عطاءالرحمٰن

عطاءالرحمٰن وہ کیا جانیں بیچ بھنور کو
ساحل پر جو ڈوب گئے ہیں

عطاءالرحمٰن

میرا نام عطاءالرحمٰن ہے اور میرا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل حضرو سے ہے۔ بچپن سے ہی مجھے شعر و شاعری کا شوق تھا، مگر سیکھنے کے مواقع محدود تھے۔ باوجود اس کے، میں نے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ چونکہ میں نے سائنس کا مطالعہ کیا ہے، اس لیے اردو ادب کو زیادہ وقت نہیں دے سکا اور وقت کے ساتھ یہ شوق ماند پڑتا گیا۔
پھر تحصیل حضرو میں ادبی تنظیم بہار نو نے جنم لیا، جو بہت جلد پورے پاکستان میں مقبو

لیت حاصل کرنے لگی۔ اسی دوران، جس سکول میں میں پڑھاتا تھا، وہاں ادبی تنظیم بہار نو کے بانی اور صدر، محترم طارق محمود ڈار درویش صاحب ہیڈ ماسٹر کے طور پر تعینات ہوئے۔ یوں میرے اندر کی چھپی ہوئی چنگاری پھر جوش سے بھڑک اٹھی۔
ایک دن محترم علی آرش مجھے اپنے ساتھ ایک مشاعرے میں لے گئے۔ وہ جانتے تھے کہ شاعری سے مجھے گہرا لگاؤ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے ادبی تنظیم بہار نو کی رکنیت دلوائی اور اگلے مشاعرے میں پڑھنے کا کہا۔ اس وقت تک میرے پاس زیادہ تجربہ یا اصول و ضوابط کی معلومات نہیں تھیں، مگر محترم علی آرش اور دیگر اساتذہ نے میرے اندر چھپا ہوا شاعر دیکھ لیا تھا۔
مشاعرے سے تین دن قبل انہوں نے کہا کہ آپ ہر صورت پڑھیں گے، اور تین دن میں میں نے ابتدائی اشعار تیار کیے۔ استاد الشعراء محترم طارق محمود ڈار صاحب سے اصلاح کروائی اور مشاعرے میں پیش کیے، جس پر کافی داد ملی۔ اس کے بعد میں نے باقاعدہ ادبی تنظیم بہار نو کے بانی طارق محمود ڈار صاحب، صدر سلطان محمود صاحب اور دیگر ممبران و اساتذہ کرام سے شاعری کی بنیادی باتیں سیکھیں۔
اگرچہ اب بھی میں نے بہت کم اشعار کہے ہیں، لیکن شوق اور جذبہ برقرار ہے اور میں مسلسل سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

28/08/2025

میرا نام عطاءالرحمٰن ہے اور میرا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل حضرو سے ہے۔ بچپن سے ہی مجھے شعر و شاعری کا شوق تھا، مگر سیکھنے کے مواقع محدود تھے۔ باوجود اس کے، میں نے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ چونکہ میں نے سائنس کا مطالعہ کیا ہے، اس لیے اردو ادب کو زیادہ وقت نہیں دے سکا اور وقت کے ساتھ یہ شوق ماند پڑتا گیا۔

پھر تحصیل حضرو میں ادبی تنظیم بہار نو نے جنم لیا، جو بہت جلد پورے پاکستان میں مقبولیت حاصل کرنے لگی۔ اسی دوران، جس سکول میں میں پڑھاتا تھا، وہاں ادبی تنظیم بہار نو کے بانی اور صدر، محترم طارق محمود ڈار درویش صاحب ہیڈ ماسٹر کے طور پر تعینات ہوئے۔ یوں میرے اندر کی چھپی ہوئی چنگاری پھر جوش سے بھڑک اٹھی۔

ایک دن محترم علی آرش مجھے اپنے ساتھ ایک مشاعرے میں لے گئے۔ وہ جانتے تھے کہ شاعری سے مجھے گہرا لگاؤ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے ادبی تنظیم بہار نو کی رکنیت دلوائی اور اگلے مشاعرے میں پڑھنے کا کہا۔ اس وقت تک میرے پاس زیادہ تجربہ یا اصول و ضوابط کی معلومات نہیں تھیں، مگر محترم علی آرش اور دیگر اساتذہ نے میرے اندر چھپا ہوا شاعر دیکھ لیا تھا۔

مشاعرے سے تین دن قبل انہوں نے کہا کہ آپ ہر صورت پڑھیں گے، اور تین دن میں میں نے ابتدائی اشعار تیار کیے۔ استاد الشعراء محترم طارق محمود ڈار صاحب سے اصلاح کروائی اور مشاعرے میں پیش کیے، جس پر کافی داد ملی۔ اس کے بعد میں نے باقاعدہ ادبی تنظیم بہار نو کے بانی طارق محمود ڈار صاحب، صدر سلطان محمود صاحب اور دیگر ممبران و اساتذہ کرام سے شاعری کی بنیادی باتیں سیکھیں۔

اگرچہ اب بھی میں نے بہت کم اشعار کہے ہیں، لیکن شوق اور جذبہ برقرار ہے اور میں مسلسل سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

**حقیقی واقعہ**ایک لڑکا سکول سے گھر آیا۔والد نے پوچھا: "ریزلٹ کا کیا بنا؟"لڑکے نے جواب دیا: "ابو! میں پاس ہو گیا ہوں۔"یہ...
04/08/2025

**حقیقی واقعہ**

ایک لڑکا سکول سے گھر آیا۔
والد نے پوچھا: "ریزلٹ کا کیا بنا؟"
لڑکے نے جواب دیا: "ابو! میں پاس ہو گیا ہوں۔"
یہ سن کر ابو خوشی سے مٹھائی لے آئے اور پورے محلے میں تقسیم کرنے لگے۔

اتنے میں لڑکے کا ایک دوست آ گیا۔ اس نے پوچھا: "انکل! مٹھائی کس خوشی میں بانٹ رہے ہیں؟"
ابو نے فخر سے کہا: "بیٹا پاس ہو گیا ہے، اسی خوشی میں!"

دوست نے حیرانی سے کہا: "لیکن انکل! وہ تو فیل ہو گیا ہے!"

یہ سن کر والد غصے سے گھر آئے اور لڑکے سے کہا:
"تمہارا دوست کہہ رہا ہے کہ تم فیل ہو گئے ہو؟"

لڑکے نے معصومیت سے جواب دیا:
"ابو! ماسٹر صاحب کو میرے ریزلٹ پر شک تھا، اس لیے کہہ رہے تھے کہ کل آنا، تمہارے ریزلٹ پر ٹاس کریں گے!" 😀😂😀

(نوٹ: اس واقعے کا سینیٹ کے الیکشن سے کوئی تعلق نہیں!)

بشکریہ استاد الشعراء طارق محمود ڈار صاحبظلم کی انتہا نہیں ہوتیپر یہ ظلمت سدا نہیں ہوتیاُن میں دولت کے جو پجاری ہوں یاد ر...
31/03/2025

بشکریہ استاد الشعراء طارق محمود ڈار صاحب

ظلم کی انتہا نہیں ہوتی
پر یہ ظلمت سدا نہیں ہوتی

اُن میں دولت کے جو پجاری ہوں
یاد رکھنا، وفا نہیں ہوتی

اپنے لوگوں سے روز لٹتے ہیں
اِن پہ نازل بلا نہیں ہوتی

روز دیکھو یہی تماشا ہے
اب طبیعت خفا نہیں ہوتی

منزلیں ان سے روٹھ جاتی ہیں
جن کے پیچھے دعا نہیں ہوتی

چاپلوسی، جناب! جی یارم!
مجھ سے تو باخدا نہیں ہوتی

شعر اک بھی نہیں کہا جاتا
جب خدا کی عطا نہیں ہوتی

عطاءالرحمٰن

Need Your Comment. Words from my Heart for a Mother.مجھے تم سے محبت ہے میرے بیٹےتمہیں میں نے ہی پالا ہے میرے بیٹےابھی تو...
29/03/2025

Need Your Comment. Words from my Heart for a Mother.

مجھے تم سے محبت ہے
میرے بیٹے
تمہیں میں نے ہی پالا ہے
میرے بیٹے
ابھی تو تم جواں ہو ناں
تمہیں ہوگی محبت بھی
کرو وعدے کسی سے جب
مجھے بھی یاد رکھ لینا
میرے بیٹے

عطاءالرحمٰن

4 جولائی 2017

چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کا غیر شادی شدہ حضرات کو چین کا ویزہ جاری کرنے کا حکم نامہ جاری۔ ان سے کہا گیا ک...
29/03/2025

چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کا غیر شادی شدہ حضرات کو چین کا ویزہ جاری کرنے کا حکم نامہ جاری۔ ان سے کہا گیا کہ وہ چین جا کر چینی لے آئیں۔ 😂

بشکریہ استادِ محترم طارق محمود ڈار صاحب ( درویش ڈار)یوں وہ قصے ہمیں سناتے ہیں جو حقیقت ہے وہ چھپاتے ہیں اپنے لیڈر بلا کے...
25/03/2025

بشکریہ استادِ محترم طارق محمود ڈار صاحب ( درویش ڈار)

یوں وہ قصے ہمیں سناتے ہیں
جو حقیقت ہے وہ چھپاتے ہیں

اپنے لیڈر بلا کے وحشی ہیں
اور، وحشی عذاب لاتے ہیں

شاہ کا حکم حرفِ آخر ہے
گھر جلانے پڑیں جلاتے ہیں

جب جنوں تھا، جہاد باقی تھا
اب تو قصے فقط سناتے ہیں

جو بھی ڈر جائیں اہلِ دنیا سے
اپنی گردن وہی جھکاتے ہیں

دل میں طوفانِ دردِ ہجراں ہے
لب پہ پھر بھی سلام لاتے ہیں

یہ عطا کی ہے رفعتِ بینش
تجھ کو دنیا نئی دکھاتے ہیں

عطاءالرحمٰن

اس نے یونہی کیا اک اشارا مجھے یہ کہا، "لا کے دے اک ستارا مجھے" میرا کوئی نہیں ہے ترے بن یہاں بے سہارا نہ چھوڑو خدارا مجھ...
25/03/2025

اس نے یونہی کیا اک اشارا مجھے
یہ کہا، "لا کے دے اک ستارا مجھے"

میرا کوئی نہیں ہے ترے بن یہاں
بے سہارا نہ چھوڑو خدارا مجھے

میری پگڑی گری دار پر لے گئے
سب نے مسند سے جونہی اتارا مجھے

اُس سے کوئی توقع نہ تھی ظلم کی
جس نے اپنا کہا اور مارا مجھے

"ہیں ازل تا ابد ٹوٹتے آئنے"
تم ہی جوڑو انہیں، یوں پکارا مجھے

مجھ عطا کو سیہ بخت سب نے کہا
اور چھوڑا یونہی بے سہارا مجھے

عطاءالرحمٰن

برسرِ رہ طعام ہے پیارےاب یہ کیا انتظام ہے پیارےوہ مرے در کی راہ تکتا ہےمجھ سے پھر اس کو کام ہے پیارےشیخ بھی اس کے در پہ ...
01/12/2024

برسرِ رہ طعام ہے پیارے
اب یہ کیا انتظام ہے پیارے

وہ مرے در کی راہ تکتا ہے
مجھ سے پھر اس کو کام ہے پیارے

شیخ بھی اس کے در پہ ہوتا ہے
میرا بدنام نام ہے پیارے

روز چائے یہی پہ پیتا ہے
دیکھتا یونہی بام ہے پیارے

چور اب منہ چھپائے بیٹھا ہے
برسرِ رہ عوام ہے پیارے

وہ عطا کو بنا لے اپنا تو
اس پہ کہنا سلام ہے پیارے

عطاءالرحمٰن

زر زمیں زیور مے و مینا دیا ہم نے اس کے نام پر کیا کیا دیاتحفے میں مانگی تھی اس نے جان بھی سر قلم کر کے اسے بجھوا دیااور ...
18/11/2024

زر زمیں زیور مے و مینا دیا
ہم نے اس کے نام پر کیا کیا دیا

تحفے میں مانگی تھی اس نے جان بھی
سر قلم کر کے اسے بجھوا دیا

اور کچھ احسان مجھ پر کم تھے کیا؟
دشمنوں میں نام بھی لکھوا دیا

بے ضمیری، زن فروشی عام ہے
اس لیے دل کھول کر پیسہ دیا

پھر سے پیدا ہو گئے غدار جو
شاہ کو پھر تحت پر مروا دیا

گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں
پیر کو تیتر دیے بکرا دیا

وہ کسی صورت مرا بنتا نہ تھا
اس لیے دیوار میں چنوا دیا

عطاءالرحمٰن
Atta Ur Rehman

Address

Hazro

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عطاءالرحمٰن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share