29/08/2023
چار طرح کے مسائل اکثر سننے میں آتے ہیں
خوراک بھی اچھی ہے لیکن پھر بھی جانور بڑھوتری نہیں کر رہے، کمزور ہیں، موٹے نہیں ہورہے
دودھ دینے والے جانوروں میں بار بار میسٹائٹس، ساڑو یا انگیاری آتی رہتی ہے
جانور ہیٹ میں آتے ہیں اور کئی دن تک ہیٹ میں رہتے ہیں
بار بار پیچس لگتے ہیں ٹھیک ہوتا ہے پھر پیچس اور ہم سلفا انجیکشن لگا اور پلا کر جانور کا جگر برباد کر دیتے ہیں
یہ مسائل آپ کے فارم پر موجود ہیں اور علاج بھی بار بار کروایا پھر بھی مسئلہ موجود ہے تو سوچیں ؟
توڑی کالی ہے، سائیلج اچھا نہیں، ونڈا کے اجزاء اچھے استمعال نہیں کئے، روٹی ٹکڑا بازار سے لیا، بازاری ونڈا کھل یا پرانا تھا یا سٹور ٹھیک نہیں کیا گیا تھا ؟ ونڈا کھل جن برتنوں میں بھگوتے ہیں وہ صاف نہیں اور دو تین پہر تک بھگو کر رکھتے ہیں ؟
پانی کی ٹینکی اور کھرلی میں الی کائی لگی ہے؟
اگر ایسا ہے تو بیماری آپ کے فارم سے نہیں نکلنے والی
ہلکی کوالٹی کا کھل، ونڈا، مکئی سائیلج سستا تو مل جائے گا لیکن جانوروں کو اور آپ کی جیب کو بہت مہنگا پڑے گا
پانی کی ٹینکی کبھی بھی دھوپ میں نہ ہو، سایہ ضرور کریں، پانی کی کھرلی خالی کرنے کے لیے پیندے میں پائپ لازمی ہوں اور ہفتہ میں دو بار پانی نکال کر چونا کریں اگر اتنا بھی نہیں کر سکتے تو مسائل بھی رہے گے
گرمی کے بڑھتے ہی آپ وائی بادی، زہر باد اور پتہ نہیں کیا کیا نہ سمجھ آنے والی بیماری کے بھی امکانات بڑھ جاتے ہیں
وجہ بہت واضح ہوتی ہے لیکن ابھی تک بہت سے لوگ اس کو ماننے کو تیار نہیں
شدید گرمی کے موسم میں جانوروں کی خوراک میں ألی، پھپھوندی یا فنگس کا بہت خیال رکھیں۔ پھپھوندی کے انڈے یا سپور spore آنکھ سے نظر نہیں آتے، جب ہم انکو دیکھ سکتے ہیں کہ خوراک پر پھپھوندی لگی ہے تو ان کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہوتی ہے اور زہر بن چکا ہوتا ہے
Myco پھپھوندی
toxin زہر
Mycotoxin مائیکو ٹاکسن
جانور کا یکدم خوراک کھانا چھوڑ دینا، وائی بادی، زہرباد، ساڑو میسٹائٹس اور تولیدی مسائل چند ایک مسئلے ہیں جو فنگس لگی خوراک سے پیدا ہوتے ہیں
اوپر والے مسائل دوبارہ پڑھ لیں، حقیقت میں ایسا ہی ہے
ان میں سے کوئی ایک چیز بھی لفاظی کے طور پر نہیں لکھی, پھپھوندی جانوروں میں مسائل کا گڑھ ہے
یقین کریں پھپھوندی لگی خوراک بیماریوں کا گڑھ ہے جو دوسری مزید بیماریوں کی وجہ بنتی ہے
لہذا پھپھوندی لگی خوراک سے جانور کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں۔ ان دنوں میں جانور کی قوت برداشت اور قوت مدافعت پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے، ساون بھادوں کا موسم جانوروں کے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
جن چیزوں کا جانور عام حالات اور موسم میں آسانی سے مقابلہ کر لیتا ہے وہی چھوٹی چھوٹی چیزیں جانور کو ان گرمی اور حبس کے دنوں میں بیمار کر سکتی ہیں
اور بات جانور کی خوراک کی ہو رہی ہے، چاہے ونڈا ہو توڑی، ہئے سائیلج، کھل، روٹیاں یا کچھ بھی خوراک ہو لیکن پھپھوندی نہ لگی ہو اور خوراک کا اپنا اصلی رنگ تبدیل نہ ہوگیا ہو
اگر آپ خود پھپھوندی لگی روٹی نہیں کھا سکتے تو جانور میں کوئی ایسی خاص علیحدہ مشینری نہیں لگی ہوئی ہے جو اس زہر کو کم کر سکے
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خوراک، روٹیوں کو چند گھنٹے بھگو کر استعمال کرلیں تو کوئی مسئلہ نہیں
کچھ سمجھتے ہیں کہ دھوپ میں خشک کرکے استمعال کرسکتے
سائنس اس بات کو نہیں مانتی، کیونکہ زہر پہلے ہی بن چکا ہوتا ہے۔ یہ زہر جانور بزریعہ خوراک کھا کر دودھ میں بھی خارج کرتا ہے اور ایسا دودھ ابالنے کے باوجود انسان میں جگر کا کینسر کا باعث بنتا ہے
خوراک ہی جانور کو تندرست رکھتی ہے اور ناقص خوراک جانور کو بیمار کرتی ہے
یہی احتیاط ہے اور احتیاط ہی علاج ہے !!!
بشکریہ