04/07/2026
ایک وہ جو 40 روپے کی چیز 90 روپے میں دے کر بھی کہتا ہے “حساب نہیں بنتا”، اور دوسرا وہ جو بچے کے فیڈر کا دودھ مفت بھر کر کہتا ہے “بچوں کے پیسے نہیں لیتا۔”
یہ صرف 2 تصویریں نہیں تھیں، یہ 2 سوچیں تھیں۔
اور دونوں کا سبق الگ الگ تھا۔
میں موٹروے پر سفر کر رہا تھا۔ راستے میں ایک ریسٹ ایریا آیا، وہاں کھانا کھایا۔ کھانا مہنگا تھا، لیکن چلیں ایسی جگہوں پر قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں، یہ بات سمجھ آتی ہے۔
کھانے کے بعد میری بیگم نے کہا کہ بچے کے لیے کوئی بسکٹ لے آئیں۔ میں دکان پر گیا اور زیرا پلس کا پیکٹ لیا ۔ قیمت پوچھی تو دکاندار نے کہا 90 روپے۔
میں نے حیران ہو کر کہا، بھائی یہ تو عام مارکیٹ میں تقریباً 40 روپے کا آتا ہے، یہاں اتنا مہنگا کیوں دے رہے ہیں؟
وہ کہنے لگا، بھائی یہاں کرایہ بہت زیادہ ہے، خرچے بہت ہیں۔
میں نے کہا، ٹھیک ہے بھائی، آپ کا خرچہ زیادہ ہے تو 10، 20 روپے اوپر لے لیں، بندہ سمجھ جاتا ہے۔ لیکن 40 روپے والی چیز 90 روپے میں دینا مناسب نہیں۔ تھوڑا منافع رکھیں گے تو چیز زیادہ بکے گی، لوگ خوشی سے خریدیں گے۔
وہ کہنے لگا، بھائی پھر calculation نہیں نکلتی۔
میں نے بات وہیں ختم کی، انکو پیسے دیے دل میں افسوس ہوا، لیکن خاموشی سے آگے سفر کے لیے روانہ ہو گیا۔
میں نے اسکی تصویر لی اور سوچا میں یہ ضرور پوسٹ کروں گا لیکن بعد میں سوچا Social Media پر Negative چیز ویسے ہی بہت چلدی وائرل ہوتی ہے میں نے یہ پوسٹ نہیں کرنی
واپسی پر بھیرہ ریسٹ ایریا پر رکے۔ بچے کا فیڈر ساتھ تھا، میں ایک چائے والے کے پاس گیا اور کہا بھائی اس میں دودھ بھر دیں۔
فیڈر میں شاید دو کپ چائے جتنا دودھ آ جاتا، جس کے میں پیچھے تقریباً 200 سے 400 روپے دیتا رہا ہوں
میں نے دودھ بھرنے کے بعد پوچھا، بھائی کتنے پیسے ہوئے؟
وہ کہنے لگا، ایک روپیہ بھی نہیں۔
میں نے پوچھا، کیوں بھائی؟
وہ کہنے لگا، بچوں کے فیڈر کے پیسے نہیں لیتا میں۔
میں نے کافی اصرار کیا کہ بھائی پیسے رکھ لیں، لیکن وہ نہیں مانا۔ آخر میں نے دل سے اس کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے آگے روانہ ہو گیا۔
اسی سفر میں دو لوگ ملے۔
ایک شخص 40 روپے والی چیز 90 روپے میں دے رہا تھا، اور دوسرا شخص 200، 400 روپے کا دودھ کی پیسے نہیں لے رہا
ایک طرف منافع کے نام پر زیادتی تھی، دوسری طرف رزق میں برکت والی سوچ تھی۔
پہلے میں نے سوچا تھا کہ صرف بسکٹ والی بات لکھوں، تاکہ لوگ سمجھیں کہ زیادہ منافع کمانے کے لیے لوگوں کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ اگر قیمت بڑھانی بھی ہے تو مناسب بڑھائیں، double prices نہ کریں۔
پھر میں نے سوچا اسکو پوسٹ نہیں کرنا
لیکن پھر دودھ والے واقعے نے مجھے مجبور کر دیا کہ صرف شکایت نہیں، اچھائی بھی پھیلانی چاہیے۔
کیونکہ معاشرے میں برائی بتانے والے بہت ہیں، لیکن اچھے لوگوں کا ذکر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اس لیے میں نے سوچا آج صرف شکایت نہیں کرنی، اچھائی کو بھی آگے پھیلانا ہے۔
اب آپ بتائیں:
کیا ریسٹ ایریاز پر 40 روپے والی چیز 90 روپے میں بیچنا جائز ہے کیونکہ ان کا rent زیادہ ہوتا ہے؟
یا پھر انسان کو منافع کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مجبوری کا بھی خیال رکھنا چاہیے؟