29/10/2025
وہ بے گھر آدمی جس نے راحت کے بجائے محبت کو چُنا
کراچی، پاکستان 2025 کی ایک سرد شام
شہر کے ایک پرانے فٹ پاتھ پر، جہاں رات کے اندھیرے کے ساتھ سناٹا اتر آتا ہے، ایک نحیف و نزار آدمی پھٹے پرانے کمبل میں لپٹا بیٹھا ہے۔ اس کے اردگرد چند آوارہ کتے خاموشی سے جمع ہیں کچھ اس کے قدموں کے قریب لیٹے ہیں، کچھ دمیں ہلا رہے ہیں، اور ایک چھوٹا سا بھورا کتا اس کی گود میں سر رکھے سو رہا ہے۔
لوگ اکثر گزرتے وقت ٹھٹک کر دیکھتے ہیں۔ کوئی ترحم سے، کوئی حیرت سے۔
“یہ کون ہے؟” ایک رکشہ ڈرائیور نے ایک دن پوچھا۔
دکاندار نے آہ بھرتے ہوئے کہا، “نام تو کسی کو نہیں پتا، مگر سب اسے بابا رحمت کہتے ہیں۔ وہ ان کتوں کو ہر روز کھانا کھلاتا ہے۔”
دن کا وقت ہو یا رات کا، بابا رحمت کا معمول ایک ہی رہتا ہے۔
وہ قریبی ہوٹلوں، بازاروں اور فٹ پاتھوں سے بچے ہوئے ٹکڑے جمع کرتا ہے۔ کبھی سوکھی روٹی، کبھی چاول کے چند دانے، اور کبھی بس تھوڑا سا سالن۔ مگر وہ جو بھی پاتا ہے، پہلے اپنے ان کتوں کے ساتھ بانٹتا ہے۔
اکثر وہ خود بھوکا رہ جاتا ہے، مگر ان کی آنکھوں میں شکرگزاری کی روشنی دیکھ کر مسکرا دیتا ہے۔
محلے کے لوگ کہتے ہیں کہ کئی سال پہلے وہ کسی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ حالات نے پلٹا کھایا، نوکری گئی، گھر بکا، رشتے ٹوٹ گئے مگر محبت اس کے اندر سے ختم نہ ہوئی۔
اب اس کے پاس کچھ نہیں، مگر اس کا دل آج بھی بھرا ہوا ہے رحم، نرمی اور خلوص سے۔
رات کے دس بجے کے قریب، جب شہر کے شور تھم جاتے ہیں، وہ ان کتوں کے ساتھ بیٹھ کر آسمان کو تکتا ہے۔
اس کے چہرے پر تھکن ہے، مگر آنکھوں میں سکون۔
وہ آہستہ سے کہتا ہے،
“انسان بھول جاتا ہے، مگر یہ نہیں بھولتے۔”
دنیا اسے “غریب” کہتی ہے،
مگر ان جانوروں کے لیے وہ ایک فرشتہ ہے — ان کی دنیا کا محافظ، ان کی بھوک کا مداوا، ان کی محبت کا مرکز۔
وہ بے گھر ہے، مگر محبت کا امیر ترین انسان۔
#کراچی #پاکستان