجاتے ہیں۔ چنوں کو چار تا چھ گھنٹے بھگونا کافی ہے۔ بھگونے کے بعد چنے جتنی جلد استعمال کیے جائیں، بہتر ہے۔

14/12/2020

❤️🌹MashaAllah🌹❤️

27/09/2020

MashaAllah Khobsrot Tibli Teter Bndy Ka Ashiq

یقیناً وہ اَپنے اَنڈوں کو چھوڑ کر جنگل میں لگنے والی آگ سے دور بھاگ سکتی تھی لیکن کیا کرتی وہ تو مَاں تھی۔۔😢😢😢
27/09/2020

یقیناً وہ اَپنے اَنڈوں کو چھوڑ کر جنگل میں لگنے والی
آگ سے دور بھاگ سکتی تھی لیکن کیا کرتی وہ تو مَاں تھی۔۔

😢😢😢

About Black Francolin
10/09/2020

About Black Francolin

07/09/2020

تمام پرندوں کی خرید وفروخت کیلئے ہمارے ساتھ رابطہ کریں اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں

07/09/2020

شوق دا کو مول نہیں

05/09/2020

Address

Wang

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bukhari birds Zone And Tips posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share