Al Shifa Veterinary Clinic & Services

Al Shifa Veterinary Clinic & Services committed to the Excellence In Animals Health care services

گرمیوں کے شدید موسم میں جب درجہ حرارت چالیس ڈگری یا اس سے اوپر چلا جاتا ہے تو مرغیوں کو ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی کے مضر ...
26/05/2026

گرمیوں کے شدید موسم میں جب درجہ حرارت چالیس ڈگری یا اس سے اوپر چلا جاتا ہے تو مرغیوں کو ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے جس کے لیے چند بنیادی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا لازمی ہے۔ سب سے پہلے فارم یا گھریلو طرز پر بنے ہوئے چھوٹے برڈز سیٹ اپ کے اندر تازہ ہوا کی آمد و رفت کا بہترین انتظام ہونا چاہیے کیونکہ بند اور حبس زدہ ماحول پرندوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے، اس لیے ہوا کا گزر ایسا ہو کہ اندر کی گرمی مستقل باہر نکلتی رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں مرغیوں کو سردیوں کے مقابلے میں زیادہ کھلی جگہ فراہم کرنی چاہیے کیونکہ تنگ جگہ پر پرندے ایک دوسرے کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنے جسم کی گرمی چھوڑتے ہیں جس سے حبس اور درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے اور ان کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ پرندوں کی صحت کا دارومدار تازہ اور ٹھنڈے پانی پر بھی ہوتا ہے کیونکہ شدید تپش میں وہ اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے عام دنوں سے زیادہ پانی پیتی ہیں، اس لیے ان کے سامنے ہر وقت صاف پانی موجود ہونا چاہیے اور دوپہر کے وقت دن میں کم از کم دو سے تین بار پانی کو لازمی تبدیل کرنا چاہیے تاکہ پانی گرم نہ ہو۔ جب دوپہر کے وقت دھوپ اور گرمی اپنے عروج پر پہنچ جائے تو مرغیاں شدید تناؤ یعنی ہیٹ اسٹریس کا شکار ہو جاتی ہیں جس سے بچانے کے لیے انہیں پانی میں الیکٹرولائٹس ORS وغیرہ یا گلوکوز ڈی ملا کر دینے چاہئیں تاکہ ان کے جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو اور وہ اچانک موت سے محفوظ رہیں۔ آخر میں اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ پرندوں کی رہائش گاہ کے اندر براہ راست دھوپ بالکل نہ آئے، اس مقصد کے لیے جس سمت سے تیز دھوپ آتی ہو وہاں باہر کی طرف گرین نیٹ یا مناسب شیڈ لگا دینا چاہیے تاکہ اندر کا ماحول سایہ دار رہے اور پرندے گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔
مفید معلومات کے لیے پیج کو فالو کریں اور پیج پر فراہم کی ہوئی معلومات سے استفادہ حاصل کیا کریں اس سے اپ کو پرندے پالنے میں کافی حد تک آسانی ہوگی

پاکستان میں بکریوں کی کئی مشہور اور اعلیٰ نسلیں پائی جاتی ہیں، جو دودھ اور گوشت کی بہترین پیداواری صلاحیت کے لیے جانی جا...
26/05/2026

پاکستان میں بکریوں کی کئی مشہور اور اعلیٰ نسلیں پائی جاتی ہیں، جو دودھ اور گوشت کی بہترین پیداواری صلاحیت کے لیے جانی جاتی ہیں۔ یہاں پاکستان کی چند اہم اور مشہور بکریوں کی نسلوں کی تفصیل دی گئی ہے:
1. بیتل (Beetal)
*علاقہ:* یہ نسل زیادہ تر پنجاب کے اضلاع (جیسے سیالکوٹ، گوجرانوالہ، اوکاڑہ اور ساہیوال) میں پائی جاتی ہے۔
*خصوصیات:* اس کا قد بڑا، کان لمبے اور لٹکے ہوئے ہوتے ہیں، اور ناک طوطے کی طرح ابھری ہوئی (Roman Nose) ہوتی ہے۔ ان کا رنگ عام طور پر سیاہ، بھورا یا دھبے دار ہوتا ہے۔
*مقصد:* یہ دودھ اور گوشت دونوں کے لیے بہترین مانی جاتی ہے۔ نر بکرا قربانی کے لیے بہت پسند کیا جاتا ہے۔
2. ٹیڈی (Teddy)
*علاقہ:* پورے پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں عام پائی جاتی ہے۔
*خصوصیات:* یہ چھوٹے قد کی پھرتیلی بکریاں ہوتی ہیں۔ ان کی افزائشِ نسل (Breeding) بہت تیز ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر ایک وقت میں 2 سے 3 یا اس سے بھی زیادہ بچے دیتی ہیں۔
*مقصد:* یہ بنیادی طور پر گوشت کی پیداوار کے لیے پالی جاتی ہیں۔ کم خرچ اور تیز بڑھوتری کی وجہ سے یہ چھوٹے کسانوں میں بہت مقبول ہیں۔
3. کاموری (Kamori)
*علاقہ:* یہ سندھ کی ایک انتہائی مشہور اور خوبصورت نسل ہے، خاص طور پر دادو، نوابشاہ اور حیدرآباد میں پائی جاتی ہے۔
*خصوصیات:* ان کا قد بہت لمبا ہوتا ہے، کان بہت چوڑے اور لٹکے ہوئے ہوتے ہیں، اور ان کی جلد پر خوبصورت بھورے اور سیاہ رنگ کے مکس دھبے ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ دکھنے میں بہت پرکشش ہوتی ہیں، اس لیے ان کی قیمت کافی زیادہ ہوتی ہے۔
*مقصد:* یہ دودھ کی اچھی پیداوار دیتی ہیں اور گوشت کے لیے بھی بہترین ہیں۔
4. ناچی (Nachi)
*علاقہ:* یہ بنیادی طور پر پنجاب کے صحرائی علاقوں (جیسے چولستان، بہاولپور) میں پائی جاتی ہے۔
*خصوصیات:* اس نسل کا نام اس کے چلنے کے انداز پر رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ چلتے ہوئے ایسے لگتی ہے جیسے ناچ رہی ہو۔ اس کے سینگ مڑے ہوئے ہوتے ہیں اور بال چھوٹے ہوتے ہیں۔
*مقصد:* یہ گوشت کے لیے پالی جاتی ہے اور سخت موسم کو برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
5. دیرہ دین پناہ (Dera Din Panah)
*علاقہ:* یہ نسل ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔
*خصوصیات:* ان کا رنگ عام طور پر جیٹ بلیک (سیاہ) ہوتا ہے، جسم پر لمبے بال ہوتے ہیں اور ان کے سینگ بڑے اور بل کھائے ہوئے (اسپرنگ کی طرح) ہوتے ہیں۔
*مقصد:* یہ بکریاں *دودھ کی فراوانی* کے لیے بہت مشہور ہیں۔
ایک نظر میں موازنہ
| نسل کا نام | اصل علاقہ | بنیای مقصد | نمایاں خصوصیت |
| *بیتل* | پنجاب | دودھ اور گوشت | بڑا قد، طوطا ناک، لمبے کان |
| *ٹیڈی* | پنجاب / پورے پاکستان | گوشت (زیادہ بچے) | چھوٹا قد، کم خرچ، تیز افزائش |
| *کاموری* | سندھ | گوشت اور خوبصورتی | لمبی ٹانگیں، خوبصورت رنگ و خال |
| *دیرہ دین پناہ* | جنوبی پنجاب | دودھ کی پیداوار | سیاہ رنگ، مڑے ہوئے سینگ، لمبے بال

مزید اہم بکریوں کی نسلیں

6. باربری (Barbari)

علاقہ: پنجاب اور سندھ کے بعض حصے

خصوصیات: چھوٹا قد، سفید رنگ پر بھورے دھبے، تیز افزائش

مقصد: گوشت اور دودھ دونوں

خاص بات: کم جگہ میں آسانی سے پالی جا سکتی ہے

7. پٹھوری (Pateri / Pahari)

علاقہ: سندھ

خصوصیات: درمیانہ قد، لمبے کان

مقصد: دودھ اور گوشت

خاص بات: گرم موسم برداشت کرنے کی اچھی صلاحیت

8. گلابی (Gulabi)

علاقہ: سندھ

خصوصیات: ناک اور کانوں پر گلابی رنگت

مقصد: دودھ کی اچھی پیداوار

خاص بات: خوبصورتی کی وجہ سے مہنگی نسل سمجھی جاتی ہے

بکری پالنے والوں کے لیے اہم مشورے

صاف پانی ہر وقت دستیاب رکھیں

گرمی میں سایہ اور ہوا دار جگہ ضروری ہے

باقاعدہ ویکسین اور ڈی وارمنگ کروائیں

سبز چارہ، منرل مکسچر اور خشک چارہ متوازن مقدار میں دیں

نئے جانور کو ریوڑ میں شامل کرنے سے پہلے الگ رکھیں

اہم ویکسین شیڈول

پی پی آر (PPR) سال میں 1 بار
انٹروٹوکسمیا ہر 6 ماہ بعد
چیچڑ/کیڑوں کا علاج ہر 3 ماہ بعد
خناق (HS) گرمیوں سے پہلے

قربانی کے لیے بہترین نسلیں

بیتل

کاموری

ناچی

کراس بریڈ بکرے

یہ نسلیں خوبصورتی، وزن اور جسمانی ساخت کی وجہ سے عید الاضحیٰ میں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔

کیا آپ ان میں سے کسی خاص نسل کی خوراک، دیکھ بھال یا بیماریوں کے بچاؤ کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟

⚠️ کیا آپ کا قصاب جانور پر ظلم تو نہیں کر رہا؟ ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ 🐑🔪قربانی ص...
26/05/2026

⚠️ کیا آپ کا قصاب جانور پر ظلم تو نہیں کر رہا؟ ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ 🐑🔪
قربانی صرف گوشت حاصل کرنے کا نام نہیں، یہ ایک عبادت ہے۔ لیکن اکثر قصاب جلد بازی میں ایسی غلطیاں کرتے ہیں جو نہ صرف جانور کو شدید تکلیف دیتی ہیں، بلکہ گوشت کے معیار اور صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
ذبح کے شرعی اصول اور احتیاطی تدابیر:
✅ احسان کا حکم: نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: "اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنا مقرر کر دیا ہے، لہٰذا جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اپنی چھری تیز کر لو اور جانور کو آرام دو۔" (صحیح مسلم)
✅ صحیح طریقہ کار:
تیز چھری: چھری ہمیشہ تیز ہونی چاہیے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔
چار نالیاں: شریعت کے مطابق چار نالیاں (دو خون کی، ایک سانس کی، اور ایک خوراک کی) کاٹنا ضروری ہے۔
ہڈی سے گریز: ریڑھ کی ہڈی (فقار) کو کاٹنا مکروہ اور جانور کے لیے شدید تکلیف دہ ہے۔
⚠️ قصابوں کی لاپرواہی کا نقصان:
اکثر قصاب جلدی میں جانور کو 'ٹھنڈا' کرنے کے لیے گردن میں کھڑی چھری مار دیتے ہیں یا ہڈی کاٹ دیتے ہیں۔ یاد رکھیں:
اس سے جانور کی روح نکلنے کا عمل اذیت ناک ہو جاتا ہے۔
سارا خون گوشت کے اندر ہی جم جاتا ہے، جو صحت کے لیے مضر ہے۔
یہی خون بعد میں گوشت کے رنگ کو براؤن کرنے اور بدبو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
ہماری ذمہ داری:
اس عیدِ قربان پر اپنے قصاب کو پہلے سے سمجھائیں کہ وہ جلد بازی کے بجائے سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ذبح کرے۔ ایک چھوٹی سی احتیاط سنت کی پیروی بھی ہے اور آپ کے اہل خانہ کی صحت کے لیے بھی ضروری۔
صدقہ جاریہ: اس اہم معلومات کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ہر کوئی قربانی کے درست طریقے سے آگاہ ہو سکے۔

01/12/2025

🐔مرغیوں اور پرندوں میں ویکسین کی اہمیت اور ضرورت:🐥

سردی کے اس موسم میں زیادہ تر اموات ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ آپ چند سو یا ہزار بچانے کے لئے اپنے قیمتی پرندوں کی جان اور صحت داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔ بعد، میں جب بیماری کا حملہ ہوجاتا ہے تب ادویات پہ ہزاروں روپے بھی لگانے کے لیئے تیار ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ آج اپنے قیمتی پرندوں کے لئے چند سو یا ہزار روپے خرچ کر کے اپنے پرندوں اور شوق کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

👈 اہم نکات جن پر عمل کر کے آپ نقصان سے بچ سکتے ہیں-

🔵 بیشک آپ کے پاس 5,10 یا 1000 مرغیاں اور پرندے ہیں، آپ لازمی ان کی ویکسین کروائیں۔
🔵 چند سو یا ہزار کی ویکسین آپ کو مہنگے نقصان سے بچا سکتی ہے۔
🔵 موجودہ موسم کے حساب سے نیو کیسل (ND) یعنی رانی کھیت اور ایوین انفلوئنزا (Avian Influenza) یعنی مرغیوں اور پرندوں کے زکام کے خلاف ویکسین بنیادی ضرورت ہے۔ ان دونوں میں صرف 15 دن کا وقفہ رکھیں۔ انشاءاللہ آپ کے پرندے اس شدید موسم کی جان لیوا بیماریوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔
🔵 پرندوں میں یہ دونوں وائرس تیزی سے پھیلتے ہیں، اور جان لیوا ثابت ہوتے ہیں، اس لئے تاخیر نہ کریں۔
🔵 اگر سرکاری اسپتال یا کوئی پرائیوٹ کلینک پاس ہے تو اپنے پرندوں کو انجکشن بھی لگوا سکتے ہیں۔
🔵 ویکسین کی قیمت کم ہوتی ہے، لیکن فائدہ بہت زیادہ اور نقصان سے نجات مل جاتی ہے۔

آپ اپنے شوق اور پیسے کو ایک چھوٹی سی احتیاط سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

باولہ پن ( ریبیز )سیلاب کے بعد ایک دم سے پاگل کتے کے کاٹنے کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ ویسے بھی گرمیوں کے موسم میں عموماً...
03/10/2025

باولہ پن ( ریبیز )

سیلاب کے بعد ایک دم سے پاگل کتے کے کاٹنے کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ ویسے بھی گرمیوں کے موسم میں عموماً کتے کے کاٹنے کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں، سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ سہی جان کاری نہ ہونے کے باعث بہت سے لوگ ریبیز کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے۔

ریبیز یا باولہ پن ایک مہلک وائرس انفیکشن سے پھیلنی والی ایک خطرناک بیماری ہے۔ یہ وائرس دماغ اور لعاب کے غدود (salivary glands) کو متاثر کرتی ہیں۔ اس لیے یہ متاثرہ کے تھوک سے پھیلتا ہے۔ ریبیز صرف کتے سے نہیں، بلکہ پاگل بلی، بندر، گیدڑ، یا کسی بھی پاگل جانور کے کاٹنے سے ہو سکتا ہے۔یہ وائرس تھوک سے منتقل ہوتا ہے۔ صرف زبان مار دینا بھی خطرناک ہو سکتا ہے اگر جسم میں تیڑ ہے یا جسم پر پہلے سے خراشیں ہیں یا جانور نے پنجا مار کر جسم پر خراش ڈالی اور اسے چاٹ لیا ہے تو ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔
بنیادی طور پر یہ جانوروں کی بیماری ہے۔ متاثرہ جانوروں کے کاٹنے سے یہ بیماری / وائرس انسانوں کو بھی منتقل ہوتی ہے اور دماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے.
کتا، لومڑی، بلی اور چمگادڑ اس بیماری کو کاٹنے کے زریعے سے انسانوں اور دوسرے جانوروں کو منتقل کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ وائرس متاثرہ جانور کے لعاب میں ہوتا ہے تو لعاب سے کاٹنے کے دوران انسانوں کو منتقل ہوتا ہے۔ اگر یہ لعاب خراش یا کٹے ہوئے زخم پر لگ جائے تو بھی بیماری منتقل ہو سکتی ہے۔ ایک بار جب علامات ظاہر ہو جائیں تو یہ بیماری مہلک ہو جاتی ہے، اس لیے فوری طبی دیکھ بھال اور روک تھام بہت ضروری ہوتا ہے۔

جب یہ وائرس کسی کی جسم میں داخل ہوجاتا ہے تو 20 سے 90 دن تک اس میں بیماری کی اثرات پیدا ہوجاتے ہیں۔ تاہم یہ مدت ایک ہفتے سے ایک سال تک بھی ہو سکتی ہے۔ یہ مدت اس فاصلے پر منحصر ہے جسے وائرس کے لیے مرکزی اعصابی نظام تک پہنچنے کے لیے طے کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ بیماری پیدا ہونے کا دورانیہ مندرجہ ذیل عوامل پر انحصار کرتا ہے۔
کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی ہسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہئیے، فوری طور پر ہسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانا بہتر ہے۔

بہت سی بیماریوں کی ویکسینیشن پہلے کر دی جاتی ہے مثال کے طور پر خسرہ، پولیو اور کرونا تو کیا کتے کے کاٹنے سے پہلے ربییز کی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے؟
کیونکہ خسرہ، پولیو اور کرونا جیسی بیماریوں کی بیماری اچانک اور آسانی سے پھیل سکتی ہیں، اس لیے پہلے سے حفاظتی قوت مدافعت بنانا ضروری ہوتا ہے۔
۲. کتے کے کاٹنے کی ویکسین (ربییز ویکسین) *کٹنے کے بعد* دی جاتی ہے کیونکہ ربییز وائرس کا خطرہ تبھی ہوتا ہے جب انسان کتے سے متاثر ہو، اس لیے متاثر ہونے کے بعد فوری ویکسین دی جاتی ہے تاکہ وائرس جسم میں پھیلنے سے پہلے اسے روکا جا سکے۔
ہاں ریبیـز سے بچاؤ کے لیے پیشگی حفاظتی ٹیکہ کاری (Pre-Exposure Prophylaxis) ان افراد کے لیے دی جاتی ہے جنہیں ریبیز وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کو جو اپنے پیشے کی نوعیت کی وجہ سے ریبیز زدہ جانوروں کے قریب آتے ہیں، جیسے کہ ویٹرنری ڈاکٹرز، لیبارٹری کے کارکن جو ریبیز وائرس پر تحقیق کرتے ہیں، جانوروں کو قابو میں رکھنے والے اہلکار، یا وہ مسافر جو ایسے علاقوں کا سفر کرتے ہیں جہاں ریبیز عام ہے اور فوری طبی سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔

ریبیز سے ہر سال تقریبا 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔ اور ان میں اکثریت بچوں کی ہوتی ہے! عالمی سطح پر لاکھوں لوگوں کو ویکسین لگایا جاتا ہے اور یہ اندازہ کیا گیا ہے کہ اس سے ایک سال میں 250،000 سے زیادہ لوگوں کی جان بچی ہے۔ صرف شہر کراچی میں ہر سال تیس ہزار کتے کاٹے کے مریض مختلف ہسپتالوں میں آتے ہیں۔ اندازہ کر لیجے باقی ملک میں کیا صورت حال ہو گی۔

ریبیز کے اثر کرنے کے بعد نتائج ہولناک ہو جاتے ہیں۔
پہلے صرف زخم ہوتا ہے،
کچھ دن خاموشی اس دوران وائرس دماغ کی طرف سفر کر رہا ہوتا ہے۔
پھر بخار،
بےچینی،
نیند اُڑ جاتی ہے۔
پانی دیکھ کر خوف آتا ہے،
آوازوں سے وحشت ہونے لگتی ہے۔
جسم میں اکڑاو، پٹھوں کا کھچاو ،
سر درد ،
کھانا نگلنے میں مشکل اور
آخر میں دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے،
کومہ اور موت خاموشی سے آ جاتی ہے!
اس لیے اگر کتا آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری ہسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجیسنی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، ربیز کی علامات ایک بار ظاہر ہو گئیں تو 100% موت یقینی ہے ۔اس لیے وقت ضائع نہ کریں کسی عامل، حکیم یا دیسی ٹوٹکوں پر وقت ضائع نہ کریں۔ مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، تعویز بندھوانا، یہ سب تکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے!

ہسپتال دور ہے تو زخم کو فوراً صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندھیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور قریبی مرکزِ صحت پر جا کر فوری اینٹی ربیز ویکسین (ARV) لگوائیں اور اس کا کورس پورا کریں
اگر زخم گہرا ہو، تو ربیز امیونوگلوبیولن (RIG) بھی ضروری ہے۔ چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7-14-28) کا کورس ہو گا،
جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین بننے سے لے کر دوکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔ ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔

#منقول

کیا آپ ناچنے والے ریچھوں کے متعلق جانتے ہیں؟ جنگل سے ریچھ کا بچہ لینے سے پہلے ماں کو مار دیا جاتا ہے کیونکہ زندہ حالت می...
31/07/2022

کیا آپ ناچنے والے ریچھوں کے متعلق جانتے ہیں؟

جنگل سے ریچھ کا بچہ لینے سے پہلے ماں کو مار دیا جاتا ہے کیونکہ زندہ حالت میں تو وہ بچے کو لے جانے نہیں دیتی۔ یوں یہ ظالم، خبیث ناصرف ان دو ریچھوں کا نقصان کرتے ہیں بلکہ نسل کی بڑھوتری بھی رُک جاتی ہے اور ریچھ پہلے ہی نا پیدی کے خطرات سے دوچار ہے!!!

کیا اب بھی آپ ریچھ کا تماشہ دیکھیں گے؟
کیا اب بھی آپ ان ظالموں کو غریب مسکین سمجھ کر ان کی مالی مدد کریں گے؟

مگر ٹھہریے اس چیز کا فیصلہ کرنے سے پہلے کچھ اور حقائق بھی پڑھ لیجئے تاکہ آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔

ٹریننگ شروع کرنے سے پہلے قید کئے گئے ریچھ کے بچے کے یا تو دانت ہتھوڑا مار کر نکال دئیے جاتے ہیں یا رگڑ دئیے جاتے ہیں۔ ناخن بھی کھینچ کر نکال دئیے جاتے ہیں تاکہ ان بزدلوں کو ریچھ سےکوئی خطرہ نا ہو، آخر میں ان کی ناک میں سوراخ کرکے لوہے کی نتھ ڈال دی جاتی ہے۔

ڈانس سکھانے کے لئے ریچھ کو دھات کی گرم پلیٹوں یا چادر کے اوپر کھڑا کیا جاتا ہے۔ جس کی تکلیف کے باعث یہ بیچارے مجبور ہو کر پچھلی دو ٹانگوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کھڑے ہوکر درد اور جلن کے مارے یہ پچھلے پاؤں میں سے کبھی ایک اٹھاتے ہیں کبھی دوسرا۔ ایک سائڈ سے کود کر دوسری کی طرف جاتے ہیں اور یہ سب کچھ بظاہر دیکھنے میں ڈانس ہی لگتا ہے۔

یہ عمل کئی بار میوزک اور مداری کی آواز کے ساتھ دھرایا جاتا ہے اور جب ریچھ یہ غیر فطری عمل سیکھ جاتا ہےتو گرم پلیٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ نکیل کا کھینچا جانا ہی کافی ہوتا ہے۔ ریچھ کے لئے آنے والی تکلیف کا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔

ریچھ اصل میں ڈانس آپ کی داد وصول کرنے یا اپنے شوق کے لئے نہیں کرتا بلکہ خود کو تکلیف سے بچانے کے لئے کرتا ہے۔

کئی دفعہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ ان خبیث مداریوں کی طرفداری کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غریب کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔

ذرا سوچئے جو روزی اللہ کی بے زبان مخلوق کو اس تکلیف میں ڈالے، کیا وہ حلال ہوگی؟ اور کیا ایسے شخص کی طرفداری کرنا ٹھیک ہوگا؟
جانوروں سے اچھے سلوک کا درس تو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بارہا دیا ہے۔

جو لوگ اس کو صرف ایک کھیل سمجھتے ہیں، خدارا اپنے دلوں میں رحم پیدا کیجیے، ان بے زبانوں کی تکلیف کو محسوس کریں۔
جہاں ان تماشے والوں کو دیکھیں محکمہ کو اطلاع کریں۔ جنہیں آپ غریب سمجھ بیٹھے ہیں وہ اس دُنیا کے ظالم ترین لوگوں میں سے ہیں اس ظلم کا حصہ بننے سے گُریز کیجیے۔
محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کو اطلاع کریں
#منقول

لمپی کا باعث = بیوپاری اور 🪰مکھی🪰تحریر::ڈاکٹر طلحہیوں تو لمپی سکن بیماری کہ بارے سب بات کرتے ہیں اور ہر بندہ اپنے طور پر...
28/07/2022

لمپی کا باعث = بیوپاری اور 🪰مکھی🪰
تحریر::ڈاکٹر طلحہ
یوں تو لمپی سکن بیماری کہ بارے سب بات کرتے ہیں اور ہر بندہ اپنے طور پر آگاھی پھیلاتا ہے۔لیکن ہم سب لوگ ایک نہایت اہم نکتہ شاید چھوڑ دیتے ہیں اور وہ ہے لمپی پھیلانے والے ویکٹر۔۔۔ ویکٹر کیا یے۔۔ کوئی بھی چیز جو بیماری پھیلانے میں گاڑی کا کام کرتی ہے۔۔۔ بیماری کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی۔۔۔۔۔۔ ایک تو لمپی کا بیماری جانور خرید کر دوسرے علاقے پہنچانا اور دوسرا کاٹنے والےمکھیاں

۔۔۔ لمپی سکن کے معاملے میں ویکٹرز کا کردار زیادہ اہم ہے۔۔
عام طور پہ بتایا گیا کہ۔ تین وجوہ ہیں
۱-چیچڑ Ticks
۲-مچھر
۳-مکھی Fly
لیکن گزشتہ مشاہدات میں دیکھنے میں؛آیا ہے کہ اسکے پھیلانے میں بنیادی کردار مکھی کا رہا ہے۔۔
مکھی Fly
کونسی مکھی؟
انگریزی میں بولے تو بائٹنگ فلائی Bitting Fly۔۔۔۔ اور ڈاکٹرز کی زبان میں سٹیبل فلائی(stable fly) یعنی اصطبل کا مکھی
اس کو یہ نام گھوڑوں کے اصطبل میں موجودگی کی وجہ سے دیا گیا(جہاں گھوڑوں میں یہ انفیکشیس انیمیا نامی بیماری پھیلاتی ہیں ) اس مکھی کا بنیادی حملہ گھوڑوں اور گائوں پر ہی دیکھا گیا ہے عام طور پر لیکن اگر ایک ایسی جگہ پر گھوڑے یا گائے دستیاب نہ نظر آئیں تو یہ کتوں بلیوں یا چھوٹے چوپائیوں یا انسانوں پر بھی حملہ کر سکتی ہیں

-----------رہائش------
یہ مکھی زیادہ تر ندی نالوں اور پانی کے جوہڑوں کے قریب کیچڑ میں افزائش کرتی ہیں۔۔۔ اور رات کے وقت کچرے کہ ڈھیر میں اناج کی بوریوں ،کونوں کھدروں یا بھوسے کی گٹھوں میں چھپتی ہیں۔ دن کے وقت جو اس مکھی کا حملہ کرنے کا وقت ہوتا ہے اس وقت یہ مکھی کہیں بھی موجود ہو سکتی ہے حتیٰ کہ آپ کے کھانے کے ٹیبل پر بھی کیونکہ یہ مکھیاں عام گھروں کی مکھیوں کے ساتھ ہی رہتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کی افزائش ہے
------حملہ--------
ان مکھیوں کی صرف مادہ Female Fly ہی جانور کو کاٹتی ہے۔۔۔ شوق سے نہیں مجبوری ہے اسکی۔۔۔ اپنے پیٹ میں موجود انڈوں eggs laying کی بڑھوتری کیلیے اسے خون کی ضرورت ہوتی(اصل میں پروٹین کی ضرورت ہوتی).... اسلئے وہ جانور سے خون حاصل کرتی ہے۔۔ اور بیماری جانور کو منتقل کردیتی ہے۔۔۔
-----پہچان----
اس مکھی کی پہچان میں ویسے راکٹ سائنس ہہ کیوں کہ اسکے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ میں ہی کاٹنے والی مکھی ہوں۔۔ اسکی وجہ یہ ہہ کہ یے عام گھروں میں پائ جانے والی عام مکھی (کامن ھاؤس فلائی Common House Fly) جیسی ہی ہوتی ہے ... ہاں البتہ اسکا رنگ تھوڑا سا ہلکا ہوتا ہہ اس سے۔۔ اور جسامت میں چھوٹی ہوتی ہے ایک ضروری بات یے عام طور پر جانور کی ٹانگوں کی پچھلی جانب موجود ہوتی ہیں۔۔ کیوں کا جانور کی ٹانگوں کی پچھلی طرف خون کی رگیں نسبتا زیادہ ہوتی ہیں اور وہاں پر جانور کو ان مکھیوں کو بھگانا بھی نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ تو جب بھی آپ انکو دیکھیں اپنا ٹائم موبائل سے زیادہ اسپرے والی ٹینکی کو دیں۔۔۔ کیوں کہ یہ مکھی آپ کی رات کی نیند اور دن کی بھوک مار سکتی ہے۔۔۔
-----کنٹرول----------
اس مکھی کو کنٹرول کرنے کا سب سے آسان طریقہ اسپرے ہہ پاکستان میں اس وقت
+ڈیلٹا میتھرین
+سائپر میتھرین
+ٹرائکلور فن
نامی دوائیں کامیابی کہ ساتھ اس بیماری کو پھیلانے والے ویکٹر کو کنٹرول کرنے میں استعمال ہوری ہیں۔ ۔۔ مختلف مشاہدات سے سامنے آیا ہے کہ باڑوں میں ایک دن یا دو دن چھوڑ کر اگر یہ مندرجہ بالا ادویات کی سپرے کی جائے تو باڑے مکھی مچھر اور چیچڑوں سے محفوظ رہتے ہیں ہیں۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ جانوروں کو باڑوں سے نکال کر سپرے کی جائے پانی کی حوض اور چارے کی کھرلیوں کو سپرے سے دور رکھا جائے۔ یاد رکھیں سپرے کی ایک ٹینکی اس بیماری کے بعد استعمال کی جانے والی دوائی سے ہزار گنا بہتر ہے
ہمالیہ کے پہاڑوں میں ایک درخت جس کو Cedar کہتے ہے, یا دیودار اس کے جلانے سے کالا بدبودار تیل نکلتا ہے, جس کو Cedar oil , دیودار کا تیل کہتے ہے, اس کے لگانے سے بھی Stable Fly چار دنوں تک جانور کے پاس نہیں اتا۔
چار دنوں کے بعد دوبارہ دیودار تیل لگانا پڑتا ہے۔ جی وہی دیودار جس سے فرنیچر بھی بناتے ہے

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور جلد سے جلد اللہ ہمیں اس آفت سے دور کر دے آمین۔۔۔
تحریر پڑھنے کا شکریہ

How is L*D treated?There is NO TREATMENT for lumpy-skin disease.Nonspecific treatment (antibiotics, anti-inflammatory dr...
12/07/2022

How is L*D treated?
There is NO TREATMENT for lumpy-skin disease.
Nonspecific treatment (antibiotics, anti-inflammatory drugs and vitamin
injections) is usually directed at treating the secondary bacterial infections,
inflammation and fever, and improving the appetite of the animal.

How can you prevent lumpY-skin disease in your
herd?
Prevention is the cheapest and best method of control of the disease. If
your animals are protected, you will not suffer any production or financial
losses as a result of the ill effects of the disease.

Vaccination (the best)

The attenuated Neethling strain vaccine is a product that contains a
weakened L*D virus. When this vaccine is administered the animal will
develop protective antibodies (made by white blood cells). These antibodies
then resist the actual virus that is transmitted by biting flies or milk and saliva
of infected animals. The animal is therefore protected or immune.
The Onderstepoort Veterinary Institute or the local veterinarian can supply
vaccines.

All cattle should be vaccinated annually (once a year), and preferably
before the summer rains to ensure good protection.
Animals that had the disease and recovered, are immune and therefore do
not have to be vaccinated.
Calves which are under 6 months old and were born to cows which have
been vaccinated or had the disease, do not need to be vaccinated. However,
as soon as they are 6 months old, they have to be vaccinated annually.
There may be a swelling at the site where the vaccine is given, and a
temporary drop in milk production, but the swelling will disappear after a
few weeks with a return to normal milk production.
It is important to read the instructions for use on the vaccine labels. If
you have any questions or need assistance with vaccination, contact
your state veterinarian or animal health technician for help.

Fly control
It is unpractical and almost impossible to control all the flies in your herd. It
is better to prevent flies from biting your animals.
Cattle should be dipped in a product that contains an insecticide. Make
sure that the dip includes insecticides effective against flies. Read and
follow the instructions on the labels of the products.
Fly repellents can be sprayed on cattle.
Note that fly control will not prevent all cattle from being infected by L*D.
The only way to ensure that all cattle are protected is by vaccination alone.

گانٹھ والی جلد کی بیماریLumpy Skin Disease پاکستان میں پھیل چکی ہے یہ وائرس کی وجہ سے ہے۔علامات:متاثرہ مویشیوں میں بخار،...
29/06/2022

گانٹھ والی جلد کی بیماریLumpy Skin Disease پاکستان میں پھیل چکی ہے یہ وائرس کی وجہ سے ہے۔

علامات:
متاثرہ مویشیوں میں بخار، نزلہ، ناک سے خارج ہونے والا مادہ، جس کے بعد ~50% حساس مویشیوں میں جلد اور جسم کے دیگر حصوں نوڈولس سے پھوٹ پڑتی ہے۔ انکیوبیشن کا دورانیہ 4-14 دن ہے۔نوڈولس اچھی طرح سے گھیرے ہوئے، گول، قدرے ابھرے ہوئے، مضبوط اور تکلیف دہ ہوتے ہیں اور ان میں نظام انھظام، سانس کی نالی شامل ہوتی ہے۔ نوڈولس منہ پر اور ناک اور منہ کی چپچپا جھلیوں کے اندر بن سکتے ہیں۔ جلد کے نوڈولس میں مضبوط، کریمی سرمئی یا پیلے رنگ کے ٹشو ہوتے ہیں۔ لمف نوڈس سوج جاتے ہیں، اور تھن، برسکٹ اور ٹانگوں میں ورم پیدا ہوتا ہے۔ ثانوی انفیکشن ہوتا ہے اور وسیع پیمانے پر sloughing کا سبب بنتا ہے؛ نتیجے کے طور پر، جانور انتہائی کمزور ہو سکتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ، نوڈولس یا تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، یا جلد کے نیکروسس کے نتیجے میں سخت، ابھرے ہوئے حصے ("بیٹھنے والے") ارد گرد کی جلد سے واضح طور پر الگ ہوجاتے ہیں۔بیماریکا تناسب 5%–50% ہے؛ موت عام طور پر کم ہے. سب سے زیادہ نقصان دودھ کی پیداوار میں کمی، حالت کا نقصان، اور کھال کے رد یا کم قیمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
علاج:
ویکسینیشن کنٹرول کا سب سے امید افزا طریقہ پیش کرتا ہے ثانویانفیکشن پر قابو پانے کے لیے اینٹی بائیوٹکس کے انتظام اور اچھی نرسنگ کیئر کی جاتی ہے۔اینٹی بائیوٹکس کے علاج کے حوالے سے، بی پی ایس ایل اے انجیکشن اور لوکسین انجیکشن نے موجودہ حالات میں بہترین علاج ثابت کیا۔الحمدللہ ۔اس کے علاوہ مچھروں اور مکھیوں کو بھی کنٹرول کریں۔اینٹی الرجی انجیکشن اور ایورمیکٹن انجیکشن بھی کارگر ھین۔پورے فارم کی ڈسانفیکشن کریں
-اگر جانور بھوک کی کمی کا شکار ہو اور بہت کمزور ہو تو آپ ان جانوروں کے لیے ایک بہترین علاج کے طور پر Aminox Injection استعمال کر سکتے ہیں۔
نوٹ :
سٹیرائڈز کا استعمال نہ کریں کیونکہ وہ مدافعتی دباؤ کا باعث بنتے ہیں اور جانوروں کی حالت کو مزید خراب کرتے ہیں۔متاثرہ گائے سے پیدا ہونے والے دودھ کو استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ وائرس انسان میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ گوشت بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
امید ہے کہ آپ کو یہ مضمون اس بیماری کے علاج کے حوالے سے مددگار ثابت ہوگا۔

 لمپی سکن ڈیزیز کثیرالانواع جانوروں بالخصوص گائیوں کا ایک متعدی چھوت دار وائرل اور مہلک مرض ہے  جو کہ براعظم افریقہ سے م...
05/06/2022


لمپی سکن ڈیزیز کثیرالانواع جانوروں بالخصوص گائیوں کا ایک متعدی چھوت دار وائرل اور مہلک مرض ہے جو کہ براعظم افریقہ سے متحرک ہوا اور ایشیا مڈل ایسٹ اور مغربی یورپ میں پھیل گیا،
وطن عزیز جہاں عصر حاضر میں متعددآفتوں کا سامنا کر رہا ہے وہاں جانوروں کی متعدی بیماری لمپی سکن بھی دو دو چار چار ہاتھ کر رہی ہے صرف آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ممالک اس مرض سے محفوظ ہیں جو موسمیاتی کیفیات اور فطرتی تحفظ کی وجہ سے ہے

✓وجہ مرض
کیپری پاکس وائرس اس مرض کا سبب ہے جوکہ گرم مرطوب علاقوں میں تیزی سے پھیلتا ہے حشرات الارض جن میں مکھیاں مچھر اور چیچڑشامل ہیں اس مرض کو پھیلانے میں ویکٹرکا کردار ادا کرتے ہیں سلائیوا، متاثرہ جانور کے ڈسچارج میں بھی وائرس موجود ہوتا ہے
(تحریر محمد جنید )
✓علامات مرض
اس مرض کا وائرس جسم میں داخل ہونے کے چار سے چودہ دن میں مرض کی علامات ظاہر کرتا ہے جس میں تیز بخار ¹⁰⁴ تا ¹⁰⁶، لیکریمیشن، ناک سے ڈسچارج کا آنا، سینے پر ممکنہ سوجن اور جسم پر گول قدرے ابھرے ہوئے اور درد زدہ ابھار نمودار ہوتے ہیں جو کہ نظام انہضام، تنفسی اور تولیدی اعضاء تک سرایت کرسکتے ہیں، بروقت اور معیاری علاج نہ ہو تو سیکنڈری بیکٹیریل انفیکشن پیدا ہونے کے ساتھ شرح اموات 50 فیصد تک ہو سکتی ہے دودھ اور گوشت کی پیداوار پر اثر پڑنا اور معاشی نقصان ہونا طے ہے

✓روک تھام
اس مرض کے روک تھام میں چند چیزیں قابل ذکر ہیں
•بیماری پھیلانے والے حشرات الارض کا کنٹرول،
(حشرات کے کنٹرول کے لیے لیے کی تحریریں موجود ہیں)
•کولڈ چین برقرار رکھتے ہوئے معیاری اور بروقت ویکسینیشن،
•وٹامن اے ڈی تھری کا انجکشن،
•لیوامیسول سالٹ پر مشتمل انجکشن یا اورل ادویات، یاد رہے لیوامیسول نہ صرف اینٹی ہلمینتھک ہے بلکہ مدافعتی اعتبار سے جانوروں کے لیے آبِ حیات کا درجہ رکھتا ہے

✓علاج
••• آئیورمیکٹن/ ڈورامیکٹن پہلے ساتویں اور پندرھویں دن،
•••میپرامین / فینرامین 25 سی سی صبح شام تین دن پھر حسب ضرورت / فی بڑا جانور،
•••لنکو + سپائرہ مائیسین کمبینیشن،اینرو فلوکساسین اور پینسلین میں سے کوئی ایک 24 گھنٹے بعد
••• کیٹو پروفن تین دن صبح شام اور بعد میں حسب ضرورت،
••• انجکشن ویڈ تھری کا استعمال
••• لیور ٹانک ادویات کا استعمال تالہ جانور آف فیڈ نہ ہو

(اس تحریر سے اتفاق یا اختلاف سر آنکھوں پر)

گوکہ اس مرض کا مستقبل خوفناک اور تباہ کن اندیشوں سے لبریز ہے، مگر امیدِ واثق ہے کہ فطرت کے اصولوں کے عین مطابق اس کا زور ٹوٹ جائے گا۔۔۔
✓تحریر و تحقیق محمدجنید چکوال

30/05/2022

کامیاب ڈیری فارمنگ کے لیے تجاویز( ذاتی تجربات کے نچوڑ)
1) فارم کا عمارت مضبوط، سستہ، آرام دہ اور آبادی سے دور ہو
2) جانوروں کو خریدتے وقت ان کے جسم سے ذیادہ حوانے پہ نظر رکھو، حیوانہ بڑا اور نمایاں ہو، کمر سیدھی، انکھیں چمکدار اور چمڑا پتلا ہو، دم لمبی اور پتلی ہو
3)اگر دودھ بازار یا اپنے دکان پہ فروخت کرنا ہو تو ایک بھنس اور دو گائے کا تناسب سب سے مناسب اور فائدہ مند ہے
4) شروع میں کم از کم 30 جانور ہونا چاہیے، جانوروں کی خریداری قسط وار یعنی پہلے مہینے 7 ، دوسرے مہینے 7 اور تیسرے مہینے 7 اور پھر پنچویں مہینے 7 ہونا چاہئے، اس کے دو فائدے ہیں
A) اپ کو یکدم دودھ فروخت کرنے کا مشکل نہیں ہوگا
B) سارے جانوروں کا دودھ یکدم خشک نہیں ہوگا، بلکہ آپ کے فارم کا سرکل متوازن چلے گا
5) جانوروں کو کھولا رکھو، رسی باندھا، فارم بند کرنے کے برابر بات ہے. بیل یا سانڈ اچھے نسل کا لیے کر مادہ جانوروں میں چھوڑ دے. لیکن سب جانوروں کا بروسیلہ ٹیسٹ ہر 6 ماہ بعد کرنا ہے.
6) جانوروں کے روزانہ دودھ کا ریکارڈ لکھنا چاہیے، اگر ہوسکے تو ایکسل شیٹ بنادے
6) جانوروں کے ہیٹ، کراس اور حمل چیک کرنے ریکارڈ بنانا چاہیے
7) جو جانور 7 ماہ کا گھبن ہوجائے اس کا دودھ سوکھا کر دوسرے جانوروں سے الگ کرنا چاہیے. جب دودھ مکمل خشک ہوجائے تو اس کو عام چارے کے ساتھ 3 تا 4 کلو ونڈا ڈالے (24 گھنٹوں میں) ایسا کرنے سے جو گائے پہلے 20 لیٹر دودھ دیتی رہو وہ 35 سے اوپر دودھ دے گی
😎 جس دن جانور سوہ جائے اس کو ملک فون سی جلد میں لگائے، اکسی ٹوسین 8 سی سی اسی وقت لگائے تاکہ اس کا جیر اسانی سے نکلے اور وہ بعد میں پورا دودھ دے.
9) بچھڑے کا ناک فورا صاف کرے، اس کو ADE3 چار سی سی لگائے، اس کا ناف دھاگے سے باندھ کر 2 انچ نیچے کاٹ دے ، زخم کا دوائی لگاکر اس کو 2 گھنٹوں کے اندر اندر ماں کا پہلا دودھ جی بھر کر پلادے (گائے بھنس نے جیر نکلا ہو یا نہیں یہ کوئی مسئلہ نہیں) بلکہ اس سے جانور جلدی جیر نکالے گا
10) جانور کو دوسرے جانوروں میں چھوڑ دے اور اگر ہوسکے تو بچھڑے کا وزن معلوم کرکے الگ جگہ رکھے، اس کو معنوعی طریقے سے دودھ پلائے
ہر دس کلو وزن پہ 1 لیٹر دودھ 24 گھنٹے میں پلائے
11) اس طرح اپ کے پاس جو جو جانور بچہ دے اس کو سانڈ اور بیل سے دور رکھ کر دودھ نکالے.
جب جانور کا 40 دن پورے ہوجائے تو اس کو نر جانور کے ساتھ دوبارہ چھوڑ دے
12) پہلے مرحلے میں آپ کے پاس 25 بچھڑے زندہ رہ سکتے ہیں، ان کو عام خوراک کے ساتھ گوشت والا ونڈا دے، دوسرے مرحلے میں 20 بچڑے اور تیسرے مرحلے میں بھی 20 بچھڑے آسکتے ہیں جبکہ تیسرے مرج
حلے پہ آپ کے فارم 2.5 سال پورا ہوکر پہلے مرحلے کے بچڑیاں بھی بچے دنیا شروع کرے گا.
13) یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ نے جس گائے بھنس کا اوسط دودھ سب سے ذیادہ ہو اس کا نر پالنا ہے، اور اس کو بڑا کرکے اس سے نسل کشی لینے کا سلسلہ شروع کرنا ہے.
14) اپنے زمین یا رقبے پہ زرد مکئی قطاروں میں لگاکر سیلج بنانے کا انتظام کرنا
15) خوراک
سیلج 21 یا سبز چارہ 35 کلو
ونڈا چوائی کے وقت جتنا مرضی جانور کھائے (چوائی کا جگہ الگ ہو جہاں جانور خود چال کر آئے)
رات کے وقت
منرل 80 گرام بحساب فی جانور روزانہ
بائی پاس فیٹس 100 گرام فی جانور
میھٹا سوڈا 33 گرام فی جانور
مکس کرکے چارے کے اوپر ڈالے
سردیوں میں شیرہ راب بحساب 150 گرام الگ سے ان سب پہ ڈالنا ہے
16) چوائی کے بعد تھن پہ ساڑو سے بچاو والا دوائی لگانا ہے.
یا گلسرین اور پوؤڈین مکس کرکے گلاس میں ڈال کر چوائی کے بعد اس میں تھن ڈبونا

Address

Meher Shah Khanewal
Khanewal
58150

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923457393930

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Shifa Veterinary Clinic & Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category