18/01/2026
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ”ایک کتا ایک کنویں کے چاروں طرف چکر کاٹ رہا تھا جیسے پیاس کی شدت سے اس کی جان نکل جانے والی ہو کہ بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے اسے دیکھ لیا۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتار کر کتے کو پانی پلایا اور اس کی مغفرت اسی عمل کی وجہ سے ہو گئی۔“ (صحيح البخاری )
حدیث مبارکہ کے مطابق ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے والی فاحشہ جنت کی حقدار ٹھری تو پھر ان کو یوں مار دینا یہ ظلم آخر کیوں؟؟؟؟ درخت منتقل ہو سکتے پھر بھی کاٹ دینا کیوں ؟؟؟؟ انسان سے فاصلہ رکھا،جا،سکتا پھر بھی بلاک کا ہتھوڑا کیوں ؟؟؟؟ قطع تعلقی کا گناہ کیوں؟؟؟؟؟؟؟ ہم انسان کہنے کے لائق ہیں؟؟؟ کیا،انسانیت ہے ہم میں؟؟؟؟؟؟؟؟