Ahsan veterinary services

Ahsan veterinary services Animal care Center guajr khan

جانوروں میں افزائش نسل کے بعد جانور کا حمل نہ ٹھہرنا مینجمنٹ کے مسائل کی وجہ 1۔جانور کا صحیح طور پہ ہیٹ میں نہ ہونا۔2۔جا...
13/05/2025

جانوروں میں افزائش نسل کے بعد جانور کا حمل نہ ٹھہرنا
مینجمنٹ کے مسائل کی وجہ
1۔جانور کا صحیح طور پہ ہیٹ میں نہ ہونا۔
2۔جانور کی ہیٹ کے وقت کا تعین نہ ہونا۔
3۔جانور کی خوراک کا مناسب اور موزوں نہ ہونا
4۔جانور کو وٹامن اور منرل کی کمی
5۔ماحولیاتی مسائل( زیادہ سردی یا زیادہ گرمی۔حبس ) یہ بھی ابتدائی حمل پہ اثرانداز ہوتے ہیں۔
6۔جانور کو ہارمونل پرابلم (ہارمون کی کمی یا زیادتی مثلاً اگر جانور میں ہارمون کی زیادتی ہوگی تو وہ زیادہ دیر تک ہیٹ میں رہے گا اگر کمی ہوگی تو ہیٹ سائیکل پہ اثرانداز ہوگی وہ جانور کبھی کسی ٹائم پہ اور کبھی کسی ٹائم پر ہیٹ میں ہوگا )
7۔اگر مصنوعی نسل کشی سے کراس کرواتے ہیں اور بار بار جانور رپیٹ ہورہا ہے تو سیمن کا پرابلم بھی ہوسکتا ہے۔اور اگر سانڈ سے باربار رپیٹ ہورہی ہے تو سانڈ کا چیک اپ ضروری ہے کہیں اس کے سپرم کمزور یا مردہ تو نہیں۔
ان تمام مسائل سے پہلے جانور کے تولیدی نظام کو سمجھنا ضروری ہے۔
مادہ جانور کا تولیدی نظام بچہ دانی (Uterus ) پہ مشتمل ہے جس کے حصہ باہر والا ولوا (vestibule) اس سے اندر کی طرف ویجائنہ ،سروکس لمبی رسی نما اور اس کے آخر پہ سرویکل رنگ (Cervical rings) ہوتے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بچہ دانی کا اہم حصہ ہوتا ہے جس کو ( Body of uterus ) کہتے ہیں۔یہاں پہ بچہ کی گروتھ ہوتی ہے اس سے آگے دو حصے ہوتے ہیں جن کو یوٹرائن ہارن کہتے ہیں ان کے آخر لمبی دھاگہ نما ٹیوب ہوتی ہے جس کو فلوپین ٹیوب کہتے ہیں۔اس کے سرے پہ چھوٹی چھوٹی دانہ نما اووریز ہوتی ہیں۔جن سے بیضہ ova نکلتا ہے اور وہ بیضہ فلوپین ٹیوب میں آجاتا ہے جہاں پہ سپرم سے اس کا ملاپ ہوتا ہے۔
اب موضوع پہ آتے ہیں:
جانور مکمل صحت مند ہے ہیٹ بھی صحیح ہے۔صحیح ٹائم پہ کراس کروانے کے بعد بھی نہیں ٹہر رہا تو اس کی کئی وجوہات ہیں۔
1۔بیضہ کو اخراج نہ ہونا۔
2۔سپرم کا کمزور ہونا۔
3۔بیضہ کا اوری سے نکل کے فلوپین ٹیوب میں رک جانا(جس کی وجہ فلوپین ٹیوب کی سوزش بھی ہوسکتی ہے۔
4۔سپرم کو ایگ یا بیضہ سے ملاپ کے لیے 6 گھنٹے درکار ہوتے ہیں جس کے دوران سپرم خود کو تیار کرتے ہیںCapacitation )اگر ہیٹ یہ ٹائم نہ ملے تو اور ایگ پہلے نکل آئے تو سپرم سے ملاپ نہ ہوگا اور جانور نہیں ٹہرے گا۔اور اگر سپرم کا بیضہ سے ملاپ ہوبھی جائے لیکن بعض اوقات بیضہ بچہ دانی کی دیوار سے نہیں لگ سکتا اور باہر آجاتا ہے اور جانور. پھر ہیٹ میں
Dr .Ahsan

29/04/2025
تھنوں کے مسائل:-ساڑو یا سوزشِ حیوانہ کیا ہے ؟ *ساڑو یا سوزش حیوانہ کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ ڈیری فارمرز کے لیے سب س...
29/04/2025

تھنوں کے مسائل:-
ساڑو یا سوزشِ حیوانہ کیا ہے ؟
*ساڑو یا سوزش حیوانہ کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ ڈیری فارمرز کے لیے سب سے بڑا معاشی نقصان ہے تو غلط نہ ہوگا۔
*⦁ایک اندازے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک جانور ساڑو کا شکار ہوتا ہے
*⦁دنیا بھر میں ساڑو کا خطرہ جانور کو پورا سال لاحق رہتا ہے
*⦁ ساڑو سے مکمل بچاؤ
*اگرچہ مشکل ضرور ہے، مگر باقاعدگی سے ہر چوائی کے وقت پری ملکنگ ٹیٹ ڈپنگ اور پوسٹ ملکنگ ٹیٹ ڈپنگ کا عمل دہرایا جائے تو ساڑو کے خطرات کو % 80 تک کم کیا جا سکتا ہے۔
*⦁ پوشیدہ ساڑو کو بروقت سے کنٹرول کریں، اس سے پہلے کہ یہ ظاہری ساڑو کی شکل اختیار کر ے، اس کے لیے ضروری ہے کہ مستقل* *بنیادوںپرکیلیفورنیا میسٹائٹس ٹیسٹ باقاعدگی سے کئے جائیں
*ساڑو یا سوزش حیوانہ دراصل مویشی کے تھن کی سوزش ہے، جس کے نتیجے میں دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر حیوانہ کا انفیکشن ہے، جو* *دنیائے ڈیری میں بہت عام ہے۔
*ساڑو کی عموماً دو قسمیں ہیں:
*⦁ ظاہری ساڑو
*⦁ پوشیدہ ساڑو
*ظاہری ساڑو کی صورت میں حیوانہ/تھن پر سوجن یا حیوانہ گرم ہو جاتا ہے،
*حیوانہ اپنی اصل شکل سے کئی گنا بڑا ہو جاتا ہے۔
*حیوانہ چھونے سے جانور کو درد محسوس ہوتاہے اور جانور کو بخار ہوجاتا ہے۔
*دودھ میں پیپ، خون اور چھیچھڑے یا چھیڈیاں نمایاں ہو تی ہیں۔
*پوشیدہ ساڑو کی علامات بھی پوشیدہ ہوتی ہیں اور یہ تھن میں ناڑ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
*اس کے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ مستقل بنیادوں پرکیلیفورنیا ماسٹائٹس ٹیسٹ کیے جائیں
*اس کے علاوہ دودھ میں سومیٹک سیلز خلیات کی تعداد مقررہ حد سے زیادہ ہونا اور دودھ کا ذائقہ نمکین ہونا بھی پوشیدہ ساڑو کی علامت ہے۔

*وجوہات*
*جانوروں میں ساڑو کا سبب مختلف اقسام کے مائیکرو آرگنزم ہیں، جن میں مائکوپلازما، فنگس اور بیکٹیریاشامل ہے، جن کو مزید تفصیلا بیان کیا جا رہا ہے۔
*وہ بیکٹیریل انفیکشن یا نباتاتی جراثیم جو ساڑو کا سبب بنتے ہیں، ان میں
⦁ پاسچریلا ملٹوسیڈا
⦁ سٹفیلوکوکس آریس
⦁ اسٹرپٹوکوکس زویپدمکس
⦁اسٹرپٹوکوکس ایگالیکشیا
⦁ اسٹرپٹوکوکس پائیوجینس
⦁ اینٹروکوککس فیکلس
⦁مائکوبیکٹیریم بووس
⦁ کلیبسیلا نمونیا
⦁بروسیلا ابورٹس
⦁سیوڈموناس پیوکینیئس
⦁ایکولائی

*⦁ لیپٹوسپیرا پومونا
*شامل ہیں
*مختلف اقسام کی پھپھوندی یا فنگس مثلاً اسپرگلس فمی گیٹس, اے میڈیولس* *کنڈیڈہ ایس پی پی, ٹریچوسپورون ایس پی پی بھی ساڑو کے ذمہ دارسمجھے جاتے ہیں
علامات
*⦁ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا عام علامات میں تھن یا حیوانہ سرخ، سخت اور گرم محسوس ہوتا ہے۔
*⦁ چھونے پر جانور درد اور بے آرامی محسوس کرتا ہے، جانور کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
*⦁ متاثرہ تھن سے چوائی کرنے پر بدبو محسوس ہونا، گہرے رنگ کے مائع کا اخراج اور دودھ میں پھٹکیاں نمایاں ہوتی ہیں۔
*⦁ ساڑو کی صورت میں دودھ کی پیداوار انتہائی کم یا مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
*⦁ دیگر علامات میں بھوک کا نہ لگنا، تھن کے درد اور سوجن کے باعث جانور کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ ڈائریا، ہاضمے کی خرابی اور آنکھوں کا دھنس جانا شامل ہے۔
*⦁ متاثرہ جانور پانی اور وزن کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے، شدید انفیکشن کی کی صورت میں جانور کے متاثرہ تھن سے پیپ یا پس بننے لگ جاتی ہے، ساڑو کی اس شدید صورت کو ”انگیاری” کہا جاتا ہے۔ساڑو انفیکشن شدید ہونے کے نتیجے میں ٹاکسیمیایا بیکٹیریاکی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جانور کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
*⦁ اگر کسی جانور میں یہ علامات ظاہر ہوں تو اسکے تھنوں اورحیوانہ کی سطح پر برف کی ٹکور کریں، ایسا کرنے سے سوجن اور درد میں کمی واقع ہوتی ہے۔
*⦁ متاثرہ تھن سے دن میں تین مرتبہ چوائی کریں اور مکمل طور پر خالی کر دیں۔
*⦁ متاثرہ جانور کا ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور ہدایات کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کا کورس کروائیں۔
*درج ذیل چند احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے جانور کو کافی حد تک ساڑو کے حملے سے بچایا جا سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
*⦁ تمام احتیاطی تدابیر میں کیلیفورنیا ماسٹائٹس ٹیسٹ سرفہرست ہے، اسکی کٹ بازار میں با آسانی دستیاب ہے۔بعض فارمر حضرات اس ٹیسٹ کو سرف ملے پانی سے سر انجام دیتے ہیں مگر ویٹرنری ڈاکٹرز کے مطابق صحیح جانچ کے لیے بازار سے دستیاب تیار شدہ محلول لیا جائے۔
*⦁ جانور کو بیٹھنے کے لیے صاف، خشک اور مناسب جگہ فراہم کریں۔
*⦁ یقینی بنائیے کہ چوائی سے قبل تھن مکمل طور پر صاف اور خشک ہوں۔
*⦁ چوائی کا درست طریقہ اپنائیں، انگوٹھا موڑ کر چوائی کے طریقے سے گریز کریں۔
*⦁ جانور کے تھن میں کسی بھی قسم کی کوئی نوکدار شے داخل کرنے سے گریز کریں۔
*⦁ چوائی کے بعد یقین دہانی کر لیں کہ دودھ تھنوں میں باقی نہ رہے۔
*⦁ یقینی بنائیں کہ چوائی کرنے والے کے ہاتھ صاف اور دھلے ہوے ہوں، ہاتھ میں کوئی انگوٹھی یا چھلہ نہ ہو اور ناخن کٹے ہوئے ہوں۔
*⦁ چوائی سے قبل اور بعد میں ٹیٹ ڈپنگ لازمی کریں۔
*⦁ چوائی کے فوری بعد جانور کو چارہ کھلائیں تاکہ وہ بیٹھنے نہ پائے، چونکہ تھن کے منہ چوائی کے بعد کھلے ہوتے ہیں، اسطرح کرنے سے ماحولیاتی جراثیم تھن میں داخل نہ ہو ں، جانور کو کم از کم آدھا گھنٹہ کھڑا رکھیں۔
*⦁ منہ کھر کی بیماری میں ساڑو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہذا اس کو نظرانداز نہ کریں۔
*⦁ چوائی کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ متاثرہ جانور کا دودھ آخر میں لیا جائے تاکہ انسانی ہاتھوں سے انفیکشن ٹرانسفر نہ ہو۔
*⦁ ساڑو زدہ دودھ میں پانچ فیصد فینول کا مرکب شامل کر کے احتیاط کے ساتھ ضائع کر دیں۔
*⦁ جانور میں غیر متوازن خوراک، نمکیات یا حیاتین کی کمی بھی ساڑو کا سبب بنتی ہے۔ جانور کو کبھی بھی خراب یا پھپھوندی لگی ہوئی خوراک نہ کھلائیں۔
*ساڑو سے بچاؤ کے لیے بہت ضروری ہے کہ صفائی کا *خاص خیال رکھا جائے، نہ صرف جانور بلکہ جانور کا خیال کرنے والے افراد اور اردگرد کا ماحول بھی صاف ہو، ورنہ کئی طرح کے جراثیم حملہ آور ہونے کو تیار ہوتے ہیں، مثلاً
*⦁ ماحولیاتی جراثیم: یہ اردگرد کی چیزوں پر ہو سکتے ہیں، مثلاً گوبر، کیچڑ اور پرالی وغیرہ، یہ جراثیم تھن کے سوراخوں سے داخل ہو کر ساڑو کا خطرہ بنتے ہیں۔
*⦁ موقع پرست جراثیم: عام طور پر اگر چوائی کرنے والے کے ہاتھ صاف نہ ہو تو بیماری لگنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
*⦁ چھونے والے جراثیم: اگر کسی بھی وجہ سے تھن پر کوئی کٹ یا زخم لگا ہو، تو جراثیم تھن میں داخل ہو سکتے ہیں۔
*⦁ اس کے علاوہ جانور کو پہنچنے والا کوئی بھی جسمانی نقصان یا صدمہ بھی ساڑو کا سبب بنتا ہے۔
*⦁ فارم کی روزانہ دھلائی اور صفائی کے دوران جراثیم کش ادویات کے باقاعدہ استعمال سے ماحولیاتی جراثیم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

*چند اہم نکات
*⦁ ” ایم ایس ڈی ویٹرنری دستی” کے مطابق تندرست جانور کے دودھ میں* *سومیٹک سیلز خلیات کی تعدادہوتی ہے۔اگر مویشی میں یہ تعداد مقررہ حد سے تجاوز کر رہی ہوں، تو یہ انفیکشن کی صورت ہو سکتی ہے۔

*⦁ اگرچہ ساڑو کی جانچ کا درست نتیجہ بازار سے دستیاب تیار شدہ محلول سے ہی حاصل ہوتا ہے، مگر اس کو فوری جانچ کے لیے دیسی طریقہ بھی بیان کیا جا رہا ہے، اس کے لیے چند اشیاء کی ضرورت ہوگی،
*⦁ تیس گرام سرف پاوڈر
*⦁ ایک لیٹر پانی
*اس عمل کے لیے سب سے پہلے سرف کو پانی میں اچھی طرح حل کرلیں، جانور کے کسی ایک تھن سے تھوڑی سی مقدار میں دودھ نکالیں اور برابر مقدار میں سرف ملا پانی شامل کریں، اس کو اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کی رنگت اور شکل میں تبدیلی نمایاں ہو تو یہ ساڑو کی علامت ہے ، مزید یقینی بنانے کے لیے دودھ کو صاف اور کچی زمین پر ڈالیں، اگرچھیڈیاں نظر آئیں تو یہ ساڑو کی علامت ہے ، اسی طرح ہر تھن سے الگ الگ صاف پیالی دودھ میں جانچ کریں
⦁ مندرجہ بالا بیان کیے گئے وائرس کے علاوہ بہت سے ایسے ہیں، جو ساڑو کی بیماری کادوسرا سبب بن سکتے ہیں
اپنے جانور کی صحت اور خوراک کا خیال رکھیں، کیونکہ صحتمند جانور سے صحتمند معاشرہ ہے
Channel ko follow karein. Aur share karein
Dr.abduallah vet consultant

ڈیری کاؤ پرچیز چیک لسٹ📑 1. نسل اور پیداوار کی تاریخ    - نسل کی تصدیق کریں: مخصوص نسل کے بارے میں دریافت کریں اور اپنی م...
22/03/2025

ڈیری کاؤ پرچیز چیک لسٹ📑
1. نسل اور پیداوار کی تاریخ

- نسل کی تصدیق کریں: مخصوص نسل کے بارے میں دریافت کریں اور اپنی مقامی آب و ہوا اور وسائل کے لیے اس کی مناسبیت کے بارے میں پوچھیں۔ مثال کے طور پر آپ گرم اور خشک علاقوں میں فرائیشین نہیں رکھ سکتے۔
-دودھ کی پیداوار: پچھلے دودھ کی پیداوار کے ریکارڈ یا تخمینے کی درخواست کریں۔ مسلسل اعلی پیداوار کے لئے دیکھو.

2. صحت اور بیماری کی حیثیت

- بیماری کی جانچ: یقینی بنائیں کہ گائے کو عام بیماریوں جیسے بروسیلوسس، تپ دق کے لیے ٹیسٹ کیا گیا ہے اور آب و ہوا اور زون میں تبدیلی کی وجہ سے ویکسین لگائی گئی ہے۔
- ویکسینیشن کا ریکارڈ: ویکسینیشن اور کیڑے مار علاج کا ریکارڈ حاصل کریں۔ اس سے آپ کو کارکردگی کے لیے استعمال ہونے والی ویکسین اور ادویات کی قسم جاننے میں مدد ملتی ہے۔

3. جسمانی حالت

- جسمانی حالت کا اسکور: گائے کی مجموعی صحت اور وزن کا اندازہ لگائیں۔ اچھی جسمانی حالت کا اسکور مناسب غذائیت اور صحت کی نشاندہی کرتا ہے۔
- الڈر کی صحت: انفیکشن، ماسٹائٹس یا اسامانیتاوں کی کسی بھی علامت کے لیے تھن کا معائنہ کریں۔

4. عمر اور تولیدی تاریخ

- عمر: گائے کی مستقبل میں دودھ کی پیداوار کی صلاحیت کا اندازہ لگانے کے لیے اس کی عمر کا تعین کریں۔ جوان گائے بوڑھی گایوں کے مقابلے میں اچھی دودھ پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ پیداوار کم ہوتی جاتی ہے۔
- بچھڑے کی تاریخ: بچھڑے کے پچھلے تجربات کے بارے میں پوچھ گچھ کریں، بشمول بچھڑے میں آسانی اور بچھڑے کی بقا کی شرح۔ سادہ اصطلاح میں اچھی ماں کی صلاحیت۔

5. بیچنے والے کی تصدیق

- تصدیق کی تصدیق کریں: اس بات کو یقینی بنائیں کہ گائے بیچنے والے سے ضروری دستاویزات اور سرٹیفیکیشن کے ساتھ آئے، اس کی اصلیت اور صحت کی حیثیت کی ضمانت دی جائے۔

ڈس کلیمر: جب بھی آپ کو مویشی خریدنے میں دشواری ہو تو ہمیشہ ماہر سے مشورہ کریں۔

منہ کھر (Foot-and-Mouth Disease, FMD) ایک وائرل بیماری ہے جو گائے، بھینس، بکری، اور دیگر مویشیوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ بی...
22/03/2025

منہ کھر (Foot-and-Mouth Disease, FMD) ایک وائرل بیماری ہے جو گائے، بھینس، بکری، اور دیگر مویشیوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری شدیداً متعدی ہے اور جانور کے منہ، پاؤں اور تھنوں پر اثر ڈالتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جانوروں کی پیداوار، صحت، اور افزائش متاثر ہو سکتی ہے۔ بیماری کی علامات اور علاج کو ہم درج ذیل حصوں میں تفصیل سے بیان کریں گے:
#ڈاکٹر #احسن #امحمود #اعوان 🐄

منہ کھر کی علامات
1. بخار:
• جانور کا جسمانی درجہ حرارت 104°F سے 106°F تک ہو سکتا ہے۔
• جانور سست ہو جاتا ہے اور خوراک چھوڑ دیتا ہے۔
2. منہ میں چھالے:
• زبان، مسوڑھوں، اور منہ کے اندر چھوٹے چھوٹے چھالے یا زخم نظر آتے ہیں۔
• منہ سے رال بہتی ہے (drooling)۔
3. پاؤں پر زخم:
• کھروں کے درمیان یا کناروں پر زخم یا چھالے بن جاتے ہیں۔
• جانور لنگڑاتا ہے یا چلنے سے گریز کرتا ہے۔
4. تھنوں پر اثر:
• تھنوں پر چھالے یا زخم ہو سکتے ہیں۔
• دودھ کی پیداوار میں کمی آ جاتی ہے۔
5. بھوک کی کمی:
• منہ میں درد کی وجہ سے جانور کھانے سے انکار کرتا ہے۔
6. پیداوار کی کمی:
• دودھ دینے والے جانوروں کی دودھ کی پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔

منہ کھر کا دیسی علاج (روایتی طریقے)

1. بخار کے لیے:
• شربت صندل یا دھنیے کا قہوہ: جانور کو دن میں دو بار دیا جائے۔
• مٹی کی ٹھنڈی لپائی: بخار کم کرنے کے لیے جانور کے ماتھے اور جسم پر مٹی کی لپائی کریں۔

2. منہ کے زخموں کے لیے:
• شہد اور ہلدی: ایک چمچ شہد میں چٹکی بھر ہلدی ملا کر زخموں پر لگائیں۔
• تلسی کے پتے: تلسی کے پتوں کا رس نکال کر زخموں پر لگائیں۔

3. کھروں کے زخموں کے لیے:
• نمکین پانی: کھروں کو دن میں دو بار نمکین پانی سے دھوئیں۔
• سرسوں کا تیل اور نیم کے پتے: نیم کے پتوں کو سرسوں کے تیل میں پکائیں اور متاثرہ جگہ پر لگائیں۔

4. رال کے اخراج کو روکنے کے لیے:
• شربت انار: منہ کی خشکی کو کم کرنے کے لیے انار کے شربت کا استعمال کریں۔

5. پاؤں کے درد کے لیے:
• پیاز اور لہسن: پیاز اور لہسن کو پیس کر متاثرہ جگہ پر لگائیں۔

منہ کھر کا ڈاکٹری علاج (جدید طریقہ علاج)

1. وائرس کنٹرول کے لیے:
• اینٹی وائرل انجیکشن: جیسے کہ “Interferon Alpha”۔
• ویکسین لگوانا سب سے اہم ہے تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔

2. منہ کے زخموں کے لیے:
• اینٹی سیپٹک محلول: Betadine یا Potassium Permanganate محلول سے زخم دھوئیں۔
• اینٹی بائیوٹک سپرے: Gentamycin یا Streptomycin۔

3. پاؤں کے زخموں کے لیے:
• ٹاپیکل کریم: Neomycin یا Zinc Oxide کریم متاثرہ جگہ پر لگائیں۔
• ڈریسنگ: روزانہ زخم کی صفائی کریں اور صاف پٹی باندھیں۔

4. دودھ کی پیداوار کی حفاظت:
• دودھ دینے والی بھینسوں کے تھنوں کو “Udder Cream” یا Chlorhexidine محلول سے صاف کریں۔

5. دوا کے طور پر:
• بخار کم کرنے کے لیے NSAIDs جیسے Meloxicam یا Flunixin Meglumine۔
‏ • Antibiotics جیسے Penicillin یا Tetracycline، تاکہ بیکٹیریل انفیکشن نہ ہو۔

جانور کی حالت کے مطابق علاج

1. جو جانور بچہ دے چکا ہو:
• دودھ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
• دودھ دوہنے کے بعد تھنوں پر Antiseptic Spray کریں۔
• دودھ دینے کے دوران جانور کو غذائیت سے بھرپور خوراک دیں، مثلاً:
• چوکر، گڑ، اور مکئی۔
• بچہ اور ماں دونوں کو صاف ستھری جگہ پر رکھیں۔

2. جو جانور بچہ دینے والا ہو:
• زخموں پر توجہ دیں تاکہ انفیکشن سے بچا جا سکے۔
• طاقت دینے والی دوائیں جیسے Calcium Borogluconate کا انجیکشن دیں۔
• منہ کے زخم ٹھیک ہونے تک ہلکی خوراک (مثلاً دلیہ یا سبز چارہ) دیں۔

احتیاطی تدابیر
1. متاثرہ جانوروں کو صحت مند جانوروں سے الگ رکھیں۔
2. باقاعدگی سے ویکسین لگوائیں۔
3. کھیت اور جانوروں کے رہنے کی جگہ کی صفائی کریں۔
4. زخموں کو صاف رکھنے کے لیے جراثیم کش محلول استعمال کریں۔

خلاصہ

منہ کھر ایک خطرناک مگر قابل علاج بیماری ہے، بشرطیکہ اس کا بروقت علاج کیا جائے۔ دیسی علاج کم خرچ ہے اور ابتدائی مراحل میں مؤثر ہو سکتا ہے، جبکہ شدید کیسز میں ڈاکٹری علاج ضروری ہے۔ دونوں طریقے استعمال کرتے ہوئے بیماری کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، اور جانور کی صحت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

08/06/2023
Hores eys problem
23/08/2022

Hores eys problem

23/08/2022

M.s PET

Address

Gulyan Road Gujar Khan
Gujar Khan
47850

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923405590056

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahsan veterinary services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ahsan veterinary services:

Share

Category