26/05/2026
گرمیوں کے شدید موسم میں جب درجہ حرارت چالیس ڈگری یا اس سے اوپر چلا جاتا ہے تو مرغیوں کو ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے جس کے لیے چند بنیادی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا لازمی ہے۔ سب سے پہلے فارم یا گھریلو طرز پر بنے ہوئے چھوٹے برڈز سیٹ اپ کے اندر تازہ ہوا کی آمد و رفت کا بہترین انتظام ہونا چاہیے کیونکہ بند اور حبس زدہ ماحول پرندوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے، اس لیے ہوا کا گزر ایسا ہو کہ اندر کی گرمی مستقل باہر نکلتی رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں مرغیوں کو سردیوں کے مقابلے میں زیادہ کھلی جگہ فراہم کرنی چاہیے کیونکہ تنگ جگہ پر پرندے ایک دوسرے کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنے جسم کی گرمی چھوڑتے ہیں جس سے حبس اور درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے اور ان کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ پرندوں کی صحت کا دارومدار تازہ اور ٹھنڈے پانی پر بھی ہوتا ہے کیونکہ شدید تپش میں وہ اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے عام دنوں سے زیادہ پانی پیتی ہیں، اس لیے ان کے سامنے ہر وقت صاف پانی موجود ہونا چاہیے اور دوپہر کے وقت دن میں کم از کم دو سے تین بار پانی کو لازمی تبدیل کرنا چاہیے تاکہ پانی گرم نہ ہو۔ جب دوپہر کے وقت دھوپ اور گرمی اپنے عروج پر پہنچ جائے تو مرغیاں شدید تناؤ یعنی ہیٹ اسٹریس کا شکار ہو جاتی ہیں جس سے بچانے کے لیے انہیں پانی میں الیکٹرولائٹس ORS وغیرہ یا گلوکوز ڈی ملا کر دینے چاہئیں تاکہ ان کے جسم میں نمکیات کی کمی نہ ہو اور وہ اچانک موت سے محفوظ رہیں۔ آخر میں اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ پرندوں کی رہائش گاہ کے اندر براہ راست دھوپ بالکل نہ آئے، اس مقصد کے لیے جس سمت سے تیز دھوپ آتی ہو وہاں باہر کی طرف گرین نیٹ یا مناسب شیڈ لگا دینا چاہیے تاکہ اندر کا ماحول سایہ دار رہے اور پرندے گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔
مفید معلومات کے لیے پیج کو فالو کریں اور پیج پر فراہم کی ہوئی معلومات سے استفادہ حاصل کیا کریں اس سے اپ کو پرندے پالنے میں کافی حد تک آسانی ہوگی