UHC Veterinary & Birds Section

  • Home
  • UHC Veterinary & Birds Section

UHC Veterinary & Birds Section پرندوں اور جانوروں سے متعلقہ بیماریوں اور انکے علاج کے متعلق جانیئے..!

01/09/2023

سوکڑا :-
جیسا کہ نام سے ظاہر ھے اس بیماری کا نام سنتے ہی ذہن میں پرندے کے سوکھ جانے کمزور ھوجانےکا خیال آتا ھے اس بیماری کے حملے سے پرندے کا گوشت سوکھ جاتا ھے اور پرندے کی سینے کی ہڈی واضع نظر آنے لگتی ھے.
وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے.
انڈوں کی شرح میں کمی ہوجاتی ہے.

یہ بیماری اصیل مرغ، مور، چکور، تیتر، راپیرٹس. لو برڈز، بجری طوطے تقریبا" ھر قسمی پرندہ اس بیماری سے متاثر ھو سکتا ھے..

سب سے پہلے متاثرہ پرندے کو دوسرے پرندوں سے علحیدہ کر لیں اگر پرندے نے کھانا پینا بلکل چھوڑ دیا ھے تو اسے ھیڈ فیڈ کروائیں..!
ہمارے تیار کردہ ڈراپس "وٹا پلس" اور "سوکڑا گو" ملا کر دینے سے چند ہفتوں میں پرندوں کا وزن بڑھنا شروع ہوجاتا ہے..
قوت مدافعت بڑھتی ہے.
خوراک کو جزو بدن بناتا ہے..!
آن لائن منگوانے کی سہولت موجود ہے.

منہ کھر ۔۔۔!وجوہات وعلامات ، پھیلاؤ ، احتیاطی تدابیر اور علاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!یہ گائے، بھینس، بھیڑ اور بکریوں کی بہت اہم بیما...
31/08/2023

منہ کھر ۔۔۔!

وجوہات وعلامات ، پھیلاؤ ، احتیاطی تدابیر اور علاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

یہ گائے، بھینس، بھیڑ اور بکریوں کی بہت اہم بیماری ہے۔اس سے ہر سال بہت سے مویشیوں کا نقصان ہوتا ہے۔ چھوٹے بچھڑوں اور بچھڑیوں میں یہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔اس بیماری سے،بڑی عمر کے جانوروں میں دودھ کی پیداوار میں انتہائی کمی واقع ہوجاتی ہے۔علاج کی وجہ سے فارم کے اخراجات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔گابن جانور اکثر اوقات بچہ ضائع کر دیتے ہیں اور اس وجہ سے جانور، عرصہ دراز تک بیمار رھتے ھیں۔

وجوہات وعلامات۔۔۔۔!

یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جسے ایپھتو وائرس Aphthovirus کہتے ہیں۔ بیماری پیدا کرنے والے وائرس کے ساتھ مختلف سیروٹاپس ہیں۔

✔پاکستان میں ان کی تین سیروٹاپس بہت عام پائے جاتے ہیں جن کا نام ، اے ، او & سی ( AO&C ) 👈جانوروں کو تیز بخار ہو جاتا ہے۔
👈جانور کے منہ کے اندر حیوانہ پر اور کھروں پر چھالے نمودار ہوجاتے ہیں
👈۔کھروں میں موجود چھالے پھٹ جانے کی وجہ سے جانور لنگڑاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
👈جانور کے منہ میں موجود چھالے کھانے میں دقت پیدا کرتے ہیں۔
👈جانور اپنا وزن کم کر جاتے ہیں۔نر جانوروں میں حصیے سوج جاتے ہیں۔

✔پھیلاؤ۔۔۔۔۔!

یہ بیماری کئی طریقوں سے پھیلتی ہے۔
👈بیمار جانوروں کو براہ راست چھونے سے
یہ وائرس ہوا کے ذریعے کئی کلومیٹر تک پھیل جاتا ہے۔
👈بیمار جانور جس کھرلی میں پانی پیتے ہیں اُس میں جانور کے تھوک کے ذریعے وائرس شامل ہو جاتا ہے۔تندرست جانور اس کھرلی میں پانی پینے سے بیمار ہو جاتے ہیں۔
👈 جانوروں کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے کپڑوں کے ذریعے بھی وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ پھیلتا ہے
👈۔فارم پر آنے جانے والی گاڑیاں بھی وائرس کو پھیلانے کا باعث بنتی ہیں

💡📣۔یہ بیماری جانوروں سے انسان میں آسکتی ہے لیکن انسان کے معدہ میں موجود تیزابیت وائرس کا خاتمہ کر دیتی ہے انسانوں میں کم پایا جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر۔۔ِ۔۔۔!

👈جانوروں کو مناسب وقت پر ویکسین لگوائیں۔سال میں حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس دو بار کاروائیں
👈۔ویکسین عمومی طور پر ستمبر اور فروری میں کروائی جاتی ہے۔
👈فارم پر آنے والے نئے جانوروں کو علیحدہ رکھیں اور آتے ہی ویکسین کروائیں۔فارم پر غیر ضروری آمدورفت کو کنٹرول کریں
👈۔شیڈ کوماہ میں دو سے تین بار اینٹی سپٹک محلول سے سپرے کروائیں۔
👈 فارم پر استعمال ہونے والی مشینری اور اوزاروں کو صاف ستھرا رکھیں۔
👈بیمار جانوروں کو صحت مند جانوروں سے علیحدہ رکھیں۔

📣✔علاج۔۔۔۔۔۔۔!

بیماری کا دورانیہ 4سے 5 دن کا ہوتا ہے۔ اس میں بیمار جانوروں کو درد سے نجات دینے اور بیکٹیریل انفکشن سے بچانے کے لئے ادویات لگائی جاتی ہیں۔
ہماری تیارے کردہ "منہ کُھر " ڈراپس استعمال کریں..!
منہ میں موجود چھالوں پر گلیسرین لگایں۔
جانوروں سے متعلقہ تمام ادویات کی ہوم ڈیلوری کی سہولت موجود ہے.

30/08/2023

پالتو جانوروں اور پرندوں کی گرمی میں دیکھ بھال کیسے کریں
جانور اور پرندوں کو گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا استعمال کرواکر اور الیکٹرولائٹ دینے سمیت دیگر احتیاط کرکے راحت پہنچائی جاسکتی ہے..

پالتو جانوروں اور پرندوں کی شدید گرمی میں دیکھ بھال بہت ضروری ہے اگر مناسب خوراک اور احتیاطی تدابیر کو نہ اپنایا گیا تو جانور یا پرندوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انسان تو اشرف المخلوقات ہے وہ اپنے اچھے برے کی تمیز بہتر طور پر کرسکتا ہے اور ساتھ ہی شدید گرمی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ایسی غذا استعمال کرسکتا ہے جو اسے موسم کی حدت سے محفوظ رکھ سکتی ہیں لیکن اگر آپ نے پالتو جانور پال رکھے ہیں یا آپ پرندں کے شوقین ہیں تو آپ کیلئے ضروری ہے کے شدید گرمی کے موسم میں ان کا خاص خیال رکھیں۔

دھوپ سے بچائیں
براہ راست تیز دھوپ آپ کے جانور یا پرندے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لئے سایہ دار جگہ کا اہتمام بہت ضرور ہے۔ اس مقصد کے لئے آپ پکی چھت آر سی سی یا سلیب کی چھت کے نیچے رہائش کا انتظام کرسکتے ہیں اگر یہ ممکن نہیں تو سیمنٹ یا لوہے کی چادروں کا شیڈ بھی بنایا جاسکتا ہے لیکن لوہے کی چادر تیز دھوپ میں بہت زیادہ گرم ہوجاتی ہے۔ اس کے حل کے لئے دو طریقے ہیں ایک تو فالز سیلنگ کا کام جس میں آپ چادر کے نیچے پلاسٹر آف پیرس کی شیٹیں لگوا سکتے ہیں۔ جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لوہے کی چادروں کے اوپر کھجور کے پتوں یا سرکنڈوں سے تیار کی گئی چٹائی ڈال لیں یا کوئی متبادل بندوبست کرلیں جیسے ترپال یا موٹا کپڑا بھی ڈال سکتےہیں۔

الیکٹرولائٹ کا استعمال
الیکٹرولائٹ کا عدم توازن یا اس کی کمی جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ الیکٹرو لائٹ عام طور پر ویٹنری شاپس سے مل جاتا ہے اس کے علاوہ عام میڈیکل اسٹور پر دستیاب آو آر ایس نمکول بھی پانی میں آسانی سے گھول کر استعمال کروایا جا سکتا ہے۔ جو گرمی کے تناؤ، پانی کی کمی، بیماری، عمومی تناؤ وغیرہ کے لیے بہترین ہے۔

گرم موسم میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت مناسب ہائیڈریشن پر منحصر ہے۔ گرمی کے دباؤ کے دوران پرندوں میں الیکٹرولائٹ کا توازن بدل جاتا ہے۔ پانی میں الیکٹرولائٹ شامل کرنے سے، پرندے اپنی پانی کی مقدار میں اضافہ کرتے ہیں، جو جسم کے درجہ حرارت کو مستقل رکھنے میں نہایت موثر طریقے سے مدد کرتا ہے۔ جانوروں یا پرندوں کو الیکٹرولائٹ دینے کےلئے اس کی مقدار کتنی ہونی چاہیے اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ آپ ویٹنری ڈاکٹر یا شاپ سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہی کا پانی بھی پینے کے پانی میں ملا کر استعمال کروایا جاسکتا ہے۔

ٹھنڈا رکھنے کےلئے شاور
جس طرح انسان کو گرمی لگتی ہے بالکل اسی طرح جانور یا پرندے بھی گرمی محسوس کرتے ہیں۔ انسان نہا کر تازہ دم ہوجاتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ آپ اپنے پالتوں کتے ، بلی یا پرندوں وغیرہ کو صبح یا شام کے وقت شاور ضرور کروائیں تاکہ وہ بھی صحت مند رہیں۔ یہاں یہ احتیاط بھی ضرور ہے کہ سخت گرمی کے وقت شاور سے گریز کریں کیونکہ اس سے نقصان کا اندیشہ ہے بہتر وقت صبح یا شام ہی ہے جو سو فیصد نتائج دے سکتا ہے۔

پھل اور سبزیوں کا استعمال
گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا انتخاب کر کے ہم جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اور قوت بخش رکھ سکتے ہیں۔

موسمی پھل ، سلاد اور سبز سبزیوں کی اہمیت تو مُسلمہ ہے یعنی آپ ایسے جانور یا پرندے جو پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں انھیں آپ تربوز۔ کدو، لوکی، سلاد کے پتے ، پودینہ اور دھنیاں وغیرہ استعمال کرواسکتے ہیں جو ان کے لئے فرحت کا باعث بنیں گے۔ یہ خیال رکھنا بہت ضرور ہے کہ یہ چیز اعتدال کے ساتھ دیں اور اتنی ہی ڈالیں جتنی وہ تھوڑی دیر میں ختم کرلیں اگر بچ جائیں تو انھیں ہٹا لیں باسی نہ کھانے دیں۔

وینٹی لیشن کا خاص اہتمام
جانور ہوں یا پرندے انھیں ایسی جگہ رکھیں جہاں ہوا کی گزر ہو۔ بند یا حبس والی جگہ پر انھیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ کمرہ یا شیڈ ایسا ہو کہ اس میں ایک جگہ سے ٹھنڈی ہوا آئے اور دوسرے مقام سے اس کا اخراج ہوجائے۔ ہاں اگر گرم ہوا یا ہیٹ ویو ہو تو ایسی ہوا سے بچانا بھی ضرور ہے۔

جانوروں اور پرندوں کو کنٹرول درجہ حرارت والی جگہ بھی رکھا جاتا ہے یعنی کمرے یا شیڈ میں اے سی، اسپلٹ لگا کر یا روم کولر کے ذریعے درجہ حرارت کو ایک خاص سطح پر برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

جانوروں اور پرندوں کو گرمی سے بچانے کیلئے یہ تو محدود ٹپس ہیں اس کے علاوہ آپ بہت سے دیگر طریقے بھی اپنا سکتے ہیں ۔ جس سے بے زبانوں کو صحت مند رکھنے کے ساتھ بہتر افزائش نسل کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

29/08/2023

‏چار طرح کے مسائل اکثر سننے میں آتے ہیں

خوراک بھی اچھی ہے لیکن پھر بھی جانور بڑھوتری نہیں کر رہے، کمزور ہیں، موٹے نہیں ہورہے

دودھ دینے والے جانوروں میں بار بار میسٹائٹس، ساڑو یا انگیاری آتی رہتی ہے

جانور ہیٹ میں آتے ہیں اور کئی دن تک ہیٹ میں رہتے ہیں

بار بار پیچس لگتے ہیں ٹھیک ہوتا ہے پھر پیچس اور ہم سلفا انجیکشن لگا اور پلا کر جانور کا جگر برباد کر دیتے ہیں

یہ مسائل آپ کے فارم پر موجود ہیں اور علاج بھی بار بار کروایا پھر بھی مسئلہ موجود ہے تو سوچیں ؟

توڑی کالی ہے، سائیلج اچھا نہیں، ونڈا کے اجزاء اچھے استمعال نہیں کئے، روٹی ٹکڑا بازار سے لیا، بازاری ونڈا کھل یا پرانا تھا یا سٹور ٹھیک نہیں کیا گیا تھا ؟ ونڈا کھل جن برتنوں میں بھگوتے ہیں وہ صاف نہیں اور دو تین پہر تک بھگو کر رکھتے ہیں ؟
پانی کی ٹینکی اور کھرلی میں الی کائی لگی ہے؟

اگر ایسا ہے تو بیماری آپ کے فارم سے نہیں نکلنے والی

ہلکی کوالٹی کا کھل، ونڈا، مکئی سائیلج سستا تو مل جائے گا لیکن جانوروں کو اور آپ کی جیب کو بہت مہنگا پڑے گا

پانی کی ٹینکی کبھی بھی دھوپ میں نہ ہو، سایہ ضرور کریں، پانی کی کھرلی خالی کرنے کے لیے پیندے میں پائپ لازمی ہوں اور ہفتہ میں دو بار پانی نکال کر چونا کریں اگر اتنا بھی نہیں کر سکتے تو مسائل بھی رہے گے

گرمی کے بڑھتے ہی آپ وائی بادی، زہر باد اور پتہ نہیں کیا کیا نہ سمجھ آنے والی بیماری کے بھی امکانات بڑھ جاتے ہیں

وجہ بہت واضح ہوتی ہے لیکن ابھی تک بہت سے لوگ اس کو ماننے کو تیار نہیں

شدید گرمی کے موسم میں جانوروں کی خوراک میں ألی، پھپھوندی یا فنگس کا بہت خیال رکھیں۔ پھپھوندی کے انڈے یا سپور spore آنکھ سے نظر نہیں آتے، جب ہم انکو دیکھ سکتے ہیں کہ خوراک پر پھپھوندی لگی ہے تو ان کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہوتی ہے اور زہر بن چکا ہوتا ہے
Myco پھپھوندی
toxin زہر
Mycotoxin مائیکو ٹاکسن

جانور کا یکدم خوراک کھانا چھوڑ دینا، وائی بادی، زہرباد، ساڑو میسٹائٹس اور تولیدی مسائل چند ایک مسئلے ہیں جو فنگس لگی خوراک سے پیدا ہوتے ہیں
اوپر والے مسائل دوبارہ پڑھ لیں، حقیقت میں ایسا ہی ہے
ان میں سے کوئی ایک چیز بھی لفاظی کے طور پر نہیں لکھی, پھپھوندی جانوروں میں مسائل کا گڑھ ہے
یقین کریں پھپھوندی لگی خوراک بیماریوں کا گڑھ ہے جو دوسری مزید بیماریوں کی وجہ بنتی ہے
لہذا پھپھوندی لگی خوراک سے جانور کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں۔ ان دنوں میں جانور کی قوت برداشت اور قوت مدافعت پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے، ساون بھادوں کا موسم جانوروں کے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
جن چیزوں کا جانور عام حالات اور موسم میں آسانی سے مقابلہ کر لیتا ہے وہی چھوٹی چھوٹی چیزیں جانور کو ان گرمی اور حبس کے دنوں میں بیمار کر سکتی ہیں
اور بات جانور کی خوراک کی ہو رہی ہے، چاہے ونڈا ہو توڑی، ہئے سائیلج، کھل، روٹیاں یا کچھ بھی خوراک ہو لیکن پھپھوندی نہ لگی ہو اور خوراک کا اپنا اصلی رنگ تبدیل نہ ہوگیا ہو
اگر آپ خود پھپھوندی لگی روٹی نہیں کھا سکتے تو جانور میں کوئی ایسی خاص علیحدہ مشینری نہیں لگی ہوئی ہے جو اس زہر کو کم کر سکے
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خوراک، روٹیوں کو چند گھنٹے بھگو کر استعمال کرلیں تو کوئی مسئلہ نہیں
کچھ سمجھتے ہیں کہ دھوپ میں خشک کرکے استمعال کرسکتے
سائنس اس بات کو نہیں مانتی، کیونکہ زہر پہلے ہی بن چکا ہوتا ہے۔ یہ زہر جانور بزریعہ خوراک کھا کر دودھ میں بھی خارج کرتا ہے اور ایسا دودھ ابالنے کے باوجود انسان میں جگر کا کینسر کا باعث بنتا ہے

خوراک ہی جانور کو تندرست رکھتی ہے اور ناقص خوراک جانور کو بیمار کرتی ہے

یہی احتیاط ہے اور احتیاط ہی علاج ہے !!!
بشکریہ

کبوتروں کو سوکڑا کیوں ہوتا ہے..کبوتروں میں سوکڑا کی علامات -کبوتروں کو سوکڑا کسی ایک بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف بی...
28/08/2023

کبوتروں کو سوکڑا کیوں ہوتا ہے..
کبوتروں میں سوکڑا کی علامات -

کبوتروں کو سوکڑا کسی ایک بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کبوتر میں سوکڑے کی بیماری پیٹ کے کیڑوں ، زہرباد، پیراٹائیفائڈ، رانی کھیت، چیچک، خونی پیچش، تپ دق اور کبوتروں کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان بیماریوں کی وجہ سےجسم کو پوری خوراک نہ ملنے سے کبوتروں کا جسم لاغر اور کمزور ہو جاتا ہے اور پرندہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ کبوتر کے جسم کی چربی اور پھٹوں کا گوشت بیماری کے خلاف استعمال ہونا شروع ہوتا ہے جس سے اسکا بدن سوکھ جاتا ہے۔

جس طرح تپ دق، ٹائیفاییڈ، ملیریا،اور نمونیا کے جراثیم انسان کی خوراک کھا کر اسے کمزور لاغر کر دیتے ہیں اسی طرح کبوتر بھی بہماریوں سے کمزور ہوتے ہیں۔ سوکڑے سے بچاؤکے لیۓ سب سے پہلے سوکڑا پھیلانے والی بیماریوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ کبوتر میں سوکڑا کی ابتدا آنتوں اور معدے کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کم خوراک کھانے سے کبوتر سوکڑے کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ جسم کی ہڈیوں سے گوشت علیحدہ ہو جاتا ہے۔پرندوں کو بخار ہو جاتا ہے۔ جبکہ سوکڑا بزات خود بیماری نہیں ہے۔کبوتر کے سوکڑے کی مختلف اقسام ہیں۔
1 : گرمی کا سوکڑا
2 : سردی کا سوکڑا
3 : جراثیم والا سوکڑا

سردی کا سوکڑا ، علامات
سردی کے سوکڑے میں پرندے کو نزلہ،زکام ہو جاتا ہے ریشہ نکلتا ہے پرندہ کھانسی کرنے کے ساتھ زور زور سے مشکل سے سانس لیتا ہے ۔ پرندے کے نیچے والی ہڈی باہر کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ خوراک نہ کھانے سے پرندہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ پرندہ اپنے منہ کو گردن میں چھپاۓ رکھتا ہے۔ یہ سب سردیوں کے سوکڑے کی علامات ہیں۔
جراثیم والا سوکڑا ، علامات
جراثیم والے سوکڑے میں بھی پرندے کے نیچے والی ہڈی باہر کی طرف بڑھ جاتی ہے رنگ زردی مائل ہو جاتا ہے۔ جانور کا گوشت کم ہو جاتا ہے۔ پرندے ٹھیک سے چل نہیں پاتا ۔ پرندہ اگر نیچے گرے گا تو ایسا محسوس ہو گا جیسے مردہ بت نما ہو ۔ بیٹھ کرتے وقت بہت زیادہ زور لگاۓ گا.

گرمی کے سوکڑے کا علاج

دیسی نسخے
پہلا نسخہ کبوتر باز بھائی ایک چھٹانک اچھا خالص مکھن لے کر اس میں 8-10 پیسی ہوئی کالی مرچیں ڈال لیں۔ اس کو فریج میں محفوظ کر لیں ۔ جب کبوتروں کو صبح دانے ڈالنے کے لیۓ جاۓ تو پہلے نہار منہ چنے کے دانے سے تھوڑی بڑی گولی بنا کر دیں۔گولی کھانے کے بعد کبوتر کو دہی کا پانی پلایا جاۓ۔ کبوتر بہت جلد شفاہ یاب ہو گا۔اگر کبوتر کی آنکھ خراب ہو رہی ہو تو آنکھ میں چند زرات ٹیرا مائی سیں کیپسول کے ڈالنے سے آنکھیں ٹھیک ہو جاۓ گی دوسرا نسخہ کے لیۓ چیزوں کا نتخاب کسی اچھے پنساری کی دکان سے کریں منقا چھے دانے، ایک تولہ کالی مرچ ، ایک تولہ تل، ایک تولہ پرانا گڑ، ایک تولہ بڑی الائچی، طباشیر تین ماشہ ، سواۓ منقاء کو چھوڑ کر باقی سب چیزوں کو گرائنڈ کر لیں۔ گب سب چیزیں گرائنڈ ہو جاۓ تو اس میں منقاء کو شامل کر کے گولیاں بناۓ۔

انس گولیوں کو ایک عدد مچھلی کیپسول کے ساتھ صبح شام لیں سوکڑا ختم ہو جاۓ گا اور کبوتر صحت مند ہو جاۓ گا۔ تیسرا نسخہ بہت ہی آسان اور مفید ہیں بہت سے کبوتر باز اس کو صدیوں سے استعمال کر رہے ہیں اس نسخہ میں 5 سے 7 دن کبوتروں کو بھنگ اور سرسوں کے بیج دینے سے بھی سوکڑے کا خاتمہ ہو جاتا ہیں۔ چوتھا نسخہ بھی گھریلوں اور آسان ہے ایک عدد ململ کا کپڑا لیں اس میں آدھا کلو سے تین پاؤ دہی ڈال لیں اسے کسی تار کے ساتھ باندھ کر نیچے برتن رکھ دے صبح تک اس میں سے سب پانی علیحدہ ہو کر برتن میں جمع ہو جاۓ گا اور ململ کے کپڑے میں دہی پنیر کی شکل میں باقی بچ جاۓ گا۔اب پنیر کو کسی برتن میں ڈال کر اس میں 5 سے 6 الائچیاں پیس کر ڈال لے۔ اس کی چنے کے برابر گولیاں بنا کر دن میں صبح شام 2 گولیاں دے انشااللہ کبوتروں کو شفاہ ملے گی۔

جراثیم والے سوکڑے کا علاج
اس سوکڑے میں جانور کے جسم میں بہت سارے جراثیم کیڑے جنم لے لیتے ہے۔ یہ کیڑے تین اقسام کے ہوتے ہیں ان کیڑوں میں 2 انچ تک لمبا کیڑا جسے پنجابی ملپ بھی کہتے ہیں اس کے علاوہ گول کیڑا، اور دم والا جراثیم شامل ہیں۔ جانوروں کے پاخانے کا ٹیسٹ کروایا جاۓ مائکروسکوپ سے دیکھنے پر آپ کو کیڑے نظر آۓ گے۔ اس سے آپ کو کبوتر کے اندر جراثیم بارے علم ہو جاۓ گا۔ اور اس عمل سے علاج میں مدد ملے گی ۔ اگر کبوتر کے جسم میں ملپ ہوۓ تو اسے ملپوں کو مارنے والی دوائی ہدایات کے مطابق دے دوائی کھانے کے 3 یا 4 دن بعد کیڑے مر جاۓ گے اور بزریعہ پاخانہ باہر آ جاۓ گے اس کے 1 سے 2 ہفتے کے اندر پرندہ دوبارہ صحت مند ہو جاۓ گا..!

05/08/2023

جانوروں کی غذا میں منرلز یعنی معدنیات و نمکیات کا کردار:

جانوروں خصوصا دودھ والے جانوروں کی صحت نشونما، دودھ کی پیداوار اور وقت پر بچہ جننے reproductive system کیلیے جانوروں کو بہت سے منرلز/مائیکرو منرلز کی مناسب مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ ان منرلز میں کیلشیم ، فاسفورس، سوڈیم، کلوورائن،پوٹاشیم، میگنیشیم اور سلفر زیادہ اہم ہیں۔ میکرو منرلز جانور کی ہڈیوں اور ٹشوز کو بنانے میں خاص اہمیت رکھنے کے علاوہ جسم میں موجود مادوں کیلیے بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ منرلز جسم میں اساسیت اور تیزابیت کو کنٹرول رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے علاوہ اعصابی نظام کی بہتری اور دماغ سے جسم کو ملنے والے سگنلز کی ترسیل کے نظام میں بھی اہم ہیں۔
کچھ منرلز تھوڑی مقدار میں چاہیے ہوتے ہیں ان منرلز کو مائیکرو منرلز کہتے ہیں ان میں کوبالٹ، کاپر، آئیوڈین، آئرن، میگانیز، سیلینیم اور زنک زیادہ اہم ہیں۔ یہ مائیکرو منرلز باڈی کے ٹشوز میں موجود ہوتے ہیں اور بعض اوقات enzymes اور جانوروں کے ہارمونز کیلیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

میکرو منرلز macro minerals کے فنکشن اور کمی کی علامات:-
کیلشیم calcium:-
جسم کیلیے ضروری مادوں مسلز، ہڈیوں، خون کو جمنے سے بچانے، ہارٹ بیٹ کو صحیح رکھنے جانور کی حسیات کو صحیح رکھنے میں اہم ہے۔ کیلشیم کی کمی سے جانور کی ہڈیوں کا کمزور ہوجانا، ٹوٹ پھوٹ کا،شکار ہوجانا اور سوکھڑا ہو جانا۔ دودھ کی پیداوار کا کم ہونا۔ ملک فیور کا خطرہ ہونا وغیرہ۔

کلورین chlorine:-
جسمانی مادوں کو صحیح طار پر جاری کرنا، ph کو کنٹرول میں رکھنا، معدے کے چوتھے خانے abomasum میں hclکا پیدا کرنے میں کلورین بہت اہم ہے۔ جسم کی خراب حالت، کھال کا کھردرا ہونا اور تیزی سے وزن گرنا کلورین کی کمی کی خاص نشانیاں ہیں۔

میگنیشم magnesium:-
جانور کے ڈھانچے، دماغ سے سگنلز کو جسم کے دوسرے حصوں کو پہنچانے اور enzymes کو صحیح رکھنے میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی کمی بچوں کی نشونما کو آہستہ کر دیتی ہے اور ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے، بڑے جانوروں میں چارے سے الرجی پیدا ہونا اور فوڈ پوائزننگ کا باعث بننا وغیرہ ہیں۔

فاسفورس phosphorus:-
ہڈیوں کو جوڑنے اور اپنی جگہ قائم رکھنے، ٹشوز اور خون کیلیے ضروری اچھی چکنائی کو پیدا کرنے، گلوکوز بنانے اور enzymes خے فنکشن کیلیے ضروری ہے۔ فاسفورس کی کمی سوکڑا، ہڈیوں کا ہمزور ہونا، جانور کا غیر ضروری چیزیں کھانا اور جانور کی فرٹیلٹی کو متاثر کرتا ہے۔

پوٹاشیم potassium:-
جسم کیلیے ضروری مادوں کو بیلنس رکھنے حسیات اور مسلز کی حرکات کو کنٹرول کرنے، آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے نظام کو صحیح رکھنے ph اور enzymes کو ایکٹو کرنے کیلے ضروری ہے۔ اسکی کمی جانور کے وزن کا گرنا، بھوک نہ لگنا، کمزور ہونے کا باعث بنتی ہے۔

سوڈیم sodium:-
جسمانی مادوں کو صحیح رکھنے PH کو کنٹرول کرنے کے علاوہ پورے جسم میں امائینو ایسڈ اور گلوکوز کو پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسلز کی حرکات کو کنٹرول کرنے اور خوراک کے ہضم کرنے کے نظام کو ٹھیک رکھتا ہے۔ وزن گرنا، گوبر میں غیر ہضم شدہ خوراک کا نکلنا کھال کی چمک کا ختم ہوجانا وغیرہ سوڈیم کی کمی کی علامات ہیں۔

سلفر sulphur:-
یہ امائینو ایسڈ کیلیے ضروری ہوتا ہے، وٹامنز کو جسم کا حصہ بنانے، جسم میں توانائی کو پیدا کرنے وغیرہ کیلیے ضروری ہے۔ اسکی کمی سے جانور میں وزن بڑھانے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔

مائیکرو منرلز micro minerals کے فنکشن اور کمی کی علامات:-
کوبالٹ cobalt:-
معدے کا پہلا حصہ rumen کوبالٹ کی مدد سے vitamin B12 کو جسم کا حصہ بناتا ہے۔ جسم کا کھردرا ہونا ہیٹ سائیکل کا خراب ہونا،جانور کا حمل گرا دینا، نر اور مادہ جانوروں کا بانجھ پن اور خون کی کمی کوبالٹ کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

کاپر copper:-
کاپر enzymes system کا ایک اہم جز ہے اسکی کمی خون کی کمی، بالوں کا جھڑنا، زخم کا دیر سے بھرنا اور جسم کے کسی حصے سے خون کے اخراج کا باعث بنتا ہے۔

آئیوڈین iodine:-
جانور کی نشونما، بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت، دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت میں اہم ہے اسکی کمی بچوں میں گلہڑ کا باعث بنتی ہے۔

میگنیز meganiese:-
ہڈیوں کا توازن ٹھیک رکھنے، پروٹین کو بنانے، دوران خون اور کابوہائیڈریٹ کے نظام کیلیے ضروری ہے۔ ہڈیوں کی طاقت کا ختم ہوجانا، ہڈیوں کا جڑ جانا یا پھنس جانا، جوڑوں کا نارمل سے زیادہ بڑا ہوجانا، ٹانگوں کا مڑ جانااور کمزوری وغیرہ میگنیز کی کمی کی علامات ہیں۔

زنک zinc:-
زنک کا کردار DNAکے اسٹرکچر میں میں اہم ہوتا ہے، جسم میں توانائی پیدا کرنے کے فنکشن میں ضروری، کھروں اور سینگوں کیلیےضروری پروٹین میں اہمیت کا حامل ہے۔ اسکی کمی سے کھال کی چمک کا ختم ہوجانا، نشونما کا کم ہونا، بھوک کی کمی، ہڈیوں کے ٹھوس پن کی کمی، جنسی ہارمونز کا صحیح کام نا کرنا زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونے وغیرہ کا باعث بنتا ہے۔

صرف جانوروں کی کھرلیوں میں نمک کی موجودگی، گڑ اور چونے کا،استعمال ان بہت سارے منرلز کی ضروریات کو پورا کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے اس کے ساتھ منرلز مکسچر وغیرہ کا ریگولر استعمال فارمر کو بہت ساری پریشانیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

جزاک اللہ خیر

لقوہ. لقوہ پرندوں کی اک خطرناک بیماری ہے اس بیماری سے پرندہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتا پنجے مڑ جاتےہیں گردن مڑ جاتی...
03/08/2023

لقوہ.
لقوہ پرندوں کی اک خطرناک بیماری ہے اس بیماری سے پرندہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتا پنجے مڑ جاتےہیں گردن مڑ جاتی ہے ٹانگیں مفلوج ہو جاتی ہیں
لقوہ کیونکہ بلڈ سرکولیشن کی اک بیماری ہے
ان علامات میں سے کوئی بھی علامت اپنے پرندے میں نظر آنے پر اپنے پرندے کا فوراً اعلاج شروع کردیں.

ھومیوپیتھک نسخہ..

کالی فاس 6x گولیاں
کاسٹیکم 30ڈراپس

استعمال. 3گولیاں اور4 قطرے فی پرندہ کے حساب سے صاف پانی میں ڈال کےدن میں تین ٹائم صبح دوپہر شام دیں.

اگر ان سے بہتری نہ ہو تو ہمارے اپنے تیار کردہ ڈراپ "لقوہ گو" آپ بزریعہ آن لائن منگوا سکتے ہیں.
پانی دھوپ میں بلکل نہیں رکھنا اس سے دوا کی افادیت ختم ہو جاتی ھے جب تک بیماری کی علامات ختم نہ ہوں استعمال کروائیں
اگر پرندے نے کھانا چھوڑ دیا ھے تو اس کو ھینڈ فیڈ کروائیں
جو بھی خوراک دیں اس میں ADکیپسول (مچھلی کےتیل)والے ملا کے دینے سے بہتر رزلٹ ملتا ہے
پرندے کو دن میں ایک گھنٹہ دھوپ لگوائیں صفائی کا خاص خیال رکھیں..

WhatsApp Group Invite

Address

Mandi Bahauddin

Telephone

+923045137025

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UHC Veterinary & Birds Section posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to UHC Veterinary & Birds Section:

  • Want your business to be the top-listed Pet Store/pet Service?

Share