25/04/2026
اسلامی تعلیمات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں کچھ ایسے گناہگاروں کا ذکر ملتا ہے جن کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں کہ وہ جنت میں (شروع میں یا براہِ راست) داخل نہیں ہو سکیں گے یا ان پر جنت "حرام" کر دی گئی ہے
ایک مشہور حدیث (سنن نسائی اور مسند احمد) کے مطابق وہ تین افراد یہ ہیں:
1. معتاد الخمر (شراب کا عادی)
وہ شخص جو توبہ کیے بغیر شراب نوشی کی حالت میں مر جائے یا جس کی زندگی شراب نوشی کی لت میں گزری ہو۔ نشہ آور چیزوں کا استعمال اسلام میں بڑے گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔
2. عاق الوالدین (والدین کا نافرمان)
وہ شخص جو اپنے والدین کو دکھ دیتا ہے، ان کی نافرمانی کرتا ہے یا ان کے ساتھ بدتمیزی اور بدسلوکی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اس لیے ان کی نافرمانی جنت کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔
3. الدیّوث (دیوث)
دیوث اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے گھر والوں (اہل و عیال) میں بے حیائی اور فحاشی کو دیکھ کر اسے برقرار رکھے اور اسے برا محسوس نہ کرے یا اس پر غیرت نہ کھائے۔ یعنی وہ شخص جو اپنے گھر میں ہونے والی بے حیائی پر خاموش رہے اور اسے روکنے کی کوشش نہ کرے۔
ایک اہم نکتہ:
علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ یہ وعیدیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور توبہ کے بغیر اسی حال میں دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔