28/08/2025
میرا نام عطاءالرحمٰن ہے اور میرا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل حضرو سے ہے۔ بچپن سے ہی مجھے شعر و شاعری کا شوق تھا، مگر سیکھنے کے مواقع محدود تھے۔ باوجود اس کے، میں نے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ چونکہ میں نے سائنس کا مطالعہ کیا ہے، اس لیے اردو ادب کو زیادہ وقت نہیں دے سکا اور وقت کے ساتھ یہ شوق ماند پڑتا گیا۔
پھر تحصیل حضرو میں ادبی تنظیم بہار نو نے جنم لیا، جو بہت جلد پورے پاکستان میں مقبولیت حاصل کرنے لگی۔ اسی دوران، جس سکول میں میں پڑھاتا تھا، وہاں ادبی تنظیم بہار نو کے بانی اور صدر، محترم طارق محمود ڈار درویش صاحب ہیڈ ماسٹر کے طور پر تعینات ہوئے۔ یوں میرے اندر کی چھپی ہوئی چنگاری پھر جوش سے بھڑک اٹھی۔
ایک دن محترم علی آرش مجھے اپنے ساتھ ایک مشاعرے میں لے گئے۔ وہ جانتے تھے کہ شاعری سے مجھے گہرا لگاؤ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے ادبی تنظیم بہار نو کی رکنیت دلوائی اور اگلے مشاعرے میں پڑھنے کا کہا۔ اس وقت تک میرے پاس زیادہ تجربہ یا اصول و ضوابط کی معلومات نہیں تھیں، مگر محترم علی آرش اور دیگر اساتذہ نے میرے اندر چھپا ہوا شاعر دیکھ لیا تھا۔
مشاعرے سے تین دن قبل انہوں نے کہا کہ آپ ہر صورت پڑھیں گے، اور تین دن میں میں نے ابتدائی اشعار تیار کیے۔ استاد الشعراء محترم طارق محمود ڈار صاحب سے اصلاح کروائی اور مشاعرے میں پیش کیے، جس پر کافی داد ملی۔ اس کے بعد میں نے باقاعدہ ادبی تنظیم بہار نو کے بانی طارق محمود ڈار صاحب، صدر سلطان محمود صاحب اور دیگر ممبران و اساتذہ کرام سے شاعری کی بنیادی باتیں سیکھیں۔
اگرچہ اب بھی میں نے بہت کم اشعار کہے ہیں، لیکن شوق اور جذبہ برقرار ہے اور میں مسلسل سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔