Islamic page

Islamic page this is islamic page

24/07/2026
💔 بچپن کو کبھی درد سے نہیں ناپا جانا چاہیےسات سالہ *نجوى حجاج* غزہ میں ایک عارضی خیمے میں رہی ہے اور ایک سنگین بیماری کا...
10/07/2026

💔 بچپن کو کبھی درد سے نہیں ناپا جانا چاہیے

سات سالہ *نجوى حجاج* غزہ میں ایک عارضی خیمے میں رہی ہے اور ایک سنگین بیماری کا سامنا کر رہی ہے۔
وہ عام طور پر کھانا نہیں کھا سکتی اور زندہ رہنے کے لیے فیڈنگ ٹیوب یعنی نالی کے ذریعے خوراک پر انحصار کرتی ہے۔

طبی سامان کی شدید قلت کی وجہ سے وہ ٹیوب جو وقتاً فوقتاً تبدیل کی جانی چاہیے، تبدیل نہیں ہو پا رہی۔
اس کے نتیجے میں انفیکشن ہو گیا ہے، مسلسل درد رہتا ہے، اور معمولی سی حرکت کرنا بھی اس کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس کی ماں ہر روز اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے، اس امید کے ساتھ کہ ایک دن اسے وہ علاج مل جائے گا جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔

نجوى بیرونِ ملک میڈیکل ایویکویشن یعنی علاج کے لیے منتقلی کی منتظر ہے — تاکہ اسے وہ مخصوص علاج مل سکے جو اس وقت غزہ میں دستیاب نہیں ہے، کیونکہ وہاں کا نظامِ صحت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

ہر بچے کو شفا پانے، بڑھنے اور بغیر کسی تکلیف کے مسکرانے کا حق ہے۔

براہِ کرم نجوى جیسے بچوں کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
اس کی کہانی شیئر کریں، اس کے بارے میں بات کریں، اور انسانی و طبی تنظیموں سے مطالبہ کریں کہ ضرورت مند بچوں کو جان بچانے والا علاج میسر آ سکے۔

یہ پوسٹ انسانی ہمدردی کی آگاہی کے لیے شیئر کی گئی ہے۔
آئیے ہمدردی کو اپنا رہنما بنائیں، اور دعا کریں کہ ہر بچے کو عزت اور علاج نصیب ہو۔

اللہ نجوى اور تمام مریض بچوں کو شفا عطا فرمائے۔ آمین


فلسطین غزہ کی آواز

سویٹزرلینڈ میں مقیم محترم اسجد ضیا صاحب اپنا پرانا واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ "بھوکے کا احساس اور بھوکے کی تکلیف کو وہ...
08/07/2026

سویٹزرلینڈ میں مقیم محترم اسجد ضیا صاحب اپنا پرانا واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ
"بھوکے کا احساس اور بھوکے کی تکلیف کو وہی سمجھ سکتا ہے جس نے خود بھوک دیکھی ہوتی ہے "
پاکستان میں ان کا تعلق پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کے کسی گاؤں سے تھا جو کہ دریا کے راوی کے قریب پڑتا تھا وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والدین کے پاس صرف دو اولادیں ایک میں اور ایک میری بہن تھی میرے والد صاحب چھوٹے سے زمیندار تھے میرے والد کے چچا زاد بھائیوں نے کسی ایک درخت کی لڑائی کی وجہ سے میرے والد کو قتل کر دیا تھا
میرے اور میری بہن کا ہوش سنبھالنے سے پہلے میرے والد صاحب کی موت ہو چکی تھی والد صاحب کی وفات پا جانے کے بعد میرے قریبی رشتوں میں میری ایک پھپھو تھیں وہ خود مالی لحاظ سے اتنی مضبوط نہیں تھی کہ ہماری کوئی مدد کر سکتیں ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کوئی سہارا ہی نہیں تھا جبکہ ننھیال میں میرے تین مامو تھے دو خالائیں تھیں مگر وہ بھی مالی طور پر اتنے مستحکم نہیں تھے کہ میرے والد صاحب کے کیس کی پیروی کر سکتے یا ہمیں کوئی انصاف دلا سکتے بلکہ وہ تو ہماری کفالت تک کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں تھے

کہتے ہیں کسی کے مر جانے سے دنیا کے نظام نہیں رکتا ایک بہت مشہور مقولہ ہے کہ سانس تو لینا ہی پڑتا ہے چاہے ہواؤں میں زہر گھلا ہو اب بالکل اسی فقرے کے مصداق ہماری زندگی ہو گئی تھی ہمیں جینا بھی تھا اور زندگی بھی عذاب سے کم نہیں تھی
میری والدہ نے میرے والد صاحب کے حصے کی زمین ٹھیکے پر دے دی جو دریا کے بالکل کنارے پر تھی اور وہ کچھ ہی عرصے میں دریا برد ہو گئی ہمارے رزق کا اخری سہارا بھی جاتا رہا تو میری والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام شروع کرنا شروع کر دیا
میرے والد صاحب کے چچا زاد بھائیوں نے صلح کے نام پر ہمیں کچھ رقم دینے کا وعدہ کیا اور اسی بہانے ہم سے کچھ کاغذات پر دستخط کروائے دستخط کروانے کے بعد نا تو انہوں نے ہم سے صلح کی نہ ہی ہمارا کہیں بیان دلوایا عدالت کے سامنے اور نہ ہی ہمیں کوئی رقم دی بہت سالوں بعد جا کر ہم پر یہ عقد کھلا کے انہوں نے جن کاغذات پر سائن کروائے تھے وہ انہوں نے پٹواری اور تحصیلدار وغیرہ سے مل کر کروائے تھے اور جو ہماری زمین تھی وہ انہوں نے اپنے نام لگوا لی تھی یہاں تک کہ جس گھر میں ہم رہتے تھے وہ گھر بھی انہوں نے اپنے نام کروا لیا تھا اس بات کی خبر ہمیں تب ہوئی جب ان لوگوں نے ہمیں گھر خالی کرنے کا کہا ہمارے پاس اور کوئی سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں تھی اور ان لوگوں سے ٹکر لینا ہمارے بس کی بات نہیں تھی پھپھو ویسے خاتون تھیں وہ ہمیں سپورٹ کر نہیں سکتی تھیں اور مامو وغیرہ اتنی حیثیت نہیں رکھتے تھے کہ ان لوگوں سے ٹکر لے سکیں مجبورا ہم کو گھر خالی کرنا پڑ گیا
یوں ہم اپنا سب کچھ وہاں سے لٹا کر اپنے ابائی گاؤں کو چھوڑ کر چنیوٹ میں آ بسے مگر یہاں بھی مقدر نے ہمارا کچھ خاص ساتھ نہ دیا میری والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی اور جس گھر میں وہ کام کرتی تھی اس گھر سے چوری ہو گئی ان لوگوں نے میری والدہ کو مشکوک قرار دے دیا اب یہاں کوئی بھی نہیں تھا جو ہماری صفائی دیتا میں یوں میری والدہ کو پولیس نے پکڑ لیا ہمیں ذلیل و رسوا کیا گیا ہم سے بھاری رقم رشوت کے طور پر لی گئی اور اس کے باوجود ہمیں ازادی نہ ملی جب منت سماجت کر کے ہم نے ان لوگوں سے جان چھڑا لی تو پولیس والے بعد میں ہمیں تنگ کرتے ہیں جہاں کہیں چوری ہوتی ہے میری والدہ کو پکڑ لیتے اور کہتے تم چوریاں کرتی ہو اور کرواتی ہو تمہارا اپنا گینگ ہے یہاں تک کہ میری والدہ اتنی تنگ ا گئی کہ اس نے مجھے اور میری بہن کو زہر کھلایا اور خود بھی زہر کھا لیا کہتے ہیں جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے میری والدہ اور میری بہن کا تو ظاہر کھانے سے انتقال ہو گیا لیکن مجھے قے (الٹی)ا گئی الٹی ا جانے کی وجہ سے میرا معدہ صاف ہو گیا اور میں موت سے بچ گیا
میری بہن اور والدہ کے انتقال کے بعد میری پرورش میری پھپو نے کرنا شروع کر دی انہوں نے مجھے اپنے پاس رکھا وہ اپنے بچوں کے ساتھ میری پڑھائی افورڈ نہیں کر سکتی تھیں اس لیے انہوں نے اپنے بچوں کو سکول چھڑوا دیا اور مجھے پڑھاتی رہیں

میں نے کئی بار یہ نوٹ کیا کہ جب میری پھپھو کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا تب بھی وہ خود تو صبر شکر کر لیتی تھیں اپنی اولاد کو بھی فاقہ کروا لیتی تھیں لیکن میرے لیے وہ گاؤں کے کسی نہ کسی گھر سے کھانا مانگ کر بھی لانا پڑتا تو لاتی تھیں اور مجھے کھلاتیں میری تعلیم پر وہ مکمل توجہ دیتی میری ہر قسم کی ضرورت کا وہ خیال رکھتیں
اور میں قربان جاؤں اپنی پھپھو کے ان کی اس بات کا بھی بہت بڑا احسان سمجھتا ہوں کہ اج تک انہوں نے میرے دماغ میں کبھی بھی بدلے کے جذبات نہیں ابھرنے دیے بلکہ مجھے کسی ایسے شخص کے پاس بیٹھنے ہی نہیں دیا جس نے مجھے ورغلایا ہو یا بدلے پر اکسایا ہو یا مجھے طیش دلائی ہو بلکہ انہوں نے مجھے ہمیشہ سمجھایا ہے اور یہی بتایا ہے کہ ظالموں کو اللہ تعالی سزا دیتا ہے انسان کو انصاف کرنے کا کوئی حق نہیں ہمارے پاس قانون موجود ہے اگر قانون پر بھی ہمیں بھروسہ نہ ہو یا قانون بھی ہمارے ساتھ تعاون نہ کرے تو اللہ تعالی کی ذات ہے اور اللہ تعالی کے ہاں کسی کی کوئی سفارش نہیں چلتی
میری پھپھو کے مجھ پر بہت احسان ہیں اگر ان کو میں اپنی انگلیوں پر گننا چاہوں تو بھی نہیں گن سکتا میں جس مقام پر کھڑا ہوں میں یہ کہتا ہوں کہ میرے اللہ تعالیٰ کی عطا کے بعد یہ سب کچھ میری پھپھو کی دین ھے
میں اپنے باپ کے قاتلوں کو اور اپنی ماں کو اذیت دینے والے لوگوں کو دل سے معاف کر چکا ہوں لیکن میں اب دوبارہ کبھی ان کی شکل نہیں دیکھ سکتا مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے کیونکہ جب کبھی بچپن میں میں مایوس ہو جاتا تھا اپنے والد صاحب کو مس کرتا تھا تو میری پھپھو مجھے بتایا کرتی تھی کہ بیٹا تمہارے والد کے قاتل یا تمہاری ماں کے قاتل یہ لوگ نہیں ہیں صرف غربت ہے اور بھوک ہے اگر ہو سکا تو تم اس وقت کو بدل دینا تم غربت کو مٹا دینا تم غربت کو ختم کر دینا بھوک کو ختم کر دینا میں نے اپنے پھپھو کی یہ بات پلے باندھ لی اور محنت کر کے پڑھتا رہا الحمدللہ میں ایک کیمیکل انجینیئر بنا پھر سکالرشپ پر یہاں پڑھنے کے لیے ایا اور پھر یہیں سیٹ ہو گیا

اج میری پھپھو گزر چکی ہے لیکن اج میں جس کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ تمہاری تربیت کسی بہت نیک ماں نے کی ہے تو میں اسے ٹوک کر کہتا ہوں ماں نے نہیں ایک نیک پھپھو نے کی ہے
یقین کریں جب میں لوگوں کو بتاتا ہوں کہ میری پھپھو اتنی اچھی ھے تو لوگوں کو یقین نہیں اتا لوگوں کو اپنی پھپھو سے اتنی شکایات ہیں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کوئی پھپھو اتنی نیک بھی ہو سکتی ہے
اج میری پھپھو فوت ہو چکی ہے میں ہر نماز کے بعد ان کے لیے دعا کرتا ہوں ان کے نام پر صدقہ خیرات کرتا ہوں ان کی اولاد کو الگ الگ کاروبار بنا کر دیے ہیں کیونکہ مجھے احساس ہے کہ ان کا حق بھی میری پھپو نے مجھے دیا ہے مجھ پر لگایا ھے میری خاطر میرے ان پھپھو زاد بھائی بہنوں نے کئی بار فاقہ کیا ہے میں اج اپنا سب کچھ بھی ان پر لوٹا دوں تو بھی ان کا وہ احسان نہیں اتار سکتا جو بچپن میں فقط ایک بار میری وجہ سے بھوکے رہے ہیں یا کسی ایک ایسی عید کا بھی قرض نہیں اتار سکتا جس عید پر مجھے تو نئے کپڑے ملے ہوں لیکن میری پھپھو زاد بھائی بہنوں کو بالکل بھی نئے کپڑے نہ ملے ہوں بلکہ نئے کپڑے مانگنے پر ان کو پھپھو سے ڈانٹ یا مار پڑی ہو وہ لوگ بھی مجھ سے فرق نہیں کرتے مجھے اپنا بھائی مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں
میرے کئی جاننے والے مجھے کہتے رہتے ہیں کہ میرے ان پھپھو زاد بھائی بہنوں کو مجھ سے نہیں میری دولت سے پیار ھے

لیکن میں حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کون کتنا مخلص ہے میں اپ لوگوں کو بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے رشتہ داروں کی اچھائیوں اور احسانوں کو کبھی بھی نہ بھولیں اگر زندگی میں کبھی انہوں نے اپ کے ساتھ کوئی برا بھی کیا ہے تو کسی مجبوری سے کیا ہوگا یا اگر جان بوجھ کر بھی کیا ہے تو ان کو معاف کر دیں اگر ہو سکے تو ان کو ساتھ لے کر چلیں ساتھ لے کر نہیں بھی چل سکتے تو ان کو معاف کر کے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیں

07/07/2026

Maa bap k khadmat karo is Miya ap ki bhalai hy.

مدینہ منورہ کی شمالی سمت میں واقع، تقریباً سات کلومیٹر لمبا جبلِ اُحد محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہ...
07/07/2026

مدینہ منورہ کی شمالی سمت میں واقع، تقریباً سات کلومیٹر لمبا جبلِ اُحد محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ اس کی مٹی میں تاریخ بھی ہے اور برکت بھی۔
یہ وہی پاکیزہ مقام ہے جہاں 3 ہجری میں 'غزوۂ اُحد' کا مشہور معرکہ پیش آیا۔ آج بھی اس کی آغوش میں نبی رحمت ﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہؓ اور 70 دیگر جانثار صحابہ کرام ابدی نیند سو رہے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ کا اس پہاڑ سے انسیت کا ایک بڑا ہی میٹھا اور انوکھا رشتہ تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے مبارک لبوں سے فرمایا تھا کہ: "اُحد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے پیار کرتا ہے، اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں"۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی حج اور عمرہ کرنے والے لاکھوں خوش نصیب مسلمان جب یہاں حاضری دیتے ہیں، تو وہ دین کے لیے صحابہ کی قربانیوں اور نبی ﷺ سے ان کی سچی محبت کی یادوں کو اپنے دلوں میں تازہ کر لیتے ہیں۔

غزوہ احزاب کا ایک تفصیلی نقشہ! 🗺️ خندق کی لڑائی کا نقشہ دیکھنا کتنا دلچسپ ہے! 🙏⚔️
30/06/2026

غزوہ احزاب کا ایک تفصیلی نقشہ! 🗺️ خندق کی لڑائی کا نقشہ دیکھنا کتنا دلچسپ ہے! 🙏⚔️

خندقوں کے وارثفلسطینی مزاحمت کے خلاف ایک پرانا پروپیگنڈا یہ ہے کہ اس کی قیادت اپنے خاندانوں کو محفوظ رکھتی ہے اور قربانی...
24/06/2026

خندقوں کے وارث
فلسطینی مزاحمت کے خلاف ایک پرانا پروپیگنڈا یہ ہے کہ اس کی قیادت اپنے خاندانوں کو محفوظ رکھتی ہے اور قربانی صرف عام لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ مگر غزہ کی سرزمین بارہا اس دعوے کو جھٹلا چکی ہے۔ تصویر میں نظر آنے والے دو نوجوان، نعیم باسم نعیم اور محمد رافع سلامہ اس حقیقت کی ایک زندہ مثال ہیں۔
نعیم، مزاحمت کے معروف سیاسی رہنما باسم نعیم کے فرزند تھے، جبکہ محمد، جانبازوں کی خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر رافع سلامہ کے بیٹے تھے۔ جنگ سے قبل یہ دونوں نوجوان مزاحمت کی سرنگوں اور عسکری مورچوں میں اپنے ساتھیوں کے شانہ بشانہ موجود رہے۔ وہ خندقوں میں تھے، ہوٹلوں میں نہیں۔ خطرات کے درمیان تھے، محفوظ پناہ گاہوں میں نہیں۔
باسم نعیم مزاحمتی سیاست کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور برسوں سے فلسطینی عوام کے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب رافع سلامہ جانبازوں کے اہم ترین عسکری کمانڈروں میں سے ایک تھے، جو خان یونس بریگیڈ کی قیادت کر رہے تھے۔ 13 جولائی 2024 کو خان یونس کے قریب المواصی کے علاقے میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں وہ شہید ہو گئے۔
غزہ کی جاری جنگ کے دوران نعیم باسم نعیم اور محمد رافع سلامہ بھی شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت نے اس تصور کو مزید مضبوط کیا کہ فلسطینی مزاحمت میں قیادت اور عوام کی قربانیاں الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی صف میں کھڑی ہیں۔ یہاں قائدین کے گھر بھی اسی طرح اجڑتے ہیں جیسے عام فلسطینیوں کے اور ان کے بیٹے بھی اسی طرح جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں جیسے دیگر مجاہدین اور شہری۔
فلسطینی مزاحمت محض نعروں پر نہیں بلکہ قربانیوں پر قائم ہے۔ ان نوجوانوں کی شہادت ان تمام لوگوں کے لیے مسکت جواب ہے جو مزاحمتی قیادت پر طعن و تشنیع کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ قربانی صرف دوسروں کے حصے میں آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نعیم باسم اور محمد رافع کی شہادت قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

((ڈاگئی صوابی سے اٹھنے والی وہ روشنی جس نے لاکھوں دلوں کو منور کیا — حضرت مولانا حمد اللہ جانؒ کی داستانبعض شخصیات صرف ا...
21/06/2026

((ڈاگئی صوابی سے اٹھنے والی وہ روشنی جس نے لاکھوں دلوں کو منور کیا — حضرت مولانا حمد اللہ جانؒ کی داستانبعض شخصیات صرف اپنی زندگی نہیں جیتیں بلکہ اپنی پوری زندگی امت کی رہنمائی، علم کے فروغ اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ حضرت مولانا حمد اللہ جانؒ (ڈاگئی باباجی) بھی ایسی ہی عظیم شخصیات میں سے تھے جن کا نام خیبر پختونخوا، افغانستان اور برصغیر کے دینی حلقوں میں آج بھی عقیدت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔
1909ء میں ضلع صوابی کے تاریخی گاؤں ڈاگئی میں پیدا ہونے والے مولانا حمد اللہ جانؒ ایک ایسے علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے جس کی جڑیں برصغیر کے عظیم علماء سے جا ملتی تھیں۔ آپ کے والد علامہ عبدالحکیمؒ اور چچا مولانا صدیقؒ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد تھے۔ یہی وجہ تھی کہ علم، تقویٰ اور دین کی محبت آپ کو وراثت میں ملی۔

بچپن ہی سے آپ نے قرآن و سنت کے علوم حاصل کرنا شروع کیے۔ علم کی پیاس انہیں برصغیر کے عظیم دینی مراکز تک لے گئی جہاں انہیں حضرت شیخ الہندؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ اور حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ جیسے جلیل القدر علماء کی صحبت نصیب ہوئی۔

1947ء میں جب برصغیر تقسیم کے تاریخی دور سے گزر رہا تھا، اسی سال مولانا حمد اللہ جانؒ نے مظاہر العلوم سہارنپور سے سندِ حدیث حاصل کی۔ یہ صرف ایک تعلیمی کامیابی نہیں تھی بلکہ علم و دین کی خدمت کے ایک عظیم سفر کا آغاز تھا۔

وطن واپس آکر انہوں نے ڈاگئی میں دارالعلوم عربیہ مظہر العلوم کی بنیاد رکھی۔ ایک چھوٹے سے مدرسے سے شروع ہونے والا یہ ادارہ وقت کے ساتھ برصغیر کے معروف دینی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ ہزاروں طلبہ نے یہاں سے قرآن، حدیث، فقہ اور تفسیر کی تعلیم حاصل کی اور دنیا کے مختلف حصوں میں دین کی خدمت انجام دی۔

حضرت مولانا حمد اللہ جانؒ کو قرآن کریم سے غیر معمولی محبت تھی۔ ان کی تفسیری مجالس میں دور دور سے لوگ شریک ہوتے تھے۔ قرآن فہمی اور تفسیر میں مہارت کی وجہ سے انہیں "شیخ المفسرین" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔

لیکن ان کی عظمت صرف علم تک محدود نہیں تھی۔

سادگی، عاجزی، تقویٰ اور لوگوں کے ساتھ محبت ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ ان کے دروازے پر امیر و غریب، عالم و عامی، سب یکساں عزت پاتے تھے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ دین کی خدمت، لوگوں کی رہنمائی اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف تھا۔

نصف صدی سے زائد عرصے تک انہوں نے تدریس، تربیت اور اصلاح کا ایسا سلسلہ جاری رکھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ہزاروں علماء، حفاظ، خطباء اور دینی کارکن ان کے فیض یافتہ ہیں۔

12 جنوری 2019ء کو جب یہ عظیم شخصیت اس دنیا سے رخصت ہوئی تو صرف ڈاگئی یا صوابی ہی نہیں، بلکہ پورا خطہ سوگوار تھا۔ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے لاکھوں عقیدت مند جمع ہوئے۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ انہوں نے لوگوں کے دلوں میں کتنی محبت اور احترام پیدا کیا تھا۔

حضرت مولانا حمد اللہ جانؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی شہرت، دولت یا عہدوں میں نہیں بلکہ علم، اخلاص اور انسانوں کے دل جیتنے میں ہے۔

آج بھی ڈاگئی کی سرزمین ان کے لگائے ہوئے علم کے اس باغ کی گواہ ہے جس کے پھل دنیا بھر میں دین کی خدمت کر رہے ہیں۔

ایسی شخصیات دنیا سے رخصت ضرور ہو جاتی ہیں، لیکن ان کا علم، ان کی تربیت اور ان کی دعائیں نسلوں تک زندہ رہتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا حمد اللہ جانؒ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی و دینی مشن کو قیامت تک جاری و ساری رکھے۔ آمین۔

Address

Mardan
23200

Telephone

+923059589832

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Islamic page:

Shortcuts

Share

Category